مسئلہ فلسطین کیا ہے؟ (قسط سوم)

محمد شمشاد

حماس لیڈر اسماعیل ہا نیہ نے اسرائیل کے ساتھ گیارہ روزہ جنگ کو اپنی شا ندار فتح قرار دیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم بنجامین   یتن یاہو نے جنگ بندی کے بعد ایک پریس کانفر س کرتے ہوئے اسے اسرائیل کی فتح قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیاکہ ’حماس کو ا ندازہ نہیں ہو گا کہ اسے کس قدر نقصا ن پہنچایا گیا ہے‘۔ غزہ اور فلسطینی علاقوں میں جنگ بندی پر خوشی کے مظاہر دیکھنے میں آئے جبکہ اسرائیلی شہریوں اور اپوزیشن لیڈروں کی طرف سے جنگ بندی کو اسرائیلی حکومت کی کمزوری اور ناکامی قرار دیتے ہوئے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا ہے۔

آخرکار مصر اور امریکہ کی ثالثی کے نتیجہ میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ہونی والی جنگ، جنگ بندی کی صورت میں ختم ہوگئی ہے کہا تو یہ جا رہا ہے کہ اس جنگ بندی کے لیے اسرائیل نے حماس کو پیش کش کی تھی جس پیش کش کو حماس نے دو شرطوں کے ساتھ قبول کرلیا، یہ دو شرطیں اس طرح ہیں کہ اسرائیل مسجد اقصیٰ میں فوجی دخل اندازی سے گریز کرے گا اور وہ شیخ جراح علاقہ سے تین مسلم خا ندانوں کے بجبر نکالنے کی کوشش سے اجتناب کرے گا، اسرائیل نے ان دوشرطوں کو وقتی طور پر ہی سہی مان لیا اور اس طرح اس علاقہ میں جنگ بندی ہو گئی ہے، اس بات کو پوری دنیا تسلیم کرتی ہے کہ جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں ہو سکتاہے،بلکہ جنگ مسئلوں کو جنم دیتی ہے،جس کی مثال امریکہ وعراقی جنگ اور اسکے بعد افغانستان اور امریکی جنگ ہیں ان علاقوں میں آج بھی وہی صورت ہے بلکہ وہاں اس سے بھی کہیں زیادہ پیچیدہ مسائل قائم ہیں جو جنگ سے قبل نہیں تھے

 فلسطین کے لوگ عوام اورفلسطین کی متحرک و جنگجو تنظیم حماس کی قیادت بھی اب تک جنگوں سے گریز کرتی رہی ہے، فلسطین کی تحریک کو پوری دنیا میں متعارف کرانے والے جلیل القدر مجاہد یاسر عرفات نے بھی برسوں کے شب خوں اور گوریلا جنگ کے بعد کیمپ ڈیوڈ کے ساتھ سمجھوتہ کرکے جنگ سے گریز کر نے کا اعلا ن کردیا تھا، حالانکہ اس کے نتیجہ میں الفتح کی مقبولیت کم ہوئی تھی اوراسی کے بعد سے حماس کا دور عروج شروع ہوگیاتھا،اسلامی تحریک کے باوجود حماس نے بھی جنگ کے سلسلے میں ہمیشہ محتاط رویہ اختیار کیاہے، پا نی سر سے اونچا ہو نے کے باوجود بھی اس معاملہ میں اس نے پہل نہیں کی،بلکہ جب مسجد اقصیٰ کے نمازیوں پر اسرائیلی یہودیوں نے قہر ڈھانا شروع کردیا اور شیخ جراح علاقہ میں تین خا ندا وں کے ساتھ ناروا اور ظالما نہ سلوک کرنا شروع کردیا تاکہ وہ اس علاقہ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں تو حماس کی قیادت کے صبر کا پیما نہ ٹو ٹ گیا اور حماس نے ان مظلومین کی دفاع کے لیے اقدام کئے،

