گجر بکروال خانہ بدوش قبائل کو کووِڈ- 19 کے پیشِ نظر در پیش مشکلات

شاذیہ چودھری

 (راجوری،جموں)

گجر بکروال قوم جو سماجی اور تعلیمی اعتبار سے پیچھے ہیں،آئینِ ہند کی دفعہ 340 کی رو سے حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ پسماندہ طبقہ جات میں ایسے خانہ بدوش لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ سیاسی پارٹیوں نے ہمیشہ ان خانہ بدوش قبائل کو محض ووٹ بینک کے طورپر استعمال کیا ہے اوراِن کی باز آبادکاری اور مشکلات کے ازالہ کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا۔ہندوستان میں پہلا ”پسماندہ طبقات کمیشن“ 29 جنوری 1953ء کو صدارتی حکمنامے کے تحت”کاکا کیلکر“ کی قیادت میں قائم ہوا تھا۔ اس کمیشن نے 30 مارچ 1955ء کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔ جس میں 2399 پسماندہ طبقات،قوموں، قبائل یا برادریوں پر ایک مکمل رپورٹ پیش کی گئی تھی جن میں سے 837 طبقات،قوموں، قبائل یا برادریوں کو ”سب سے پسماندہ“ قرار دیا گیا تھا، جن میں جموں و کشمیر کی گجر بکروال قوم بھی شامل ہے۔

”کیلکر کمیشن“کی کچھ قابل ذکر سفارشات میں سے کچھ خاص اس طرح ہیں:خواتین کو بطورِ طبقہ پسماندہ سمجھا جائے اور اِن کی تعلیم،تربیت اور ترقی کو اہمیت دی جائے۔ سرکاری نشستوں اور تعلیمی اداروں میں نشستوں کا تحفظ یقینی بنانا۔ تکنیکی اور پیشہ ورانہ اداروں میں تربیت اور آبادی کے تناسب سے ملازمت میں ان کی مخصوص نشستوں پر تقرری۔ سبھی خالی سرکاری اور مقامی اداروں کی جائیدادوں کوایسے پسماندہ طبقات کے لیے محفوظ کرنا۔ایسے طبقات کے لیے رہائشی اسکولوں کی تعمیرکرنا۔ تعلیمی ہوسٹلوں کی تعمیرکرنا وغیرہ شامل ہیں۔لیکن اِس سب کے باوجود بھی ابھی تک اِس پسماندہ قوم کی حالتِ زار نہیں بدلی۔

گجربکروال قوم جس کی مادری زبان گوجری ہے اور اِس قوم میں زیادہ تر خانہ بدوش قبیلہ ہے۔ جس کی گزر بسر زیادہ تر مال مویشی اور بھیڑ بکریوں پر ہی منحصر ہے۔ ان کو خانہ بدوش اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی مستقل ٹھکانا نہیں ہوتا۔ جہاں پر یہ لوگ اپنے مال مویشی اور بھیڑ بکریوں کے ساتھ گزر بسر کرسکیں۔ یہ لوگ اپنے مال مویشیوں اور بھیڑ بکریوں کے ساتھ ان کے چارا اور پانی کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ محو ہجرت کرتے رہتے ہیں۔ مال مویشیوں اور بھیڑ بکریوں کے لیے تھوڑی دیر وہاں قیام کرتے ہیں جہاں گھاس پھوس اور پتوں کی وافر مقدار میسر ہو۔پھر اِن کا پڑاؤ ایسی کسی دوسری جگہ منتقل ہو جاتا ہے۔ گرمیوں کے موسم میں یہ لوگ ملک کے بالائی علاقوں اور پہاڑوں کا رُخ کرتے ہیں اور سردیوں میں میدانی علاقوں کا رُخ کرتے ہیں۔ بالائی علاقوں میں چراگاہیں ہوتی ہیں جن کومقامی گوجری زبان میں ”ٹہوک/ ڈھوک“ کہا جاتا ہے۔ جہاں پر یہ لوگ صدیوں سے اپنے مال مویشیوں اور بھیڑ بکریوں کو چراتے آ رہے ہیں۔ یوں تو گجر بکروال قوم برصغیر کے علاوہ ایشیا، افریقہ،جنوبی امریکہ، شمالی امریکہ،اسٹریلیا اور یورپ کے مختلف ممالک میں آباد ہے۔ لیکن ہمارے ملک ہندوستان میں ٹرائبل ریسرچ اینڈ کلچرل فاؤنڈیشن کی ایک تحقیق کے مطابق لگ بھگ 4 کروڑ کے آس پاس گجر بکروال آباد ہیں اور 25 لاکھ کے قریب جموں کشمیر اور لداخ مرکزی زیرِ انتظام علاقوں میں گجر بکروال خانہ بدوش قبائل آباد ہیں۔

