یوم اساتذہ : ایک پیغام

محمد فراز احمد

یوں تو دنیا کا کوئی مقام ایسا نہیں جہاں استاد, ٹیچر یا معلم کی اہمیت اجاگر نہ ہو اور عزت نہ کی جاتی ہو، انسانی زندگی میں ہر دن کی اہمیت ہے لیکن معاشرہ میں سال کے جن ایام کو خصوصی درجہ دیا گیا ہے ان میں ایک “یوم اساتذہ” (Teacher’s Day) ہے جو 5 ستمبر کو ہر سال ملک میں منایا جاتا ہے اور اس موقع پر اسکول و کالجس میں مختلف پروگرامس ترتیب دئیے جاتے ہیں ، جلسوں کے ذریعہ استاد کی اہمیت اور عزت کو پروان چڑھانے کی باتیں ہوتی ہیں، معلم کے احترام کا درس دیا جاتا ہے ۔ اساتذہ کو یاد کرنے کا یہ دن ہندوستان کے پہلے نائب صدر اور دوسرے صدر جمہوریہ ڈاکٹر سروے پلی رادھا کشنن کی یوم پیدائش پر منایا جاتا ہے جوکہ بنیادی طور طر ایک معلم تھے اور اساتذہ کے معیارزندگی کو بہتر بنانے کے لئے کوشاں تھے، رادھا کرشنن صدر جمہوریہ ہند ہونے کے باوجود بھی خود کو استاد کہلانا پسند کرتے تھے نیز نہ صرف یہ بلکہ ملک میں کئی اشخاص تھیں جو معلم بھی تھے اور ملک کے صدر جمہوریہ کے عہدے پر فائز تھے جن میں ماہر تعلیم ڈاکٹر ذاکر حسین، ڈاکٹر شنکر دیال شرما ، ڈاکٹرعبدالکلام کے نام مشہور ہیں۔
لیکن یہ تصویر کا ایک رخ ہے جو بلاشبہ کافی روشن ہے جبکہ دوسرا رخ اتنا ہی دھندلا ہے ، ایک زمانہ تھا جب استاد کو معمار قوم تصور کیا جاتا تھا جو اپنے قول کے ساتھ ساتھ فعل میں بھی بہترین ہوا کرتے تھے ، آج بھی ایسے معلم موجود ہے لیکن تعداد میں زیادہ نہیں،نیز استاد اور شاگرد کا رشتہ بھی آج کے معاشرے میں کچھ باقی نہیں رہا، استاد کے احترام و تکریم و تعظیم پر تمام مذاہب نے زور دیا اور اسلام نے بھی اپنی تعلیمات پیش کی اور معاشرے میں تعلیم والے کی قدردانی جو اسلام نے پیش کی ہے وہ کہیں اور نہیں ملتی ، اسلام نے اللہ کے حقوق کے ساتھ والدین اور اساتذہ کے حقوق و احترام اداکرنے کی تلقین کی ہے اور ایک موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و صلم نے فرمایا “مجھے معلم بناکر بھیجا گیاہے” اس سے معلوم ہوتا ہیکہ معلم یعنی استاد کا مرتبہ کتنا اہم ہے۔
لیکن افسوسناک بات یہ ہیکہ تصویر کا دوسرا پہلو اس کے برعکس اور سیاہ ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ معلم جو کہ ایک قابل احترام اور معمار قوم ہوتا ہے وہی آج انسانی قدروں کی دھجیاں اڑانے لگا ہے، استاد نے جہاں دنیا میں کئی انمول رتن تراشے ہیں وہیں آج کے استاد جن میں کثیر تعداد مادہ پرست و مفاد پرستوں کی ہو چکی ہے ، آئے دن اخبارات و نیوز چینلز پر استاد کی انسانیت سوز خبریں شائع ہوتی ہیں، کہیں پر لڑکیوں سے بد تمیزی کے معاملہ میں تو کہیں کچھ اور ، گزشتہ دنوں میں بھی مہاراشٹرا کے ایک اسکول میں ایسا ہی شرمناک واقعہ سامنے آیا ، یہ ہی نہیں بلکہ دوسال قبل یوم اساتذہ پر ہی جہاں اساتذہ کی تعظیم و تکریم کے چرچے چل رہے تھے وہیں ایک استاد نے اپنے مفاد کی خاطر معلم پیشہ کی دھجیاں اڑادی۔ ایسا ہرگز نہیں کہ چند افراد کی گھٹیاں کارناموں سے تمام افراد کو کٹھرے میں کھڑا کیا جائے بلکہ بہت سارے معلم آج بھی ایسے پائے جاتے ہیں جو سماج میں بہترین مقام رکھتے ہیں اور سماج کی تشکیل نو اور نوجوانوں کی زندگیوں کو سنوارنے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں لیکن معاملہ ان افراد کا ہے جو اس بڑے عہدے کا غلط استعمال کرکر انسانیت کو شرمسار کرتے ہیں ، جن کے تعلق سے کہا گیا کہ یہ اپنے علم کی روشنی کو سماج میں بکھیرتے لیکن چند داغ دار سیاہ لوگ معاشرہ میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں ۔
یوم اساتذہ کا یہ موقع ہم تمام کے لئے ایک لمحہ فکر ہے اور ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم اس جانب اپنی توجہ مبذول کریں اور ایسے افراد کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے تاکہ معلم جیسے عظیم رتبہ کو نقصان نہ پہچے اور ان اساتذہ کی خدمآت کو سراہنا بھی چاہئے جو اپنے پیشہ کا صحیح استعمال کرکے معاشرے میں علم کو عام کرنے اور نوجوانوں کو صحیح راہ پر گامزن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں۔