اب عرب کے  اخوان اسلام بھی فتنہ پردازوں کی زد میں

ایاز احمد اصلاحی

سولاپور میں عالم عرب کی معروف تنظیم الاخوان المسلمون کے خلاف اہل حدیث گروہوں  کاحالیہ  جلسہ اور  اس میں انتہائی فتنہ انگیز اور منفی بنیادوں پر مبنی باتیں سن کر اور وہاں ہوئی تقریروں کی ویڈیو دیکھ کر یقین ہو گیا امت اس وقت پوری طرح اس دور فتن میں داخل یو چکی یے جس کے بارے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ اس پر فتن دور میں دین کے نام پر بننے والے گروہ بہت ہوں گے لیکن ان میں بیشتر وہ ہوں گے جو اسلام کا نام لےکر غیر اسلام کی خدمت کریں گے۔ آج ابلیسی نظام کی فتننہ سامانی کے اثرات سے  نہ ہمارے علماء و ملوک محفوظ ہیں ، نہ صوفی و ملا اور نہ  ہمارے محراب و منبر۔ نہ جانے ہند سے شام تک بھڑکی ہوئی اس آتش فتنہ کو کون سرد کرے گا اور کب؟

واضح رہے سلفیوں کا  یہ جلسہ اور اس کا مرکزی موضوع اصلا عالم عرب کی اس عظیم تنظیم اخوان المسلمین کے خلاف ہے جس کی دعوت و تحریک کا محور و مرکز صرف قرآن و سنت ہے اور جس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ عرب، خصوصا مصر میں ملکی نظام و مسلم معاشرت کو خالص اسلامی بنیادوں پر قائم کیا جائے اور جس کا طریقہ کار ابتدا سے لےکر آج تک پر امن رہا ہے ، لیکن اچانک اس عرب تنظیم کو ہندوستانی سلفیوں نے ” گمراہ فرقوں ” میں شامل کر کے پوسٹرز اور جلسوں کی سطح پر اس کے خلاف ملک میں  ایک محاذ کھول دیا پے اور ان کے بینر و پوسٹر 50 سال قبل کے ” فتنہ” گر  انداز میں “رد اخوانیت” کے پیغام سے پر ہیں ۔ حیرت ہے ان دینی مبلغوں کے لئے عرب کی اخوان المسلمین اچانک اتنا بڑا مسئلہ کیسے بن گئی کہ انھوں نے سب کچھ چھوڑ کر اس کے خلاف فتوی بازی شروع کردی۔۔۔ حالانکہ یہ سب جانتے ہیں کہ اخوان المسلمین وہ عالمی تنظیم ہے جو سقوط خلافت کےبعد کے مشکل و صبر آزما حالات میں 1928 میں امام حسن البنا شہید اور ان کے چند ساتھیوں کے ذریعہ مصر میں خالص احیاء دین کی غرض سے قائم کی گئی تھی۔۔۔ اخلاص و بے نفسی اور اپنے کارکنوں کے جانثارانہ کردار کی وجہ سےبہت کم مدت میں یہ تحریک سرزمین عرب میں دعوت اسلام  ہی نہیں بلکہ تحفظ اسلام کی عظیم تحریک اور انقلاب فکر و نظر کی روشن علامت بن گئی، اور پھر اس وقت جب کہ پوری عرب دنیا انتشار و افتراق اور بے رحم استعماریت کے نرغے میں تھی،  اس نے آگے بڑھ کرخطہ عرب میں تمام استعماری قوتوں کو للکارا اور یورپی اقتدار کے خلاف جہاد آزادی  کی قیادت سنبھال لی۔ ۔۔۔ اس کے علاوہ  بیت المقدس کی حفاظت اور فلسطینن پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے خلاف اس کی شاندار  جدو جہد بھی تاریخ اسلام میں ہمیشہ سنہرے حرفوں سے لکھی جائے گی۔ اس وقت اسرائیل کے خلاف حماس نامی جو فلسطینی تنظیم  سب سے بڑی  قوت مزاحمت کی شکل میں موجود ہے، وہ بھی اسی تنظیم کا ایک بازو ہے، یہ وہی حماس ہے جس نے 2008 سے 2014 تک صہیونیوں کے تین دہشت گردانہ حملوں کا بہت پامردی و شیر دلی سے مقابلہ کیا اور بیت المقدس  کی حفاظت میں اس کے جیالوں نے ہزاروں جانیں نچھاور کیں ۔ یہ سب  اسی اخوان کی دین ہے جس کے خلاف سلفیت کے عمبردار آج ہندوستانی مسلمانوں کے دل و دماغ میں زہر بھر کر سعودی شہزادوں کو  مسرور کرنا چاہتے ہیں ۔ اور انہیں یہ پیغام دینا چاہتے ہیں  کہ ہم نے بھی آپ کے اور اسرائیل کے اس مشترکہ اسلامی دشمن کے خلاف اپنے ملک میں مورچہ کھول دیا ہے۔

