کیرالا حکومت کا اقدام

علما و مشائخین کے لیے ایک عبرت کا تازیانہ

ڈاکٹر علیم خان فلکی

     چیف منسٹر کیرالا نے جہیز کو روکنے کے لیے جو فیصلہ لیا ہے، وہ بے مثال ہے۔ انہوں نے کسی بھی کالج میں ایڈمیشن کے لیے ایک بانڈ پر دستخط کو لازم کردیا ہے جس کے ذریعے اگر طلبا نے تعلیم کے بعد شادی کے موقع پر جہیز لیا تو ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی ہوسکتی ہے۔ اس پر عمل آوری کتنی ہوگی ہے، یہ ایک الگ سوال ہے۔ لیکن یہ اقدام کم از کم اُس قوم کیلیے ایک سبق بلکہ عبرت ہے، جس قوم کی شریعت میں جہیزکو معیوب یا مکروہ ہی نہیں بلکہ ”حرام“ قرار دیا گیا ہے۔ لیکن اُس قوم نے اس حرام کو روکنے کے لیے آج تک سوائے تقریوں، وعظ اور خطبوں کے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ اور ستم بالائے ستم یہ کہ جن لوگوں نے عملی اقدام کئے ان کا ساتھ دینے کے بجائے ان پر تنقیدیں کیں۔

     مسلم پرسنل لا بورڈ اور  دوسرے کئی متحرک علما نے عائشہ کی خودکشی کے بعد اگرچہ کہ جہیز کے خلاف خوب مہم چلائی، لیکن یہ سب زبانی جمع خرچ سے زیادہ ثابت نہیں ہوا، کیونکہ وہ  شادیوں میں فضول خرچیوں کو ناجائز ضرور بولتے رہے لیکن ایسی شادیوں میں شرکت کو ناجائز بولنے سے گریز کرتے رہے۔ یعنی شراب کو حرام قرار دیتے رہے، لیکن پینے پر روک نہیں لگا سکے،  گویا پینے والوں کو سمجھانے کے لیے جاکر ایک دو گھونٹ ان کے ساتھ  پی کر سمجھانے کی پالیسی پر عمل کرتے رہے۔

      کیرالا سے پہلے بہار وغیرہ میں بھی اگرچہ کہ جہیز کے خلاف روک لگائی گئی، لیکن کیرالا کا یہ اقدام سب کے لیے قابلِ تقلید ہے۔ کیونکہ اگر کوئی تبدیلی آسکتی ہے تو وہ نوجوانوں  ہی کے ذریعے آسکتی ہے۔ جہیز کا معاملہ جب تک والدین اور بزرگوں کے ہاتھوں میں رہے گا، لڑکے اور لڑکیوں کی بولیاں لگتی رہیں گی۔ نوجوان نسل بزرگوں کے رسم و رواج پر بلی چڑھتے رہے گی۔ چیف منسٹر کیرالا کے اقدام سے ہمیں یہ زبردست نکتہ ملتا ہے کہ اگر مدارس میں حفظ، مولوی، کامل، عالم یا فاضل میں داخلے سے پہلے ہی اگر ان سے یہ عہد لیا جائے کہ جہاں وہ دوسری سنتوں جیسے داڑھی، ٹوپی، عمامے وغیرہ، اور دوسرے فرائض جیسے نماز، روزہ وغیرہ کی پابندی کریں گے ویسے ہی نکاح جو کہ اِس دور کی سب سے نازک بلکہ ہتھیلی میں انگارہ رکھنے والی سنتوں میں سے ایک ہے، جہاد سے کم نہیں ہے، اس سنت کو چاہے دوسرے لوگ عمل کریں نہ کریں، یہ دینی علوم حاصل کرنے والے ہر قیمت پر عمل کریں گے۔ جس طرح کسی کے زبردستی کرنے پرشراب، سود یا خنزیر کا گوشت جائز نہیں ہوجاتا، اسی طرح لڑکی والوں کے اصرار کرنے پر جہیز یا کھانے بھی جائز نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ یہ عہدِ حاضر کی تہذیب کی یہ ایک مہذ ب بھیک، رشوت، فتنہ اور غیرقوم کی نقل ہے۔ ورنہ جہاں یہ دینی طبقہ جہیز لینے کا مرتکب ہوتا ہے، یا ایسی شادیوں میں جاکر پہلے دسترخوان پر بیٹھ جاتا ہے، وہیں عوام کو اُن سے اِن خرافات کے جائز ہونے کی تصدیق مل جاتی ہے۔