 اسرائیل اور اس کی بکی ہوئی میڈیا د نیا کو یہی باور کراتی رہتی ہے کہ ہم دفاعی جنگ لڑرہے ہیں، اب یہ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ یہ کیسا دفاعی جنگ ہے جس میں فلسطین کے بچے،بوڑھے، عورت، مرد اور معصوم شہریوں پر بمباری کر کے ہلاک کیا گیا، اور وہاں موجود ذرائع ابلاغ کی عمارتوں کو نشانہ بنا کر نیست و نابود کر دیا گیا، وہاں کے اسکول، رفاہ عامہ کی عمارتیں اور اسپتال اسرائیل کی بمباری کے شکار ہوئے اور دوسری طرف اسرائیل کے صرف بارہ لوگ ہی مارے گئے ممکن ہے مر نے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوں اور جنگی حکمت عملی کے تحت اسے چھپایا گیا ہو لیکن اس حقیقت سے انکار کی قطعاً گنجائش نہیں ہے کہ اس جنگ میں نقصان یکطرفہ یعنی فلسطین کو ہی ہوا ہے غزہ ہر اعتبار سے برباد اور ویران ہوا ہے اسرائیل کی اس ظالما نہ حرکت کے نتیجے میں اس ہرے بھرے شہر کو دوبارہ آباد ہو نے میں برسوں لگ جائیں گے، جو اس لڑائی کا یہ منفی پہلو ضرور ہے، اس لڑائی میں حماس کے کئی اہم کما نڈربھی شہید ہوگئے گویا کہ جانی، مالی ہر طرح کی بربادیوں کا سامنا فلسطینیوں کو ہی اٹھا نا پڑا،

 اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہے کہ اس جنگ میں فلسطینی مسلمان ہوں یاحماس کے مجاہد ہوں وہ اپنے بنیادی حقوق کیلیے جنگ کررہے تھے بلکہ اسرائیل فلسطین میں دنگا فساد بھڑکا نے اور اپنا تسلط بڑھانے کیلیے، د نیا نے دیکھ لیا کہ حقوق کی لڑائی، د نگا فساد پر غالب آگئی،بنجامن یتن یاہو کا فخریہ بیان کہ ہماری فوج بڑھتی رہے گی اور جہاں تک چلی جائے گی وہی اسرائیل کی سرحد ہوگی،اسے اللہ نے اس طرح ذلیل کیا کہ پوری د نیا دیکھتی رہ گئی۔ اس لڑائی میں فلسطینیوں اور حماس کو یقین تھا کہ ہمارے جوانوں، بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کی شہادتیں رائگاں نہیں جائیں گی۔

اگر اس پورے حالات واقعات کا تجزیہ کریں تو معلوم ہوگا کہ اس جنگ کے کئی اہم اورمثبت فائدے بھی سامنے آئے ہیں، ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ برسوں سے فلسطین کے معاملات و مسائل کو اس قدر درکنار کر دیا گیا تھا کہ عرب د نیا کی توجہ فلسطین کی طرف نہیں جارہی تھی، اس بے توجہی کے نتیجہ میں کئی عرب ملکوں نے عوامی احساسات سے ہٹ کر اسرائیل سے مختلف قسم کے سمجھوتے کرنے لگے تھے کچھ عرب ممالک کے سربراہان تو انکی گود میں سر رکھ کر سوگئے تھے بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ ایک طرح سے وہ اسرائیل کی گود میں جاگرے تھے، اس جنگ کی وجہ سے ایک بار پھر پوری د نیا کی توجہ اس طرف گئی اور سب نے محسوس کیا کہ فلسطین کا مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا ہے، مذمتی قراردار تک ہی محدود رہنے کے باوجود عرب لیگ اور اسلامی تعاون کو نسل کی مٹنگوں کی وجہ سے بھی مختلف ممالک پر ایک دباؤ اور پریشر بنا، خود عرب ملکوں کے اپنے اپنے مفادات اور تحفظات تھے، ماضی میں ان ملکوں نے آپس ہی میں بائیکاٹ کی پالیسی اختیار کرکے قطر کو یک و تنہا چھوڑ دیا تھا، لیکن اس لڑائی نے سب کو ایک میز پر بیٹھا نے میں نمایاں رول ادا کیا، گو اس بائیکاٹ کا خاتمہ پہلے ہی ہوچکا تھا، اس لڑائی کی وجہ سے امریکہ کا مکروہ چہرہ ایک بار پھر سامنے آگیا جب اس نے مذمتی قرارداد کو یواین او میں اسرائیل کی حمایت میں ویٹو کرکے پاس نہیں ہونے دیا، د نیا نے جا ن لیا کہ امریکہ میں حکومت کسی پارٹی کی ہو، اس کی خارجہ پالیسی بدلا نہیں کرتی، اس معاملہ میں یو این او میں ہندوستا نی نمائندہ کی تقریر معتدل اور متوازن تھی، کہنا چاہیے کہ اسرائیل کی طرف مختلف معاملات میں ہندوستان کے بڑھتے قدم کا کم از کم اس تقریر میں کوئی اثر دیکھنے کو نہیں ملا۔

اس جنگ کی وجہ سے د نیا کو حماس کی طاقت کا بھی ا ندازہ ہوا، پہلے چھ ملکوں کی فوج کو اسرائیل نے چھ دن میں پسپا کردیا تھا،اس بار گیارہ دن  تک حماس نے تنہا مقابلہ کیا اور اسرائیل کو جنگ بندی پر مجبور کردیا، یہ اسکی بڑی کامیابی ہے، اس نے قرآ نی حکم کے مطابق حسب استطاعت اپنے اندر قوت پیدا کرلی، اور اس حد تک پیدا کرلی کہ اللہ رسول کے دشمن پر خوف طاری ہوگیا اور اسرائیل جیسا دہشت گرد بھی حماس کے حملوں سے مبہوت ہوکررہ گیااور اسے معلوم ہوگیا کہ فلسطین اب پہلے کی طرح تر نوالہ نہیں ہے جسے آسا نی سے نگل لیا جائے۔ یہ وہ پہلو ہیں جن کی طرف لوگوں کی نگاہ کم جاتی ہے؛حالانکہ پریشا ن کن حالات میں بھی یہ خیر کے وہ پہلو ہیں جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے، اللہ ربّ العزت کا ارشاد ہے بعض چیزوں کو تم ناپسند کرتے ہو؛ حالان کہ اس میں تمہارے لیے خیر ہے۔

اس جنگ بندی کو مستقل اور پائیدار حل سمجھ لینابڑی غلطی ہوگی، اسرائیل کی توسیع پسندا نہ پالیسی اسے چین سے نہیں بیٹھنے دیتی ہے، اس لیے پھر اسرائیل وعدہ خلافی کرے گا ہی، ہٹلر نے یہودیوں کا قتل عام یوں ہی نہیں کیا تھا، ہو لوکاسٹ کی کہا نی جس قدر بھی فرضی ہو؛لیکن کچھ نہ کچھ اس میں صداقت تھی، ہٹلر نے کہا تھا کہ میں نے کچھ یہودیوں کو چھوڑ دیا ہے تاکہ دنیا ان کے کرتوتوں اور بد عمالیوں کو دیکھ کر سمجھ لے کہ ہم نے اسے کیوں قتل کرایا، آج فلسطین کے ساتھ اس کے ظالما نہ رویہ کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہٹلر کا یہ عمل ظالما نہیں تھا ا سکے وجوہات معقول تھے۔ ہٹلر کے اس عمل کو سراہا نہیں جا سکتا ہے،ایسا ہرگز نہیں ہے، ظلم تو ظلم ہے کسی کے ساتھ ہو، اسی طرح ہم نسلی بنیادوں پر بھی تفریق کے قائل نہیں حالانکہ اسرائیل نے فلسطین پر غاصبا نہ قبضہ کر رکھا ہے وہ بھی نسلی بنیادوں پر ہی بال وپرنکال رہا ہے، ہندوستا ن شروع سے ہی نسلی امتیاز کے خلاف رہاہے، اسلام بھی اسکی مخافت کرتا ہے، اسی لیے ہندوستان جنوبی افریقہ کا بائیکاٹ کیا تھا، اورجب وہاں سے یہ امتیاز ختم ہوا تب ہندوستان سے اس کے تعلقات استوار ہوگئے۔

مسلم دنیا یہ تسلیم کرتی ہے کہ وہ دن دور نہیں جب فلسطین ایک آزاد مملکت کے طور پر سامنے آئے گا۔ یہ حقیقت ہے کہ اب عالمی رائے عامہ تبدیل ہورہی ہے۔ سوشل میڈیانے عوام کو حقیقی صورت حال سے آگاہ کردیا ہے۔ پہلی بار مغربی ممالک اور امریکہ میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز یں سننے میں آرہی ہیں۔ سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا کے ذریعے حقیقی معلومات سامنے آنے کی وجہ لوگوں کو درست تصویر دکھائی دینے لگی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ مین اسٹریم میڈیا اسرائیلی مظالم کی پوری تصویر دکھا نے سے گریز کرتا رہاہے کیونکہ وہ بہت بااثر لوگ ہیں اور وہ میڈیا کو کنٹرول کرتے ہیں ‘۔ لیکن ’اسرائیل اپنے تعلقات کے باوجود میڈیا کی جنگ ہار رہا ہے‘۔

اسرائیل کی حالیہ جارحیت کے حوالے سے د نیا کے رد عمل پر نظر ڈالی جائے تو پاکستان وہ واحد ملک ہوگا جس نے اس موقع پرسرگرم کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستانی قیادت نے سخت بیا نات کے ذریعے علیحدہ فلسطینی ریاست کے حق میں بات کرتے ہوئے اسرائیلی جارحیت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی تھی۔ اگرچہ باقی مسلم د نیا کی طرف سے بھی غزہ میں اسرائیل کی یکطرفہ بمباری کی مذمت کی گئی اور اس کے فوری خاتمہ کا مطالبہ ضرور کیا گیاتھا لیکن ان مطالبوں میں پاکستا نی لیڈروں جیسی شدت دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ پاکستا نی قیادت کے اس رویہ نے پاکستانی عوام کی بھر پور ترجمانی کی ہے اس طرح اس نے مسلم د نیا بالخصوص پاکستان میں اسرائیل مخالف جذبات اور یہودیوں کے بارے میں جواحساسات پائے جاتے ہیں۔

 ویسے اس ملک میں جنگ کے دوران فلسطین کے حوالے سے خاصی سرگرمی دیکھنے میں آئی تھی۔ گزشتہ ہفتے او آئی سی کے اجلاس میں بھی شاہ محمود قریشی نے پر زور تقریر کی تھی۔ نیویارک میں قیام کے دوران پاکستا نی وزیر خارجہ نے اقوم متحدہ کے اجلاس سے پہلے اسلامی تعاون تنظیم کے نمائندوں کے اعزاز میں ڈنر کا اہتمام کیا تاکہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بنائی جاسکے۔ اس دوران فلسطین کے معاملہ پر سخت گیر رویہ اختیار کرکے عوام میں مقبولیت حاصل کرنے کی دانستہ یا نادا ستہ کوشش کی گئی ہے۔ پاکستا نی حکومت نے فلسطین کے حالیہ تنازعہ کے دوران جو رویہ اختیار کیا ہے، وہ عام طور سے عرب ممالک اور دیگر اسلامی ممالک میں دیکھنے میں نہیں آتا۔ ایران، ترکی اور قطر ضرور حماس کی حمایت کرتے ہیں اور اس بحران کے دوران انہوں نے بھی سخت اسرائیل مخالف موقف اختیار کیا تھا۔

