کیا مزدور کا بچہ مزدور ہی رہے گا؟

بابر نفیس

(ڈوڈہ،جموں)

ہندوستان ایک عظیم ملک ہے۔ یہاں کے جمہوری نظام کو دیکھ کر ہمسایہ ملک اپنے کردار بدلتے ہیں۔ یہاں کے قوانین جمہوریت اور عوام دونوں کی حفاظت کرتے ہیں۔لیکن کچھ قانون کا بہت زیادہ اثر زمین پر کامیاب ہوتا نظر نہیں آتا ہے۔ اگر مزدور قوانین کی بات کی جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ مزدوروں کے حق میں بنایا گیا قانون ہے۔لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ ملک کو آزاد ہوئے صدیاں گزر گئیں لیکن مزدوروں کی حالت نہیں بدلی۔ان کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ان کی آمدنی اتنی نہیں ہو پا رہی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دیلا سکیں۔ شاید ایک مزدور کے بچے کی قسمت میں مزدوری کرنا ہی لکھا ہوتا ہے۔بلاخر اس بات کا اندازہ لگانا بھی انتہائی اہم ہے کہ کمسن عمر میں بچے مزدوری کیوں کرتے ہیں؟ جس عمر میں ان کے ہاتھ میں کتاب، کاپی اورکھیل کا سامان ہونی چاہیے تھی اس عمر میں یہ کمسن بچے مزدوری کا سامان آٹھاے پھر رہے ہیں۔ جو وقت کھیل کود میں گزرنا چاہیے وہ وقت اپنے کھانے کا سامان مہیا کرنے میں مصروف ہونے میں گزر جاتا ہے۔

اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھے تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ بچہ مزدوری انقلاب سے پہلے بھی موجود تھی۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ انقلاب کے بعد بھی بچہ مزدورں سے کم قیمت میں کام لیا جاتا تھا۔قانون کے مطابق بچہ مزدور چودہ سال سے کم عمر کے بچوں کو کہتے ہیں جو اس کا شکار ہوتے ہیں اور کم سنی کی عمر سے ہی انہیں روزگار کی جدوجہد میں ڈال دیا جاتا ہے۔کم عمر میں ہی مزدوری کی وجہ سے ان کی تعلیم، ذہنیت،اخلاق اور یہاں تک کہ ان کا ادبی تعلق بھی متاثر ہوتا ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ آج ملک کے ہر خطے میں کمسن بچوں کو مزدوری کے لیے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں سماجی کارکن شیر دین ماگرے کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر میں بھی کئی یتیم بچوں کو پنشن فراہم کی جاتی تھی۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج جو بھی فنڈس غریب بچوں کے لیے دی جاتی ہے وہ ان تک نہیں پہنچ پاتی ہیں۔اس کے علاوہ بڑھتی بے روزگاری بھی بچہ مزدوری کی ایک بڑی وجہ بنتی جا رہی ہے۔ غریب والدین آمدنی کی خاطر اپنے نابالغ بچوں سے ان کا بچپن چھین کر روزگار میں لگا دیتے ہیں۔

