بیت المقدس فلسطین کا اٹوٹ حصہ ہے!

خورشید عالم داؤد قاسمی

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 6/دسمبر 2017عیسوی کو”بیت المقدس” (Jerusalem)  کو غاصب ریاست اسرائیل کا دار الخلافہ تسلیم کرکے پوری دنیا کو یہ باور کرادیا کہ وہ امن پسند نہیں ہیں؛ بلکہ تخریب کاری اور تباہی وبربادی کے اسباب فراہم کرنا ہی اس کا مشن ہے، چاہے اس کے نتیجے میں یہ خوب صورت اور امن پسند دنیا جہنم ہی کیوں نہ بن جائے۔ ایسے بھی یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ امریکہ نے جب بھی کسی دوسرے ممالک کے حوالے سے کسی بھی رائے کا اظہار کیا ہے اور کوئی موقف اختیار کیا ہے؛ تو عقلمند اور دانشور لوگوں نے کبھی بھی اس کی رائے کو “امن وامان کے پیغام” کے طور پر قبول نہیں کیا؛ بلکہ اسے امریکی مفاد کے طور پر دیکھا ہے اور کچھ مہینوں یا سالوں کے بعد، یہ حقیقت دو اور دو چار کی طرح واضح ہوگئی کہ امریکہ نے فلاں موقع سے فلاں موقف اختیار کیا اور اس میں امریکہ کا یہ مفاد پوشیدہ تھا۔

امریکی صدارت کے منصب پر فائز مسٹر ٹرمپ نے قدس کی مقدس سرزمین کو اسرائیلی راجدھانی کے طور پر تسلیم کرکے، امریکی سفارت خانہ (Embassy)  کو بیت المقدس منتقل کرنے کی بات کررہا ہے؛ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ بیت المقدس فلسطین کا اٹوٹ حصہ ہے، جسے اسرائیل نے اپنی فرعونی طاقت وقوت اور ظلم وجبر کو استعمال کرکے قبضہ کیے ہوا ہے۔ امریکہ نے اپنی اس پالیسی سے جہاں صہیونیوں سے اپنے روابط مضبوط سے مضبوط تر کرکے اپنے مفاد کو محفوظ کیا ہے، وہیں دوسری طرف قدس پر اسرائیل کے غیر قانونی قبضہ اور دعویداری کو بے انتہا قوت فراہم کرکےمشرق وسطی اور عرب ممالک کو پورے طور پر اپنے کنٹرول میں کرلیا ہے۔ امریکی صدر کے اس بے باکانہ؛ بلکہ ظالمانہ اور غیر منصفانہ فیصلہ سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے”بیت المقدس” ریاستہائے متحدہ امریکہ کا ایک حصّہ ہو، جسے اس نے خوشی خوشی اسرائیل کو تحفہ میں پیش کیا ہو!

غاصب ریاست اسرائیل ایک طویل مدت سے امریکہ سے یہ مطالبہ کررہا تھا کہ وہ بیت المقدس کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرے۔ مگر سابق امریکی صدور نے بیت المقدس کو اسرائیلی دار الخلافہ ہونے کا اعلان نہیں کیا؛ کیوں کہ پوری دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ بیت المقدس فلسطین کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس پر اسرائیل نے ناجائز طریقے سے قبضہ کر رکھا ہے۔ مگر فلسطینی کاج کے حوالے سے عالم ِاسلام کی عدمِ دلچسپی نے امریکہ کو ایک موقع فراہم کردیا اور مسٹر ٹرمپ نے اسرائیل کی دیرینہ خواہش کو عملی جامہ پہناتے ہوئے بیت المقدس کو اسرائیل کا دار الحکومت تسلیم کرکے اپنے انتخابی منشور کی تکمیل کردی۔ گزشتہ سال 2016 میں امریکی صدارتی انتخاب کے دوران مسٹر ٹرمپ نے اپنی انتخابی ریلیوں میں اعلان کیا تھا کہ اگر وہ صدر منتخب ہوتے ہیں ، تو بیت المقدس کو اسرائیل کا دار الخلافہ تسلیم کریں گے۔

ڈونالڈ ٹرمپ کے اس فرمان سے صرف فلسطین اور عالم اسلام کے کروڑوں لوگوں کو ہی تکلیف نہیں پہونچی ہے؛ بلکہ بہت وہ ممالک بھی پریشانی محسوس کرہے ہیں جو آج تک فلسطینیوں کو یہ قائل کرانے میں لگے تھے وہ اسرائیل کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرلیں ، پھر اسرائیل اور فلسطین دو علاحدہ ریاستیں ہوجائیں گی اور بیت المقدس فلسطین کا دار الخلافہ ہوگا؛ کیوں کہ دنیا کے بیشتر ممالک اس بات سے واقف ہیں کہ اس شہر سے پوری دنیا کے مسلمانوں کا قلبی لگاؤ ہے اور اس شہر میں مسلمانوں کا قبلہ اول (مسجد اقصی) ہے۔ مسلمان اسے کسی بھی قیمت پر نہیں چھوڑ سکتے ہیں ۔

