مٹ نہ جائیں کہیں ہم

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی

  اللہ تبارک وتعالیٰ کی بنائی ہوئی اس وسیع وعریض دنیا میں رہنے بسنے والے ہر انسان کی ایک ذاتی شناخت ہوتی ہے، جو اسے دوسروں سے ممتاز کرتی ہے، اور اس کی یہ شناخت، اس کی موت تک باقی رہتی ہے، یہ شناخت کبھی تو اس کی فطری ہوتی ہے(جیسے بعض اعضاء سے معذوری) اورکبھی دوسروں کی طرف سے عطاکردہ(جیسے والدین کی طرف سے رکھاہوا نام، لوگوں میں کسی نسبت سے مشہور ہونا، حکومت وغیرہ کی طرف سے کسی خطاب کاملنا)؛ لیکن اس کی ذات کے ساتھ یہ اس طرح لازم ہوجاتی ہے کہ جب بھی اس شناخت کا ذکرکہیں ہوتا ہے، ذہن ودماغ میں اسی شخص کا ہیولیٰ گھومنے لگتاہے۔

شناخت جس طرح ذاتی ہوتی ہے، اسی طرح ملکی اور قومی بھی، اور ہر فرد اس کوباقی رکھنے کی کوشش کرتاہے، خدا نخواستہ اگر کوئی شخص اس شناخت کومٹانے کے درپے ہوجائے تو مارنے مرنے کی نوبت آجاتی ہے، ہمارے ملک ہندوستان کی ایک شناخت ’’ترنگا‘‘ہے، اگر کوئی اسے جلادے یاپھاڑڈالے توپوری ہندوستانی قوم اپنی ذاتی اہانت تصور کرتی ہے اور اس کے لیے احتجاجی جلوس اور ریلیوں کا اہتمام کرکے مجرم کو جلدازجلد تازیانۂ عبرت دلانے کی کوشش کرتی ہے۔

ملکی شناخت ہی کی طرح کچھ شناختیں قومی ہواکرتی ہیں، جن سے وہ قوم، دنیاکی دوسری قوموں سے ممتاز ہوتی ہے، ہندوستان کی اس وسیع آبادی میں اس کا بخوبی مشاہدہ کیاجاسکتاہے، سکھ قوم اس ملک میں آباد ہے، اس کی الگ شناخت ہے، ہندو قوم یہاں بستی ہے، اس کی الگ پہچان ہے، عیسائی قوم یہاں رہائش پذیرہے، اس کی اپنی الگ علامت ہے، پھر ان میں جوالگ فرقے ہیں، ان کی الگ الگ نشانیاں ہیں، اور یہی نشانیاں انھیں دوسروں سے نمایاں کرتی ہیں، اگر ان کی ان شناختوں کی طرف پھوٹی آنکھ بھی کوئی اٹھاکر دیکھنے کی کوشش کرتاہے تووہ ان کی حفاظت کے لیے سراپا ڈھال بن جاتے ہیں ؛ کیوں کہ انھیں معلوم ہے کہ اگر ہماری یہ علامتیں مٹ گئیں توہم بھی نقشۂ ارض سے مٹ جائیں گے۔

دیگر قوموں کی طرح قومِ مسلم کی بھی اپنی الگ شناخت ہے، جس سے وہ پوری دنیامیں جانی پہچانی جاتی ہے، اور اس کی یہ شناخت زندگی کے کسی ایک شعبہ تک محدود نہیں ؛ بل کہ ہرہرشعبہ میں پائی جاتی ہے، تجارت میں، معاشرت میں، معاملات میں، رہن سہن میں، بات چیت میں، رفتاراورگفتارمیں، ہرہرچیز میں الگ پہچان اور الگ چھاپ ہے، اور اسی چھاپ کودیکھ کر ماضی میں ہزاروں لوگوں نے اسے سینوں سے لگایاتھا، صحابہ ؓ اورتابعین کے دورسے تھوڑی دیرکے لیے صرفِ نظر کرلیجئے اورساتویں صدی ہجری پرنظردوڑایئے، عالم ِاسلام پر تاتاری فتنہ کا حملہ ہوا، اس نے پہلے بخارا کوتودۂ خاک بنایا، پھرسمرقند کوخاک سیاہ کردیا، پھریکے بعد دیگرے عالم ِاسلام کے نامی گرامی شہروں (رے، ہمدان، زنجان، قزوین، مرو، نیشاپوراور خوارزم) کوخاکستر کرتاچلاگیا، یہ فتنۂ محشر برپاکرنے والے ایسے وحشی تھے کہ انھوں نے نہ عورتوں پررحم کیا اور نہ ہی بچوں پر ترس کھایا؛ لیکن جب انھیں اسلامی شناخت کی معرفت حاصل ہوئی تویکے بعد دیگرے پوری کی پوری قوم حلقہ بگوش اسلام ہوگئی، علامہ اقبال نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاہے:

ہے عیاں فتنۂ تاتار کے افسانے سے

پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانہ سے

آج قوم ِمسلم کی وہ شناخت کہاں گم ہوگئی؟ زمین کے کس گوشہ میں دفن ہوگئی؟ کیا پرندوں نے اسے اچک لیا یا سمندری مچھلیوں نے اسے نگل لیا؟ جس شناخت کو دیکھ کر جنگلی جانوروں نے بھی آدابِ کورنش بجالایاتھا، دریاؤوں نے جس کے سامنے اپناسرخم کرلیاتھا، پہاڑوں نے جس کو دیکھ کر اپنا سینہ ہموار کرلیاتھا، آج اسی شناخت کودیکھ کرکیوں کوئی انسان بھی اپنی گردن نہیں جھکاتا؟ کیوں ؟؟____اس لیے کہ آج وہ شناخت اپنی اصلی صورت میں باقی نہیں، ہم نے اپنے لباس کوتو دھبوں سے بچانے کی فکر کی؛ لیکن اپنی شناخت کی حفاظت کے لیے کوئی اہتمام نہیں کیا، ہم نے اپنے جوتوں کی چمک کوباقی رکھنے کے لیے اس پر پالش تو کروالی؛ لیکن اپنی پہچان کی بقا ء کے لیے اس پر قلعی بھی نہ کروا سکے، اس شناخت کی حفاظت کے لیے حضرت یعقوب ؑ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں اپنے بیٹوں سے یہ سوال کیا کہ میرے مرنے کے بعد تم کس کی عبادت کروگے؟

لیکن افسوس ! آج ہمارے حاشیۂ خیال میں بھی یہ سوال گردش نہیں کرتا، آج ہمارالباس، ہمارا رہن سہن، ہمارے اخلاق، ہماری معاشرت اورہمارے معاملات ہرچیز اپنی شناخت کھوچکی ہے، تجارت میں ہم دجل وفریب سے کام لیتے ہیں، معاملات میں ٹال مٹول ہمارا شیوہ بن چکا ہے، معاشرتی زندگی میں ہم ناکام ہوچکے ہیں، اور یہ سب صرف اس لیے ہوا کہ ہم نے بٹے ہوئے دودھاگوں کو الگ کردینے کی کوشش کی، ہم نے مذہب کوالگ اور دوسرے امورکو الگ سمجھ لیا، حالاں کہ ہماری ہر ہرچیز مذہب سے مربوط ہے۔

آج ہمیں اپنی شناخت کی بقاء کی جنگ لڑنی پڑرہی ہے، جب کہ دوسری قوموں کو اس کی حفاظت اور اس پر عمل کی مکمل آزادی حاصل ہے، سکھ بھائیوں سے کوئی نہیں کہتا کہ تمہاری داڑھیاں سرکاری نوکریوں سے مانع ہیں، ان سے کوئی نہیں کہتا کہ ہروقت تمہارے پاس رہنے والی کرپان دہشت گردی کی علامت ہے، جب کہ ہماری داڑھیاں ہمارے لیے سرکاری نوکریوں سے مانع بنی ہوئی ہیں، ہمارے پاس رہنے والا ناخن تراش بھی دہشت گردی کی علامت سمجھاجاتاہے، یہ اس وجہ سے ہے کہ انھوں نے (باطل پر ہونے کے باوجود) اپنی اس شناخت کی حفاظت کی اور ہم نے (حق پر ہونے کے باوجود) اس کی حفاظت کے لیے کوئی کوشش نہیں کی؛ لیکن ابھی وقت گیا نہیں، آج ہی سے اگر ہم اس کی حفاظت پر کمربستہ ہوجائیں توہمیں بھی وہی مراعات مل سکتی ہیں، جو دوسروں کو مل چکی اور مل رہی ہیں ؛ لیکن اگرہم نے اس کی طرف توجہ نہیں دی تو وہ دن دور نہیں، جب ہماراوجود نقشۂ عالم سے مٹادیا جائے۔

1 تبصرہ
  1. اکرام الحق کہتے ہیں

    اشعار ذرا صحیح سے لکھا کریں

تبصرے بند ہیں۔