کورونا، لاک ڈاؤن اور معاشرہ 

جاوید اختر بھارتی

مارچ 2020 سے پہلے ہم سنتے تھے کہ چین میں کوئی بیماری پھیلی ہوئی ہے، بخار آتا ہے، پھیپھڑا جام ہوتاہے،سانس لینے کا راستہ بھی بند ہوجاتاہے، انسان اچانک چکراتا ہے، زمین پر گرتا ہے اور موت کی نیند سو جاتاہے۔ بستی کی بستی شہر کا شہر اس بیماری کی زد میں ہے اس بیماری کا نام کورونا وائرس ہے۔ یعنی کورونا کی پیدائش چین میں ہوئی دنیا کے بہت سے ممالک کہتے تھے کہ چین نے کوئی کیمیکل ایجاد کیا ہے جس میں وہ ناکام ہوا، پوری دنیا کے خلاف اس نے کوئی سازش رچنے کی کوشش کی ہے جس میں وہ ناکام رہا اب اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے اور دنیا میں بدنامی سے بچنے کے لیے اور دنیا کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے اعلان کرنا شروع کیا کہ ہم نے قابو پالیا ہمارے یہاں موت کا سلسلہ تھم گیا۔ کورونا دھیرے دھیرے بڑا ہوتا گیا، پھر چلنا شروع کیا اور چین سے نکل کر انگلینڈ، آسٹریلیا، امریکہ، نیوزیلینڈ، سعودی عرب کا سفر کرتے ہوئے ہمارے وطن عزیز ہندوستان میں آیا۔ یعنی بڑا ہوتا گیا، خطرناک ہوتا گیا، خونخوار ہوتا گیا یہاں تک کہ اسے بیماری سے وبا کہا جانے لگا۔ پھر آگے چل کر وبا سے عالمی وبا، کہا جانے لگا دنیا میں لاکھوں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تمام ممالک میں سرکاری اور نیم سرکاری تقریبات کا انعقاد بند ہو گیا۔ یہاں تک کہ فلائٹ ہوائی جہاز سروس بند ہو گئی۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں ریل سروس بھی معطل کردی گئی۔ حرمین شریفین کے دروازے بھی باہری ممالک کے لیے بند کردئیے گئے خود سعودی عرب کے لوگوں کے لیے تعداد محدود کردی گئی۔عالمی سطح پر آمد و رفت کے ذرائع متاثر ہوگئے لیکن چونکہ اسے وائرس کا بھی نام دیا گیا اور ظاہر سی بات ہے کہ جب وہ وائرس ہے تو اسے اڑنے میں آ سانی ہوگی کیونکہ وائرس کا کام بھی اڑ نا ہے اور وہ اڑتے ہوئے بیشمار ممالک کا سفر کیا لیکن جہاں گیا وہاں اپنے مشن کو جاری رکھا یعنی عوام کا سکھ چین چھینتا رہا۔

لوگوں  کے جہاں مذہبی معاملات میں مداخلت کرتا رہا اور لوگوں کو موت کی نیند سلاتا رہا، دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ کرتے ہوئے ہندوستان بھی آپہنچا اور جب ہندوستان آیا تو ذات برادری اور مذہب کے نام سے  آپس میں لڑانے کی کوشش کرتا رہا جس کے نتیجے میں گذشتہ سال لاک ڈاؤن لگا شب برٔات ، رمضان اور عید کا تہوار بھی گذرگیا اس کے بعد عبادت گاہوں میں یعنی مساجد و منادر میں صرف پانچ آدمی ہی کو بیک وقت اس میں عبادت و پوجا کے لیے محدود کردیا گیا۔ پولس کافی متحرک ہو گئ لاک ڈاؤن پر عملدرآمد کرانے کے لیے طاقت کا بھی خوب استعمال کیا کورونا وائرس نے ہندوستان میں مختلف رنگ اختیار کیا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ گذشتہ سال عوام کورونا سے کم اور پولیس سے زیادہ خوفزدہ تھی اس دوران سب سے بھیانک تصویر مزدوروں کی سامنے آئ گجرات اور ممبئی سے مزدور ٹرکوں و ٹرینوں میں بھر بھر کر اپنے اپنے گھر پہنچے حتیٰ کہ ممبئی سے بے شمار مزدوروں نے  بھوپال، یو پی اور سب سے زیادہ بہار تک کا پیدل سفر کیا بھوک پیاس کا سامنا کیا۔ راستے میں حادثے کا شکار بھی ہوئے یہاں تک کہ ریل کی پٹری پر گردنیں تک کٹیں۔ اسکول و مدارس میں تعلیم کا سلسلہ بند کردیاگیا جبکہ پہلی لہر میں ہمارے ملک میں کورونا سے متاثر بہت کم لوگ تھے اور اموات بھی برائے نام ہوئی تھی۔ لیکن دوسری لہر نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا، جو موت کا سلسلہ جاری ہوا تو تھم نے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا روز روز جنازے میت ارتھیاں اس کے علاوہ کچھ اور نظر ہی نہیں آتا تھا پورا پورا دن جنازہ گاہ، قبرستان اور شمشان گھاٹ پر گذرتا تھا دفنانے کے لیے تختوں کی کمی ہو گئ، جلانے کے لیے لکڑیاں نہیں مل رہی تھیں ہر طرف خوف و دہشت کا ماحول تھا۔