مرکزی زیرِ انتظام علاقوں جموں کشمیر اور لداخ کے علاوہ گجر بکروال ہندوستان کی باقی ریاستوں اُتر اکھنڈ، اترپردیش،پنجاب، ہریانہ، راجستھان،دہلی،گجرات،ہماچل پردیش، اور مہاراشٹر وغیرہ میں آباد ہیں اور ان سب کا گزر بسر مال مویشیوں اور بھیڑ بکریوں سے ہی ہوتا ہے اور یہ سب گرمیوں میں پہاڑوں کی گود میں اپنے مال مویشیوں اور بھیڑ بکریوں کے ساتھ پناہ لیتے ہیں اور سردیوں میں میدانی علاقوں میں بسیرا کرتے ہیں۔ اس کے لیے ان لوگوں کواپنے اہل و عیال،عورتوں اور بچوں سمیت سال میں دو بار بڑی ہجرتیں کرنی پڑتی ہیں اور چارا کی عدم دستیابی کے پیشِ نظر ہفتوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ کئی چھوٹی ہجرتیں تو ہوتی ہی رہتی ہیں۔ یہ خانہ بدوش قبائل چھ مہینے سرد بالائی علاقوں میں پڑاؤ کرنے کے بعد چھ مہینے کے لیے گرم علاقوں کا رُخ کرتے ہیں۔ دوران سفر اِن گجر بکروال خانہ بدوش قبائل کوخصوصاً اِس قبیلے کی خواتین کو اَن گنت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ موسم کے تھپیڑوں کو جھیلنا پڑتا ہے، اسکے علاوہ راستے میں خوراک و ادویات کی عدم دستیابی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

لیکن آج کل کووِڈ- 19 کی دوسری لہر میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ ا تھا۔ان میں بالخصوص ان کا ذکر کرنا چاہوں گی۔ چونکہ آج کل گرمیوں کا موسم چل رہا ہے اور یہ لوگ پانی اور چارے کی تلاش میں اپنے مال مویشیوں اور بھیڑ بکریوں کے ساتھ پہاڑی علاقوں کا رُخ کر رہے ہیں۔دوران سفرآج سب سے بڑی مشکل جس کا سامنا ان لوگوں کو کرنا پڑ رہا ہے وہ ہے ویکسین کی عدم دستیابی اور ویکسین سے پہلے اِن لوگوں کا فشارِ خون، حرکتِ قلب، ذیا بطیس،الرجی اور خاص طور پر حمل کی تشخیص کا عمل جس کے لیے کم از کم ایک دن کا وقفہ درکارہے۔وہیں دوسری طرف اِس قبیلے کی حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے اور بھی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔اور یہ لوگ مال مویشیوں کو جنگلی جانوروں کے ڈر سے اکیلے نہیں چھوڑ سکتے۔اور دور دراز پہاڑی علاقوں سے اِن کا سرکاری ٹیکہ مراکز تک آنا ممکن بھی نہیں۔

موسمی ہجرتوں کے اس دورانیے میں اور خاص کر کووِڈ- 19کی لہر کے چلتے گجر بکروال خواتین اور سنِ بلوغت میں پہنچنے والی بچیوں کو  بہت سارے مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے سفر کے دوران ان بچیوں کو پیدل سفر کرنا پڑتا ہے اور مہینوں تک پیدل چلنے میں گزر جاتے ہیں اس دوران ان بچیوں کو ماہواری کے دور سے بھی گزرنا پڑتا ہے اور شادی شدہ خواتین کو حاملہ ہوتے ہوئے بھی پیدل سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ماہواری اور حمل کے دوران زیادہ سے زیادہ آرام کرنے،اور زیادہ چلنے پھرنے اور بھاری بھرکم چیزیں اٹھانے سے پرہیز رکھنے کی ہدایات ہوتی ہیں لیکن یہ بیچاری خواتین تو اس حالت میں بھی اپنی پیٹھ یا پھر سر پہ بوجھ اٹھا کر مِیلوں پیدل سفر کرتی ہیں۔ جہاں اِنہیں حفظانِ صحت کے کئی مسائل سے بھی دوچار ہونا پڑتا ہے۔اور کئی بچیاں اس پیدل سفر کے دوران خون کے زیاں کی زیادتی کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں یا پھر ہمیشہ کے لیے ان کے جسم کے اندرونی حصوں میں کئی خطرناک بیماریاں جڑ کر جاتی ہیں جس کی وجہ سے آگے چل کر اِن کی ازدواجی زندگی میں کئی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ حاملہ خواتین کئی بار دوران سفر ہی بچوں کو جنم دیتی ہیں اور جب یہ دردِ زہ میں مبتلا ہوتی ہیں تو نہ ہی ان کو کوئی دایہ میسر ہوتی ہے اور نہ ہی دوائی جس کی وجہ سے زچہ اور بچہ دونوں ہی یا تو جان ہی گنوا دیتے ہیں یا پھراگر بچ بھی جائیں تو تاعمر کئی بیماریاں اِن کا مقدر بن جاتی ہیں۔