  بعض لوگ یہ حیلہ پیش کرتے ہیں کہ مدارس سے نکلنے والوں کی تعداد تو تین فیصد ہے، اور مشائخین تو بمشکل.5% 0ہیں۔ بجائے ساڑھے تین فیصد لوگوں پر تنقید کرنے کے، لاکھوں ڈاکٹر، انجینئر اور دوسرے  پیشوں کے لوگ جو 96.5% ہیں،جو خوب جہیز اور کھانے وصول کرتے ہیں، آپ جاکر اُن سے کیوں نہیں کہتے؟ یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ہر برائی پرتنقید کیلیے لوگوں کی انگلیاں پہلے  علما اور مشائخین پر ہی کیوں  اٹھتی ہیں۔ یہ بات یہاں پر سمجھنا بہت ضروری ہے۔ اسلام کے ہندوستان میں داخل ہونے سے قبل ہم تمام کے آباواجداد بدھسٹ، جین، ہندو یا پھر دراوڑین ہی تھے۔ ان سب ادیان میں جو ایک قدرِ مشترک تھی وہ پنڈت پرستی تھی۔ ایک اعلیٰ ذات ان تمام کے ذہنوں پر حکومت کرتی تھی۔ دھرم سے تو کوئی بھی واقف نہیں تھا لیکن جو پنڈت کہہ دے، اسی کو دھرم مان لیتے تھے۔ ہمارے پُرکھوں نے کلمہ تو پڑھ لیا لیکن ذہنوں سے وہ پنڈت پرستی صدیوں سے آج بھی چلی آرہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہم نے پنڈت کی جگہ مولوی اور مرشد کو دے دی ہے۔ اکثریت کے عقائد، رسم و رواج، حلال و حرام کے پیمانے وہی ہیں جو جمعہ کے خطبوں، وعظوں، جلسوں اور دین کے نام پر ہونے والی مجلسوں میں بیان ہوتے ہیں۔ اور ان تمام مقامات پر اجارہ داری اسی طبقے کی ہے جو 3.5%  ہے۔ اس لیے ڈاکٹروں یا انجینئروں سے پہلے اِس طبقہ کے عقائد، رسم ورواج اور حلال و حرام کے پیمانے درست کرنے ضروری ہیں۔ یہ لوگ 2020s کے مسائل کو بھی امام ابوحنیفہؒ اور ابن تیمیہ ؒ کے زمانے کے فتوؤں سے نکال کرحل کرنا چاہتے ہیں، جب کہ مسائل بالکل بدل چکے ہیں۔ شریعت کا منشا جاننا قدیم فتوے جاننے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ وقت، مقام اور حالات کے لحاط سے کئی مسائل ایسے ہیں جو بدل جاتے ہیں۔ لیکن آج بھی انہی علما اور مفتیوں کی کثرت ہے جو خوشی سے جہیز لینے اور دینے کو جائز کہتے ہیں، منگنی اور شادی کے دن کے کھانوں کی بدعت کو اپنے خاندان کے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی  جائز کرتے ہیں، اور سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اُدھار مہر سنت سے ثابت ہی نہیں۔ یہ واجب ہے اور نقد مہر کے بغیر نکاح ہوتا ہی نہیں۔ لیکن کسی نہ کسی گمنام صحابیؓ کے ادھار مہر کے واقعہ کو مثال بنا کر رسول اللہ ﷺ اور معروف صحابہؓ اور خلفاءِ راشدین کی مثالوں کو نظرانداز کرڈالتے ہیں۔