عالمی وبا کورونا وائرس کی دوسری لہر نے جہاں مصیبت کا پہاڑ توڑا وہیں کچھ اصلاح۔ معاشرہ کا بھی کردار ادا کیا،، شادی بیاہ کی فضول رسم و رواج اور فضول خرچیوں پر بہت حد تک کمی بھی ہو گئی تھی، منگنی اور بارات میں کتنے آدمی ہوں گے اسے طے کرنے میں کتنا رشتہ بگڑ جایا کرتا تھا، لڑکے والے زیادہ سے زیادہ آدمیوں پر مشتمل بارات لانے پر بضد تو لڑکی والے کم سے کم آدمی لانے پر بضد مگر درمیان میں کورونا حائل ہوا اور نتیجہ یہ ہوا کہ بیس بیس آدمی کے ہمراہ بارات آنے جانے لگی،، گھروبھر کی جگہ دو فرد کی دعوت دی جانے لگی ماضی میں جہاں کم سے کم ہزار آدمی کی دعوت کا اہتمام و انتظام ضرور کرنا پڑتا تھا وہ ابھی کچھ دنوں پہلے تک ڈھائی سو تک آدمیوں کا انتظام ہونے لگا بہت سے غریب خاندانوں کو راحت ملی۔ آتش بازی بھی بند ہو گئی تھی مگر اب جیسے جیسے ماحول سازگار ہورہاہے پھر پرانی رسمیں شروع ہونے لگی اس سے یہی ثابت ہوتاہے کہ مسلمان اب قطعی طور پر شریعت کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے تیار نہیں بس حالت مجبوری میں شریعت کی پابندی کرتا ہے تو اس سے یہ بھی ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک مسلمان جب شریعت کی پابندی نہیں کرسکتا تو وہ غیروں کو کیسے اسلام کی دعوت دے گا؟

واضح رہے کہ دنیا کے دیگر مذاہب کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے قرآن وحدیث بیان کرنے کے ساتھ ہمیں اسلامی اخلاق و کردار بھی پیش کرنا ہوگا۔ یمن کی سرزمین ہے، شہر کا نام صنعاء ہے ایک یہودی رہتا تھا لوگ جسے یحییٰ چچا کے نام سے پکارا کرتے تھے سنیچر کے دن عبادت کے لیے وہ بہت دور جمعہ کے دن دوپہر میں ہی روانہ ہوجاتا تھا ایسا بھی موقع آیا کہ جمعہ کا دن ہے، اذان ہو چکی ہے وہ ایک مسلمان ٹیکسی ڈرائیور سے کہتا ہے کہ کل یوم السبت ہے تم جانتے ہو کہ اس دن کی عبادت ہمارے لیے بہت اہم ہے، مجھے میری فلاں عبادت گاہ تک پہنچا دو ڈرائیور نے کہا پانچ ہزار لوں گا تھوڑا ٹھہرجاؤ خطبہ جمعہ کی اذان ہو نے  والی ہے خطبہ ختم ہوتے ہی جمعہ کی نماز ہوگی اور فوراً ہم روانہ ہو جائیں گے اب وہ یہودی کہتاہے کہ میں دس ہزار یمنی ریال دوں گا تم اگر خطبہ جمعہ چھوڑ کر ابھی چلوگے تو،، وہ تیار ہو گیا چلنے لگے چلتے چلتے راستے میں شام ہوگئی ایک مقام پر ٹھہرتے ہیں ناشتہ پانی کے دوران مسلمان ڈرائیور کہتاہے کہ یحیٰی چچا تم مذہب کے بڑے پابند ہو تو اسلام کیوں نہیں قبول کرلیتے۔ دائرہ اسلام میں داخل کیوں نہیں ہوجاتے اتنا سننا تھا کہ وہ یہودی کہتاہے کہ پہلے تم تو پوری طرح اسلام میں داخل ہوجاؤ پھر مجھے داخل اسلام کی دعوت دینا میں تو اپنے مذہب کا پابند ہوں ہر سنیچر کو عبادت کے لیے جاتا ہوں اور تم اپنے مذہب میں اتنے کچے ہو کہ دس ہزار کے بدلے  خطبہ جمعہ چھوڑ دیا جبکہ جمعہ کی تقریب میں سب سے اہم خطبہ ہی تو ہے لیکن خطبہ جمعہ چھوڑ کر دس ہزار یمنی ریال کو ترجیح دی اور مجھے اسلام کی دعوت دے رہے ہو۔

 آگے یہودی یہ بھی کہتا ہے کہ حقیقت تو یہ ہے کہ دنیا میں آج جتنے لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہورہے ہیں وہ تمہیں دیکھ کر نہیں یعنی مسلمانوں کو دیکھ کر نہیں بلکہ اسلام اور پیغمبر اسلام کے اخلاق و کردار اور ان کی تعلیمات کو پڑھ کر مشرف بہ اسلام ہو رہے ہیں، مسلمان ہورہے ہیں تم تو اب صرف ٹائیٹل کے اعتبار سے مسلمان ہو، اپنے مذہبی اصولوں سے بہت دور ہو چکے ہو۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