جمعہ کا خطبہ

الطاف حسین جنجوعہ

’خطبہ جمعہ‘ اُمت مسلمہ کی وعظ ونصیحت، حالات ِ حاضرہ پر روشنی ڈالنے اور سماجی برائیوں کو اُجاگر کرکے اُنہیں دو ر کرنے کی تاکید کا بہترین پلیٹ فارم ہے۔ ماضی میں مسلم ممالک کے اندر حکمران ِ وقت کا پیغام کو بھی خطبہ جمعہ کے ذریعے پہنچایاجاتاتھااور اُنہیں حالات وواقعات جو مجموعی طور ملی مفادات میں ہوتے تھے، سے باخبر کیاجاتاتھا، آج چونکہ انٹرنیٹ، پرنٹ والیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا کا دوردورہ ہے۔ عالمی، ملکی اور علاقائی سطح پر ہونے والے حالات وواقعات سے ہرکوئی واقف ہوتا ہے، اِس لیے اِس کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، البتہ کچھ معاملات ایسے ہیں جن کو خطبہ ِ جمعہ کا موضوع بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ معاشرتی بگاڑ کو درست کیاجاسکے۔

موجودہ حالات پر ہمارا کیا رول، رویہ، رد عمل ہونا چاہیے، اِس پر علماءحضرات کو روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے۔جموں وکشمیر جہاںپچھلی سات دہائیوں سے امن وقانون کا مسئلہ رہا ہے، میں کئی سماجی مسائل ہیں جوکہ معاشرے کو اندر ہی اندر کھوکھلا کرتے جارہے ہیں۔ منشیات کا استعمال، گھروں میں بزرگوں کی گھٹتی اہمیت، اخلاقی گراوٹ، اخلاقی بے راہ روی، زبان درازی، گھریلو ونجی معاملات میں بزرگوں کی رائے اور فیصلوں پر عملدرآمد نہ کرنا، حد درجہ موبائل پر انٹرنیٹ کا غلط استعمال، وراثتی حقوق، موروثی جائیداد کی تقسیم پر لڑائی جھگڑے اور سرد جنگ، گھروں، خاندانوں اور معاشرے سے عزت واحترام، وعظ ونصیحت کا فقدان، شادی بیاہ کی تقریبات کے نام پر فضول خرچی اور اِتنے زیادہ رسم ورواج کے عام آدمی کے لیے شادی کرنا ہی انتہائی مشکل سا عمل بنتا جارہاہے، مادیت پسندی کا دوردورہ، انصاف پسندی، حق گوئی، حقیقت پسندی کا ختم ہوجاناوغیرہ وغیرہ
آپ اپنے گھر، کنبہ، اڑوس پڑوس اور معاشرے پر نظر دوڑائیں اور مشاہدہ کریں تو آپ کو شدت سے اِس بات کا احساس ہوگا کہ متذکرہ بالا مسائل نے کس قدر ہم کو جھکڑ رکھا ہے۔شہروقصبہ جات کے ساتھ ساتھ گاوں دیہات میں بھائیوں کے درمیان زمین کی تقسیم کو لیکر سالہاسال تنازعات چلتے رہتے ہیں۔ وہ بہن بھائی جوکہ اپنے والدین کا چشم وچراغ تھے، ایکساتھ ماں باپ کی گود میں پلے بڑھے، آج والدین کا سایہ سر سے اُٹھ جانے کے بعد اُن کے ایصال ِ ثواب کے لیے دعا مغفرت کرنے، مشترکہ طور ایسے نیک اعمال کرنے کے اُن کی روحوں کو تسکین پہنچے، زمین کے ٹکڑے پر آپس میں ایکدوسرے کے خون کے پیاسے ہوئے ہیں، ہٹ دھرمی اور ضد کی یہ انتہائی ہے کہ ہرکوئی اپنے موقف ومطالبہ سے رتی بھر اِدھر اُدھرہونا نہیں چاہتا۔گاو ¿ں ودیہات میں حقیقی بھائیوں کے دوران وراثتی حقوق کے حوالے سے لڑائی اور ذہنی تناو ¿ گھر گھر کی کہانی ہے، جس کا راست اثر بچوں کی تربیت اور اُن کی ذہنی نشوونما پر پڑ رہا ہے۔

نکاح خوانی، شادی بیاہ کی تقریبات کو اِتنا مہنگا کر دیاگیا ہے کہ غریب شخص تو عمر بھر محنت کر کے پھر بھی اپنی بیٹوں کی شادی کا رواج کے مطابق انتظام نہیں کرپاتا، شادی کے عمل کو انتہائی سادہ کرنے کی ضرورت ہے جیسا کہ قرآن وحدیث میں اِس کا ذکر ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج کشمیر میں ایک کثیر تعداد خواتین کی ایسی ہے جوکہ اس وقت 40سال تک پہنچ چکی ہیں لیکن شادی نہیں ہوئی، یہ ایک بہت بڑا سنگین مسئلہ ہے۔ وقت پر شادی نہ کرنا بھی کئی سماجی مسائل وبرائیوں کو جنم دینے کا موجب ہے اور تاخیر سنت نبوی کے منافی بھی ہے۔اِن مسائل کے علاوہ کچھ ذہنی وروحانی امراض نے بھی ہمارے معاشرے کو جھکڑ رکھا ہے جن میں حسد، بغض، کینہ، غیبت، چُغلی، بلاوجہ نفرت وغیرہ۔

اِن سب کی بڑی وجوہات اگردیکھی جائیں تو وہ دین سے دوری ہے، قرآن وحدیث کا مطالعہ نہ کرنا اور اُس پر عملدرآمد نہ کرنا ہے، یہی وجہ ہے کہ شیطان نے ہرسوں ہم پر شکنجہ کس لیا ہے، جس تیزی کے ساتھ یہ سماجی برائیاں عام ہورہی ہیں، اگر یہی سلسلہ جاری رہاتو پورا سماجی تانا بانا ہی بگڑ کر رہ جائے گا۔ اس کو درست کرنے میں علماءدین، مفتیان کرام اور ائمہ مساجد کا انتہائی اہم کردار ہے اور وہ کرسکتے ہیں۔ چونکہ آج کے وقت میں گاو ¿ں دیہات میں بھی ’نماز جمعہ ‘کا اہتمام ہوتا ہے، لوگ ایک جگہ نماز کی ادائیگی کے لیے جمع ہوتے ہیں، جس میں ہر عمر کے افراد شامل ہوتے ہیں، اس لیے علماءاور ائمہ مساجد ومفتیان کرام متذکرہ بالامسائل پر ’خطبہ جمعہ ‘میں تسلسل بات کریں۔ وراثتی حقوق، شادی بیاہ، اخلاقیات پرخطابات وقت کی اہم ضرورت ہے اور ساتھ میں اللہ کے حضور دعا بھی کریں کہ اللہ ہمارے دلوں پر جمع گردو غبار کو صاف کردے اور صحیح معنوں میں ہمیں عقل ِ سلیم عطا فرمائے۔ خطبہ جمعہ ایک بہترین پلیٹ فارم ہے جس سے سماجی برائیوں کو دور کرنے کے لیے ایک منظم کام ہوسکتا ہے۔بہت سے علما ءحضرات اِس پر توجہ بھی مرکوز کئے ہوئے ہیں اور اُس کے الحمدُللہ اچھے نتائج بھی برآمد ہوئے ہیں، ضرورت اِس امر کی ہے کہ شہر وقصبہ، گاوں دیہات ہرجگہ خطبہ جمعہ میں اِن موضوعات پر بات ہو۔

٭٭٭٭

تبصرے بند ہیں۔