مسئلہ فلسطین کیا ہے؟

محمد شمشاد

د نیا کے ہر باضمیر شخص کے لیے اسرائیل ظلم، استحصال، جھوٹ اور مکر کی علامت ہے۔ یہودی ریاست انہی بنیادوں پر قائم ہوئی ہے اور ا نہی  ستونوں پر کھڑی ہے اسرائیل کا قیام 1948 میں ہوا۔ مسئلہ فلسطین کا آغاز 1917 میں معاہدہ بالفور سے ہوا تھا جب انگریزی حکومت نے فلسطین پر قبضہ کرلیا اور وہاں یہودیوں کے لیے ایک قومی وطن کے قیام کا اعلان کیا تھا۔

جب اس ناجائز یہودی ریاست  اسرائیل کو وجود میں لایا گیا اس وقت بھی فلسطینیوں پر ظلم ڈھا کر ا نہیں ا نکے وطن سے نکالا گیا تھا۔ یہودی ہمیشہ جھوٹ بولتے رہے ہیں کہ فلسطینیوں نے رضاکارانہ طور پر اپنے قصبوں اور دیہات سے ترک وطن کیاتھا لیکن آج خود اسرائیل کے   مورخین اعتراف کر رہے ہیں کہ یہودیوں نے ایک سوچے سمجھے اور ماہرانہ منصوبے کے ذریعے فلسطینی سرزمین پر نسلی صفائی کا عمل انجام دیا تھا، جس کا مقصد فلسطینیوں کو جلاوطن کر کے ا نکے متروکہ علاقوں میں پوری دنیا اور خصوصی طور سے روس، مشرقی یورپ اور جرمنی سے یہودیوں کو لاکر بسا نا تھا۔ اپنے اس مقصد کی تکمیل کے لیے یہو دی دہشت گردوں نے فلسطینیوں پر حملے کیے اور مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو خوف زدہ کر کے ہجرت پر مجبور کر دیا، جب کہ اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کے سیکڑوں گائوں اور قصبے تباہ و بربادکر دیے۔

اس وقت سے لے کر آج تک مسلمانوں کے درمیان ایک ہی معاملہ بار بار دہرایا جاتا ہے یعنی فلسطینیوں کی سخت مزاحمت، عربوں کی بھرپور حمایت اور باقی مسلما نوں کی زبردست تائید کے باوجود فلسطین کا مسئلہ جوں کے توں اپنی جگہ قائم ہے جبکہ اسکے برعکس فلسطین میں یہودی علاقوں اور آبادکاروں میں مسلسل اضافہ ہوتاجا رہا ہے اور فلسطینی مسلمانوں کی زندگی کا دائرہ مستقل تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ مسئلہ فلسطین کے دو فریق ہیں ایک یہودی اور دوسرے فلسطین کی عرب قوم۔

 قرآن کے مطابق یہودی ایک مغلوب اور مغضوب قوم ہے جس کے متعلق قرآن میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ کے ساتھ کفراور نا فرمانی کرنے کے بعد وہ روز قیامت تک مسیحیوں سے مغلوب رہیں گے اور وقفے وقفے سے ا ن پر سخت عذاب مسلط کیا جاتا رہے گا۔ تاہم ان وقفوں اور غلامی کے درمیان ان کو مہلت ضرور ملے گی۔ اس وقت یہودی قوم اسی مہلت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

مسئلہ فلسطین کو مختلف زاویے سے دیکھا جاسکتا ہے اور ان میں ایک زاویہ قرآن کا نظریہ بھی ہو سکتا ہے۔ دو نوں کے متعلق قرآ ن پہلے ہی بتا چکا ہے کہ وہ کیا کریں گے تو جواب میں اللہ تعالیٰ ان  کے ساتھ کیا کریں گے۔ بعض لوگ اس مہلت کو یہود ی کے لیے عالمی غلبہ سمجھتے ہیں۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ یہودی پچھلے دو ہزار برس سے مسلسل اسی مغلوبیت اور عذاب کے شکار ہیں۔ اس وقت بھی وہ مغربی و مسیحی طاقتوں کے بل بوتے پر ہی یہاں تک پہو نچے ہیں۔ یہودی پہلے برطانوی حکومت کے غلام تھے اور اب امریکہ کی مسیحی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے انہیں استعمال کر رہی ہیں۔ پہلی جنگ عظیم میں برطا نیہ نے یہودیوں کے ذریعے سے امریکہ کو جنگ میں شریک کروا کے پہلی جنگ عظیم میں اپنی شکست کو فتحیابی کی شکل میں تبدیل کر دیا تھا اور اس خدمت کے بدلے میں یہودیوں کو اعلا ن بالفورحاصل ہواتھا۔ پہلی جنگ عظیم کے نتیجے سے بوکھلا کرہی ہٹلر نے اسی جرم کی بدلے یہود یوں کا قتل عام کیا تھا۔

پہلی جنگ عظیم کے بعد مغربی طاقتوں نے یہودیوں کو ایک غلام کی حیثیت سے اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا۔ جب 1938 میں سعودی عرب میں تیل کے سب سے بڑے عالمی ذخیرے کی دریافت کی اطلاع مغربی مسیحیوں کو ملی اسکے بعد مغربی طاقتوں کو اس بات کا اندازہ ہوگیا تھا کہ ان کا معیار ز ندگی اور ترقی عرب کے اس تیل پر منحصر ہو جائے گی۔ چنا نچہ اس تیل پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی غرض سے انہوں نے ایک نئے منصو بہ پہ کام کرنا شروع کردیا اور پھر انہوں نے عربوں کو پریشان کرنے کے لیے ایک ناسور خطہ کی بنیاد ڈال دی جس کے نتیجے میں یہودیوں کی ریاست اسرائیل کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ عرب ریاستیں اس خطہ سے مسلسل خوفزدہ رہ کر مغربی و مسیحی طاقتوں کے کنٹرول میں رہ سکیں۔ اور یہی وجہ ہے عرب ریاستوں کی دولت کا ایک بڑا حصہ اس اسلحے کی خریداری پر خرچ ہوتا ہے جو وہ مغربی حکومتوں سے خریداری کرتی ہیں اور جسے گاہے گاہے اسرائیل کی یہودی حکومت اپنی جارحیت سے عربوں کو خوفزدہ کراتی رہتی ہے اور اس خطہ اپنی موجودگی کا انہیں احساس دلاتی رہتی ہے اوراس طرح تیل پر خرچ ہو نے والی ایک کثیر رقم اسلحے کی تجارت سے واپس مغربی اقوام کو مل جاتی ہے۔

چنا نچہ مغرب اور خاص کر امریکہ کی اسرائیلی حمایت کا سبب مغرب کی وہ پالیسی ہے جس کے تحت وہ جس رقم کو تیل خرید نے پر خرچ کرتے ہیں، اس سے زیادہ اسلحہ بیچ کر کما لیتے ہیں۔ امریکی کا نگریس کی ایک رپورٹ کے مطابق 2019-2000 کے عرصے میں مشرق وسطی میں 1.3 کھرب ڈالر کا اسلحہ خریدا گیا ہے۔ اسی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کے ممالک نے 1950سے 2017 تک 3.8 کھرب ڈالر کے اسلحے کی درآمد کے معاہدے کیے۔ اس اسلحے کے بیچنے والے زیادہ تر مغربی ممالک ہیں۔ آپ ا ندازہ کیجیے کہ پاکستان کا کل بجٹ اس برس 45 ارب ڈالر کا ہے۔ اس سے ا ن معاہدوں کی بھاری مالیت کو سمجھا جاسکتا ہے اور اس منافع کو جو مغربی اقوام اسلحہ بیچ کرحاصل کر رہی ہیں۔

 لہذا یہ تصوربالکل درست ہے کہ یہودی مغرب کو استعمال کر رہے ہیں بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ یہاں ہم اس بات سے انکار نہیں کر سکتے ہیں کہ یہودیوں کا امریکہ یا مغرب پر اثر و رسوخ نہیں ہے۔ دنیا کے تقریباً تمام اخبارو جرائد، ٹی وی چینل، فلمیں بنا نے والے بڑے بڑے ادارے اور اب سوشل میڈیا میں ہر جگہ یہودیوں کا غلبہ ہے۔ اسی طرح مالیاتی اداروں پر بھی یہودیوں کا گہرا کنٹرول ہے۔ ان چیزوں کی بنیاد پر وہ اسرائیل کو بہت سے فوائد پہنچاتے ہیں، جس کے وجہ کر مغربی ممالک کو یہودیوں کی حمایت کے بہت سے فوائد ملتے ہیں

یہ مفادات کا دو طرفہ معاملہ ہے۔ جب جب مغربی ممالک کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہودی ا نکے مفاد کے خلاف کھڑے ہونے کی کوشش کر رہے ہیں تو وہ ممالک جہاں مسیحی قوم آباد ہیں دوبارہ وہی منصوبہ تیار کرنے کی جانب گامزن ہوجاتی ہیں جوگزشتہ تاریخوں میں یہودیوں کے ساتھ ہوتا چلا آیا ہے۔ چنا نچہ قرآن کی بات یہودی کے بارے میں بالکل درست ہے کہ وہ مسیحی اقوام سے مغلوب ہیں اور وقفے وقفے سے ا ن پر خدائی عذاب کا کوڑا بھی برستا رہے گا کیو نکہ انہوں نے پہلے انبیا کی ایمان و اخلاق کی تعلیم کو رد کرتے ہوئے ظاہر پرستی اور قوم پرستی کا مظاہرہ کرکے اللہ کے غضب کو بھڑکایا تھااور پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کفر، انکار اور نا فرمانی کا راستہ اپنا لیا تھا۔

قرآن میں عربوں کے متعلق بھی اللہ کا وہی قا نون نافذہے جو یہودی کے متعلق بیان کیا گیاہے کیو نکہ یہ دونوں حضرت ابراہیم کی اولاد ہیں اور یہ قا نون حضرت ابراہیم کی اولاد کے لیے ہی ہے کہ ا نہیں د نیا پر حق کی شہادت دینی ہے اور پوری نوع انسانیت کو سلامتی کا پیغام پہنچانا ہے۔ اگر وہ یہ کام نہیں کریں گے تو اسی د نیا میں اس قوم کی ذلت و رسوائی ہوگی اوران پر عذاب مسلط کر دیا جائے گا۔ یوں یہ شہادت جو وہ اپنے قول و فعل سے نہیں دیں گے وہ یہی شہادت ا نکے حالات سے دلوائی جائے گی کہ اللہ مجرموں کو سزا دیتا ہے اور وفاداروں کو انعام و اکرام سے نوازتا ہے۔

عربوں کی پوری تاریخ اس کی گواہ ہے۔ خلافت راشدہ، بنو امیہ اور بنو عباس کے دور میں عرب اور اسلامی حکومت و قوم پوری دنیا کے امام تھے۔ مگر جب انہوں نے ایمان و اخلاق کے تقاضے کوپامال کیا تو پہلے اندلس میں ان کا نام و نشان مٹا دیا گیا اور پھر تاتاریوں نے بغداد کو تباہ کرکے عرب اقتدار کو ختم کر دیا۔ عربوں کی حالیہ تاریخ بھی اسی قا نون کا ثبوت ہے۔ اہل عرب اور خاص کر سعودی عرب کے لوگوں نے جب شرک کے مقابلے میں توحید کو پوری طرح اختیار کیا تو ہم جا نتے ہیں کہ ا نکے قدموں میں اللہ تعلی نے تیل کی دولت کے ا نبار نکال دیا۔ اگر وہ اخلاقیات کو بھی اختیار کرلیتے تو د نیا پر ان کا غلبہ قائم ہونا یقینی تھا۔ مگر بدقسمتی سے اس معاملے میں وہ پیچھے رہ گئے ہیں۔ چنا نچہ ان کو دولت اور ا نکی ریاست کو استحکام تو مل گیا مگرانہیں عالمی غلبہ و اقتدار نہیں مل سکا۔ ا نکی اخلاقی پستی ہی وہ سبب ہے جس کی بنا پر اسرائیل جیسا چھوٹا ملک بھی کروڑوں عربوں کے بیچ میں بیٹھ کر انھیں مسلسل ذلیل و رسوا کرتا رہتا ہے۔

 قرآ ن نے قوموں کے بارے میں ایک مستقل قانون بیا ن کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کے حالات کو اس وقت تک نہیں بدلتا ہے جب تک وہ اپنے معاملات خود نہیں بدل لیتے ہیں، (الرعد11:13)۔ چنا نچہ اب اپنی ذلیل ورسوائی سے بچنے کے لیے عربوں کے پاس ایک ہی راستہ بچتاہے کہ وہ اپنا رویہ میں تبدیلی لائیں اور ایمان و اخلاق کی دعوت کو پوری طرح اختیار کریں۔ اگر وہ یہ کام کریں گے تو اللہ تعالیٰ اسکے لیے ایسے حالات و اسباب پیدا کر دیں گے کہ اسرائیل تباہ و برباد ہوجائے گا۔ اگر عرب اپنے معاملات، اخلاق اور حالات میں تبدیلی نہیں لاتے ہیں اور الٹا اخلاقی پستی کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں تواللہ کے قانون کے مطابق یہ طے بات ہے کہ مسلم ممالک اور خصوصی طور سے عرب ممالک کی ذلت و رسوائی کی یہ تاریک راتیں کبھی ختم ہو نے والی نہیں ہیں۔ ہمارے لیے بھی درست راستہ یہی ہے کہ عربوں کو ایمان و اخلاق کی قرآ نی دعوت کی تلقین کریں۔ یہ ا نکی اصل خیر خواہی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ کوئی عجمی مسلما نوں کا گروہ جب اسلام کا علمبردار بن کر دنیا میں کھڑا ہوجاتا ہے تو اس پر بھی اس قانون کا اسی طرح اطلاق ہوجاتا جو حضرت ابراہیم کی اولاد کے لیے نافذہیں۔ مسلمان چاہے وہ اہل عرب ہوں یا اہل پاکستان یا اہل ہندوستان سبھی کے لیے ایک ہی طریقہ کا قانون ہے ہر مسلمان کویہی راستہ اختیار کر نا چاہیے۔ یعنی وہ قومی اور دستوری سطح پر اسلام کے علمبردار بنے۔ دوسری طرف وہ عملی طور پر اسلام کی دعوت ایمان و اخلاق سے کوسوں دور بے عملی اور دو عملی کا نمونہ بنے ہوئے ہیں۔ یہی وہ رویہ ہے جو مسلمانوں کی تمام مشکلات اور ذلت و رسوائی کا سبب بنا ہواہے۔ ہمیں اور تمام مسلمانوں کوخود کو بدلنا ہوگا ور نہ عربوں کے ساتھ ہماری رسوائی کے دن بھی ایسے ہی جاری رہیں گے۔

تبصرے بند ہیں۔