اسلاموفوبیا کا قہر: کیوں اور کیسے؟

ڈاکٹر سلیم خان

عالمی سطح پر اسلاموفوبیا کا فروغ  کیوں اور کیسے کیا جارہا ہے؟آگے بڑھنے سے قبل اس  سوال پر غورو فکر ہونا چاہیے نیز اس کا مقابلہ کس طرح کیا گیا اس کا بھی پتہ لگایا جانا چاہیے۔ ان سوالات  کاجواب فرانسیسی ہفت روزہ جریدے چارلی ہیبڈو  میں شائع ہونے والے اہانت آمیز خاکوں  کی مثال کی مدد سے تلاش کیا جاسکتا ہے۔ مسلمانوں کو مشتعل کرکے انہیں بدنام کرنے میں نبی کریم ﷺ کے ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت نے ایک بڑا کردار ادا کیا۔ 2006 کے اندر جب ان کی اشاعت ہوئی تو   دنیا بھر میں اس کے خلاف احتجاج ہوا۔ اس کے باوجود 2011 میں مذکورہ میگزین  پھرسے اسی گستاخی کا اعادہ کیا اور اسے جاری رکھا یہاں تک کہ 7 جنوری 2015 کو اس کے دفتر پر دو بھائیوں نے  حملہ کرکےاس جریدے کا ایڈیٹر اور5  کارٹونسٹ سمیت 12 ؍ افراد کو ہلاک کردیا۔ اس  کے بعد اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے ایک محاذ کھول دیا گیا مگر اس کا یہ اثر بھی ہوا کہ عارضی طور پر یہ سلسلہ تھم گیا مگر 2019میں یہ شرارت پھر سے شروع کردی گئی۔

2020میں فرانس کے ایک اسکولی استاد نے آزادی اظہار رائے کے سبق کے دوران متنازع گستاخانہ خاکے دکھائے اور اس کے چند روز بعد ایک شخص نے مذکورہ استاد کاسرقلم کردیا۔ اس حملہ آور نوجوان کو تو پولیس نے جائے وقوع پر ہی گولی دی مگر  فرانسیسی صدر نے اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی خاطرملعون استاد کو ‘ہیرو’ قرار دے کر  فرانس کے سب سے بڑے شہری اعزاز سے  نوازکر اس کی آخری رسومات میں خود شرکت کی نیز اس کی آڑ میں اسلاموفوبیا پھیلانے کی غرض سے  2 فرانسیسی شہروں کے ٹاؤن ہال میں  چارلی ہیبڈو کے شائع کردہ گستاخانہ خاکوں کی کئی گھنٹوں تک نمائش کروائی۔ فرانسیسی صدر میکرون نےاس وقت کمال انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گستاخانہ خاکوں کی حمایت  میں یہاں تک  کہہ دیا تھا کہ ’مسلمان ہمارا مستقبل چھیننا چاہتے ہیں‘۔ اس کے ساتھ "بنیاد پرست اسلام” کے خلاف دفاع کے منصوبوں کی نقاب کشائی  بھی کی۔   اس وقت میکرون کی سیاسی حیثیت خاصی کمزور ہوچکی تھی اس لیے انہوں نے گویا اسلام کی مخالفت کرکے اپنا مفاد حاصل کرنے کی سعی کی۔

ایمانوئیل  میکرون کے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے  پورے یوروپ میں ایک اسلام مخالف لہر چل پڑی  اور بائیں بازو کے اسلام دشمنوں کو نادر موقع مل گیا۔ اس وقت دنیا بھر میں حالات اس قدر کشیدہ ہوگئے تھے کہ  ترک صدر رجب طیب اردوان نے فرانسیسی صدر کو 2 مرتبہ دماغی معائنہ کرانے کی تجویز دی  اورفرانس نے ترکی سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا۔ اس کے علاوہ پاکستانی  پارلیمان نے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف قرارداد منظور کی  اوردنیا  کے کئی ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم بھی چلائی گئی۔ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نےایک کھلے خط میں   مغربی دنیا خاص کر یورپ میں اسلاموفوبیا کی  تیزی، نفرت انگیزی اور ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمد ﷺ کی گستاخی سے امت  میں  بے چینی اور تشویش  کا اظہار کیا۔