تفصیل میں جانے کا یہ موقع نہیں لیکن اب آیئے ذرا اس جلسے کے بنیادی پیغام پر بھی ایک نظر ڈال لیں :

اس پوسٹ سے منسلک اخوان المسلمین کے خلاف  اہل حدیث کے جلسہ میں ہوئی تقریروں کی  ویڈیو کو غور سے سنیے جس کا واضح پیغام ہے “حکام و ملوک چاہے جیسے ہوں ان کے خلاف عوامی خروج و بغاوت جائز نہیں ” یہ بھی۔دلچسپ ہے۔ ایک طرف ان فرقہ بندوں کی یہ پکار اور دعوت امن ہے تو دوسری طرف یہ بالکل منافقانہ طرز عمل اختیار کر کے  مصر کے منتخب صدر محمد مرسی کے خلاف بد بخت سیسی کی “فوجی بغاوت” کی برملا حمایت کرتے ہیں اور  المیہ یہ ہے کہ سیسی کے اس بدبختانہ عمل کی حمایت بھی وہ دین و شریعت کا حوالہ دےکر کرتے ہیں ۔ اب پتہ نہیں شریعت کو ہی یہ اپنے گھر کی خادمہ سمجھتے ہیں کہ جب چاہا اسے  من چاہے رخ پر موڑ دیا یا پھر  جانتے بوجھتے یہ لوگ اپنے آقاؤں کے دیئے ہوئے پروجیکٹ کے مطابق  سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں ۔

کیا ایک منتخب حکومت کے خلاف مصر کی فوجی بغاوت ان کی اپنی خانہ ساز تشریحات دین کے مطابق بغاوت نہیں ہے؟ اگر پر امن معاشرے میں خروج و بغاوت تعلیمات اسلام کے خلاف ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ ایک منتخب صدر کے خلاف اسرائیل کی حمایت یافتہ فوجی بغاوت ان کی نظر میں جائز  بلکہ مستحسن کیوں ہے؟؟؟۔

۔۔ جیسا کہ اس ویڈیو سے بھی ظاہر ہے، ان  سلفی و اہل حدیث حضرات کو اخوانیوں کی دشمنی میں نہ آخرت کی جواب دہی کا کوئی احساس ہے اور نہ ہی کسی اخلاقی انسانی حدود کا۔ ان کا حال یہ ہے کہ یہ  فوجی ڈکٹیٹر کے ذریعہ منتخب صدر مصر محمد مرسی کو قید کیئے  جانے کے حامی ہیں ، سیسی کی تابع مصری عدلیہ کی طرف سے  اس مومن صادق کو سزا ئے موت دیئے جانے کی بھی یہ حمایت کرتے ہیں اور صدر مصر کے خلاف خوں ریز بغاوت اور معصوموں کے قتل عام کی  بنیاد پرقائم  ہونے والے سیسی کے جابرانہ و ظالمانہ اقتدار کے کھلے طرف دار بھی ہیں ۔ افسوس کہ اس مسلکی تحزب و گروپی تعصب میں یہ لوگ  اتنے اندھے ہوچکے ہیں کہ وہ  خود اپنا بنایا ہوا یہ فارمولا بھول  جاتے ہیں کہ ایک پر امن ماحول میں ملوک و حکام کے خلاف بغاوت شر اور موجب فساد ہے۔

