جس دئیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا!

مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی

          رمضان المبارک کی بابرکت ساعتیں تھیں جب اسرائیل نے غزہ پر حملہ کیا، مسجد اقصی کی حرمت کو پامال کیا گیا، بچوں بوڑھوں، عورتوں اور پر امن شہریوں کو خاک و خون میں تڑپا دیا گیا، ظلم و بربریت کی ایک نئی داستان رقم ہوئی، ہٹلر شاہی کی ایک اور مثال تازہ ہوئی، دنیا نے حقوق انسانی کا ڈرامہ رچنے والوں کے مکروہ چہروں کو ایک مرتبہ پھر بے نقاب دیکھا، عدل و انصاف کی دہائی دینے والے، اور دنیا کو انسانیت کا سبق پڑھانے والے نام نہاد ’’ہمدردان انسانیت ‘‘کی اصل حقیقت از سر نو سامنے آئی، دنیا کے مختلف خطوں، علاقوں اور بستیوں میں رہنے والے درد مند مسلمانوں کے دل درد اور کسک سے لبریز ہوگئے، معصوم بچوں کی خون میں نہائی ہوئی لاشیں آنکھوں کو آبِ جگر سے دھو گئیں، شوہروں کی میت پر نوحہ و ماتم کرنے کے بجائے عزم و حوصلہ اور ایمان و یقین سے لبریز گفتگو کرنے والی جیالی فلسطینی بہنوں کی شجاعت، شہامت، اور ایمانی کردار نے بزدلوں کو ہمت، بہادروں کو قوت، اور شاہین صفت جوانوں کو استقامت بخشی، اسرائیلی یلغار کا ایمانی للکار سے مقابلہ کرنا ساری دنیا کو یہ پیغام دے گیا کہ ع

اب ہوائیں ہی کریں گے روشنی کافیصلہ

جس دئیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا

          رمضان المبارک کے آخری آخری دن تھے، ساری دنیا کے مسلمان نماز، روزے، تلاوت اور عبادت میں مشغول تھے، ساتھ ہی عید کی تیاریاں جاری تھیں، نئے کپڑے سلے جارہے تھے، مہنگے چپل جوتے خریدے جارہے تھے، بچے اپنی پسند کے لیے الگ مچل رہے تھے، بڑے اپنے معیار اور انتخاب کے مطابق عید کی تیاریوں میں مشغول تھے کہ فلسطینی مسلمانوں پر اسرائیل نے یلغار کردی، مسجد اقصیٰ کے بام و در’’خون مظلوم‘‘سے نہا گئے، عین نماز کی حالت میں نمازی مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایاگیا، سرخ و سپید رنگت اور پیشانی پر ایمان و یقین کے نور و نکہت سجائے ہوئے نوخیز بچوں اور اٹھتی ہوئی جوانیاں رکھنے والے جیالوں کو بندوق کی گولیوں سے چھلنی کردیا گیا، یہ کیسی حیوانیت، درندگی، اور سفاکیت ہے کہ  بے گناہ انسانوں کو بغیرکسی قصور کے ظلم و تشدد کا نشانہ بنایاجائے، کلیوں کی طرح معصوم اور صبح روشن کی طرح مسکراتے ہوئے نونہالوں کو بیدردی کے ساتھ قتل کردیاجائے، شفقت و مرحمت سے لبریز مائوں کی گودیں خالی کردی جائیں، ہنستے کھیلتے خاندانوں کو اجاڑ دیاجائے، تنکہ تنکہ جمع کرکے بنائے گئے آشیانوں کو چشم زدن میں زمیں بوس کردیاجائے، اور نہتے انسانوں پر گولیوں، بموں اور میزائلوں کی بوچھار کرکے امن وسکون کو غارت کردیاجائے، لیکن یہ سب کچھ ہوا، اور ساری دنیا کی نگاہوں کے سامنے ہوا، طاقت کے پجاریوں نے کشت و خون کا بازار گرم کیا، قوت و شوکت اور سلطنت و مملکت کے آگے  سجدہ ریز ہونے والوں نے یا تو تائید کی یا خاموشی کو مصلحت جانا، چنگیزی چہرہ رکھنے والے انسانی بھیڑیوں نے بھیڑ کی کھال اوڑھ کر رسمی بیان جاری کیا، او آئی سی کا اجلاس بھی بس مذمتی قرار داد کے ساتھ مکمل ہوگیا، اقوام متحدہ اور حقوق انسانی کی تنظیمیں بصارت سے محروم اور ظلم و ستم کے مناظر دیکھنے سے عاجز ہوگئیں، اور دور افق پار سے اقبال کی آواز کانوں میں آنے لگی  ع

من ازیں بیش نمی دانم کہ کفن دزدے چند

بہر تقسیم قبور انجمنے ساختہ اند

          طاقت و قوت اور مال و زر سے مالا مال مسلم ملکوں (چند ایک ملکوں کو چھوڑ کر) نے بھی اپنے مفادات کی حفاظت کو زیادہ ضروری خیال کیا، مصلحت کوشی، عافیت طلبی، ظلم و ستم پر مجرمانہ خاموشی کی گرم بازاری کے دوران فلسطینی مسلمانوں نے وہ کیا جو انہیں کرنا چاہیے تھا، نہ وہ دبے نہ جھکے، نہ باطل کے آگے سجدہ ریز ہوئے، نہ صہیونی طاقت سے مرعوب ہوئے، نہ اسرائیلی یلغار سے خوفزدہ ہوئے، ان کے دل خوف سے عاری تھے، ان کی آنکھیں عزم و حوصلے کے نور سے روشن تھیں، ان کے اعضاء و جوارح مقابلے کے لیے وقف تھے اور ان کے ہونٹوں پر وہی قرآنی نعرہ تھا جسے قرون اولی کے مسلمانوں نے ہر زبردست طاقت کے مقابلے اور ہر معرکہ کارزار کے موقع پر اپنا شعار بنایا تھا یعنی حسبنا اللّٰہ ونعم الوکیل(اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔ )

ادھر آ ستمگر ہنر آزمائیں

تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں

          دنیا یہ سمجھتی ہے کہ جنگ ہتھیار اور اوزار سے جیتی جاتی ہے، دانایان فرنگ کہتے ہیں کہ معرکے ذہانت اور عقل کی طاقت سے سر کئے جاتے ہیں، جرنیل اور سپہ سالار فوج کے نظم و ضبط اور سپاہیوں کی کثرت و شجاعت کو میدان جنگ میں     فتح یاب ہونے کا نسخہ قرار دیتے ہیں، کوئی شک نہیں کہ اسباب کی دنیا میں ان چیزوں کی اپنی اہمیت اور حیثیت ہے مگر وہ جسے یقین کی دولت ملی، وہ جسے ایمان کا جوہر ودیعت ہوا، وہ جس نے رات کے آخری پہر مالک و مولیٰ کے آگے گرم آنسو بہائے، وہ جس کی آنکھوں میں عظمت الٰہی کا نور سمایا، وہ جس کے قلب میں معرفت الٰہی کا دیاروشن ہوا، وہ تو یہ یقین رکھتاہے کہ جنگ توفیق الٰہی سے جیتی جاتی ہے، معرکہ قوت ایمانی سے سر ہوتا ہے، میدان جنگ میں غلبہ و فتح کی منزل ناقابل شکست حوصلے کے ذریعہ ہاتھ آتی ہے اور جب یہ جوہر ہاتھ آجائیں تو پھر وہی منظر نگاہ کے سامنے ہوتا ہے جسے اقبال نے بیان کیا تھا    ؎

