کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے‎‎

عبداللہ زکریا

جیسے جیسے نسلِ انسانی ترقی کرتی گئی، اس کے دشمنوں میں بھی اضافہ ہوتا گیا اور اسے اپنی بقا کی جنگ میں نئے حریفوں کا مقابلہ کرنا پڑا۔ جن عناصر نے اسے صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی اس میں عالمی وبا (pandemic )کوتباہی و بربادی کے لحاظ سے جنگوں کی صف میں رکھا جا سکتا ہے۔ نسل انسانی اگر آج اس کرہ ارضی پر موجود ہے تواس کی دو وجہیں ہیں۔ ایک تو قدرت نے اسے ایک حیرت انگیز قوت دفاع(immune system)ودیعت کیا ہوا ہے۔ دوسرے اس نے اپنے ذہنی ارتقا سے سائنس کے میدان میں اتنی ترقی کرلی کہ وہ اس طرح کے تمام خطرات کا مقابلہ کرنے اور اسے شکست دینے میں صدی در صدی کامیاب ہوتا رہا۔ عالمی وبا کی تعریف یہ ہے کہ” وہ بیماری جو صرف کسی ایک علاقہ، خطہ یا ایک “نسل “میں محدود نہ ہو بلکہ پوری دنیا میں اس کا پھیلاؤ ہو چکا ہو”۔ اولین وبا، جس کا تاریخی ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہے، 430 قبلِ مسیح پیلو پینیشن (pelopenessian)

جنگ کے دوران پھیلی۔ لیبیا، ایتھوپیا اور مصر سے ہوتی ہوئی یہ وبا ایتھنز (Athens)پہونچی اور آبادی کا ایک تہائی حصہ اس کا شکار ہوگیا۔ پھر وقتا فوقتا وبائیں آتی رہیں، لوگ مرتے رہے بھی لیکن نسلِ انسانی آگے بڑھتی رہی یہانتک کہ 1918 میں اسپینش فلُو نام کی وبا نے تو ایک وقت ایسا خطرہ پیدا کر دیا تھا کہ لگتا تھا کہ پوری انسانی نسل ہی صفحہ ہستی سے ہی مٹ جائے گی۔ اس وبا میں قریب 50 ملین لوگ ہلاک ہوئے لیکن جس انداز کی تباہی کووڈ 19 نے پھیلائی ہے اسکی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی ہے۔ پوری دنیا ایک طریقہ سے محصور ہوگئی ہے اور ابھی کتنی تباہی و بربادی پھیلے گی اس کا کسی کو اندازہ بھی نہیں ہے کیونکہ یہ نئی نئی شکلیں بدلنے پر قادر ہے اور اس کے کئی ویرینٹ (variant)ہم ابھی تک دیکھ چکے ہیں۔ ویکسین کے بعد بھی یہ خطرہ پوری طرح سے ٹلا نہیں ہے۔ پہلی لہر (First Wave) سے جو نقصان پہونچا اس کا ہم ابھی تخمینہ لگا ہی رہے تھے کہ دوسری لہر (second wave)آگئی۔ اس نے جو تباہی پھیلائی ہے اس کے “صحیح”اعداد و شمار اگر دستیاب ہو جائیں تو ہماری روح تک کانپ جائے گی۔ جان کے ضیاع کے ساتھ اس نے بھارت کی معیشت کی کمر بھی توڑ دی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دوسری لہر کے بعد ڈھائی کروڑ لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔ اور یہ اعداد و شمار تو رسمی سیکٹر (organised sector) کے ہیں۔ غیر رسمی سیکٹر (unorganised sector)کا تو کوئی ڈیٹا ہی نہیں ہے۔ لوگ تو مرے ہی، بہتوں کی انسانیت بھی مر گئی۔ دواؤں اور آکسیجن کی کمی تو رونا تھا ہی، لوگوں نے اس صورت حال کا فائدہ اس طرح اٹھایا کہ ریمڈیسیور(Remdesivir) نام کا ایک انجیکشن، جس کی قیمت تقریباً 4700 روپئے ہے، پچیس پچیس ہزار میں بکا۔ آکسیجن سیلنڈر کی بلیک مارکیٹنگ تو روزمرہ کی بات تھی۔ عام آدمی کی کیا بات کریں وزیر کبیر تک اپنے لیے اسپتال میں ایک بیڈ تک الاٹ نہیں کرا پارہے تھے۔ ہر طرف ہا ہا کار مچا ہواتھا۔ نفسا نفسی کا وہ عالم کہ جیسے قیامت آگئی ہو لیکن کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو خود غرضی کی سطح سے بلند ہو کر سوچ رہے تھے۔ یہ جنوں صفات لوگ مشعلِ جاں لیے اپنی حد تک ظلمت کو دور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اپنے حصے کا چراغ جلانے والوں میں روزی (Rosy)اور پاسکل (Pascol)سلدھانا بھی ہیں۔ ممبئ کے مضافات “مالونی، ملاڈ” میں رہنے والے اس جوڑے کا ایثار اور قربانی اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں روشنی کی ایک کرن ہے۔

