امارت شرعیہ کی فکری و انتظامی انفرادیت

مفتی محمد ثناءالہدیٰ قاسمی

امارت شرعیہ،بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ کا قیام 19/ شوال 1439ھ مطابق 26/ جون 1921 کو امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد کی صدارت میں عمل میں آیا تھا،اس کے دستور کی دفعہ نمبر ۱ / میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ”یہ اسلام کے اجتماعی نظام اور مسلمانوں کی جماعتی زندگی کی تشکیل ہے اور شریعت کا ایسا مطلوب ومقصود ہے، جس کے بغیر اسلامی زندگی کا تحقق نہیں ہو سکتا“، حضرت عمر بن الخطاب کا مشہور قول ہے کہ اسلام بغیر جماعت، جماعت بغیر امارت اور امارت بغیر سمع وطاعت کے نہیں ہے، لا اسلام الا بجماعۃ ولا جماعۃ الا بامارۃ ولا امارۃ الا بطاعۃ (جامع بن عبد البر 61)

تنظیمیں اس کے قبل بھی تھیں اور بعد میں بھی بہت بنیں، لیکن امارت شرعیہ کی فکری انفرادیت یہ ہے کہ اس نے منہاج نبوت پر نظام شرعی کے قیام کو اپنا مقصد اولیں قرار دیا۔ آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اقامت دین کا جو طریقہ اپنایا اس میں فرد کی اصلاح کو اولیت حاصل ہے، افراد کی زندگی جب صالح قدروں اور ایمانی تقاضوں کے ساتھ پروان چڑھے گی تو اس سے صالح معاشرہ وجود میں آئے گا، اور صالح معاشرہ کے ذریعہ حکومت الٰہیہ کے قیام کی راہ ہموار ہوگی، اس سلسلے میں مولانا ابو المحاسن محمد سجاد ؒ کا رسالہ حکومت الٰہیہ کا مطالعہ مفید ہے، امارت شرعیہ کے طریقہئ کار میں اس بات کو بنیادی حیثیت حاصل ہے کہ ایمانی بنیادوں پر گاؤں گاؤں میں تنظیم امارت سے لوگوں کو جوڑا جائے، جب اس کی تنظیم قائم ہو جائے تو شہروں میں صدر اور سکریٹری اور گاؤں میں نقیب اور نائب نقیب کا انتخاب کیا جائے، اور وہ امیر شریعت کے نمائندہ کی حیثیت سے گاؤں اور علاقوں میں دینی بیداری لانے کا کام کریں، پھر جو لوگ بھی تنظیم سے جڑ گئے ہیں وہ قومی محصول کے نام پر بیت المال کے استحکام کے لیے ایک چھوٹی رقم بھی پیش کریں جو آج کل صرف بیس روپے ہے، یہ تنظیمی ڈھانچہ مرکز سے گاؤں تک نبوی طریقہئ کار کے مطابق اصلاح کی کوشش کرتا ہے، امارت شرعیہ کی یہ تنظیمی انفرادیت ہے جو کسی دوسری تنظیم میں نہیں ہے۔

 امارت شرعیہ کی دوسری بڑی انفرادیت یہ ہے کہ اس نے امت مسلمہ کو کلمہ کی بنیاد پر جوڑنے کا کام کیا۔وہ ذات برادری، مسلک ومشرب اور لسانی عصبیت اور علاقائیت سے اوپر اٹھ کر کام کرتی ہے، اس کی سوچ اس معاملہ میں بہت واضح ہے۔ اس کے نزدیک اتحاد کی بنیاد کلمہ طیبہ ہے اور یہ وہ بنیاد ہے جس کی کوئی علاقائی سرحد نہیں ہے۔ امارت شرعیہ نے اسے عملی طور پر برتا اور ہر موقع سے خواہ وہ ریلیف کا کام ہو یا باز آباد کاری کا کوئی تفریق نہیں کی، بلکہ ریلیف اور خدمت خلق کے کاموں میں ایمانی بنیادوں سے اوپر اٹھ کر اس نے انسانی بنیادوں پر کام کیا، امارت شرعیہ کے سارے اسپتال بھی اسی اصول پر کام کر رہے ہیں۔بعد کے دنوں میں کلمہ کی بنیاد پر اتحاد ملت کی دعوت لے کر بہت سی تنظیمیں اٹھیں اور امارت شرعیہ کے اس کام کو پورے ہندوستان میں آگے بڑھانے کا کام کیا۔