اس دوران یہ خواتین موجودہ کووِڈ- 19کے حالات کے پیشِ نظر نہ ہی ہسپتال جاپاتی ہیں اور نہ ہی کسی کو اپنی حالتِ زار سے آگاہ کرپاتی ہیں کیونکہ تعلیم اور آگاہی کی کمی کی وجہ سے یہ خواتین اور بچیاں بھی تو ہمات، وہم اور افواہوں پر یقین کر لیتی ہیں کہ اگر وہ ہسپتال جائیں گی تو ان کو کووِڈ کی تشخیص کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے جو کہ اِن کے لیے کوفت کا باعث ہے اوربقول اِن کے جان لیوابھی ثابت ہو سکتا ہے۔ گجر بکروال خواتین میں تعلیمی پسماندگی سب سے زیادہ پائی جاتی ہے، ہمارے ملک میں صرف 11 فیصد گجر بکروال خواتین ہی خواندہ ہیں اور باقی 89 فیصد خواتین نا خواندگی کے بھیانک سائے تلے زندگی گزار رہی ہیں۔ ویسے بھی یہ خواتین و بچیاں اس موسمی ہجرت اور خانہ بدوشی کی وجہ سے سب سے زیادہ مسائل کا شکار ہیں۔ کئی دودھ پلانے والی مائیں وقت پر بچوں کو دودھ بھی نہیں پلا پاتیں اور ماں کا دودھ نہ ہونے کی وجہ سے بچوں میں خواراک اورحیاتین کی کمی کے باعث مستقبل میں کئی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو بھی غذائیت کی کمی کے باعث کئی مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اِس طرح یہ خواتین اور بچیاں بہت کچھ سہہ رہی ہیں کبھی سفر کے دوران حادثات کا شکار ہو جاتی ہیں کبھی موسم کے تھپیڑوں کی زد میں آ جاتی ہیں اور کبھی مال مویشیوں اور بھیڑ بکریوں کے چارے اور گھاس پھوس کی تلاش میں پہاڑوں سے گر کر یا تو معذور ہو جاتی ہیں یا پھر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں، کئی بار تو جنگلوں میں جنگلی جانوروں کا نوالہ بن جاتی ہیں ایسے میں کووِڈ- 19 کی اس جان لیوا وبائی لہر نے ان کی مشکلات اور مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

چونکہ یہ لوگ مال مویشیوں اور بھیڑ بکریوں کے ساتھ پیدل سفر کرتے ہیں اور ایسے علاقوں کی طرف رُخ کرتے ہیں جہاں پہ پہلے ہی ایسی سہولیات کی عدم دستیابی ہوتی ہے،ایسے میں ٹیکہ مراکز کا قیام بھی نہ کے برابر ہوتا ہے، بلکہ ایسے علاقوں میں یہ مراکز ہیں بھی نہیں۔ ایسے علاقوں میں اِن لوگوں کے پڑاؤ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ ٹیکہ کاری مہم سے مستفید نہیں ہو پا رہے ہیں۔ اور جن علاقوں میں یہ لوگ بسیرا کرتے ہیں وہاں پہ سڑکوں کی عدم دستیابی بھی ایک مسئلہ ہے اور ان علاقوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کئی کئی دن کا پیدل سفر طے کرنا پڑتا ہے جو کہ محکمہ صحت کے عملے کے لیے مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن بھی ہے۔ اس طرح یہ گجربکروال خانہ بدوش قبائل کووِڈ- 19کو مات دینے میں نا کام ہو رہے ہیں۔جوکہ تشویش ناک صورت حال ہے، جس کے حل کے لیے کچھ اِقدام اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ یہ بیچارے تو کووِڈ کے ٹیسٹ سے بھی محروم رہتے ہیں جس سے اگرخدا نخواستہ یہ قبائل کووِڈ19- سے متاثر بھی ہوتے ہیں تو جان نہیں پائیں گے۔ اور ایسے میں پورے کے پورے خاندانوں کی جان داؤ پہ لگ جائے گی۔ چونکہ گجر بکروال طبقے میں شرح خواندگی کی از حد کمی ہے جس کی وجہ سے بہت سارے لوگوں میں شعور اور آ گاہی کی بھی کمی ہے اور وہ ویکسین نہیں کرواپاتے، کچھ اپنی سادہ طبیعت کی وجہ سے اِدھر اُدھر کی افواہوں پر یقین کرتے ہوئے کووِڈ- 19کے مخالف اس ویکسین کو جان لیوا گردانتے ہیں اور ویکسین کروانے سے انکاری ہیں۔

