کم عمر میں شادی کی سزاکیوں پاتی ہیں لڑکیاں؟

نعیمہ اکرم

(اڑائی منڈی، پونچھ)

یہ زوال پزیر زمانہ جسے ہم ماڈرن زمانہ کہتے ہیں۔ در حقیقت ابھی بھی پسماندہ اور دیہی علاقوں میں زمانہ قدیم کی زندگیوں کی جھلکیاں روبہ عمل ہیں۔ بس فرق اتنا ہے کہ وہ لوگ پتھر سے شکار کرتے تھے۔ ہم تیز لوہے کے ہتھیار سے۔وہ بیٹیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے۔ لیکن آج زندہ رکھ کر زندگی بھر آنسوؤں کے سوا کچھ نہیں دیتے ہیں۔ ہم تو کہتے ہیں کہ آج کے زمانے میں کوئی کسی کا غلام نہیں ہے۔ کوئی کسی پر کسی طرح کی زبردستی نہیں کر سکتا، لیکن ایسا نہیں ہے۔ ہم اگر اپنے ارد گرد نظر ڈالیں تو ہمیں وہی چودہ سو سال پہلے والا زمانہ نظر آئے گا۔ جب لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور دیتے تھے۔ جی ہاں، اب بھی وہی زمانہ ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے زندہ دفنا دیتے تھے لیکن اب پیدا ہوتے ہی زندہ تو نہیں دفناتے مگر جب بچیاں 12یا13سال کی ہوتی ہیں تو انہیں مر مر کے جینا پڑتا ہے۔

جی ہاں، مر مر کے جینا پڑتا ہے۔ میں جس بارے میں بات کر رہی ہوں وہ ہے لڑکیوں کی چھوٹی عمر میں شادی۔ ہمارے اس مارڈرن ہندوستان میں والدین آج بھی لڑکیوں کو تعلیم دینے کی بجائے ان کی شادی کی فکرزیادہ کرتے ہیں۔ وہ بھی اس وقت جب وہ نابالگ ہوتیں ہیں۔جبکہ ابھی تو وہ خود اپنے آپ کو نہیں سمبھال سکتیں تو پھر سوچیں کہ وہ کسی کا گھر کیسے سنبھالیں گیں؟ ایک تو لڑکیوں کی تعلیم کا نقصان ہوتا ہے اوپر سے ان کی شادی کسی حیوان صفت سے کروا دی جاتی ہے یاکسی ایسے انسان سے جس کو کبھی انہوں نے دیکھا ہی نہیں ہوتا۔ اگر بچیاں شادی سے منع کرتیں ہیں تو گھر والوں کے تعنے سننے پڑتے ہیں۔ پھر بچیاں اپنے گھر والوں کے سامنے تو جھک جاتیں ہیں لیکن چھوٹی عمر میں وہ اپنے سسرال کے انجانے گھرمیں کیسے گزارہ کرتی ہونگی اس کی کسی کو فکر نہیں ہوتی ہے۔اپنے ہی گھر والوں کی وجہ سے اپنے ہی والدین کی وجہ سے بچیاں اپنے بڑے بڑے سپنوں کو جو انہوں نے بچپن سے سوچ رکھے ہوتے ہیں انہیں ایک پل میں ہی توڑ دیتی ہیں۔

 اس ظلم کے خلاف کوئی آواز اٹھائے تو کیسے؟بچیاں تو اپنے والدین کے سامنے انکار نہیں کر سکتیں ہیں۔ وہ تو اپنے والدین کے لیے اپنی ہر خوشی کو قربان کر دیتی ہیں۔ اور سارے زمانے کے دکھ مول لے لیتیں ہیں۔ بچیاں والدین کی شکایت کرنے سے یا تو ڈرتیں ہیں یا انہیں کوئی دکھ نہیں پہنچانا چاہتی کیونکہ والدین نے انہیں محبتوں سے پالا ہوتا ہے۔ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس قدر محبتوں سے پالا ہی کیوں تھا جب شباب سے قبل ہی خزاں میں دھکیل دیناتھا؟ یا ان کی زندگیوں کو عزاب بنانا تھا؟ 100 میں سے 80فئصدی لڑکیوں کے کچھ نا کچھ خواب ہوتے ہیں۔ کچھ کو ڈاکٹر بننا ہوتا ہے،کچھ کو انجینئر، کچھ کوIAS آفیسر اور بھی بہت سے ہوتے ہیں۔لیکن جب بھی ان کی شادی کی بات آتی ہے تو وہ حامی بھر کر اپنے سارے خوابوں کو اپنے اندر ہی دفن کر لیتی ہیں۔