اگر اس دور میں کمسن بچے پڑھائی کی جگہ مزدوری کرتے ہیں تو یہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔اس سلسلے میں جب ہم نے 14سال کے ایک نابالغ مزدور شمیم احمد وانی سے بات  کی تو اس کا کہنا تھا کہ میں مدرسے میں تعلیم حاصل کرتا تھا۔ لیکن میرے والد کا دماغی توازن برقرار نہیں رہتاہے۔ جس کی وجہ سے میری والدہ بہت زیادہ پریشان رہا کرتی تھی۔ ہم گھر کے پانچ بچے اور ماں باپ ملا کر سات افراد ہیں۔میں بھائی بہنوں میں سب سے بڑا ہوں۔کہیں نہ کہیں میں بہت زیادہ پریشان رہا کرتا تھا کہ میرے والدین یا میرے بھائی بہن کیا کھاتے ہوں گے؟حال ہی میں شمیم نے مدرسہ سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک چھوٹی سی دکان کھولی۔اس کا کہنا ہے کہ میں نے 500روپہ  میں ایک چھوٹی سی دکان شروع کی تھی۔آج میری دکان کی قیمت بڑھ گئی ہے اور گھر میں آمدنی بھی اچھی ہونے لگی ہے۔آگے پڑھنے کے شوق کے باوجود گھر کے حالات کی وجہ سے مجھے کام کرنے کو مجبور ہونا پڑا۔لیکن افسوس مجھے اس بات کا ہے کہ حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے کوئی بھی وظیفہ یا معاوضہ نہیں دیا گیا۔ شمیم نے بتایا کہ میری طرح ایسے سینکڑوں طلباء ہیں جو ایسی ہی کسی لاچاری کی وجہ سے میری طرح ہی مزدوری کرنے کو مجبور ہیں۔اس نے کہاکہ مجھے اعلی تعلیم کا بہت شوق ہے لیکن حالات نے مجھے اس قابل نہیں رکھا۔آج میں مزدوری کرکے اپنے گھر کا خرچہ بھی چلاتا ہوں اور اپنا مکان بنانے کی خواہش بھی میرے دل میں زندہ ہے۔وقتی حالات کو لے کر میں پریشان ضرور ہوں۔ لیکن مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں گھر کا خرچہ اٹھا سکتا ہوں۔میں ان بچوں کی طرف نظر دوڑاتا ہوں جو بچے مزدوری کرکے اپنے گھر کا خرچہ چلاتے ہیں۔وہ کتنا پریشان رہا کرتے ہوں گے اور وظیفہ نہیں ملنے کی وجہ سے نہ جانے کتنے بچوں کا مستقبل خاک میں مل گیا ہوگا۔

اس سلسلہ میں جب ہم نے شمیم کی والدہ سے بات کی تو ان کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔انہوں نے کہا کہ میں نہیں چاہتی تھی کہ میرے بچے مزدوری کریں لیکن وقتی حالات نے میرے بچوں کو مزدوری کرکے گھر کا خرچہ اٹھانے پڑمجبور کر دیاہے۔انہوں نے بتایا کہ پہلے میں خودمزدوری کرتی تھی اور اپنے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کا خواب دیکھتی تھی۔لیکن جب میرے بچے جوان ہو گئے اور میری مزدوری کے بعد بھی خرچے میں اضافہ ہونے لگاتومجبورا میرے بچوں کوبھی مزدوری کرنی پر رہی ہے۔ شمیم کی ماں نے بتایا کہ حکومت کے سامنے کئی مرتبہ گڑگڑایا۔کئی مرتبہ انتظامیہ کے پاس اپنی درد بھری کہانی لے کر گئی۔لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
ایک اور کم عمرمزدور آصف حسین ماگرے سے جب میں نے بات کی کہ آخر اسے مزدوری میں شامل ہونے کی وجہ کیا ہے؟ توا س کے جواب نے میرے دماغ میں اس طرح کا علم بھر دیا جومجھے آج تک نہ تھا۔آصف نے بتایا کہ گھر کی مالی حالت ایسی نہ تھی کہ والدین میری پڑھائی کا خرچ برداشت کر سکتے۔ جس گھر میں کھانے کے لیے دو وقت کی روٹی کا مشکل سے انتظام ہوتا ہو اس گھر کے بچوں سے پڑھائی میں بہتر کارکردگی کی امید بے مانی ہے۔آصف نے بڑے ہی تلخ انداز میں کہا کہ مزدوری کرنا نہ ہی کسی کا شوق ہے اور نہ ہی کوئی چاہتا ہے، بلکہ حالات اسے مجبور کر دیتی ہے۔اس نے کہا کہ حکومت بدلنے سے نہ ہی مزدوروں کو فرق پڑتا ہے اور نہ ہی مزدورکے بچوں کی زندگی میں کوئی تبدیلی آتی ہے۔اس نے کہا کہ حکومت سے بڑی امیدیں ہوتی ہیں کہ ہم غریب بچوں کو پڑھائی جاری رکھنے کے لیے وظیفہ ملے گا۔ ہم بھی دوسرے بچوں کی طرح تعلیم حاصل کر علاقہ اور ملک کا نام روشن کرینگے۔لیکن وظیفہ نہ ملنے کی وجہ سے ہماری تعلیم کا وہ معیار ختم ہو جاتا ہے۔ہمیں گھر میں کھانے کا انتظام کرنے کے لیے ماں باپ کے ساتھ مزدوری کرنی پڑتی ہے۔ آصف کے ان قیمتی الفاظ نے الحال میرے دماغ کو اس قدر کھولا کہ مجھے سمجھ میں آگیاکہ مزدوری کرنے والے طلباء کس قدر اپنے دماغ کے معیار کو بحال رکھتے ہیں۔