سیاق و سباق کے بر عکس احادیث کی غلط تشریحات اور من پسند استنباط نتائج کے ساتھ یہ بڑے دھڑلے سے خوب کو ناخوب اور ناخوب کو خوب کرنے کے فن میں بھی بڑے ماہر لگتے ہیں ۔ کیا ان حدیثوں کا اطلاق خود ان پر نہیں ہوتا جنہیں عوام کے سامنے پیش  کر کے  یہ بڑے  اعتماد سے اخوان المسلمین اور دوسری مسلم جماعتوں کو غلط اور خود کو صحیح ٹھرا تے نہیں تھکتے اور جن میں عام مسلمانوں کو دینداری کے لباس میں ظاہر ہونے والے شرپسندوں سے خبردار کیا گیا ہے، اور  ان تمام احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ دور فتن میں شرپسند لوگ بھی ظاہرا عام مسلمانوں کی طرح ہی دکھائی دیں گے، انہیں کی طرح ان کی بھی شکلیں ہوں گی، ان کی زبان بھی انہیں جیسی ہوگی اور انہیں کی طرح وہ بھی اپنی بات قرآن و حدیث سے مدلل کرکے پیش کریں گے لیکن وہ عملا اپنی سرگرمیوں سے باطل کا مقصد پورا کر رہے ہوں گے۔ اہل حدیث کے ان علماء کو ہم بڑی فرمندی کے ساتھ دعوت دیتے ہیں کہ تھوڑا وقت نکال کر  وہ بھی کتاب و سنت کو سامنے رکھ کر خود اپنا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ  وہ خود اپنے منفی کاموں اور اخوان کے خلاف بے بنیاد الزام تراشیوں  سے کون سا مقصد پورا کر رہے ہیں۔

  قرآن و سنت کے احکام کی روشنی ہم تو بس یہ جانتے ہیں کہ اپنے اغراض کی تکمیل کے لئے اہل اسلام   میں تفریق ڈالنے والے کبھی بھی حق بجانب نہیں ہو سکتے، وہ بھی ایک ایسی جگہ جہاں کے مسلمان خود اپنے دینی وجود کی  بقا کی جد و جہد میں مصروف ہوں اور جہاں  اس قسم کے گروہوں  کے غیر مثبت اقدامات سے اسلام دشمن قوتوں کے ہاتھ مضبوط ہونے کا ہی اندیشہ ہو۔
کیا ان کی یہ سرگرمیاں “واعتصموا بحبل جمیعا و لا تفرقوا” جیسے احکام کی صریح خلاف ورزی نہیں ہیں ؟

اب سوال یہ ہے کہ  موجودہ حالات میں اس قسم کی لاطائل اور تفرقہ بازی کی باتیں کرنے والے کسی گروہ کو کس زمرے میں رکھا جائے؟ شرپسندوں کے یا شرپسند قوتوں کے الہ کار کے زمرے میں ؟