مگر بدقسمتی سے فلسطین کی تقسیم کے ساتھ ساتھ “بیت المقدس” کو “بین الاقوامی شہر” قرار دینا اقوام متحدہ کا جرم عظیم تھا۔ اقوام متحدہ نے ایک منافقانہ چال چلتے ہوئے 1947 میں ، قلب عرب یعنی فلسطین کو تقسیم کرکے صہیونیوں کے حوالے کردیا اور مزید یہ کہ بیت المقدس کو “بین الاقوامی شہر” کا ٹاٹئل دیکر ہمیشہ کے لیے متنازع کردیا۔ پھر فلسطینیوں پر زبردستی کی جنگ تھوپی گئی اور 1949 میں اس جنگ کے خاتمے پر اسرائیل نے آدھے مغربی بیت المقدس کو قبضہ کرلیا؛ جب کہ آدھا مشرقی بیت المقدس اردن کے زیر کنٹرول رہا۔ پھر 1967 کی چھ روزہ جنگ میں ، اسرائیل نے دوسرے آدھے حصے (مشرقی بیت المقدس) کو بھی قبضہ کرلیا ہے۔ اس وقت سے پاک پوتر بیت المقدس پر ناپاک غاصب صہیونی ریاست کا قبضہ اور کنٹرول ہے؛ جب کہ آج بھی دنیا کے بہت سے ممالک فلسطینیوں کی اس رائے کے حق میں ہیں کہ بیت المقدس فلسطین کا غیر منقسم دار الخلافہ اور راجدھانی ہے اور اسرائیل نے اسے اپنی طاقت کے بل پر قبضہ کر رکھا ہے۔

اصل میں دجالی طاقت اسرائیل کو بیت المقدس میں دلچسپی کی وجہہ “مسجد اقصی” اور “مسجد اقصی کی جگہ” ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح مسجد اقصی کو منہدم (Demolish) کرکے اس جگہ پر “ہیکل سلیمانی” کی تعمیر کریں ۔ چناں چہ غاصب ریاست اسرائیل کے قیام کے روزِ اوّل سے ہی اسرائیلی حکمراں کسی نہ کسی بہانے مسجد اقصی کو نقصان پہونچانے کی سازش کرتے رہے ہیں ۔ کبھی ان ظالموں نے مسجد اقصی میں آگ لگوائی، اس کی عمارت کو نقصان پہونچایا اور کبھی انھوں نے وہاں کھدائی کا کام شروع کراکر، مسجد اقصی کی عمارت کو کمزور کرنے کی مذموم سعی کی۔ ان دجالی طاقتوں کا مقصد یہ ہے کہ وہ کسی طرح بھی مسجد اقصی کو مسمار کرکے وہاں “ہیکل سلیمانی” قائم کرلیں ۔ اس ناجائز منصوبہ کی تکمیل کے لیے، ان کی نظر میں سب سے مامون ومحفوظ اور آسان راستہ یہ ہے کہ وہ اقوام عالم سے بیت المقدس کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرالیں ، پھر انپی مرضی کے مطابق مسجد اقصی کو ڈھاکر، اس جگہ سکون واطمینان سے “ہیکل سلیمانی” تعمیر کرلیں ۔ لیکن اقوام عالم تو اتنی آسانی سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دار الخلافہ تسلیم نہیں کرسکتے؛ کیوں کہ اس دنیا میں آج بھی کچھ ایسے ممالک ہیں ، جو غاصب اسرائیل کے ناجائز وجود کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتے چہ جائے کہ بیت المقدس کو اس کا دار الخلافہ تسلیم کریں ؛ لہذا اسرائیل نے اس کام کی ابتدا امریکہ سے کرواکر، دوسرے ممالک پر دباؤ بنانے کی  چال بازی کی ہے۔

مسٹر ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد، فلسطینی عوام سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ۔ احتجاج اور مظاہرے کے علاوہ ان کے پاس کوئی آپشن بھی نہیں ہے؛ لہذا “حماس” (حرکۃ المقاومۃ الاسلامیۃ) نے تیسرے انتفاضہ کا اعلان کردیا ہے۔ پورا ملک میدان جنگ میں تبدیل ہوچکا ہے۔ صرف ایک چند دنوں میں ہی درجنوں آدمی کے زخمی اور 4/لوگوں کے شہید ہونے کی خبر ہے۔ فلسطینیوں کے اس احتجاجی کاروائی کو بہت سے نام نہاد امن پسند دہشت گردی کا نام دیکر غاصب ریاست اسرائیل کو مہلک ہتھیاروں کے استعمال اور قتل عام کا موقع دیکر سیکڑوں بے گناہ جانوں کا قتل کرائیں گے۔ بے شمار عمارتوں کو تباہ وبرباد کراکے زمیں بوس کراکر، اسرائیلی کاروائی کو محافظت اور بچاؤ (Self Defense) سے تعبیر کریں گے۔

