اپنے حصہ کا کام کرتے رہیں

فیروز احمد

اتحاد امت  یہ ہروقت اور ہر زمانے میں فائدہ مند ہے، خاص کر  بھارت میں آج کل کے حالات کے پیش نظر یہ انتہائی ضروری اور وقت کی پکار ہے۔ ہمیں خود قران کریم  بھی اس طرف  رہنمائی کرتا ہے  واعتصموا بحبل اللہ  جمیعا ولاتفرقوا، فتفشلوا وتذہب ریحکم، اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو  اور آپس میں اختلاف مت پیدا کرو  ورنہ تم ناکام ہوجاوگے اور تمہاری ہوا  اکھڑ جائے گی، کمزور و ناتواں ہوجاوگے۔

بھارت میں آج کل جان بوجھ کر جو حالات پیدا کر دئے گئے ہیں اور مستقبل میں  بھی جو  خوف ودہشت اور بے اطمینانی کے اندیشے جنم لے رہے ہیں وہ ہر ذی شعورسے مخفی نہیں ہے۔ یہ  حالات اور ماحول  صرف ایک دن یا کچھ سالوں کی اپج نہیں  ہے بلکہ اس پر خاص لوگوں  کی سالہاسالوں کی محنت  ہے جن کو اب یہ پورا یقین ہوگیا ہے کہ بھارت پر ہمارا راج ہے جوچاہو کرلو  اور جو چاہو قانون پاس کر لو، جو چاہو نفرت پیدا کر دو کوئی  ہمیں بگاڑنے والا نہیں ہے۔

ایسے حالات میں اگر کہیں سے کوئی ایسی کوشش، کوئی پہل سامنے آتی ہے جس سے یہ سمجھ میں آئے کہ کوئی تو ہے جس کو آپسی اتحاد و اتفاق کی ضرورت سمجھ میں آرہی ہے، کچھ لوگ ہیں جو مل بیٹھ کر، سرجوڑ کر  اس سلسلے میں بیٹھے ہیں یا بیٹھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایسے لوگوں کی ہمت افزائی کرنی چاہیے  ان کے حصے کے جو کام ہیں وہ کر رہے ہیں ہمارے حصے کے جو کام ہیں ہم کریں، کیونکہ پوری امت مسلمہ  ایک جسم کے مانند ہے اور جسم صرف ہاتھ،پیر، منہ، ناک، آنکھ کا نام نہیں ہے بلکہ مجموعی ہیئت کا نام جسم ہے، اگر ایک آدمی ہاتھ کو چست درست رکھنے پر کام کر رہاہے، اور ایک بندہ پیر کو صحیح وسالم  برقرار رکھنے پر محنت کر رہا ہے  تو ہر ایک کو اپنے حصے کا کام کرنے دینا  چاہیے جب ہی پورا جسم صحت مند، تندرست وتوانا  رہ پائے گا اور آنے والی ہر مصیبت اور مشکلات کا سامنے کرنے کے لیے  پورا جسم تیار ہوگا۔

اس بات  اظہر من الشمش ہے کہ کوئی بھی آدمی یا تنظیم معصوم عن الخطا نہیں ہے، اس لیے بعض دفعہ ان کی غلطی سے کنارہ کشی اختیار کرنا ہی بہتر ہوتا ہے اور من حیث المجموع ان سے بھلائی ہی کی امید رکھی جاتی ہے، ہاں یہ بات بھی  درست ہے اور اکثر دیکھا گیا ہے کہ بڑے بڑے  اجتماعات جو امت کے فائدے کے نام پر ہوتے ہیں  وہ  نششتن خوردن برخاستن پر محدود ہوتے ہیں اس سے  امت کے لیے کچھ بھی  مفید بات سامنے نکل کر نہیں آتی ہے۔ لیکن یہ بھی ہمیں  سوچنا ہوگا کہ اگر کچھ لوگ مل کر بیٹھیں گے نہیں یا  کچھ کوشش بھی نہیں کریں گے تو آخر بات آگے کیسے بڑھے گی  اور کیسے لائحہ عمل تیار کیا جائے گا اس لیے ہمارے ذمہ جو ذمہ داری بنتی ہے اس کو اپنے طور پر کر گزرنا چاہیے اور جو لوگ  نہ کرنے کے بجائے کچھ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کم از کم اس  پر تنقید برائے تنقیص نہیں بلکہ تنقید برائے اصلاح ہونی چاہیے۔

اکژ دیکھا گیا ہے ہم اس وقت جاگتے ہیں یا کچھ کرتے ہیں جب ہمارا بہت بڑا نقصان ہو چکا ہوتا ہے ہم اس وقت دفاعی پوزیشن میں آجاتے ہیں، یقینا نقصانات کی تلافی کے لیے ہاتھ بڑھانا اور پریشان حال کی مدد کرنا  یہ ہمیں اسلام نے سکھایا ہے لیکن  بعض وقت اگر یہی کوشش ہم پہلے کریں گے تو بہت بڑے نقصان سے بچا سکتے ہیں،  ہمیں جہان دفاع کرنے کی ضرورت ہے وہاں دفاع کرنا ہے اور جہاں اقدامی پوزیشن اختیار کرنا ہے  وہاں اس کو بھی بروئے کار لانا پڑے گا تاکہ ہم آئندہ کی بڑی مصیبت کو ٹال سکیں اور لوگوں کو  اس  پریشانی سے بچا سکیں۔

اس لیے جو جس میدان میں عمل پیرا ہیں اس کو اس میدان میں کام کرنے دیں اور جہاں ہماری سمجھ سے خالی میدان ہے ہم اس کو بھرنے کی کوشش کریں  اور اپنی  صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے اس فیلڈ میں عمل پیرا ہوجائیں، اس طرح  ہماری مجموعی  کوشش سے  امت کو فائدہ ہوگا۔

تبصرے بند ہیں۔