مزدوری کرنے والے بچے کا ذہن بالکل ختم ہو جاتا ہے اور اس کے ذہن میں مزدوری کے سوا کوئی مستقبل نہیں دیکھتا۔یہ ایک عجیب کہانی ہے کہ مزدوری کے دوران جب طلباء اسکول جاتے ہیں تو ان کی آدھی فکر تعلیم سے زیادہ مزدوری پر ہی ہوتا ہے۔ان کو لگتا ہے کہ ہماری تعلیم سے زیادہ ضروری ہماری مزدوری ہے جس سے ہم روزمرہ کی زندگی میں سامان پورا کرتے ہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کے مستقبل کو داؤ پر لگانے والے ہمارے اپنے ہیں، قوم کے وہ رہبر ہیں جوانہیں وظیفہ فراہم کرنے کی اپنی ذمہ داریوں سے منھ موڑ لیتے ہیں۔کم عمرمیں مزدوری کرنے سے بچوں کے ذہن پردباؤ بہت بڑھ جاتا ہے۔یہ دباؤ بچے کو کسی بھی امتحانات میں کامیاب ہونے سے روک دیتا ہے۔آصف کا کہنا ہے کہ مزدوری کرنے کی وجہ سے اب میرا ذہن پڑھنے میں بلکل نہیں لگتا ہے۔ ہر وقت ذہن میں مزدوری کا ہی خیال آتا رہتا ہے۔

اس نے بتایا مز دوری کرنے کے دوران مجھے کن لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے اور کیا بات ہوتی ہے، مجھے کچھ یاد نہیں رہتا ہے۔ میرا ذہن بالکل ختم ہو چکا ہے۔آصف نے انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میرے جیسے کئی بچے ہیں جن کا مستقبل بالکل داؤ پر لگ چکا ہے۔اگر ہمارے حق میں کوئی بہتر انتظام نہیں کئے گئے تو ہمارا اسکول بھی چھوٹ جائگا۔ اس نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ ہر اسکول کا دورہ کیا جائے اور جو غریب بچے ہیں انہیں تحفظ فراہم کی جائے،تاکہ بہت سارے طلباء اپنی تعلیم کو جاری رکھ سکیں۔

اس سلسلے میں سوشل ویلفیئر کے ایک آفیسر نے بتایاکہ حکومت کی جانب سے غریب طلباء کے لیے وظیفہ فراہم کیے جاتے ہیں۔لیکن والدین کو اس کی جانکاری نہیں ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وہ اس وظیفہ کا فایدہ نہیں اٹھا پاتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ اگر والدین کو اس کی جانکاری نہیں ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ حکومت اپنی تعریف میں اخباروں میں بڑے بڑے اشتہار شائع کروا سکتی ہے، تو وظیفہ سے جڑے معلومات فراہم کرنے والے اشتہارات کیوں نہیں دیے جا سکتے ہیں؟کون ہے جو یہ نہیں چاہتا کہ ملک کے غریب اور مزدور کا بچہ بھی پڑھ لکھ کر افسر بنے؟کیامزدور کا بچہ مزدور ہی رہے گا؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