ہندوستانی سماج میں ایک مثالی بستی کا تصور

سید اظہر الدین

انسان ایک سماجی حیوان ہے وہ تنہا زندگی نہیں گذار سکتا اور نہ یہ تصور ممکن ہے، ایک سماج کی تشکیل افراد کے گروہ سے ہوتی ہے جسکی درجہ بندی غیر منظم طریقے سے فطری طور پر ہوجاتی ہے جسمیں ہرطرح کے افراد نظر آتے ہیں جس سماج میں ہم زندگی گذارتے ہیں اسمیں ہمیں سماجی برائیوں کے ساتھ ساتھ سماجی خدمت گذار بھی نظر آتے ہیں۔ کوئی عمدہ صفات سے متصف تو کوئی عاری ہوتا ہے جہاں بے شمار معاشرتی مسائل کے ساتھ ساتھ اخلاقی فقدان یا اسکے برعکس مثبت پہلو نظر آتے ہیں غرض یہ کہ ایک عام سماج کو ہم ملاوٹی سماج کہہ سکتے ہیں جب تک کہ اس سماج کی اصلاح و پاکیزہ تشکیل نہ کی جائے جبکہ ایک بہتر سماج کی تشکیل تب ہی ممکن ہے جب ایک ایک فرد کی اصلاح کا سامان میسر کیا جائے کیونکہ افراد سے سماج کی تشکیل عمل میں آتی ہے اگر ایک فرد کی اصلاح نہ کی جائے تو  سماج اسکو سماجی برائیؤں کا نام دیتا ہے۔ وہ برائیاں دین فطرت میں گناہوں کا درجہ رکھتی ہیں۔ کیونکہ دین ایک مکمل نظام حیات ہے، جو انسان کو زندگی کے ہر شعبہ میں بہتر رہنمائی کرتا ہے۔ خواہ وہ مسلئہ شریعت کا ہو کہ خاندانی نظام کا جائداد کا ہو کہ لین دین کے معاملات کا خدمت خلق ہو کہ حقوق انسانی کا سیاسی ہو کہ تعلیمی نظام کا لہذا ایک پاکیزہ معاشرے کی تشکیل دین کاایک اٹوٹ حصہ ہے جو ایک مسلمان کیلئے آخرت کی فلاح کا ضامن ہے۔

اگر چہ ہم موجودہ معاشرے کا تقابل ہندوستان کے ماضی سے کریں گے تو کچھ اہم تبدیلی ہمکو نظر نہیں آتی آزاد ہند سے لیکر اب تک جو برائیاں عام تھی وہ آج بھی ہمکو موجودہ سماج میں ملیں گی چاہے اسکا تعلق کسی بھی شعبہ سے ہو رشوت خوری، زنابالجبر، دھوکہ دہی، سود کی لعنت، جھوٹ کی سیاست، قتل وغارت گری، اگر وہیں پر ہم مسلم سماج کی بات کریں گے تو ایک مثبت تبدیلی ضرور نظر آئیں گی جسمیں سیاسی شعور اجاگر ہوا ہے تعلیم کے میدان میں سبقت ہورہی ہے۔ تجارت میں عروج حاصل ہورہا ہے۔ دین اسلام کی تعلیمات کو پہلے کی بہ نسبت موجودہ دور میں فہم و فراست کے ساتھ حاصل کیا جارہا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ برائیوں کا سیلاب بھی امڈ امڈ کر آرہا ہے۔ درہم برہم خاندانی نظام، قتل کے سنگین واقعات، سود خوری کا بڑھتا رجحان، خوکشی کے بڑھتے واقعات، بے راہ روی جسمیں ارتداد کے دل ٹرپادینے والے واقعات، معاملات میں دھوکہ دہی، وراثتی معاملات میں خلفشار، شراب نوشی ، جہیز کی لعنت، نشے کی لت اسکے علاوہ مزید چھوٹی بڑی برائیاں عام ہوتی جارہی ہیں جو مسلم سماج میں پہلے نظر نہیں آتی تھی یا اگر نظر آتی بھی تو انتہائی کم درجہ کے طور پر آتی تھی ابھی موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہوتے جارہی ہے۔ اسکی ایک اہم وجہ یہ ہیکہ ٹکنالوجی نے موجودہ دور نےجتنے مواقع فراہم کیئے ہیں اسکا غلط استعمال دوسری اہم وجہ دین سے بے رغبتی تربیت کا فقدان کیونکہ ایک طرف اسلامی تعلیمات کو حاصل کرنے کا رجحان بھی ہے لیکن دوسری طرف عملی طور پر اسکا فقدان بھی پایا جاتا ہے تیسری اہم وجہ ہیکہ ان برائیوں سے چھٹکارا دلوانے کیلئے کوئی متبادل مواقع موجود نہیں ہے جس سے مسلم سماج کی اکثریت معاشی پسماندگی اور اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوتی جارہی ہیں اہم سوال یہ ہیکہ ان سب مسائل کا حل کیا ہے؟ اگر ہم زمانہءجاہلیت کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس وقت کا معاشرہ برائیوں کے حدود حد سے تجاوز کرچکا تھا، لوگ رنگین دنیا میں مست تھے حقیقی خدا کا تصور نظروں سے اوجھل تھا ایسے پراگندے ماحول کی پاکیزہ تشکیل کیلئے اللہ تعالی نے محمد عربی کی بعثت فرمائی جسطرح مکہ کی سرزمین پر محمد عربی نے عیش و آرائش والی زندگی کو درکنار کرتے ہوئے صعوبتوں اور آزمائشوں کو جھیلا وہ ہمیشہ کیلئے رہتی دنیا تک ایک پیغام بن چکا ہے لاکھ رکاوٹوں کے باوجود محمد عربی نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا جو امت کیلئے رہتی دنیا تک مشعل راہ ہے لیکن آپکی مدنی زندگی نے شہر مدینہ کو ایک اسلامی معاشرہ کی مثالی  ریاست کا نہ صرف تصوردیا تھا بلکہ اس تصور کو شرمندہ تعبیر بھی کیا جسکی اصل بنیاد پانچ چیزوں پر منحصر تھی جسمیں دینی، سیاسی، تعلیمی، سماجی اور معاشی شامل ہیں آپ کی مدینہ آمد ہوتے ہی سب سے پہلے مسجد نبوی بنائی گئی جو دینی اور سماجی سرگرمیوں کیلئے تعمیر کی گئی تھی اور یہ مسلمانوں کی دینی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا تھا عبادات کے ساتھ ساتھ سیاسی نقطہ نظر سے صلح حدیبیہ کا معاہدہ جو مشرکین مکہ کے ساتھ ہوا تھا اسی مسجد نبوی میں کیا گیا تھا جوبہت زیادہ سیاسی اہمیت کا حامل تھا۔

اسی طرح دیگر اہم معاہدے بھی تھے جو مدینہ کے یہودیوں کے ساتھ اسی مسجد میں کیئے جاتے تھےشہر میں قائم ہونے والا پہلا اسکول بھی مسجد نبوی کے احاطے میں قائم کیا گیا تھایہاں تقریباً 70 سے 80 طلباء تھے، جنہیں محمد عربی کی براہ راست نگرانی میں تعلیم و تربیت دی جاتی تھی ان تربیت یافتہ طلباء کو تعلیم مکمل کرنے کے بعد ابتدائی حکومت میں مختلف ذمہ داریاں بھی سونپی گئیں خاص طور انہیں دینی فرائض کی ادائیگی کی تربیت دی گئی اور اسی مقصد کے لیے عرب کے مختلف گوشوں میں بھیجا گیا دراصل مکہ اور مدینہ تجارتی اعتبار سے بہت مشہور شہر ہیں لیکن مکہ میں فصل کی پیداوار نہیں ہوتی تھی لیکن مکہ تجارت کیلئے مقبولیت رکھتا تھا وہیں شہر مدینہ کی ارض پاک زراعت کیلئے ہموار تھی لیکن غلبہ یہودیوں کا تھا کچھ مسلمان بھی تجارت کرتے تھےمحمد عربی نے مکہ سے مدینہ ہجرت کے بعد مدینہ کے مختلیف معاملات کا باریک بینی سے تجزیہ کیا اور وہ تجارت جو اسلامی اصولوں کے عین مطابق تھی اسکو جاری رہنے دیا جتنی بھی اشیاء یا مصنوعات  مدینہ میں تیار کی جاتی تھیں وہ تقریباً یہودیوں کے ہاتھ میں تھی حتی کے شراب بھی یہودی بناتے تھے تجارت بھی کرتے تھے جن سے خرید کر دوسرے تاجرین بھی شراب کا کاروبار کرتے تھے لیکن جیسے ہی شراب کو حرام یا غیر قانونی قرار دیا گیا مقامی مسلمان(انصار) نے اس تجارت کو اپنے سے الگ کرلیا اور آہستہ آہستہ شراب کی تجارت بند ہونے لگی حتی کہ غیر مسلموں نے بھی شراب کی تجارت چھوڑ دی تھی۔

مدینہ کے یہودی جو تجارت کے ماہر تھے اور جن یہودی ساہوکاروں کے پاس سے مسلمان سود لیا کرتے تھے وہ ادا کرنے سے قاصر تھے تب یہودی ساہوکاروں نے ان مسلمانوں کی اراضیات کو اپنے قبضہ میں لینا شروع کیا جو مسلمان ہجرت کرکے مکہ سے مدینہ آئے تھے وہ تجارت کے ماہر تھے انھوں نے کم سرمایہ سے تجارت کا آغاز کیا اور ہوا یوں کہ وہ یہودیوں کی تجارت پر آہستہ آہستہ غلبہ پاتے گئے انکی سچائی اور دیانتداری کے اثرات مارکٹ پر مرتب ہونے لگے محمد عربی نے مسجد نبوی کے قرب وجوار میں ایک نئی مارکٹ کے قیام کا اعلان کیا یہ ایک متبادل راستہ تھا جو یہودیوں کے جھوٹ فریب اور ظلم والی تجارت سے بچانے کامحمد عربی نے نئی مارکیٹ کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ آپ کی اپنی مارکیٹ ہے یہاں کوئی آپ پر ظلم نہیں کرے گا اور نہ ہی آپ کے ساتھ امتیازی سلوک کرے گا یہاں کوئی جابرانہ ٹیکس نہیں لگایا جائے گا یہودی مسلم تاجروں پر طرح طرح کے حد سے زیادہ ٹیکس لگاتے تھے اور ان پر طرح طرح کے جرمانے عائد کرتے تھے یہ کہا جا سکتا ہے کہ نبی محمد عربی نے شہر کے نئے کھلنے والے بازار میں مسلمان تاجروں اور عام تاجروں کے لیے ٹیکس کے برخواست کرنے کا اعلان کیا تھانبی عربی کا فرمان تھا کہ جو شخص ہماری مارکیٹ میں اپنی مصنوعات لاتا ہے وہ اللہ کی راہ میں لڑنے والے کی طرح ہے محمد عربی خود ایک کامیاب ترین اور تجربہ کار تاجر تھے آپ کو یہ اندازہ تھا کہ تاجرین کو ٹیکس فری تجارت کے مواقع فراہم کیئے جائیں گے تو تاجرین اس مارکٹ کا رخ کریں گے کیونکہ انھیں نقصان کا اندیشہ کم اور نفع ذیادہ ہوگا تھوڑے ہی عرصہ میں محمد عربی کی قائم کردہ مارکٹ کو ایک مرکزی مقام حاصل ہوگیا۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ بازار شفاف اور پاکیزہ طریقوں کی مکمل پیروی کرتا تھا اور ٹیکس اور بھتہ خوری سے پاک تھا، یہودیوں کا بازار تاجروں کے لیے اپنی کشش کھو بیٹھاتھا  وقت کے ساتھ انہوں نے بھی اپنی تجارت کو نئی مارکیٹ میں منتقل کرنا شروع کردیا محمد عربی کا یہ معمول تھا کہ وہ وقفہ وقفہ سے بازار کا جائزہ لیتے اگر کہیں ملاوٹ یا دھوکہ دہی نظر آتی تو اسکو ٹوکتے اور روکتے اسی طرح مدینہ مارکٹ سماجی و معاشی استحکام کا پر کشش مرکز بن چکا تھا مارکٹ کے اصول و ضوابط بنائے گئے تھے سڑکوں کو وسیع پیمانے پر بنایا گیا تھا جسمیں سامان سے لدے ہوئے اونٹ با آسانی سے مارکٹ میں داخل ہوتے تھے مارکٹ آنے والے سامان کی جانچ کی جاتی کہ کہیں کچھ ملاوٹ نہ ہو بہر حال مختصر یہ کہ آپ نے یہ ثابت کرکے دکھایا کہ ایک اسلامی معاشرے کی فلاحی ریاست کس طرح ہوتی ہے ۔اب سوال یہ ہیکہ کیا ہندوستانی سماج میں ایک مثالی بستی کا تصور ممکن ہے؟جواب ہیکہ ایک تو ہمارے ملک کا آئین مذہبی یا دینی تشہیر اور تعلیمات کو عام کرنے کی پوری آزادی دیتا ہے دوسرے جو کام اخلاقی دائرے میں کرنے کی اجازت دین اسلام دیتا ہے وہ ہمارے ملک کےقانون کے دائرے میں بھی آتے ہیں تیسرے ہم جس نہج پر مثالی بستی کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں اسکو ہمارے ملک کا ہر شہری خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو وہ دل سے ایسے کاموں کو پسند کرے گا اسطرح ایک تصویر صاف ہیکہ ہمارے اس کام میں کسی چیز کی بھی رکاوٹ نہیں ہوگی۔

اب بات یہ ہیکہ ایک مثالی بستی کے قیام کا کام جتنا مشکل ترین ہے اتنا ہی آسان ہے مشکل اسلیئے ہیکہ اس کیلئے وقت اور سرمایہ درکار ہے اور آسان اسلیئے ہیکہ اہل ثروت افراد آگے آجائیں پھر اس کام کو منظم انداز میں جامع منصوبہ بندی کے ذریعہ کیا جائے تو بہت آسان ہے مزید اس کیلئے دینی و ملی تنظمیں آگے بڑھ کر اس کام کو غنیمت جانیں معاشرے میں مخلتیف سرگرمیوں کو انجام دیتے ہوئے اسلامی اصولوں کی پابندی کی جائے دین کو مخصوص عبادات کا تصور معاشرے سے ختم کیا جائے کیونکہ دین ایک نظام زندگی کا نام ہے جو زندگی کے ہر موڑ پر خواہ وہ دینی ہو یاسیاسی سماجی ہو یا معاشی یا تعلیمی ہر شعبہ حیات میں انسانیت کی رہنمائی کرتا ہے خود محمد عربی کی سیرت کا حقیقی آئینہ ہمارے پاس موجود ہے بشرطیکہ سماج کے سامنے اسکا متبادل راستہ پیش کیا جانا چاہیئے ورنہ تب تک تبدیلی کی کوئی گنجائش  کا تصور نہیں کیا جاسکتا اگر کوئی یہ سوچتا ہیکہ وہ وعظ ونصیحت سے اسے بدل سکتا ہے تو وہ ایک خام خیال کے مترادف ہوگا بے موجودہ معاشرے میں شمار برائیاں عام ہیں ان برائیوں کے تدارک کیلئے اسوہ حسنہ پر عمل پیراہ ہونا انتہائی ناگزیر ہے جیسے کہ عام طور پر ہمارے یہاں مساجد کو صرف فرض عبادات تک محدود کردیا گیا ہمکو اس تصور سے باہر نکلنا ہوگا جسطرح محمد عربی نے مدینہ میں مسجد نبوی کودینی  تعلیمی سیاسی معاشی و سماجی نقطئہ نظر کا مرکز بنایا تھا ہمکو بھی چاہیئے کہ ہماری بستی کی مسجد کو ایک ایسا مرکز بنانا چاہیئے جسمیں ایک انسانی زندگی کے ساتھ ساتھ معاشرے کے تمام مسائل پر کھل کر گفتگو ہوسکے اور ان مسائل