چاپلوسی : بڑھتی مانگ ابھرتے کردار 

ذکی نور عظیم ندوی

تملق و چاپلوسی کسی بھی میدان میں اونچی چھلانگ اور بنا محنت و مشقت بلند پروازی کا مختصر ترین طریقہ اور تیر بہدف نسخہ ہو گیا ہے۔ یہ دوسروں کے ساتھ ظلم و زیادتی اور نا انصافی و حق تلفی کی پرواہ کئے بغیر اب یک طرفہ ہی نہیں بلکہ دوطرفہ ضرورت اور وقت کا اہم ترین مطالبہ بنتا جارہا ہے۔

کسی کو اپنی جھوٹی تعریفیں، خوشامد، اپنی مرضی کی باتیں، ہر موقف سے اتفاق، ہر سہی غلط بات کی تائید، اس کی ناجائز حرکتوں کو جائز اور قابل تعریف و تحسین قرار دینے والے افراد کی ضرورت ہے۔ تو کسی کو محنت و صلاحیت اور اس کی خاطر طویل وقت اور قربانیوں کی بجائے درباری حاضری، جی حضوری، دوسروں کی چغل خوری، مطلوبہ شخص کے ذوق ومزاج کی ہر طرح رعایت، ان کی پسندیدگی و ناپسندیدگی بھانپنے کا فن، بآسانی ہر ماحول میں ڈھل جانے کا ہنر اور حسب ضرورت رنگ بدلنے میں مہارت حاصل ہوتی ہے۔

دنیا میں کامیابی، اپنے مفاد و مقاصد کے حصول، اپنے رقیبوں ہی نہیں بلکہ رفیقوں کو ٹھکانے لگانے میں ان خوبیوں کا کردار بڑھتا ہی جارہا ہے. گھریلو مسائل ہوں یا سماجی و ملکی ضرورتیں، تعلیمی ادارے ہوں یا رفاہی مراکز، سیاسی ضرورتیں ہوں یا ذاتی مفادات، مختلف عہدوں اور مناصب تک رسائی حاصل کرنے والے افراد ہوں یا نام نہاد مذہبی شخصیات ہر جگہ ان کی قدر بھی ہے اور ضرورت بھی

 بڑے بڑے مراکز، ادارے یہاں تک کہ سلطنتیں اور حکومتیں ان پر منحصر ہیں،  سماجی، ثقافتی، حکومتی و غیر حکومتی شعبے ہی نہیں تعلیمی و مذہبی اداروں و مقامات کی رونق بھی ان ہی کی مرہون منت ہوتی جارہی ہے۔ کہیں سیاسی چاپلوسو‌ں کا زور ہے تو کہیں مذہب کے نام پر چاپلوسی کرنے والوں کی بھیڑ، اس کی مانگ اور مارکٹ ویلیو بڑھتی ہی جارہی ہے اور اس صلاحیت کے افراد میں بھی روز افزوں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

کسی بھی میدان میں ترقی، مد مقابل پر غلبہ و فوقیت ہی نہیں بلکہ اب تو تنزلی سے بچنے، اپنے وجود کی بقا بلکہ ملے ہوئے مواقع کو برقرار رکھنے کے لیے بھی یہ صفت بنیادی  و لازمی شرط بن چکی ہے.

دنیوی زندگی میں اہم اور بنیادی کاموں، پیشہ وارانہ زندگی میں ترقی، ادارہ جاتی امور میں جائز مقام، حکومتی اور غیر حکومتی سطح پر کسی طرح کے کام، یہاں تک کہ علمی و دینی اداروں اور حلقوں میں اپنی صلاحیت کے استعمال کے جائز مواقع حاصل کرنے کے لیے کسی ایسے شخص کا دامن پکڑے بغیر کوئی چارہ نہیں جس کے ہر عمل کو حق بجانب، دور اندیشی، وسعت علمی اور حکمت پر مبنی قرار دینا اور اس کے ہر موقف اور نقطۂ نظر کی وہ مصلحتیں تلاش کرنا جہاں تک دوسروں کی رسائی ناممکن ہے ضروری نہ قرار دیا جائے۔

اگر دنیا میں مواقع، ترقی اورکچھ کر گزرنے کاجذبہ ہو تو احساس ذمہ داری، اپنی صلاحیتوں کا استعمال اور غیر ضروری محنت و مشقت کے بجائے اپنے بڑوں یا ذمہ دار اعلی کی چاپلوسی، اس کے معقول و نامعقول فیصلوں کی ہر سطح پر تائید ،ان کی مخفی خوبیوں کا اظہار و اعلان ، اور یہ باور کرانے کی کوشش نہایت ضروری ہے کہ وہ ایسے عظیم منتظم ہیں جن کے اندر انصاف کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، اور ان میں بڑی سے بڑی سلطنت چلانے اور اسے ترقی کے اعلی مقام تک پہنچانے کی صلاحیت ہے. لیکن اگر آپ اس صلاحیت سے عاری ہیں تو در در کی ٹھوکریں کھانے، برا بھلا سننے، ہر سہی غلط فیصلہ قبول کرنے۔ مالی سماجی اور علمی و ثقافتی تنزلی اور بے وقعتی کو گلے لگانے کے لیے تیار رہئے.