یہ بھی عجیب المیہ ہے  کہ یہ لوگ اب تک عام طور سے ہندوستان کے غیر سلفی گروہوں کو “اصلاح عقیدہ”۔کی آڑ میں اپنی لعن و طعن کا نشانہ بناتے رہے ہیں مگر اب ان کی مفسدانہ سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہوتا نظر آرہا ہے، اب تو باہر سے حوصلہ پاکر وہ عرب کی سب سے بڑی اور منظم اسلامی تنظیم اخوان المسلمین کے تعلق سے اہل ملک کو گمراہ کرنے میں لگےہیں ، اور ان کے خلاف منفی تشہیر کی مہم چلا کر اور ایک بڑا جلسہ کرکے گویا وہ حرم کو رسوا کرنے والے ملوک سے اپنی وفاداری کا ثبوت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس پہلو پر بھی غور کیجئے، اس وقت اس ملک کا مسلمان  گونا گوں مسائل کا شکار ہے۔ فسطائی قوتیں اسے یہاں ہر روز ایک نئی چوٹ دینے کی تیاری میں ہیں ۔اس وقت سخت ضرورت ہے کہ  اسلامیان ہند اپنے فقہی و مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر خود کو متحد و مضبوط کریں ۔۔۔ لیکن اہل حدیث کا عرب اخوانیوں کے خلاف بھارت میں یہ تکلیف دہ اقدام ہمیں اس نہج پر سوچنے پر مجبور  کرتا ہے کہ لگتا ہے مسلمانوں کے خلاف ان کے دشمنوں کی منصوبہ بندی  عالمی سطح پر بہت منظم اور مربوط ہے، اور ان کے لئے سازگار ماحول بنانے والے ہر جگہ موجود ہیں ۔ورنہ موجودہ حالات میں یہاں اخوان کے خلاف اس منفی و انتشار پسند اقدام کا کیا جواز ہے؟  غور کرنے کا مرحلہ پے کہ  کیا ہندوستان میں مسلمانوں کے بے شمار ملی مسائل میں ہمارے ان اہل حدیثی بھائیوں کے لئے کوئی دلچسپی کا سامان نہیں ہے، کیا ان پر یہاں دین و ملت کے تحفظ کی  کوئی ذمہ داری نہیں ہے؟ یا پھر یہاں بھی وہ ” السلطان ظل اللہ” کے حکم پر عمل پیرا ہیں ؟۔۔۔۔۔ ہاں پھر حدیث و سنت کا نام لےکر اس گروہ کو صرف منفی کاموں کے لئے ہی تربیت دی جاتی ہے؟۔۔۔۔۔کیا کوئی مجھے بتا سکتا ہے کہ اس وقت ملک و بیرون ملک میں اسلام و اہل اسلام کی خدمت اور ان کے مسائل کے حل کے تعلق سے عقیدے کے یہ “محافظ” کون سا خاص کارنامہ انجام دے رہے ہیں ؟۔۔۔۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ داعش جس کا نام ویڈیو میں بار بار لیا گیا ہے، اس میں اور اس گروہ میں کیا فرق ہے؟ شاید کوئی خاص نہیں ۔ بس فرق یہ ہے کہ داعش مسلم ملکوں میں باہمی قتال و خوں ریزی کے ذریعہ مسلمانوں کی جڑ کاٹ رہی ہے اور یہ جلسوں کے اسٹیج اور فقہی کارخانون سے داعش اور دشمنان اسلام کا کام آسان کر رہے ہیں ۔

بہت سے لوگ اس وقت  تبلیغی جماعت کے حالیہ اجتماع اور اس پر آنے والے اخراجات پر سوال کھڑے کر رہے ہیں لیکن میری نظر میں وہ حدیث و سنت کے ان ٹھیکےداروں سے ہزار درجہ بہتر ہیں اس لئے کہ وہ کم سے کم اپنے عالمی یا ملکی اجتماعات میں تفریق و انتشار اور مسلکی گروہ بندی کی باتیں کر کے عوام کو کو کھلے عام گمراہ کرنے کا کام تو نہیں کرتے۔

1 تبصرہ
  1. mohammed siddiq کہتے ہیں

    Mashallah Allahtala aap ke qalam me mazeed taqat de……………

تبصرے بند ہیں۔