ٹل نہ سکتے تھے اگرجنگ میں اڑ جاتے تھے

 پائوں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھے

تجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھے

تیغ کا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھے

نقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نے

زیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نے

          غزہ میں معرکہ لڑاگیا اور ایمان و یقین کی طاقت کے ساتھ لڑاگیا، جن کا ساتھ سب نے چھوڑ دیا تھا پاک پروردگار نے ان کا ساتھ دیا، کفروشرک کی یک جٹ طاقتوں کو مٹھی بھرایمان والوں نے شکست دی، اسرائیل کو جھکنا پڑا، باطل کو منہ کی کھانی پڑی، کافروں نے تیغ و تفنگ، میزائل اور راکٹ پر بھروسہ کیا، مسلمانوں نے بے تیغ بھی لڑنے میں کسر نہ چھوڑی، اسرائیل نے آقائے نعمت امریکہ سے امداد چاہی، فلسطین نے طاقت و قدرت والے رب کے حضور فریاد سنائی، شرق و غرب اور        شمال وجنوب میں درد مند اہل ایمان نے دست دعا دراز کیا، مصلے آنسوئوں سے بھیگ گئے، التجا، دعا، تمنا، عاجزی، زاری اور آہ و فغاں نے آسمانوں کے دروازے کھٹکھٹائے، پھر اللہ پاک کی مدد آئی، ظالموں کا منہ کالا ہوا، حق و انصاف کا بول بالا ہوا، جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا(حق آیا اور باطل مٹ گیا، اور باطل تو مٹنے ہی کے لیے ہے۔)

          اسلام کی تاریخ شجاعت اور بہادری کی تاریخ ہے، عزم و حوصلہ کی تاریخ ہے، باطل کے خلاف جمنے اور حق کا کلمہ بلند کرنے کی تاریخ ہے، بدر کے میدان میں کھڑے ہوئے تین سو تیرہ نہتے مسلمانوں سے لے کر، قسطنطنیہ کی فتح کا عزم رکھنے والے محمد ابن فاتح کے با حوصلہ سپاہیوں کی قطاروں تک ایک زریں تاریخ ہے، پامردی کی، حوصلہ مندی کی، جاں کاہی و جاں نثاری کی، اللہ کے نام پر جان لینے اور جان دینے کی، اسی تاریخ میں ایک روشن باب کا اضافہ ہے۔ فلسطینی مسلمانوں کا بلند اور روشن ایمانی کردار !جب ایک ماں اپنے ننھے معصوم بچے کی خون میں نہائی ہوئی لاش سینے سے لگاکر کہتی ہے کہ’’ میرے بچے کی جان تو گئی مگر اللہ پاک کے گھر کے لیے گئی،‘‘ جب ایک نوخیز یتیم بچہ شہید باپ کے جنازے میں روتے روتے کہتا ہے ’’بابا تم تو چلے گئے مگر مشن زندہ ہے‘‘۔ جب شہادت کا لباس پہننے والے جوان شوہر کی بیوہ کہتی ہے کہ ’’سرتاج تمہارا جانا قیامت ہے مگر تم نے تو جنت پالی میں بھی تمہارے پیچھے پیچھے چلی آرہی ہوں۔ ‘‘ جب ایک باپ اپنے تین تین بیٹوں کی شہادت کے باوجود عزم و ہمت کا پہاڑ بنا نظر آتا ہے اور اس کی آنکھوں سے حسرت و غم کے بجائے تشکر و امتنان کے آنسوچھلکتے ہیں اور وہ یہ کہتا ہے کہ شکر ہے پاک پروردگار کا! جس نے میرے بچوں کی شہادت قبول فرماکر مجھے عزت بخشی اوراس کی زبان حال یوں گویا ہوتی ہے کہ

