الزام تراشیوں اور بیہودہ گوئیوں سے اجتناب اسلامی تقاضا ہے!

عمیر کوٹی ندوی

ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ مسلمانان ہند کاتعلیم یافتہ خاص طور پرخود کو  علم ودانش سے آراستہ گرداننے والا طبقہ اس وقت ایک خاص قسم کی گفتگو میں مصروف ہے جو ایک دوسرے کے تئیں نفرت وتشدد، تحقیر وتذلیل سے عبارت ہے۔ اس کا اگر کچھ ماحصل ہے تو وہ الزام تراشیوں،  بیہودہ گوئیوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔انتہائیں ہمیشہ کی طرح  جلوہ گر ہیں۔ اس وقت بلا استثناء ہر قسم کی تعلیم حاصل کرنے والے ملت کے تعلیم یافتہ بلا تکلف ایک دوسرے کے لیے منافق، بکاؤ، غدار، میر جعفر، میر صادق ،  کافر، زندیق، دلال، ایجنٹ، چمچہ، حرام خور، خائن، ملت فروش، ضمیر فروش، شیطان کا ایجنٹ، سنگھ پریوار کا کارندہ، سوداگر اور دوسروں کے اشاروں پر کام کرنے والا  اور نہ جانے کون کون سے القاب  استعمال کررہے ہیں۔ یہ تو انفرادی طور پر عائد کئے جانے والے الزامات کی بوچھار ہے جو ایک دوسرے پر پڑ رہی ہے۔

اسی طرح مسلمانوں کے درمیان طبقاتی، مسلکی، فرقی،نظریاتی، مکتبی، جماعتی، ادارہ جاتی، علاقہ جاتی اور حسبی ونسبی بنیادوں پر ایک دوسرے کے خلاف گرماگرم باتوں، تہمتوں، شکوہ شکایتوں کا ایک انبار ہے۔ یہ سلسلہ آج کل شروع نہیں ہوا ہے بلکہ  طویل عرصہ سے جاری ہے اور ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔  یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کی  نفی کسی کے لیے بھی اس لیے ممکن نہیں ہوگی کہ اس وقت نجی گفتگو ہو یا برسر عام ہونے والی گفتگو،  درون خانہ کی باتیں ہوں کہ سر راہ  منعقدہ محفلوں کی باتیں ہر جگہ اس کے نظارے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

  اجتماعات، سمپوزیم، سمینار، جلسوں اور جلوس میں گاہے ڈھکے چھپے اور گاہے کھلے الفاظ میں تنقیدات کے علاوہ اب تو  ان کے اظہار کے لیے میڈیا بہترین میدان ثابت ہورہا ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرنک میڈیا  جو بالعموم اسلام اور مسلم مخالف رجحانات کے لیے جانا جاتا ہے اور وہاں بلا تکلف مسلمانوں کی شبیہ کو خراب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، انہیں برابھلا کہا جاتا ہے اور جان بوجھ کر ایسی خبریں چلائی جاتی ہیں جن کے ذریعہ مسلمانوں کو گالیاں دی جائیں۔ وہ بھی مسلمانان ہند کی ایک دوسرے پر الزام تراشیوں  کو عائد کرنے اور ایک دوسرے کے لیے بیہودہ گوئیوں کے مواقع فراہم کرنے میں مصروف ہے۔  ان سے کہیں زیادہ اس وقت  سوشل میڈیا کا اس قسم کے اظہار کو پھلنے پھولنے،تنومند ہونے ہی نہیں برگ وبار لانے  کےلیے استعمال ہورہا ہے۔

 اگر یہ کہا جائے کہ میڈیا کی مختلف شکلوں میں موجود ‘کمیونٹی جرنلزم’ کی توانائیاں پورے طور پر نہ سہی لیکن بڑی حد تک الزام تراشیوں  اور بیہودہ گوئیوں پر صرف ہورہی ہیں تو بیجا نہ ہوگا۔ اس کی وجوہات بے شمارہیں۔ در اصل  اظہار رائے، اختلاف رائے، کسی کی رائے کو تسلیم کرنے اور اپنی رائے سے رجوع کرنے، تبادلۂ خیال  اور  افہام وتفہیم کے لیے علم میں گہرائی، پختگی، دلائل کی فراہمی، للٰہیت،  سنجیدگی،تحمل،  قوت برداشت، قناعت، کسر نفسی، انکساری، عاجزی، دلوں میں وسعت وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح اناپسندی ، خود سری اور خود نمائی سے دست بردار ہونا پڑتا ہے لیکن جو لوگ بادۂ خود سری سے سرشار ہوں ان کے لیے یہ  آسان کام نہیں ہے۔

اس طرف طبیعتیں کیوں مائل ہوتی ہیں اور گرم خون اس کے لیے کیوں جوش مارتا ہے،اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں یہ عذر پیش کرنا  کہ شیطان انسان کو بہکادیتا ہے اور اس کے بہکاوے میں آکر انسان مغلوب ہوجاتا ہے۔ یہ عذر لنگ ہے اس لیے کہ  شیطان کا عمل وسوسہ ، آرزوؤں، تمنّاؤں سے تعلق رکھتا ہے ۔ انسان کو کسی عمل کے کرنے کے لیے مجبور کردینا اس کے اختیار سے باہر ہے۔ اس لیے الزام تراشیوں  اور بیہودہ گوئیوں کی جانب میلان انسان کا اختیاری عمل ہے اور اس وقت مسلمانان ہند کا خاص طور پر تعلیم یافتہ  طبقہ  اس عمل میں مصروف ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس طبقہ  کے اندر اتنی شرم تو باقی ہے جس کی وجہ سے وہ سڑکوں پر دی جانے والی صریح گالیاں دینا نہیں چاہتا ہے ۔ اس لیے وہ ان کی جگہ مذکورہ الفاظ کو  استعمال کرتا ہے اور انہیں ادا کرکے اپنے دل کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ کچھ لوگ خود کو آگے بڑھانے کے لیے دوسروں خاص طور پر مشہور اور قدآورشخصیات، اداروں، جماعتوں اور تنظیموں کے خلاف اس طرح کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ فائدہ اٹھانے، مفادات حاصل کرنے، جلد مشہور ہونے، قیادت وسیادت کی جلد از جلد حصولیابی کی خاطر جان بوجھ کردوسروں کو نشانہ بناتے ہیں۔  آگے بڑھنے کی ان کی یہ منفی کوشش بہت جلد لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرلیتی ہے۔ سب وشتم کا کام آسانی سے ہوجاتا ہے اور بہت جلد توجہ حاصل کرلیتا ہے۔

اس کا کسی ایک واقعہ سے تعلق نہیں ہے بلکہ ہر معاملہ میں ہر کوئی ایک دوسرے کے لیے بلا تکلف اس کا استعمال کررہا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ  مسلمان آج بھی جذبات میں بہنے اور اپنی سوچ کے علاوہ کسی اور پہلو پر غور کرنے کو تیار نہیں ہوتے ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ ان کا یہ عمل ان کی جذباتیت اور سطحی طرز فکر کو ہی بیان کررہا ہے۔ حالانکہ ہونا یہ  چاہیے کہ معاملہ خواہ اتفاق کا ہو یا اختلاف کا،کسی رائے کو قبول کرنا ہو یا اسے رد کرنا ہو،ہرمعاملے میں مسلمانوں کو ٹھنڈے دل سے اس پر غور کرنا چاہیے۔  باہم ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشیوں  اور بیہودہ گوئیوں کی ایک طویل تاریخ ہے اور بڑی لمبی فہرست ہے۔ اس کے باوجود  یہ بھی حقیقت ہے کہ اہل حق ، ملت کے بہی خواہوں اور  علم وفراست سے آراستہ اہل دانش وبینش کی طرف سے جرات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ وہ ہر دور میں ملت کی رہنمائی اور ان کی فلاح وبہبود کے لیے فکرمند وکوشاں رہے ہیں۔ آج بھی جب طوفان حوادث اپنے شباب پر ہے،وہ ملت کی تعمیر وترقی،اصلاح وفلاح ، انسانیت کی رشد وہدایت  اور دعوت وارشاد کے عمل میں نہ صرف مصروف ہیں بلکہ دوسروں کو بھی اس کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایسی صورت میں ملت کے تعلیم یافتہ طبقہ کے لیے بھی ضروری ہوجاتا ہے کہ  وہ بھی الزام تراشیوں بیہودہ گوئیوں جیسے لایعنی کاموں سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے تعمیری اور مثبت کاموں کی طرف توجہ دیں اور اپنی توانائیوں، ممکنہ وسائل وذرائع کو  سود مند کاموں پر صرف کریں، اسلام اسی کا تقاضا کرتا ہے۔

تبصرے بند ہیں۔