ایسی سینکڑوں مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ خاص کرکے دیہی علاقوں میں ایسے واقعات اب بھی رونما ہوتے رہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی کی پنچایت راجپورہ میں ہوا ہے۔ جہاں ایک عورت جس کا نام منشا بی ہے اس کا شوہر وفات پا چکا ہے۔ اس کی تین بچیاں ہیں۔ جن میں سے ایک لڑکی کی شادی ہو چکی ہے اس کی عمر ابھی 16 سال تھی۔ اس عورت کا کہنا ہے کہ میرے گھر کی کچھ مجبوریاں تھی۔ اس لیے میں نے اپنی ایک بچی کی شادی جلدی کروا دی۔ساتویں تک پڑھانے کے بعد میں نے اس کی شادی کر دی۔ میں اس کی تعلیم کا خرچ نہیں اٹھا سکتی تھی۔ اپنے گھر کو ہی سمبھالنا میرے لیے مشکل تھا۔ میرا ایک بیٹا بھی ہے۔لیکن وہ میرے ساتھ نہیں رہتا۔

 جس بیٹی کی شادی ہو چکی ہے اس کا نام صنم رشید ہے اور میری دوسری بیٹی جس کا نام سلیمہ اختر ہے۔ اس کی عمر ابھی 16 برس ہے۔ جس کی شادی کے لیے مجھے میرے پڑوس میں رہنے والے کچھ لوگ ابھی سے پریشان کرتے ہیں۔لیکن میں ابھی اس کی شادی نہیں کرنا چاہتی۔ پہلے ایک بار میں نے اپنی دوسری بیٹی یعنی سلیمہ اختر کا رشتہ طے کر دیا تھا۔ جس لڑکے سے رشتہ طے ہوا تھا اس کی عمر 36 سال تھی۔ اس لڑکے کی پہلے سے دو شادیاں ہوئی تھیں اور ان دونوں سے اس کا طلاق ہوچکا تھا۔ اس آدمی سے رشتہ توڑنے کے لیے میں نے ایک لاکھ تیس ہزار روپے دیے تھے۔جس میں سے کچھ پیسے بینک سے لون لیے تھے اور کچھ قرضہ اٹھا کر یہ رقم ادکی تھی۔ یہ معاملہ ایک بیوا خاتون کا ہے۔ لیکن اس کے برعکس متعدد والد بھی اپنی بیٹیوں کو چھوٹی عمر میں شادی کے بندھن میں باندھ دیتے ہیں۔جبکہ انہیں اپنے آپکو، اپنے گھر بار کو، اپنی زندگی کے داؤپیچ کو سمجھنا بہت مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوتاہے۔ یہ حالات اکثر یاتو غربت یا پھر عزت و ناموس کی حالت میں پیش آتے ہیں۔

ایسے میں خواتین کے حقوق کے متعلق اداروں کی یہ ذمہ داری بنتی ہیکہ وہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے قوانین کو عملی جامہ پہنائے اور وارڈ سے پنچائیت سبھاتک اور اسی طرح درج بدرجہ بلاک،تحصیل،ضلع، ریاست، پارلیمنٹ اور سپرم کورٹ تک اس سنگین معاملہ کی برپائی کرنے کے لیے کمیٹیوں کو تشکیل دیا جائے۔ اگر چہ اب تک ملک کی راجدھانی سمیت تمام ریاستوں میں خواتین کے حساس حقوق کے لیے آواز بلند کی گئیں۔ لیکن یہ حقوق امیر اور غریب میں فرق کے باعث دیہی علاقوں میں اب بھی چھوٹی عمر کی شادیوں کا رواج ختم نہیں ہوپارہاہے۔

وقت کا تقاضہ ہیکہ سماج میں سوجھ بوجھ اور مقام رکھنے والے لوگ اس بدعت پر اپنی خاموشی توڑ کر بچیوں کے حقوق کے لیے کمربستہ ہوں اور غریب والدین کو کچھ مشکلات اور مصائیب درپیش ہوں تو ان کو ملکر حل کیاجائے۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ سرکاری قوانین کے ہوتے ہوے سماج اور معاشرہ میں تعلیم یافتہ لوگوں کے رہتے ہوئے یہ بچیاں کب تک کم عمر میں شادی کی سزا جھیلتی رہیں گیں؟انہیں کس جرم کی یہ سزا دی جاتی ہے؟ صرف اس لیے کہ وہ لڑکی ہے؟ آخر کب ختم ہوگی معاشرے کی تنگ ذہنیت؟کب لڑکیوں کو بھی پڑھنے اور اپنے خواب کو پورا کرنے کی آزادی ملے گی؟مریخ پر قدم رکھنے کی تیاری ہے مگر سوچ وہی دور جہالت والی ہے۔(چرخہ فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا