مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

          اِس ماہ رمضان المبارک میں اسرائیلی فوجیوں نے ’’مسجد اقصیٰ‘‘ میں گھس کر تراویح پڑھتے ہوئے مسلمانوں پر فائرنگ کرکے ایک مرتبہ پھر عالم اسلام کے زخموں کو کرید دیا۔ پوری دنیا کے مسلمان تھرا اُٹھے اور ’’مسئلہ فلسطین‘‘ ایک بار پھر سرخیوں میں آگیا۔یہ مسئلہ برطانیہ نے پیدا کیا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی برطانیہ نے اپنا مقبوضہ علاقہ چھوڑا تو وہاں ایک نہ ایک ایسا مسئلہ چھوڑ دیا جس کی وجہ سے اُس علاقے کے لوگ اُس کی طرف یعنی اُس کی بنائی تنظیم ’’اقوام متحدہ‘‘ کی طرف متوجہ ہوں۔ فلسطین کو بھی جب برطانیہ نے آزاد کیا تو وہاں اسرائیلوں کی غاصب حکومت کی پوری تیاری کرنے کے بعد آزاد کیا اور اقوام متحدہ میں یہ تجویز رکھی کہ فلسطین میں دو حکومتیں قائم کی جائیں۔ ایک مسلمانوں کی اور دوسری اسرائیلوں کی۔تب سے یہ مسئلہ مسلسل چل رہا ہے اور اسرائیل مسلسل مسلمانوں پر مسلسل ظلم ستم کررہا ہے۔اِس کے لیے 1917ء میں ہی برطانیہ کے وزیر خارجہ ’’بالفورڈ‘‘ نے فلسطین میں اسرائیلی حکومت کا اعلان کردیا تھا۔

           جس وقت برطانیہ نے فلسطین پر قبضہ کیا تو وہاں پر صرف مسلمان رہائش پذیر تھے۔ برطانیہ نے فلسطین میں باقاعدہ اسرائیلی آباد کاری کا عمل 1917ء میں برطانوی وزیر خارجہ بالفورڈ کے اعلان کے بعد ہی شروع ہوا۔ جس میں برطانیہ نے اسرائیلوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ فلسطین میں اُن کی ریاست قائم کرکے دیں گے۔ اُس وقت فلسطین ’’اقوام متحدہ‘‘ کی نگرانی میں تھا۔1924ء میں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوگیا اور برطانیہ کا فلسطین پر مکمل طور سے قبضہ ہوگیا اور خلافت عثمانیہ کے عرب ممالک پر مغربی ممالک نے قبضہ کرلیا۔ وعدہ کے مطابق برطانیہ نے اپنی نگرانی میں فلسطین میں اسرائیلوں کو یورپ اور روس وغیرہ سے لا لا کر اُن کی بستیاں بسانی شروع کردیں۔ دراصل یورپ اور روس بھی اسرائیلوں سے تنگ آگئے تھے اور اپنے یہاں کا کچرا لا لا کر فلسطین میں ڈالنے لگے۔ اِس کے لیے برطانیہ نے زبردستی مسلمانوں سے علاقے خالی کروائے اور اسرائیلیوں کو بساتا رہا۔

          برطانیہ نے امریکہ کے ساتھ ملکر یہ چالاکی کہ ’’اقوام متحدہ‘‘ کے ذریعے مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک پر احسان کیا اور انہیں خلافت عثمانیہ سے آزاد کروادیا اور ہر ملک کی الگ الگ خود مختار حکومت بنا دی۔ اِس وجہ سے تمام مسلم ممالک برطانیہ اور امریکہ کے احسان مند ہوگئے ۔اِسی وجہ سے انہوں نے فلسطین کی طرف توجہ نہیں کی اور برطانیہ اسرائیلوں کو لا کر فلسطین میں زبردستی بساتا رہا۔ایسے حالات میں فلسطین کے مسلمانوں نے برطانوی ظلم کے سامنے 1935ء میں مسلح مزاحمت شروع کردی۔ عزء الدین القسام اور امین الحسینی نے برطانیہ سے مقابلہ کرنا شروع کردیا لیکن برطانیہ کے مقابلے میںاُن کے پاس اسلحہ نہیں کے برابر تھا۔ پوری غیر مسلم دنیا اُس وقت برطانیہ اور امریکہ کے ساتھ تھی اور مسلم ممالک کے حکمراں شترمرغ بن گئے تھے اور اپنے اپنے ممالک میں مگن ہوگئے تھے ۔ عزء الدین القسام کو ’’ٹارگٹ کلنگ‘‘ کا نشانہ بنایا گیا اور آخرکار ایک اجلاس کے دوران شہید کردیا گیا۔اُن کی شہادت کی وجہ سے فلسطین میں مسلمانوں کی مزاحمت کا مورچہ کمزور ہوگیا اور اور برطانیہ کا اسرائیلوں کو یورپ اور روس سے فلسطین لاکر بسانا آسان ہوگیا۔تقریباً اُنتیس 29سال تک (1918ء سے 1947ء تک) برطانیہ لاکھوںاسرائیلوں کو لاکر زبردستی فلسطین میں بساتا رہا۔

          1948ء میں اسرائیلوں نے فلسطین میں اپنی حکومت اسرائیل کا اعلان کردیا جسے برطانیہ ، روس ، فرانس اور امریکہ نے فوراً تسلیم کرلیا۔ یہ سب بڑی طاقتیں ہیں اور انہوں نے زبردستی فلسطین میں قائم کی گئی اسرائیلی حکومت کو گود لے لیا۔ فلسطین میں زبردستی قائم کی گئی اسرائیلی حکومت دنیا کی واحد حکومت ہے جس کے حکمراں کھلے عام یہ اعتراف کرتے ہیں کہ انہوں نے غاصبانہ اور مجرمانہ طریقے سے حکومت قائم کی ہے۔ اسرائیلی حکومت کے پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریان ’’ورلڈ جیوش کانگریس‘‘ کے بانی تاہم گولڈ مین کے نام اپنے خط میں لکھا :   "If I were an Arab leader I  would never make terms with Israel. That is natural: we have taken their country…. We come from Israel, but two thousand Years ago, and what is that to them? There has been anti-semetism, the Nazis, Hitler, Auschwitz, but For was that their fault? They only see one thing: we have come here and stolen their country. Why should they accept that?” (ترجمہ) ’’اگر میں کوئی عرب لیڈر ہوتا تو اسرائیل سے کبھی سمجھوتہ نہ کرتا۔ یہ ایک فطری بات ہے کیونکہ ہم نے اُن سے اُن کا ملک چھینا ہے۔ ہمارا تعلق اسرائیل سے ہے لیکن یہ دوہزار سال پہلے کی بات ہے ۔ فلسطینیوں کا بھلا اِس سے کیا واسطہ؟ ہاں دنیا میں یہودی مخالف تحریک ، نازی ، ہٹلر سب رہے، مگر کیا اِس کے ذمہ دار فلسطینی ہیں؟ وہ صرف ایک چیز دیکھتے ہیں : ہم یہاں آئے اور اُن کا ملک چرا لیا۔ آخر وہ اِس چیز کو کیوں قبول کریں گے؟‘‘ بحوالہ (دی اسرائیل لابی اینڈ یو ایس فارن پالیسی۔ رائٹر پروفیسر جان مئیر شیمر ، پروفیسر اسٹیفن والٹ)

          یہ ہیں غاصب حکومت اسرائیل کے سب سے پہلے وزیر اعظم کے الفاظ۔   برطانیہ فلسطین میں اسرائیلوں کو اُنتیس 29سال تک بسانے کے ساتھ ساتھ انہیں ہر طرح کی امداد بھی دیتا رہا اور انہیں بھرپور اسلحہ سے مسلح بھی کردیا تھا۔ اُس نے فلسطین  سے اپنی افواج کو واپس بلا لیا۔ برطانوی افواج کے جاتے ہیں اسرائیلی درندے نہتے فلسطینی مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے اور اُن کی زمینوں اور مکانوں پر قبضہ کرنے لگے۔ تمام بڑی طاقتیں اور عرب ممالک کے حکمراں خاموشی سے اِس دہشت گردی کا نظارہ کرتے رہے اور اقوام متحدہ ادارہ بھی صرف زبانی جمع خرچ کرتا رہااور اُس نے فلسطین میں دو حکومتی فارمولہ پیش کیا۔ جس میں مسلمانوں کی حکومت فلسطین کی باون فیصد 52%زمین پر اور اسرائیلوں کی اڑتالیس فیصد 48% زمین پر حکومت ہوگی۔مسلمانوں نے اِس فارمولے کو ماننے سے انکار کردیا اور اسرائیلوں نے فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام جاری رکھا اور صیہونی ایجنڈا تیزی تکمیل کی جانب بڑھنے لگا۔ لاکھوں فلسطینی مسلمانوں کو اُن کے گھروں سے باہر نکال باہر کیا گیا ، ہزاروں شہید کردیے گئے، فلسطین میں ہر سمت ظلم وجبر کے بادل چھائے ہوئے تھے۔ ایسے میں فلسطینیوں نے 1964ء میں ’’تحریک الفتح‘‘ کے نام سے جماعت بنائی اور اس کا سربراہ یاسر عرفات کو بنایا۔تب تک فلسطین کے تقریباً ساٹھ فیصد 60% علاقے پر اسرائیل قبضہ کرچکا تھا۔ ابتداء میں اِس تحریک نے اچھے کام کئے لیکن چونکہ یہ تحریک سیکولر بنیادوں پر قائم تھی اِس لیے اس نے آگے چل کر وہی کام کیا جس کا خطرہ تھا۔

          طاقت کے نشے میں اسرائیل نے 1967ء میںفلسطین پر اپنے علاقوں کی توسیع کرنے کے ساتھ ساتھ آس پاس کے عرب ممالک پر بھی حملہ کردیا اور ’’بیت المقدس‘‘ (عالمی برادری کی تحویل میں تھا) سمیت فلسطین کے زیادہ تر زمینوں پر قبضہ کرلیا۔ اِس کے ساتھ ساتھ ملک شام کی ’’گولان کی پہاڑیوں‘‘، ملک مصر کے علاقے ’’صحرائے سینا‘‘ ملک لبنان کے جنوبی علاقے پر قبضہ کرلیا۔ جس پر مسلمانوں میں سخت بے چینی پیدا ہوئی مگر عملی طور پر مسلمان کچھ نہ کرسکے۔ ہاں اتنا ضرور کیا کہ اسلامی ممالک کی تنظیم ’’او آئی سی‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا جس کا مقصد ’’قبلۂ اوّل‘‘ کو آزاد کرانا تھا۔ اسرائیل نے 1982ء میں جنوبی لبنان پر حملہ کردیا جس میں سینکڑوں پناہ گزین فلسطینی مسلمان شہید ہوئے اور یاسر عرفات کو جنوبی لبنان چھوڑنے پر مجبور کردیا گیا اور وہ اپنے ساتھ تیس ہزار فلسطینیوں کو لیکر ’’تیونس‘‘ چلے گئے۔ جیسے ہی وہ لبنان سے نکلے اسرائیلی فوج نے سامنے سے اور پیچھے سے جنوبی لبنان میں ’’صابرہ اور شتیلہ‘‘ کے فلسطینی مہاجرپناہ گزین کیمپ پر حملہ کرکے چھتیس 36گھنٹوں تک نہتے پناہ گزین مسلمانوں کا قتل عام کیا اور تین ہزار 3,000سے زیادہ بے گھر پناہ گزین فلسطینی مسلمانوں کو شہید کردیا۔ یہ تاریخ کا بدترین سانحہ تھا جس کی وجہ سے فلسطین کے مسلمانوں میں صدمہ اور یاسیت بہت زیادہ پیدا ہوگئی۔ فلسطینی مسلمان غربت اور کسمپرسی کی زندگی گزار رہے تھے۔ مسلم نوجوان تعلیم سے دُور ہورہے تھے کیونکہ گھر والوں کے لیے دو وقت کی روٹی اور زندگی گزارنے کے لیے انہیں شدید محنت کرنی پڑرہی تھی۔

          اسرائیلی درندوں کا جب جی چاہتا ٹینک لیکر مسلمانوں پر چڑھ آتے تھے اور اُن کے گھروں کو مسمار کردیتے تھے۔ نہتے مسلمان اپنے گھروں کی حفاظت کرتے کرتے شہید ہوجاتے تھے۔ ایسے میں اچانک شیخ احمد یاسین کی آواز پر ’’تحریک انتفاضہ‘‘ شروع ہوئی اور انہوں نے 15دسمبر 1987ء کو ’’حماس‘‘ کے باقاعدہ قیام کا اعلان کردیا۔ شیخ احمد یاسین شہید نے تعلیم ، صحت ، مزاحمت اور رفاہی کاموں کو ایک ساتھ کرنے کا عزم کیا ۔ ’’حماس‘‘ کی فکر چونکہ اسلامی تھی اِس لیے فلسطینی عوام نے اِس جماعت کو اپنا نجات دہندہ خیال کیا اور اس میں جوق در جوق شامل ہونے لگے۔ یہ جماعت اسرائیلی حکومت سے مقابلہ کرنے لگی اور ساتھ ہی مسلمانوں کو منظم کرنے لگی۔ جس کی وجہ سے مجبور ہو کر اسرائیلی حکومت نے یاسر عرفات کو فلسطین میں حکومت قائم کرنے کا معاہدہ کیا تاکہ ’’فلسطینی اتھارٹی‘‘ کو ’’حماس‘‘ کے خلاف استعمال کیا جائے۔ اِس کے باوجود شیخ احمد یاسین نے اپنی جماعت کو لیکر اپنا سفر جاری رکھا اور آخر کار اسرائیلی حکومت نے ’’ٹارگٹ کلنگ‘‘ کے طریقے پر عمل کرتے ہوئے شیخ احمد یاسین پر کئی مرتبہ قاتلانہ حملہ کیا۔ دو تین مرتبہ تو وہ بچ گئے لیکن آخری مرتبہ فجر کی نماز پڑھ کر گھر واپس آتے وقت اسرائیلی ہیلی کاپٹروں نے اُن پر تین میزائیل مارا جس کی وجہ سے اُن کی کرسی اور جسم کے چیتھڑے اُڑ گئے اور وہ شہید ہو کر کامیاب ہوگئے۔ اس کے بائیس دن بعد ہی اُن کے جانشین ڈاکٹر عبدالعزیز الرنتیسی کی کار پر میزائیل مار کر شہید کردیا۔ اِس کے بعد بھی ’’حماس‘‘ کی مزاحمت جاری رہی اور آج بھی ’’مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا‘‘ کے مصداق جاری ہے۔

٭…٭…٭

تبصرے بند ہیں۔