سہولیات ہوتیں تو پونچھ کے کھلاڑی بھی ملک کے لیے طلائی تمغہ لاتے

محمد اکرم لون

(منڈی، پونچھ)

ٹوکیو اولمپکس میں نیرج چوپڑا نے طلائی تمغہ جیت کر جو تاریخ رقم کی ہے، اس سے پورا ملک فخر محسوس کر رہا ہے۔ اولمپکس کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہے جب بھارت نے ایتھلیٹکس میں طلائی تمغہ جیتا ہے۔ دراصل اولمپکس میں ملک کی نمایندگی کرنا کسی بھی کھلاڑی کا سب سے بڑا خواب ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام ریاستیں اس بات کی کوشش کرتی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ کھلاڑی اس کی ریاست سے ہوں اور ملک کا نام روشن کریں۔ اس کے لیے وہ کھلاڑیوں کی فٹنس اور ان کی ٹرینگ پر خاص توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ ساتھ تمام سہولیات سے آراستہ اسٹیڈیم کی تعمیر پر بھی زور دیتی ہے تاکہ نوجوانوں کی نئی نسل بھی ذیادہ سے ذیادہ کھیلوں کی طرف راغب ہو اور نئے کھلاڑی تیار کیے جا سکیں۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ ریاستں جہاں اس جانب خاص توجہ دیتی ہیں وہیں کچھ ریاستوں کی بے حسی کی وجہ سے اچھے اور باصلاحیت کھلاڑی ہونے کے باوجود وہ اپنی صلاحیت کا مظاہرہ نہیں کر پا رہے ہیں۔

 جموں اور کشمیرکے ایک ایسے ہی علاقہ کا ذکر کرتے ہیں جہاں اب تک کوئی آوٹ ڈور اسٹیڈیم دیکھنے تک کو نہیں ملاہے۔ میری مراد ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی سے ہے۔ منڈی سے وابستہ جتنے بھی علاقے ہیں یوں تو بہت ساری سہولیات سے محروم ہیں۔ لیکن یہاں صرف کھیلوں سے جڑی ہوئی نوجوانوں کو درپیش مشکلات پر ہی اکتفا کروں گا۔ یہاں کے نوجوانوں سے جب اس سلسلے میں بات کی گئی تو شبیر احمد نامی ایک 28سالہ نوجوان نے اسے زیادتی اور نا انصافی سے تعبیر کیا۔ اس جوان نے مزید کہاکہ بہت سے جوان جو کھیلوں میں دلچسپی رکھتے ہیں اور جو زمینی سطح سے اٹھ کر قومی سطح تک جانے کا خواب دیکھتے ہیں۔ انکے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک نا قابل برداشت ہے، کیوں کہ ان نوجوان کھلاڑیوں کے جذبات اس وقت مجروع ہوجاتے ہیں جب ان کو نہ ہی کھیلنے کے لیے کوئی جگہ مل پاتی ہے اور نہ ہی تربیت کے لیے قرب و جوار میں کوئی ایسا کھیل کا معمولی میدان ملتاہے۔ جہاں پر اپنی صلاحیتوں کو بروے کار لا سکتا۔

منڈی میں اگر آپ کوئی چھوٹا سا کھیل کا میدان بھی ڈھونڈنے نکلیں اور اس جستجو میں لورن اور ساوجیاں کی آخری حدود تک بھی چلے جائیں تو آپ کو صرف نا کامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ یہاں کے گزشتہ حکمرانوں کے تئیں ان نوجوانوں کے ساتھ روا رکھنے والا ناروا سلوک کہیں یا پھر منڈی کے نوجوانوں کی بدقسمتی سے تعبیر کریں، یاپھر یہاں کی سادہ لوح عوام کی کم فہمی ہی کہہ لیں۔ یہاں کے نو جوان کھیلوں میں اپنی ہنر آزمانے سے اب تک محروم ہیں۔ اگر توجہ دی گئی ہوتی، سہولیات فراہم کی گئی ہوتی تو یقیناً یہاں کے جوان بھی قومی اور بین الااقوامی سطح پر اپنے ہنر کے جوہر اور کمالات دکھا رہے ہوتے۔ لیکن حقیقت اسکے بر عکس ہے۔ آج بھی اگر آپ دیکھیں تو بہت سی نا مناسب جگہوں پر بچے اور جوان اپنے کھیل کھیلتے دکھائی دیں گے۔ کہیں دریا کے کناروں پر ان گنت پتھروں کے بیچ کھیل کھیلا جا رہا ہے تو کہیں کہیں اسکولوں کے صحن میں بچے اپنے ہنر کا مظاہرہ کرتے نظر آیئں گے۔ آہ کتنی عجیب بات ہے کہ آج کے اس جدید دور میں یہاں کی حالت کتنی خستہ ہے۔ جہاں کھیلنے کو ایک چھوٹا سے میدان بھی نہ دیا گیا ہو تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اسحصال کا پیمانہ کیا رہا ہوگا؟