امریکی صدر کے اس ناجائز اور غیر منصفانہ فرمان کے صادر ہوتے ہی، دنیا کے کونے کونے میں بس رہے مسلمانوں نے اپنے غم وغصہ کا اظہار کیا ہے اور وہ سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ۔ ساتھ ہی ساتھ عالم ِاسلام کے حکمرانوں نے بہت حد تک ٹرمپ کے اس فرمان کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ خدا کرے کہ عالم ِاسلام کے حکمرانوں میں ، اس بہانے بھی ایک مضبوط اتحاد ہوجائے اور ایک ٹھوس موقف اختیار کیا جائے! حقیقت یہ ہے کہ عالمِ اسلام کے حکمرانوں میں مسجد اقصی، بیت المقدس اور فلسطین کے مقاصد جلیلہ کے حوالے سے کبھی بھی وہ یک جہتی اور دلچسپی نظر نہیں آئی جو ان میں ہونی چاہیے تھی۔ ہمیشہ وہ اپے ذاتی اور وطنی مفاد کی خاطر ٹکڑوں میں بٹے ہوئے نظر آئے۔ خود اندرون خانہ یعنی فلسطین میں فتح اور حماس کے موقف اکثر وبیشتر ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اور اس کا فائدہ براہ راست اسرائیل کو پہنچتا ہے۔ ٹرمپ کا بیت المقدس کو غاصب اسرائیل کا دار الحکومت تسلیم کرنے کے بعد، تحریک فتح کی مرکزی کونسل کے سینئر رکن عزام الاحمد نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر مسٹر ٹرمپ کے بیت المقدس کے حوالے سے حالیہ اعلان کے بعد، فلسطینیوں میں مزید اتحاد پیدا ہوگیا ہے۔ خدا کرے کہ یہ اتحاد بیت المقدس، مسجد اقصی اور فلسطین کے کے حق میں مفید ترین ثابت ہو!

اس دوران عرب لیگ  کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کی ہنگامی میٹنگ، مصر کی راجدھانی قاہرہ میں منعقد کی گئی۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ اس میٹنگ میں واضح لفظوں میں ٹرمپ کے اس اقدام کی مذمت کی گئی اورعالمی برادری سے یہ مطالبہ بھی کیا گيا ہے کہ وہ فلسطین کو ایک آزاد ریاست تسلیم کریں ۔ اس میٹنگ میں یہ بھی طے کیا گيا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کرکے یہ مطالبہ کیا جائے کہ وہ مسٹر ٹرمپ  کے اس فیصلے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرے اور اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرارا دے۔

بیت المقدس اور مسجد اقصی کے حوالے سے ابھی وقت کی اہم ترین ضرورت یہ ہے کہ عالم اسلام کے حکمراں متحد ہوکر، واضح لفظوں میں دنیا کے سامنے اپنا موقف رکھیں کہ بیت المقدس میں واقع مسجد اقصی ہمارا قبلہ اوّل ہے، ہم کسی بھی صورت میں اس سے دست بردار نہیں ہوسکتے۔ ہم کسی بھی صورت میں بیت المقدس کو اسرائیل کا دار الحکومت بننے  نہیں دیں گے۔ اسی طرح اقوام متحدہ پر دباؤ ڈالے کہ فلسطین کو ایک مستقل علاحدہ ریاست کے ہونے کا اعلان کرے اور بیت المقدس کو اس کا دار الخلافہ تسلیم کرے۔ مسلم حکمرانوں کی یہ بھی ذمے داری ہے کہ فلسطینیوں کو اخلاقی اور مادّی تعاون پیش کرکے ان کی حوصلہ افزائی کریں اور پورے طور پر اتحاد کا مظاہرہ کریں ؛ کیوں کہ قدس واقصی کے حوالے سے عالم ِاسلام  کے حکمرانوں کی غیرت وقوت کے امتحان کا یہ وقت ہے۔ اگر اس وقت اتحاد سے کام نہیں لیا گیا؛ تو مسلمانانِ عالم اپنی عظمت رفتہ کی بحالی کے لئے اپنے خلیفہ حضرت مہدی  کے ظہور کا ہی انتظار کریں ! ···

تبصرے بند ہیں۔