 امارت شرعیہ کی ایک انفرادیت یہ بھی ہے کہ اس کے تمام شعبہ جات ملکی قوانین کی رعایت کے ساتھ ایک رفاہی ادارہ کا تصور پیش کرتے ہیں اور مختلف شعبوں کے ذریعہ امارت شرعیہ حکومت کے کاموں میں تعاون کرتی ہے، مسلم معاشرہ کو اعلیٰ اخلاقی اقدار سے مزین کرنے، تعلیم کو رواج دینے اور اس کے لیے مکتب اسکول وغیرہ کا قیام، مصیبت کے وقت ضرورت مندوں کی مدد، علاج ومعالجہ اور غریب بچیوں کی شادی میں تعاون یہ ایسے کام ہیں جو سیدھے سیدھے مملکت کے کرنے کے ہیں، امارت شرعیہ کے ذریعہ ان کاموں میں تعاون کی وجہ سے حکومت کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے، اور لوگوں کی پریشانیاں دورہوتی ہیں۔

 امارت شرعیہ کی سب سے بڑی انفرادیت دار القضاء کا قیام ہے، آج اس کی سرسٹھ شاخیں عائلی اور خاندانی، جھگڑوں کو نمٹانے کے لیے کام کر رہی ہیں اور ایک بڑی تعداد معاملات کی یہاں سے حل ہوا کرتی ہے، ظاہر ہے امارت شرعیہ اگر یہ کام نہ کرے تو سرکاری عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ بڑھے گا، امارت شرعیہ کا یہ شعبہ مقامی اور آپسی جھگڑوں کو ثالثی کی بنیاد پر نمٹا کر بڑا کام کر رہا ہے، عدالت اس کی اہمیت کو سمجھ رہی ہے، اس لیے اس نے اپنے ایک فیصلے میں دار القضاء کے نظام کو متوازی عدالت ماننے سے انکار کر دیا ہے، دار القضاء کے نظام کو ان دنوں دوسرے اداروں کی طرف سے بھی وسعت دی جا رہی ہے، لیکن مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد قضاء اسلامی کے نظام کو جس طرح امارت شرعیہ نے پھیلا یا اور نافذ کیا یہ اس کی انفرادیت ہے، دوسرے اداروں کے ذریعہ جو اس محاذ پر کام ہو رہا ہے اس میں بھی امارت شرعیہ کی مدد حسب ضرورت شامل رہتی ہے، امارت شرعیہ کے اس کام میں انفرادیت کا احساس واقرار ساری تنظیموں کے ذمہ دار؛ بلکہ دوست دشمن ملک وبیرون ملک سب کو ہے۔

 امارت شرعیہ نے مختلف مذہبی فرقوں اور ان کے پیشواؤں کے احترام کوہر دو ر میں ملحوظ رکھا، اس کی خواہش رہتی ہے کہ مقام ومرتبہ کے اعتبار سے ان کا اکرام کیا جائے اور اسلام کے اصول کے مطابق نہ تو خود کسی کو ضرر پہونچا ئیں اور نہ ہی دوسرے اسے ضرر پہونچائیں۔