کے حل کیلئے مشترکہ کوشش ہو سود کی لعنت سے بچانے کیلئے بلاسودی رقمی امداد کا مرکز قائم ہو تعلیم کیلئے مدارس اسلامیہ و دنیاوی درس گاہیں قائم ہوں مطالعہ کے زوق کو پروان چڑھانے کیلئے کتب خانہ کا قیام ہو نجی معامالات اور خاندانی مسائل کیلئے کونسلنگ سنٹر کا یا شرعی ادارہ کا قیام تعلیم بالغان کا قیام سیاسی شعور بیداری کیلئے کمیٹیوں کی تشکیل تاکہ متحدہ طور پر عوامی مسائل حل کرنے والے نمائندہ کا انتخاب ہوسکے روزگار کے مواقع فراہم کیئے جائیں مساجد سے تربیت کا سامان مہیا کیا جائے تاکہ نسلیں فحاشی نشے کی لت جہیز کی لعنت اور بے راہ روی سے بچ سکیں جمعہ کے خطبوں میں مذہبی تعلیمات کے ساتھ ساتھ مختلیف سماجی برائیوں سیاسی شعور پر سیر حاصل گفتگو کی جائے یقین جانیئے ان سب کے بعد معاشرے میں ایک تبدیلی ضرور آئے گی اگر کوئی یہ گمان رکھتے ہوں کہ یہ صرف ایک خواب ہوسکتا ہے حقیقت سے پرے تو آیئے اسکی ایک مثال بھی موجود ہے جہاں ایک مثالی بستی کے تصور کو شرمندہ تعبیر کیا گیا۔

تلنگانہ کے ضلع ورنگل کے مستقر پر چنتل نامی ایک محلہ (بستی) ہے جو پچھلے دہائیوں میں ایک پسماندہ علاقہ تھا جہاں ورنگل شہر سمیت اس بستی میں کئی سالوں سے تحریک اسلامی کا کام جاری ہے پچھلے سالوں میں اس بستی کا انتخاب کرتے ہوئے اسکو مثالی محلہ بنانے کا ہدف طئے کیا گیا یہاں مخلتیف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والوں کی الگ الگ انجمنیں تشکیل دی گئیں اس بستی کی عوام میں دینی، سیاسی، معاشی، سماجی، تعلیمی شعور اجاگر کیا گیا اور اس کیلئے عملی اقدامات بھی کیئے گئے مذہبی طور سے اس علاقہ کی مساجد سے ذریعہ منتخبہ خطبات کے ذریعہ اصلاح معاشرہ کا کام کیا جاتا ہے قرآن سے شغف پیدا کرنے کیلئے گھر گھر مہم چلائی گئی علحدہ علحدہ طور پر ہفتہ واری اجتماعات منعقد کیئے جاتے ہیں دینی مدرسہ چلایا جاتا ہے اسکے ساتھ ساتھ محلہ کے بچوں کیلئے صباحی مدارس کو قائم کیا گیا خاندانی تنازعات یا مسائل کے حل کیلئے محلہ کی مسجد میں کونسلنگ سنٹر قائم کیا گیا  معاشی اعتبار سے بلاسودی سوسائیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا جہاں ایک لاکھ تک کا لون دیا جاتا ہے تاکہ امت کے تاجرین سود جیسی لعنت سے محفوظ رہ سکے خواتین کی انجمنیں تشکیل دی گئی خواتین کو خود مختار بنانے کیلئے ٹیلرنگ سنٹر کے علاوہ دیگر دست کاری کی مہارت پیدا کرنےکے مواقع فراہم کیئے جاتے ہیں جسکے 8 بیاچس مکمل ہوچکے ہیں چھوٹے چھوٹے کاروباری کو تعاون بھی دیا جاتا ہے وہیں پر سماجی طور پر مختلیف طریقوں سے خدمت خلق کے کاموں کو انجام دیا جاتا ہے اجتماعی فطروں کے نظم کے ذریعہ مستحقین کو عید کی خوشیوں میں شامل کیا جاتا ہے زکوة صدقات کے ذریعہ بھی امداد فراہم کی جاتی ہے فری میڈیکل کیمپ لگائے جاتے ہیں بقر عید کے اجتماعی چرم کی رقم سے غرباء میں شادی بیاہ کیلئے امدادی رقم اور علاج و معالجہ کیلئے بھی تعاون اور بیواؤں میں وظائف دیا جاتا ہے اسکے علاوہ برادران وطن سے تعلقات کو مضبوط بنانے کی غرض سے ان میں سماجی خدمات انجام دی جاتی ہیں عید ملن کے مواقع پر برادران وطن کیلئے مسجد میں طعام کا نظم جس سے اسلامی تعلیمات کو عام کرنا اہم مقصد ہے مرکزی وریاستی حکومت کی اسکیمات سے عوام میں شعور بیدار کیا جاتا ہے اور رہنمائی کی بھی کوشش کی جاتی ہےاگر تعلیمی طور پر جائزہ لیا جائے تو وسیع پیمانے پر کاموں کو انجام دیا جاتا ہے جو محلہ ماضی میں مختلیف ذاویوں سے پسماندہ تھا آج وہاں کی اکثریت تعلیم یافتہ ہیں جو پوری شعوری کیفیت کے ساتھ بیدار بھی ہیں امت میں مطالعہ کا رجحان پیدا کرنے کیلئے مساجد میں لائبریری کا قیام عمل میں لایا گیا۔ کیرئیر کونسلنگ کے لکچرس منعقد کیئے جاتے ہیں طلباء کو اسکالر شپس دی جاتی ہے ابھی تحریک اسلامی نے مولانا جلال الدین عمری اسکالر شپ کا آغاز کرنے کا اعلان کیا جس سے طلباء کی تعلیمی ضروریات کی تکمیل پوری کی جائے گی اگر سیاسی طور پر جائزہ لیا جائے تو محلہ کے افراد کا اجتماعی فیصلہ ہوتا ہے جسمیں تمام مکاتب فکر بھی موجود ہوتے ہیں جو آج کے اس دور میں پایاجانا نا ممکن سی بات ہے اسکے علاوہ محلہ میں بلدی مسائل ہوں تو اسکو متحدہ کوشش کے ذریعہ حل کروایا جاتا ہے ابھی تحریک اسلامی کی جانب سے بستی دواخانہ کے قیام کی کوشیں جاری ہیں جسکا آنے والے دنوں میں آغاز کیا جائے گا غرض یہ کہا جاسکتا ہیکہ چنتل محلہ کو تحریک اسلامی کے اسلاف کے زمانے سے ہی ہر طرح کے کاموں کو انجام دیا جارہا ہے، جسکی برق رفتار کاوشوں نے ایک پسماندہ بستی کو تعلیم یافتہ بلکہ سماجی برائیوں سے شفاف بنایا گیا آج حال یہ ہیکہ اگر کوئی مسافر تعاون کی حیثیت سے اس بستی کا رخ کرتا ہوتو وہ وہاں سے خالی ہاتھ نہیں لوٹتا آج یہی محلہ مثالی بستی کے طو پر دیکھا جاسکتا ہے جسکو اسوہ نبی کی مدنی زندگی کے اصولوں کی بناء پر تعمیر کی گئی ابھی جماعت اسلامی ہندجو پورے ملک میں جدوجہد کے پچھتر سال منارہی ہے اسی مناسبت سے ورنگل جماعت اسلامی نے 26/جنوری کو ایک شاندار کانفرنس "پلٹو اپنے رب کی طرف”کا انعقاد عمل میں لارہی ہے جسمیں مثالی محلہ پر بھی گفتگو ہوگی اسکے علاوہ الگ الگ سیشن موجود ہیں جس کے ذریعہ سے تحریک اسلامی یہ پیغام دینا چاہتی ہیکہ دین اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے اسی پر چل کر دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی حاصل کی جاسکتی ہے اللہ تعالی سے دعا ہیکہ وہ اس کانفرنس کو کامیاب بنائے اور تحریک اسلامی کے کاموں کو قبول کرے آمین۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا