مسلمانوں کے عروج و زوال کے اسباب اور اس کا علاج

مفتی محمد قاسم اوجھاری

      بڑی نزاکتوں کا حامل موضوع ہے لکھنے والوں نے بہت کچھ لکھا ہے، مفکرین مدبرین اور تجزیہ نگاروں نے اپنے اپنے زاویہ فکر سے اس پر روشنی ڈالی ہے اور ہر ایک نے اپنے اپنے نقطہ نظر سے اس کے اسباب و وجوہات اور حل پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ البتہ تاریخی مطالعے سے چند چیزیں واضح ہوتی ہیں کہ جب مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق تھا ہم آہنگی اور یکجہتی کا سرمایہ موجود تھا ملت اسلامیہ اختلاف و انتشار سے دور تھی، مسلم معاشرے میں تعصب و عناد اور گروہی عصبیت کی کوئی گنجائش نہیں تھی، پورا معاشرہ اتحاد اور اتفاق کا حسین سنگم تھا، قرآن و سنت پر مضبوطی سے عمل تھا، گناہوں سے سخت نفرت تھی، اس وقت مسلمان ترقی کی راہوں پر گامزن تھا حکومت و سلطنت مسلمانوں کے قدموں میں تھی تخت و تاج پر مسلمانوں کا راج تھا، دریاؤں اور سمندروں پر مسلمانوں کی حکمرانی تھی، مسلمانوں کے قدم بڑھے تو بڑھتے چلے گئے غارحرا سے طلوع ہونے والا سورج پورے عالم پر محیط ہوتا چلا گیا۔

      مسلمانوں کے پاس آسمانی کتاب اور شریعت الہیہ تھی اس لیے ان کو قیاس اور اپنی طرف سے قانون سازی کی ادنی سی بھی ضرورت نہیں تھی، وہ جہالت و ناواقفیت روز بروز کے قانونی ردوبدل، ترمیم، ہولناک غلطیاں اور مظالم سے محفوظ تھے، وہ اپنی سیاست و معاملات میں پھونک پھونک کر قدم رکھتے تھے وہاں نہ روحانیت و مادیت میں کش مکش تھی، نہ دین و سیاست میں کوئی تصادم، نہ اغراض و اخلاق کے درمیان کوئی مزاحمت ، نہ طبقوں اور گروہوں کی باہمی رنجش اور جنگ۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت مسلمانوں کا مقابلہ نہ کر سکی، اسلام پھیلا تو پھیلتا چلا گیا مسلمانوں کے قدم بڑھے تو بڑھتے چلے گئے۔

      اقبال مرحوم کہتے ہیں:

مغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماری

تھمتا نہ تھا کسی سے سیل رواں ہمارا

      پھر جب مسلمانوں میں باہمی خانہ جنگی شروع ہوئی، صفوں سے اتحاد ختم ہوا، فرقہ بندی معاشرے کا جز بن گئی، گناہوں کی کثرت ہوئی، قرآن و سنت کو پس پشت ڈال دیا گیا تو پھر یہی عروج زوال میں بدلنے لگا۔ یہ حقیقت ہے کہ اختلاف کے کیڑوں اور منافقت نے مغلوں کا تخت وتاج پلٹا ہے، انتشار کی دیمک نے اندلس سے اسلام کی بنیاد گرائی ہے، باہمی رنجش نے سلطنت تیموریہ کو تہہ و بالا کیا ہے، پھر جب یہ صورت حال مزید بڑھی، اور مسلمان اس شعر کا مصداق ہوئے:

کیا ہوا گر قوم پر غیروں کی یلغاریں ہوئیں

ہم تو اپنے آشیانے میں بہت محفوظ ہیں

تو پھر سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا، اسلامی طاقت وقوت کو توڑ دیا گیا، عالم اسلام کو بے دست و پا کردیا گیا، عراق کی دھجیاں اڑا دی گئیں، افغانستان کو بھوکا ننگا کر دیا گیا، شام کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے گئے فلسطین کو لہولہان کر دیا گیا، لیبیا پر نزع کی کیفیت طاری کر دی گئی، لبنان کی خوبصورتی کو گہن لگ گیا، یمن کی برکتیں لوٹ لی گئیں، اور جب عیاشیاں عام ہوئیں تو عالم عربی میں یہودیوں کے چینل اور اسٹیشن قائم ہوئے۔ جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اہل مغرب نے مسلمانوں کو اپنے چنگل میں لینے اور مسلم معاشرے کو تباہ کرنے کے لیے ذرائع ابلاغ کا سہارا لے کر فحاشی و بے حیائی کا جال بچھا دیا، دنیا یہ منظر نامہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے

      مختصر یہ کہ آپسی اتحاد و اتفاق، اختلاف وانتشار فرقہ بندی اور تعصب و عناد سے دوری، دین و سیاست میں یکجہتی، روحانیت ومادیت میں یکسانیت، قرآن و سنت پر مضبوطی سے عمل مسلمانوں کے عروج کے اسباب ہیں، اور اتحاد و اتفاق کا فقدان، اختلافات و انتشار، باہمی رنجش، فرقہ بندی، گروہی عصبیت، تعصب و عناد، دین و سیاست میں تصادم، روحانیت و مادیت میں کشمکش، اغراض و اخلاق میں مزاحمت اور قرآن و سنت سے دوری مسلمانوں کے زوال کے اسباب ہیں۔

      آخر میں اس تحریر کو حضرت شیخ زکریا رحمہ اللہ کی کتاب "الاعتدال فی مراتب الرجال” کے ایک اقتباس پر ختم کرتے ہیں جو مسلمانوں کے لیے بہترین لائحہ عمل ہے اور جس میں مسلمانوں کی فلاح اور ترقی کا راز مضمر ہے۔ مولانا لکھتے ہیں: کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ مسلمان مسلمان رہ کر گناہوں کی کثرت کے ساتھ ترقی کرتا رہے، مسلمانوں کی ترقی کا معیار صرف دین پر عمل ہے بالخصوص گناہوں سے بچنا۔ دوسری جگہ لکھتے ہیں: کہ مسلمانوں کی کامیابی صرف اتباع مذہب اسوہ رسول اور سلف صالحین کے طریقہ میں منحصر ہے، مسلمانوں کی ترقی اور فلاح کا واحد راستہ گناہوں سے بچنا ہے اور اسلامیات کا اہتمام ہے (الاعتدال فی مراتب الرجال)

تبصرے بند ہیں۔