ہمارے نوجوان ابھی تک آؤٹ ڈور کھیلوں میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے لیے 20 کلو میٹر کا سفر طے کر کے شہر پونچھ جاتے ہیں۔ اگر بات منڈی سے بھی دور دراز علاقوں یعنی لورن ساوجیاں کی جاے  تو یہ سفر 40 کلو میٹر سے بھی تجاوز کر جاتا ہے۔ ستم ذریفی یہ کہ ابھی بھی نہ آؤٹ ڈور کھیلوں کے لیے کوئی مثبت لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کھیلوں کے لیے کوئی ا اسٹیڈیم یا گراؤنڈ فراہم کرنے کی بڑے پیمانے پر کوشس ہی کی گئی۔ حالانکہ ایک اچھی بات یہ ہے کہ اس بات کو شدت سے منڈی کے بلاک ڈویلپمنٹ چیئرمین شمیم احمد گنائی نے محسوس کیاہے۔ وہ کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے بڑی کد وکاوش کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یہاں کے جوانوں کو انڈور اور آوٹ ڈور کھیلوں میں دلچسپی کو لے کر بڑے پیمانے پر انکی کی گئی کاوشیں رنگ لا رہی ہیں۔ یہ انہی کی کوشیشوں کا نتیجہ ہے اب منڈی سے کوئی دو کلو میٹر دور گاؤں کرڑاں میں انڈور اسٹیڈیم کی تعمیر کا کام شد و مد سے جاری ہے۔

اس سلسلے میں جب ہم نے بلاک ڈویلپمنٹ چیئرمین شمیم احمد گنائی سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ انڈور اسٹیڈیم کی تعمیر اور منظوری کے لیے انہوں نے بڑی جانفشانی کے ساتھ کام کیا اور اس سلسلے میں کئی بار راجدھانی دلی کے چکر بھی کاٹے۔ انہوں نے بتایا کہ بڑی کدوکاوش کے بعد ہمارے انڈور اسٹیڈیم کے مطالبات کو منظوری دی گئی۔ انہوں نے مزید گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس انڈور اسٹیڈیم کو تین کروڑ 85 لاکھ روپیے کی لاگت کے ساتھ تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس انڈور اسٹیڈیم کی تعمیر کا کام اب آخری مرحلے میں ہے اور بہت جلدی یہاں کے نوجوان اور ہنر مند بچے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ انڈور اسٹیڈیم کی تعمیر سے یہاں کے نوجوان خوشی اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ یہ اسٹیڈیم اس دور دراز علاقے میں کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے بڑے پیمانے پر کی جانے والی واحد کوشیش ہے۔ لیکن جہاں انڈور کھیلوں میں دلچسپی رکھنے والے نوجوان اس اسٹیڈیم کی تعمیر سے خوش ہیں۔ وہیں آؤٹ ڈور کھیلوں میں دلچسپی رکھنے والے نوجوانوں میں مایوسی ہے۔ کیونکہ انہیں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے لیے کوئی مناسب اور چھوٹا سا گراؤنڈ بھی دستیاب نہیں۔

لیکن تعمیر ہو رہے انڈور اسٹیڈیم کو دیکھ کر ان کی سوئی ہوئی امیدیں بھی جاگ اٹھی ہیں۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ جس سطح پر انڈور کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے اسٹیڈیم کی منظور ی کا کام کیاگیا ہے، اسی طرح بڑے پیمانے پر آوٹ ڈور کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے بھی گراؤنڈ یا اسٹیڈیم کا بندوبست کیا جائے، تاکہ یہاں کے نوجوان بھی قومی اور بین الااقوامی سطح پر منقدہ کھیلوں میں اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں اور ملک کے لیے طلائی تمغہ حاصل کر سکیں۔ (چرخہ فیچرس)

تبصرے بند ہیں۔