روزی، جو اپنی عمر کی 51 بہاریں دیکھ چکی ہیں اور ان کے شوہر پاسکل، جو 54سال کے ہیں، خوشی خوشی زندگی بسر کر رہے تھے۔ روزی بوریولی (Borivali)میں واقع سینٹ زیویر اسکول میں ٹیچر تھیں اور اور پاسکل کا شادی بیاہ میں منڈپ لگانے اور ڈیکوریشن کا کام تھا۔ وہ اپنے دو بیٹوں کے ساتھ ایک مطمئن اور خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔ تقریباً پانچ سال پہلے روزی کو گردوں میں تکلیف ہوئی۔ تشخیص کے بعد پتہ چلا کہ دونوں گردے ناکارہ ہو چکے ہیں۔ ڈائیلیسس کا سلسلہ شروع ہوااور ایک سال کے اندر ان کا وزن 68 کلو سے گھٹ کر 28 کلو ہوگیا۔ اسکول چھوٹ گیا۔ انھوں نے بستر پکڑ لیا، پھر ایک دن برین ہیمرج ہوااور وہ کوما میں چلی گئیں۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب ڈاکٹر نے انھیں مردہ قرار دے دیا لیکن قدرت نے زندگی لکھی ہوئی تھی۔ وہ جانبر تو ہوگئیں لیکن دماغ ماؤف، تنفس میں شکایت، ہاتھ پیر کی حرکت بند، زندگی چارپائی کے حدودِ اربعہ تک محدود، غرض کہ وہ زندہ ہوکر بھی مردہ سے بدتر تھیں۔ اس سارے عرصے میں ہفتہ میں دوبار ان کی ڈائلیسس ہوتی تھی اور سانس لینے کے لیے آکسیجن کی ضرورت بھی پڑتی۔ گھر میں ہمیشہ آکسیجن سیلینڈر موجود رہتا۔ جب کووڈ اپنی تباہی مچا رہا تھا اور لوگ آکسیجن سیلینڈر کو ترس رہے تھے، اس وقت بھی پاسکل کوئی نہ کوئی جتن کر کے روزی کے لیے اس کا انتظام کرہی لیتے تھے۔ ایک دن پاسکل کو مالونی میں واقع ہولی مدر اسکول کے پرنسپل رفیق صدیقی صاحب کا فون آتا ہے۔ وہ بہت پریشان ہیں۔ ان کے اسکول کی ایک ٹیچر شبانہ ملک کے شوہر کی طبیعت بگڑتی جارہی ہے۔ آکسیجن لیول بدن میں لگاتار گرتا جار ہا ہے اور انھیں فوری طور پر آکسیجن کی ضرورت ہے لیکن سیلینڈر کہیں دستیاب نہیں ہے۔ رفیق صاحب سلدھانا فیملی کے پرانے دوست ہیں۔ انھیں معلوم تھاکہ ہمیشہ ان کے گھر پر فاضل سیلینڈر موجود رہتاہے۔ پاسکل شش و پنج میں پڑ جاتے ہیں لیکن روزی بلا تامل کہتی ہیں کہ میرا سیلینڈر دے دو۔ پاسکل کہتے ہیں کہ اگر تمہیں ضرورت پڑی تو، روزی کا جواب ہوتا ہے آپ میری فکر نہ کریں۔ اگر کسی اور زندگی بچاتے بچاتے میری زندگی چلی بھی گئی تو میں سمجھوں گی کہ میں کامیاب رہی۔ زٹفن (Zutphen)کے میدان میں سر فلپ سڈنی زخموں سے چور، جب اپنے بغل میں پڑے ہوئے سپاہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں پہلے اس کو پانی پلاؤ اور بغیر پانی دم توڑ دیتے ہیں تو ان کا یہ جملہ تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے thy necessity is yet greater than mine “۔ روزی اور پاسکل کا یہ ایثار تاریخ کے دھارے پر کون ثبت کرے گا ؟

اس واقعہ نے اس جوڑے کی زندگی ہی بدل دی۔ انھیں حالات کی سنگینی کا احساس ہوا۔ انھوں نے کچھ کرنے کی ٹھانی۔ روزی نے اپنے سارے زیورات بیچ ڈالے۔ پاسکل نے ڈیکوریشن کے سامان سے جو کچھ بک سکتا بیچ ڈالا، جیسے بانس، بلی وغیرہ۔ زیورات سے انھیں 80 ہزار ملے، بانس وغیرہ بیچ کر جو بھی ملا، وہ ساری رقم ملا کر انھوں نے سات سیلنڈر خریدے اور ضروتمندوں کو مفت دینے لگے۔ اس مقصد کے لیے ایک رکشہ کی خدمات بھی حاصل کی گئیں۔ پاسکل اس میں رکھ کر سیلینڈر لے جاتے تھے۔ دھیرے دھیرے جب لوگوں کو معلوم ہوا تو کچھ لوگ آگے آئے اور اپنے طور ان کی مدد کی۔ اخباروں میں جب ان کی کہانی چھپی تو کیٹو (Keto)نام کی ایک تنظیم سامنے آئی جس کا کام ہی فنڈ ریز (fund raise )کرنے کا ہے۔ وہ اپنا کمیشن پندرہ پر سنٹ لیتے ہیں لیکن انھوں نے اس جوڑے سے اپنا کمیشن نہیں لیا۔ 24 لاکھ کا عطیہ آیا جس کا پائی پائی کا حساب پاسکل کے پاس موجود ہے۔ انھوں نے دو ایمبولینس خرید لی ہیں۔ ڈائیلیسس کے مریضوں کے لیے دوائیں بھی کچھ حد تک مفت بانٹ رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کتنے ہی لوگ ہیں، جو بھوکے مر رہے ہیں، تو وہ ان کو راشن پہونچاتے ہیں۔ ایک چراغ سے کتنے چراغ جلتے ہیں۔

خدا کبھی نیکی ضائع نہیں کرتا ہے۔ معجزے آج بھی ہوتے ہیں۔ دعائیں رد نہیں کی جاتی ہیں۔ روزی کی صحت آج بہت بہتر ہے۔ وزن اب چالیس کلو تک پہونچ گیا ہے۔ آکسیجن کی ضرورت نہیں پڑتی ہے البتہ ڈائیلیسس کا سلسلہ چل رہا ہے۔ یادداشت بھی دھیرے دھیرے واپس آرہی ہے۔ اس جوڑے کا ماننا ہے یہ معجزہ صرف صرف اس لیے ہوا کہ انھیں دکھیاروں کی دعائیں ملیں۔ ان کا گھر مال و دولت سے خالی لیکن دعاؤں سے بھرا ہوا ہے۔ اصل “غنی “تو دل کا غنی ہے۔ مالونی کے “سلم “(slum) میں رہنے والا یہ جوڑا بہت امیر ہے کیونکہ ان کے دل لوگوں کی محبت سے بھرے ہوئے ہیں۔

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

کووڈ 19 اگر ہم سے بہت کچھ لے کرگیا تو کچھ دے کر بھی گیا ہے۔ روزی اور پاسکل جیسے نہ جانے کتنے انسانیت نواز لوگ پردہِ گمنامی میں چھپے ہوئے تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر نہ ہوں تو خدا کی زمین، اس کا رزق اور چاندنی ہمارے اوپر حرام کر دی جائے۔ یہ اگر کچھ کہہ دیں تو خدا اپنے اوپر اسے پورا کرنا لازم کر لیتا ہے۔ انھیں تہی دست مت سمجھو۔ انھیں کی وجہ سے اس پوری کائنات کا نظام چل رہا ہے اور انھیں کی وجہ سے ہم زندہ ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