دوسری طرف کووِڈ- 19 کے پیش نظر محکمہ تعلیم کی طرف سے اسکولوں کو بند رکھنے کا اعلان کیاگیا ہے جس کی وجہ سے ان لوگوں کے لیے سیزنل اسکولوں اور موبائل اسکولوں کو بھی نہیں کھولا جا سکتا اساتذہ بچوں کو اپنے اپنے گھروں سے ہی آن لائن تعلیم دیتے ہیں ایسے میں ان گجر بکروال خانہ بدوش قبائل کے بچوں کی تعلیم بے حد متاثر ہو رہی ہے۔ کیونکہ ایک تو غربت اور کمزورمالی حالات ان کو سمارٹ فون کی دستیابی سے محروم رکھتی ہیں،جس کے یہ لوگ متحمل نہیں ہیں۔دوسرے جن پہاڑی علاقوں میں یہ لوگ بسیرا کرتے ہیں وہاں پہ انٹرنیٹ کی پہنچ نا ممکن ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے بچے آن لائن کلاسیں نہیں لے سکتے ہیں۔ اسکے علاوہ دوران سفر کووِڈ- 19 کی اس لہر میں گجر بکروال خانہ بدوش قبائل کے لوگ خوراک اور اشیائے ضروریہ سے بھی محروم ہیں کیونکہ اس جان لیوا وباء کے چلتے حکومت کی سخت ترین ہدایات پر لاک ڈاؤن کی وجہ سے اشیائے خوردنی کی دکانیں بند ہیں۔چونکہ ان لوگوں کا گزر بسر مال مویشیوں کو بیچ کر ہوتا ہے چمڑے،اون، گوشت، اور دودھ کے کارخانے ان ہی لوگوں کے دم سے چلتے ہیں لیکن کووِڈ- 19کی اس لہر کے چلتے گوشت،اون اور چمڑے کا کاروبار بھی ٹھپ ہے۔ جس کی وجہ سے ان کا مال کہیں بھی نہیں بکتا اور اگر بکتا بھی ہے تو مناسب داموں پہ نہیں بکتا۔ جس کی وجہ سے ان لوگوں کا چولہا جلنا مشکل ہو گیا ہے۔ اور جو لوگ دودھ، مکھن بیچ کر گزارا کرتے ہیں ان کو بھی لاک ڈاؤن کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ نقصان صرف ان لوگوں کا نہیں ہے بلکہ پورے ملک کی معیشت کا نقصان ہے یہ لوگ ملک کی انڈسٹری چلاتے ہیں لیکن آج ان لوگوں کو کھانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ دوران ہجرت راستے میں اگر ان لوگوں کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ جائے،یا خواتین کی زچگی کا معاملہ درپیش ہو تو زچہ خانہ اور ڈِسپنسری نہ ہونے کے باعث First-Aid ملنا بھی ناممکن ہوتا ہے،کیونکہ ایسی جگہوں پہ محکمہ صحت کی طرف سے اِس قسم کی سہولیات دستیاب نہیں رکھی گئیں ہیں۔ نتیجتاً کسی نزدیکی ڈسپنسری، سب سینٹر یاتحصیل و ضلع ہسپتال تک پہنچتے پہنچتے یہ لوگ اپنی جان گنوا دیتے ہیں، کچھ لوگ اپنی بھینسوں وغیرہ کو بذریعہ گاڑی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں جو کہ آج کل کووِڈ- 19 میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے نہیں ہو پا رہا ہے،اور پھر یہ لوگ مجبوراً ہجرت نہیں کرتے بلکہ گرمی کے قہر میں پانی اور چارے کی قلت میں گزارا کرنے پہ مجبور ہیں یا پھر مجبوری میں اپنے مال مویشیوں کو کوڑیوں کے دام بیچ کر صرف خود کی روزی روٹی کی تلاش میں پہاڑوں جنگلوں اور چراگاہوں کا رُخ کر رہے ہیں، جہاں پہ ان کو کھانے پینے کے لالے پڑ رہے ہیں۔

اگر اِن گجربکروال خانہ بدوش قبائل کی حفظانِ صحت کو ملحوظ رکھا جائے اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اِنہیں بھی اِس وباء سے بچانے کی تدبیر سوچی جائے تو ایسے اِقدام اُٹھائے جائیں جہاں اِن کی تمام تر منحصرگزر بسر مال مویشیوں اور بھیڑ بکریوں کو متاثر کئے بغیر اِن گجر بکروال خانہ بدوش قبائل کی فشارِ خون، حرکتِ قلب، ذیا بطیس، الرجی اور حمل کی تشخیص اور ٹیکہ کاری کی مہم کے تحت اِنہیں بھی اِس سے مستفید کیا جائے تاکہ ملک کا ہر شہری توانا و تندرست ہو۔(چرخہ فیچرس)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