 امارت شرعیہ کا انتظامی ڈھانچہ بھی دوسری تنظیموں سے الگ اور منفرد ہے، یہاں انتظام وانصرام پر مشورے دینے اور کام پر نگاہ رکھنے کے لیے چار کمیٹیاں ہیں، ٹرسٹ، مجلس عاملہ، مجلس شوری اور ارباب حل وعقد، یہاں کسی بھی کمیٹی کے مشورے اور فیصلے کے نفاذ کے لیے امیر شریعت کی رضا مندی اور منظوری ضروری ہے، یہ کمیٹیاں ہیئت حاکمہ نہیں ہیں، یہ مقام صرف یہاں کے امیر شریعت کو دستوری طور پر حاصل ہے۔ البتہ مجلس شوریٰ کو موجودہ دستور میں ترمیم واضافہ کا حق ہے، بشرطیکہ کہ تمام ارکان شوری یا دو تہائی اکثریت کسی اضافے یا ترمیم پر متفق ہوں۔ یہاں مجلس شوریٰ کل مختار نہیں ہے، وہ صرف مشورے دے سکتی ہے، کرنا کیا ہے؟ اس کا فیصلہ امیر شریعت کو لینا ہے، اور جب کوئی فیصلہ امیر شریعت کر دیں تو اس کا ماننا ہر ایک کے لیے ضروری ہے، دوسری تنظیموں میں چار چارکمیٹیاں نہیں ہیں، اور فیصلے شوریٰ کی مرضی سے ہوتے ہیں اور ان کا دخل اس حد تک ہوتا ہے کہ مجلس شوریٰ ہی کل مختار ہو جاتی ہے،ا سکی وجہ سے جو فساد وبگاڑ مختلف اداروں میں پیدا ہوا ہے وہ تاریخ کا حصہ ہے، یہاں کا طریقہ کار یہ ہے کہ امیر شریعت مشوروں کو سنیں گے اور کثرت آرا سے نہیں، قوت دلیل کی بنیاد پر فیصلہ کریں گے، جو دستور امارت شرعیہ، دستور العمل اور ٹرسٹ میں مذکور اصول وضوابط کے خلاف نہیں ہوگا، پھر چونکہ یہ تنفیذ شریعت کا ادارہ ہے؛ اس لیے فیصلے میں شرعی اصول وضوابط کی پابندی کی وجہ سے امیر شریعت کے لیے آمر بن جانے کا امکان یہاں کم رہتا ہے۔ جب کہ دوسرے اداروں میں ایسا نہیں ہے۔

 جب امیر نے کوئی فیصلہ کر دیا تو سمعنا واطعنا، اس ادارہ کا خاص امتیاز ہے، اپنی بات سلیقہ سے امیر شریعت کے سامنے رکھی جا سکتی ہے، جس کی بنیاد پر وہ فیصلے تبدیل بھی کر سکتے ہیں، چوں کہ دستورکے اعتبار سے امیر شریعت کا”عالم باعمل ہونایعنی کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معانی اور حقائق کا معتد بہہ علم رکھنا، اغراض ومصالح شریعتِ اسلامیہ وفقہ اسلامی وغیرہ سے واقف ہونا“ ضروری ہے، دار العلوم دیو بند کے دار الافتاء نے ایک سوال کے جواب میں ”عالم“ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”علوم دینیہ کے مخصوص نصاب کو ثقہ اساتذہ سے پڑھ کر فارغ ہونے والے شخص کو عرفا عالم کہا جاتا ہے (جواب نمبر: 168572)ایسے شخص کی مسائل پر گہری نظر ہوتی ہے، اس لیے وہ ہر فیصلے میں شریعت کے اصول وضوابط اور جزئیات کو ملحوظ رکھتا ہے، اور شریعت کا کوئی فیصلہ آجائے تو مجال سرتابی کی گنجائش ختم ہوجاتی ہے، امیر شریعت انہیں اوصاف وکمالات کی وجہ سے دار القضاء کے کسی بھی فیصلے کے خلاف استغاثہ اور مرافعہ کا قاضی ہوتا ہے، اور اسے حق پہونچتا ہے کہ وہ استغاثہ کی سماعت کے بعد قاضی کے فیصلے کو باقی رکھے یا رد کر دے۔

 اسی طرح امارت شرعیہ کے دو شعبے دار الافتاء اور دار القضاء انتظامی امور کو چھوڑ کر بلا واسطہ امیر شریعت کے ما تحت ہوتے ہیں، تاکہ شرعی حکم بیان کرنے اور فیصلہ کرنے میں یہ شعبے کسی شخص کے دباؤ یا انتظامیہ کے اثرات سے پورے طور پر محفوظ رہیں۔انہیں خصوصیات کی وجہ سے مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ؒ نے مختلف موقعوں سے اپنے بیانات میں بار بار اس بات کو دہرایا اور ”امارت شرعیہ دینی جد وجہد کا روشن باب“ کے مقدمہ میں لکھا کہ

”مجھے ہندوستان کے کسی صوبے پر رشک آتا ہے تو بہار پر اور اگر بہار پر رشک آتا ہے تو امارت شرعیہ کی وجہ سے کہ وہاں کے مسلمان اس کی بدولت ایک ایسی زندگی گذار رہے ہیں جو معتبر اسلامی زندگی سے قریب تر اور جاہلی وغیر اسلامی زندگی سے بعید تر ہے۔

تبصرے بند ہیں۔