چاپلوسی ایک فن ہے اور ہنر بھی، اس کے لا زوال اور بے شمار فوائد ہیں، اس کے لیے شرافت، سادگی، خودداری، عزت نفس، شرم و حیا، حق پرستی و حق گوئی، صحیح اور غلط، جائز و ناجائز، مناسب اور نامناسب جیسی احمقانہ تقسیم، انسانیت، مروت، ہمدردی جیسے اوصاف وأخلاق کی قربانی ضروری ہے۔ اور مکاری و چالبازی، بے غیرتی، ڈھٹائی، خساست و کمینگی کی طرف واضح اور صریح جھکاؤ اور انھیں ہر حال میں گلے لگانا لازمی طور پر مطلوب ہے۔ اور مزید کامیابیوں اور ترقی کے لیے ہر وقت اپنا جائزہ بھی لینا پڑے گا کہ آپ کی خود غرضی اور مطلب پرستی میں کمزوری یا کمی تو نہیں آرہی.

 اس کی ضرورت دنیا میں ہر جگہ ہر میدان میں، عالمی، ملکی، علاقائی، سیاسی، سماجی، تعلیمی و ثقافتی مذہبی و روحانی، خانگی ہر سطح پر ہے، اس کی مانگ میں کہیں کوئی کمی نہیں اسے سکہ رائج الوقت کی حیثیت حاصل ہے، یہ ہر جگہ خوب چلتی ہے. اگر یہ صفت ہے تو ترقی کی سیڑھیاں طے کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا. یہ ہنر  ہےتو آپ کی صلاحیت اور اخلاقی سطح ثانوی درجہ رکھتی ہے.  ہاں اس کا استعمال وہاں کریں جو آپ کے مطلوبہ میدان میں آپ جیسی خوبیوں کی وجہ سے کامیاب ہوا ہو اور اپنا جھنڈا لہرا رہا ہو۔

 یاد رکھیں آپ اکیسویں صدی میں ہیں وہ صدی جو مقابلہ جاتی صدی ہے، جس میں ہر میدان میں زبردست کمپٹیشن ہے۔ اگر آپ غافل ہوئے تو دوسرے بہت سے لوگ آپ کی جگہ لینے کے لیے تیار ہیں۔ لہذا عصر حاضر کی ضرورتوں کو مد نظر رکھیں، اپنی تمام صلاحیتییں اور کوششیں اس پر صرف کریں کہ کہیں کوئی آپ سے بازی نہ لے جائے۔مطلوبہ شخص کی چاپلوسی میں کوئی کوتاہی نہ آنے دیں اس کے اہل خانہ کو بھی خوش رکھیں، بچوں کی ضروریات ہی نہیں مزاج کا بھی خیال رکھیں، گھریلو ضرورتوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، وقتاً فوقتاً تحفہ و تحائف بھی دیتے رہیں، خدام کو ناراض نہ ہونے دیں ورنہ آپ دیدار کو بھی ترس جائیں گے۔

 آپ بیمار ہوں تو خود جاکر ان سے اپنی عیادت کروالیں، گھر کا کوئی فرد چاہے جتنی سنگین بیماری سے دوچار ہو  اس کی دیکھ ریکھ سے پہلے مطلوبہ شخص کی زیارت کا شرف حاصل کیجئے۔ آپ کے گھر میں کسی کا انتقال ہو جائے تب بھی تڑپتے والدین اور بلکتے بچوں سے پہلے خود جاکر ان کو مطلع کیجئے اور دعائیں لیجئے۔ اللہ نہ کرے کبھی ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہونا پڑے، اگر ایسی نوبت آئے تو پہلے ان کے پاس جاکر آشیرواد لیجئے اور ڈسچارج ہونے کے بعد ڈاکٹروں کے حد درجہ احتیاط اور پرہیز کی ہدایت کے باوجود گھر پہونچنے سے پہلے ان کے دربار میں حاضری ضرور درج کرا دیجئے۔

دینی تعلیمات اور نبوی ہدایات سے دھوکہ مت کھایئے، دین بھی بوقت ضرورت ممنوع امور کے جواز کی تائید کرتا ہے۔ دوسروں کی برائی، غلط بیانی، چغل خوری، ایذا رسانی اور ان سے بدگمانی کے لیے جائز و ناجائز تمام وسائل وذرائع لازمی طور پر ہر وقت استعمال کرتے رہئے۔اور یاد رکھئیے یہی کامیابی کی شاہ کلید ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