عجب کیا ہے جو نوخیزوں نے سب سے پہلے جانیں دیں

کہ یہ بچے ہیں ان کو جلد سوجانے کی عادت ہے

          جب ایک دو شیزہ ظلم کے خلاف آوازاٹھانے کے سبب اسرائیلی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہوتی ہے اور خوف، گھبراہٹ،  اندیشہ، اور رنج کے بجائے ڈٹ کر کھڑی ہوجاتی ہے اور اس کے ہونٹوں پر پاکیزہ مسکراہٹ جلوہ گر ہوتی ہے تو میرا سر فخر سے بلند ہوجاتا ہے اور جی چاہتا ہے کہ پکار پکار کر سارے چمن میں کہتا پھروں کہ ہاں میں مسلمان ہوں، مجھے فخر ہے کہ میں مسلمان ہوں، میرا اعزاز ہے کہ میں مسلمان ہوں، میری قسمت ہے کہ میں مسلمان ہوں، میری پہچان ہے کہ میں مسلمان ہوں۔

           ظلم و ستم کے مرحلے ہوں یا بربریت و حیوانیت کے معرکے، فلسطینی مسلمانوں کا کردار بتاتا اور سکھاتا ہے کہ مسلمانوں کو پوری ہمت، استقلال اور پامردی کے ساتھ ڈٹے رہنا چاہیے، ڈرجانا، خوف کی چادرمیں منہ چھپانا، بزدلی اور عافیت کی راہ تلاش کرنا، مصلحت کے نام پر مقابلے سے جان چرانا کسی اورکا طریقہ ہوتو ہو مسلمان کا شیوہ و شعار نہیں ! فلسطینی مسلمانوں نے جان کی قربانی دی، مال لٹایا، جگر گوشے نثار کئے، شوہر سے بیوی جدا ہوئی، اولاد ماں باپ سے بچھڑی، گھر لٹے، عصمتیں تار تار ہوئیں، آشیانے اجڑے،عمارتیں زمیں بوس ہوئیں مگر ہمت و استقلال کی ایک نئی داستان منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئی، طاقت والوں کویہ سبق دیا گیا کہ ہمیں کمزور نہ سمجھنا، اگر تم ہاتھی والے ہو تو ہم ابابیل والے ہیں، اگر تم تیر تلوار، تیغ تفنگ، توپ اور میزائل سے لیس ہو تو ہم ایمان و یقین سے آراستہ پیراستہ ہیں، اگر تم روپیہ پیسہ، عزووجاہت اور شان و شوکت پر بھروسہ کرتے ہو تو ہم توفیق الٰہی اور قوت بازو کا سہارا لیتے ہیں   ؎

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا

مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

          فلسطین میں پچھلے دنوں جو کچھ ہوا، اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ ہمیں اپنی لڑائی خود لڑنی ہے، یہ حقوق انسانی کے چارٹر،یہ حرمت انسانی کی دہائی دینے والے ادارے اور تنظیمیں بس کھیل تماشہ ہیں، ان کا وہی حال ہے جس کی عکاسی ادیب اسحاق نے یوں کی تھی    ؎

قتل امریٔ فی غابۃ

جریمۃ لانغتفر

وقتل شعب آمن

مسألۃ فیھا نظر

          (ان لوگوں کی نگاہ میں کسی دوردراز جنگل میں ایک انسان کا قتل ایسا سنگین گناہ ہے جس کی کوئی معافی نہیں اور کسی پرامن قوم پر یلغار کرنا ایسا معاملہ ہے جس میں غوروفکر کی ضرورت ہے۔)

          مسلمانان عالم کی ذمہ داری ہے کہ وہ فلسطین کے ساتھ کھڑے رہیں، مسجد اقصیٰ کی حفاظت کے لیے پرجوش اور سرگرم عمل رہیں، فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں، اور اپنے دلوں کی سرد انگیٹھی کو وہاں کے پر جوش مسلمانوں کی قلبی حرارت سے گرمی، تازگی اور روشنی مہیا کریں اور اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ     ؎

جو یقیں کی راہ پہ چل پڑے انہیں منزلوں نے پناہ دی

جنہیں وسوسوں نے ڈرادیا وہ قدم قدم پر بہک گئے

٭…٭…٭

تبصرے بند ہیں۔