بہر حال مسلم ممالک  کے حکمرانوں میں اسرائیل کے حوالے سے پائی جا نے والی منقسم رائے سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مسلم د نیا کسی بھی پلیٹ فارم پر مشترکہ حکمت عملی بنا نے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ایسے میں پاکستا ن جیسے غیر متعلقہ ملک کی طرف سے شدید رویہ اختیار کر نے سے فلسطینی کاز کو کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچ سکتا البتہ پاکستا نی قیادت اپنے عوام کو ضرور یہ باور کروا سکتی ہے کہ اس نے مسلما نوں سے متعلق ایک اہم مسئلہ پر سرگرم کردار ادا کیا ہے یہ پالیسی جزوی طور سے اس  نفرت کی بنیاد پر اختیار کی جاتی ہے جو اسرائیل اور یہودیوں کے خلاف مسلم ممالک میں فروغ پاچکی ہے۔ بدقسمتی سے اس حوالے سے ریاست اسرائیل کے جرائم کو یہودیوں کا قصور سمجھتے ہوئے ایک ایسی فضا پیدا ہوگئی ہے جس میں یہودیوں کو انسا نیت کادشمن سمجھا جا نے لگا ہے۔ حالا نکہ یہ رویہ ایک خاص عقیدہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے خلاف براہ راست نفرت سمجھا جائے گا۔ اس نفرت کو فروغ دے کر نہ تو فلسطین کا مسئلہ حل کروایا جاسکتا ہے اور نہ ہی مسلمانوں میں مذہبی شدت پسندی جیسے اہم مسئلہ سے نمٹنے کا ماحول پیدا کر نا ممکن ہوگا۔

حماس اور اس کے ہم خیال عناصر بھی دو ریاستی حکمت عملی کے تحت فلسطینی ریاست کا قیام چاہتے ہیں جو اس راہ میں ایک اہم کوشش تسلیم کی جاسکتی ہے۔ حماس کے لیڈر اسماعیل ہا نیہ نے حالیہ جھڑپوں کے بعد ہونے والی جنگ بندی کو اپنی کامیابی قرار دیتے ہوئے یہ کہا ہے کہ اس جنگ سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ کبھی بات چیت نہیں ہوسکتی۔ ہو سکتا ہے حماس کبھی بھی مذاکرات کے ذریعے اس تنازعہ کو حل نہیں کر نا چاہتی اورکسی پالیسی کے طور پر اسرائیل کو ’ نیست و نابود‘ کرکے فلسطینی علاقوں میں ایک مسلم ریاست کے قیام کی بات کرتا ہے۔ اسی اختلاف کی وجہ سے اس وقت فلسطینی منقسم ہیں اورانہیں اسرائیل کے ساتھ معاملات طے کر نے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ محمود عباس کی قیادت میں فلسطینی حکومت کا دائرہ اختیار مغربی کنارے تک محدود ہے جبکہ غزہ پر حماس قابض ہے۔ محمود عباس کی تنظیم الفتح بات چیت پر یقین رکھتی ہے اوروہ اسرائیل کے ساتھ معاملات طے کر نا چاہتی ہے لیکن حماس بات چیت کے خلاف ہے۔ جس کے بنیاد پر یہ کہنا مشکل ہے کہ دو ریاستی حل کی بنیاد پر فلسطینی ریاست کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ د حماس ہے یا محمود عباس۔

زیادہ تر مسلم ممالک دو ریاستی بنیاد پر مسئلہ فلسطین حل کر نے کے حق میں ہے۔ عقلی لحاظ سے یہی اصول قابل عمل بھی ہے۔ اسرائیل بھی اصولی طور پر اس حل کے لیے تیار ہے لیکن  2006 میں غزہ پر حماس کی حکومت قائم ہو نے کے بعد سے فلسطینی گروہ آپس میں ہی گتھم گتھا رہے ہیں اور علیحدہ فلسطینی ریاست کے قیام کے سوال پر شدید اختلافات کی وجہ سے یہ معاملہ کسی حل کی طرف بڑھتا دکھائی نہیں دیتا۔ حماس کے لیڈر جب حالیہ تنازعہ کے بعد اپنی فتح کی بات کرتاہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں لیا جاسکتا کہ حماس یا کوئی بھی فلسطینی گروہ کسی طور پر عسکری طور سے اسرائیل کا ہم پلہ ہے بلکہ اسے سیاسی تناظر میں ہی سمجھا جا نا چاہیے۔ اسماعیل ہا نیہ کے دعوے کا مقصدیہی ہے کہ اس جنگ سے انکے اس مؤقف کی تائید ہو اور اسرائیل سے جنگ ہو یا بات چیت سے، بہرحال فلسطین کو آزاد کروانے کی کوئی صورت نکالی جائے۔