عمران خان  نے اس خط میں نہایت معروضی انداز سےان  ممالک میں جہاں  مسلمانوں کی بڑی آبادی مقیم ہے،قرآن پاک کی بے حرمتی جیسے واقعات  کو یورپ  کے بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کا مظہر قرار دیا۔ انہوں نے  بتایا کہ پورے یورپ میں مسلم مخالف جذبات پھیل رہے ہیں۔ وہاں مساجد کو بند کیاجارہا ہے اور مسلمان خواتین کو عوامی مقامات پر اپنی مرضی کا لباس زیب تن کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی  جبکہ پادری اور راہبائیں اپنا مذہبی لباس پہنتی ہیں۔ اس موقع پر عمران خان نے  مسلمان قائدین کومتحد ہو کر آواز اٹھانے کی دعوت دی۔ انہوں اس بات پر زور دیا کہ مغربی ممالک کےغیر مسلم رہنماؤں کو مسلمانوں کے اندر قرآن پاک اور حضرت محمد ﷺ کے تئیں  گہری عقیدت اور محبت سے آگاہ کیا جائے کیونکہ یہ  اسلام کی پیغام رسانی کے  ذریعہ نفرت اور جرائم کے سلسلے کو ختم کرنے کا وقت ہے۔

عمران خان کا وہ خط اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا۔  اس میں  یاد دلایا گیا تھاکہ یہودیوں کے قتل عام ہولوکاسٹ پر تنقید اور سوال کرنا مغربی ممالک میں جرم ہے اور مسلم دنیا کو اس کا احترام بھی کیا جاتا ہے اس کے باوجود اسلامی  عقیدے اور حضرت محمد ﷺ کی گستاخی  انتہائی درد ناک اور دل شکن حرکت  ہے۔ اسلاموفوبیا کے طوفان بدتمیزی پر لگام لگانے کی خاطر  ترکی ،پاکستان اور ملیشیا نے مذہب ‘اسلام’ کے حقیقی تشخص کو اجاگر کرنے کی خاطرایک  انگریزی  چینل شروع کرنے اعلان کیا  تاکہ ان  تمام غلط فہمیوں  کا ازالہ کیا جائے جو ناواقف  لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف یکجا کرتی ہیں۔ اس چینل کا ایک مقصد  توہین رسالت کے معاملے کا سیاق و سباق درست کرنا بھی طے کیا گیا۔ عالمِ انسانیت کی تاریخ اسلام سے آگہیبھی اس کوشش کا مقصود ٹھہرا۔

 اسلاموفوبیا سے نمٹنے کی خاطر منعقدہ مسلم رہنماوں  کی  ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے اس مسئلہ کے حوالے سے مندرجہ ذیل بنیادی باتوں کی جانب شرکاء کی توجہ مبذول کرائی جو بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ انہوں نےیہ اہم انکشاف کیا کہ  نائن الیون سے قبل 75 فیصد خود کش حملے ہندو تامل ٹائیگرز نے کیے، دوسری جنگ عظیم میں جاپان نے امریکی جنگی جہازوں پر خود کش حملے کیے، وہ تمام خود کش حملے مذہب کے لیے نہیں تھے کیونکہ دنیا کا کوئی بھی مذہب خود کش حملوں کی اجازت نہیں دیتا لیکن بدقسمتی سے مغربی ممالک کے رہنماؤں نے انتہا پسندی اور خود کش حملوں کو بھی اسلام سے جوڑ دیا۔ عمران خان نے بجا طور پر کہا کہ دنیا میں کم و بیش تمام دہشت گردی کی کڑیاں سیاست سے جڑتی ہیں۔ سیاست کی ناانصافیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات دہشت گردی کو تقویت دیتے ہیں۔ یہی اسلاموفوبیا کی بنیادی وجہ ہے اوربلآخر اس کے خلاف ہونے والی عالمی جدوجہد رنگ لارہی ہے۔ امریکی کانگریس کا قانون  اس کی جانب  ایک اہم پیش قدمی ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے ہند نژاد امریکی شہری راشد حسین کو بین الاقوامی مذہبی آزادی کے لیے سفیر یعنی  ’امبیسڈر ایٹ لارج‘   نامزد کرکے ایک مثبت اشارہ کیا تھا۔ 41 سالہ راشد حسین اس اہم عہدہ پر فائز ہونے والے پہلے مسلم ہیں۔ ییل یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے والے راشد نے ہارورڈ یونیورسٹی سے اسلامک اسٹڈیز اور عربی میں ماسٹرس کی  سند بھی حاصل کیہے۔ اوبامہ حکومت کے دوران راشد  ادارہ برائے اسلامک تعاون (او آئی سی) میں امریکہ کے خصوصی سفیر، اسٹریٹجک کاؤنٹر ٹیررزم کمیونکیشن میں امریکہ کے خصوصی سفیر اور وہائٹ ہاؤس کونسل میں ڈپٹی ایسو سی ایٹ کی حیثیت  میں اپنی خدمات  انجام دیتے رہے ہیں۔ راشد نے یہودی مخالفت کا مقابلہ کرنے اور مسلم اکثریتی ممالک میں مذہبی اقلیتوں کی حفاظت کرنے کی کوششوں کی بھی قیادت کی ہے۔ اس سے قبل صدر بائیڈن نے پاکستانی نژاد وکیل خضرخان کو امریکی فوجیوں اور مذہبی آزادیوں کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی میں  انہیں کمشنر کے عہدے پرنامزد کیا  تھا۔ خضر خان کوسن 2016 میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی  مذہبی آزادیوں کے حوالے سے تنقیدپر کافی شہرت ملی تھی مگر اس کا صلہ اب ملا ہے۔ ان تقررات سے امریکہ میں اسلاموفوبیا کے اندر کمی کا امکان ہے اور اس کا اثر پوری دنیا پر ہوسکتا ہے۔