    یہ وجہ ہے کہ ہم جہیز کے معاملے میں ہونے والے پورے بگاڑ کی ذمہ داری صرف دینی طبقہ پر ڈالتے ہیں جن میں علماء اور مشائخین ہی سرِ فہرست ہیں۔ انہی کے پیچھے قوم چلتی ہے۔ انہی کی کہی ہوئی باتوں کو لوگ شریعت سمجھتے ہیں، اور یہ جہاں جہاں نظر آئیں ان جگہوں کو بھی جائز سمجھتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ ایک بار ٹیک لگائے بیٹھے تھے، اور امر بالمعروف کی تلقین کررہے تھے۔ فرمایا کہ بنی اسرائیل کے علما بھی امر بالمعروف کرتے تھے۔ لیکن جب دیکھتے کہ لوگ ان کی باتیں سننے تیار نہیں تو پھر یہ بھی انہی کے ساتھ کھانے  پینے، اٹھنے بیٹھنے لگتے، یعنی جو اکثریت کرتی، مجبوری کہہ کر یہ بھی وہی کرنے لگتے۔ راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ کہتے ہوئے پیٹھ سیدھی کرکے بیٹھ گئے اور فرمایا کہ ”خبردار، تم لوگ ایسانہ کرنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم دعائیں کرتے رہو، اور اللہ تعالیٰ تمہاری دعاؤں کو رد کردے“۔یہی وجہ ہے کہ آج ہماری کوئی دعا قبول نہیں ہوتی۔ انسانی فطرت ہوتی ہے جو کہ قرآن میں بھی بیان ہوئی ہے ’اتّخذو اھبارھم و رھبانھم ارباباً من دون اللہ“۔ یعنی لیڈروں اور مرشدوں یا علما کو یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر اپنا رہنما بنالیتے تھے اور جس چیز کو وہ حلال کہیں اسی کو حلال کرتے اور وہ جس چیز کو حرام کہیں اسی کو حرام مان لیتے تھے۔ آج ہم بھی یہی کررہے ہیں۔ ہر مسلک میں ایسے علما پیدا ہوگئے ہیں جو یوٹیوب کے ذریعے ایسی ویڈیوز پھیلارہے ہیں جس میں کہا جارہا ہے کہ اپنے مسلک کے علما کے علاوہ کسی اور بات سننے سے گمراہ ہوجاوگے، اور یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ خود انہی کے مسلک کے کیوں نہ ہوں، اگر اسپیکر عالم نہیں ہے تو اس کی تقریر سننا بھی گمراہی میں ڈال دیتا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ دن بہ دن لوگ تنگ ذہن ہوتے جارہے ہیں۔

 تمام سنتوں میں نکاح سب سے بڑی سنت اسی لیے کہ کہ اس سے پوری قوم کی اکنامی اور اخلاقیات جڑی ہوئی ہے۔ ایک بیٹی کی شادی میں پورا خاندان  معاشی طور پر جتنے سال پیچھے ہوجاتاہے، اس کی پابجائی کرنے کے لیے اسی گھر کا بیٹا جب خود شادی کرتا ہے تو کسی دوسرے گھر کو معاشی طور پر کئی سال پیچھے کرڈالتا ہے۔ اس طرح ہم سب ایک دوسرے کو منگنی، کھانوں، جہیز اور جوڑے کی رقم، پھر اس کے بعد پہلی زچگی کے خرچ کے لزومات کی وجہ سے ننگے کرڈالتے ہیں۔

  التماس ہے کہ مدرسوں کے طلبا جو کل منبر و محراب کے ذریعے یا پھر مشائخ بن جائیں تو بیعت کے ذریعے لوگوں کے عقائد اور اعمال کی رہنمائی کے ذمہ دار ہیں، ان طلبا سے یہ عہد لے کر ہی داخلہ دیا جائے کہ وہ نکاح کو ہرگز مشرکوں کے طریقے پر نہیں کرینگے، اور کسی بھی ایسی شادی کی دعوت ہرگز قبول نہیں کریں گے جس میں غیرشرعی رسومات ہوں۔ اپنی شادی مکمل نبی ﷺ کے طریقے پر کرینگے، اور تقریروں اور خطبوں میں صرف اور صرف اسی طریقے پر کرنے کی تلقین کرینگے۔ مگر یاد رہے یہ تقریریں کوئی نئی نہیں ہیں۔ جو عالم یا مرشد نہیں ہیں وہ بھی اس موضوع پر خوب شعلہ بیانی کررہے ہیں۔ اصل حکم یہ ہے کہ یہ سوال اٹھایا جائے کہ جو شادی نبی ﷺ کے طریقے پر نہ ہو، جس شادی میں منگنی، کھانا اور جہیز اور جوڑے کی رقم لڑکی  والوں سے خوشی سے دینے کے نام پر لی جارہی ہو۔ گیارہ ہزار مہر باندھ کر گیارہ لاکھ خرچ کروائے جارہے ہوں، یا لڑکی والے خود سنت سے انحراف کرکے اپنی خوشی سے خرچ کررہے ہوں، جس شادی میں مہر نقد ادا نہیں کیا جارہا ہو، کیا اس شادی کا دعوت نامہ قبول کرنا جائز ہے؟ کیا اس شادی میں چاہے وہ کتنے ہی قریبی عزیز کی کیوں نہ ہو، شرکت کرنا اور کھانا جائز ہے؟ سوائے چند علمائے حق کے کوئی اس موضوع پر بات کرنا نہیں چاہتے، لیکن نکاح کے منشائے شریعت کے پیش نظر، ایسی شادیوں میں شرکت کیوں ناجائز ہے، یہ لوگوں کو بتایا جائے۔ اس سلسلے میں جتنے بھی علمائے حق ہیں جن میں بریلوی، دیوبندی اور اہلِ حدیث علما شامل ہیں، ہم ان کے فتوے آپ تک پہنچا سکتے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