اگرحماس اور ایران کی موقف کے مطابق اسرائیل کو ختم کر کے فلسطین قائم کر نے کے اصول کو ہی اگر واحد قابل عمل طریقہ کے طور پر قبول کر لیا جائے گا تو مستقبل قریب میں اس بات کا کوئی امکا ن نہیں ہے کہ حماس اور اس کے حامی ممالک کو اتنی عسکری قوت حاصل ہو جائے گی کہ وہ اسرائیل جیسی بڑی فوجی قوت پر فتح حاصل کرسکے۔ یعنی یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ حماس کی ہٹ دھرمی کے نتیجہ میں فلسطینیوں کے مصائب میں اضافہ ہی ہوگا۔ بدقسمتی سے غزہ میں آباد 20 لاکھ فلسطینی مسلمان بستے ہیں اس وقت دوہری مشکلات سے دوچار ہیں۔ ایک طرف اسرائیل نے اس علاقے کا محاصرہ کرکے انکی ز ندگی کو اجیرن بنا دیا ہے تو دوسری طرف حماس جیسے گروہ نے اس علاقے پر اپنا تسلط کرکے غزہ کے عوام کو عملی طور سے یرغمال بنایا لیا ہے۔ اور فلسطینی عوام کو تقسیم کرکے مسائل، الجھنوں اور مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔

اس پس منظر میں یہ دعویٰ کہ عالمی رائے تبدیل ہو نے کے بعد اسرائیل علیحدہ فلسطینی ریاست کے قیام پر مجبور ہوجائے گاجو زمینی حقائق سے پرے ہے۔ مغربی ممالک فلسطینی عوام پر مظالم کو مانتی ضرور ہے اور اسکے لیے اسرائیل کی مذمت بھی کی جاتی ہے لیکن حماس کے اسرائیل کو نیست و نابود کر نے کے تصور کو بھی کوئی پزیرائی نہیں مل سکتی ہے۔ فلسطینی ریاست کے قیام کیلیے مسلم ممالک اسی صورت میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں اگر وہ حماس کے یک طرفہ جنگ جوئی کے طریقہ کو بھی مسترد کریں گے۔ فلسطینی آزادی اور حماس کے اہداف میں بعد المشرقین ہے۔ ان میں توازن تلاش کئے بغیر فلسطین کا تنازعہ حل کر نے کی کوئی عالمی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی ہے۔

اسرائیل کی مخالفت کی ایک بنیاد بھی انسانیت پر مبنی ہے یہ مسئلہ صرف اسلامی نہیں بلکہ یہ انسا نی مسئلہ ہے،اس مسئلہ کو حل کے لیے تمام مسلم اور عرب ممالک کو متحد ہوکر فلسطین کی آزادی کی جدو جہد جاری رکھنی ہوگی، عملی طور منظم موقف ہی اس کا واحد حل ہے، عالمی میڈیا بھی اسرائیل کے زیر اثر ہے اوراسرائیل اسے دودھ پلا پلا کر پروپیگنڈہ کے لیے استعمال کرتا رہا ہے، رائے عامہ کی بیداری کے لیے میڈیا کو اس کے لیے تیار کر نا کہ وہ جا نب دار نہیں ہے، حق کا طرف دار ہوکر کام کرے، یہ بھی ایک کام ہے، گو یہ بہت آسان نہیں ہے،ایک اور کام غزہ کی تعمیر نو کا ہے، جس کے لیے کثیر رقم کی ضرورت ہوگی، زخمیوں کا علاج اور صحیح دیکھ ریکھ بھی اس وقت کا بڑا کام ہے، بعض غیر اسلامی ملک نے تعاون کی پیش کش کی ہے، مسلم اور عرب ملکوں کو بھی اس سمت میں پیش قدمی کر نی چاہیے؛تاکہ غزہ میں جو کچھ تباہ ہوگیا ہے اس کی تعمیر نو کی جاسکے، دفاع کے لیے اسلحے بھی آج کی ضرورت ہیں، اس سمت بھی توجہ دینی چاہیے؛تاکہ فلسطین پہلے سے طاقت ور ہوکر دنیا کے سامنے آئے، اور بتا دے کہ تم جتنا دباؤگے، اتنا ہی یہ ابھرے گا۔

تبصرے بند ہیں۔