سیاست میں علامت کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ مثلاً امریکہ کےتیسرے  صدر ٹامس جیفرسن کی وراثت میں  نایاب قرآن مجید کا دبئی ایکسپو میں نمائش کے لیے رکھا  جانا۔ اس قرآن  مجید کے نسخے کی  چوبیس گھنٹے نگرانی کی گئی کیونکہ  اسے پہلی مرتبہ امریکہ سے باہر لایا گیا تھا۔ سابق امریکی صدر جیفرسن نے اسے 1765ء میں اس وقت خریدا تھا، جب وہ قانون کے طالب علم تھے۔ یہ قرآن لائبریری آف کانگریس  میں محفوط ہے اور اس کی نایاب ہونےکے سبب  خاص دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ سابق  امریکی  صدر نے اسے جس د ور میں  حاصل کیا وہ  امریکہ میں عوامی حقوق اور آزادی کے تعین کا زمانہ  تھا۔ دو جلدوں پر مشتمل یہ قرآن 1734 میں جارج سیل کے کیے ہوئے ترجمے کا دوسرا ایڈیشن ہےجو سن 1764ء میں لندن کے اندر شائع ہوا تھا اور بعدازاں  جب اسے امریکہ لایا گیا تو ولیمزبرگ میں اس کو سابق امریکی صدر ٹامس جیفرسن نے خریدا۔

دبئی کی  عالمی  نمائش کہ جس ایک کروڈ دس لاکھ لوگوں نے شرکت کی  اس قرآن مجید کی موجودگی نے  یہ پیغام دیا کہ سابق صدر جیفرسن نے ”آزادی کے اعلامیے اور امریکی آئین‘‘ کی تشکیل کے دوران اسی قرآن سے استفادہ کیا اوروہی دستاویزات امریکی آئین  کے اہم ترین ستون بنے۔ یہ تفصیلات  ان امریکی سفید فام نسل پرستوں کو   دعوت فکر دیتی ہےکہ جودس سال قبل  ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ کو امریکی ریاست فلوریڈا کے اندر پادری جیمز ٹیری  کی قیادت میں  قرآن مجید کو جلاناچاہتے تھے۔ اس وقت کون سوچ سکتا تھا کہ  دس سال کے اندر حالات اس قدر بدلیں گے کہ  امریکی حکام  قرآن مجید کی تعریف و توصیف کریں گے ؟ یہ اللہ تعالیٰ کاا حسان عظیم ہے جو اس امت پر جاری و ساری رہتا ہے لیکن کم ہی لوگ اس کا شکر ادا کرتے ہیں۔  یہ واقعات قرآن حکیم کی آیت ’’اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو‘ کی عملی تفسیر ہیں۔

تبصرے بند ہیں۔