کفر و استکبار پر ایمان و استقامت کی فتح

ڈاکٹر سلیم خان

کل 11؍ ستمبر ہے۔ 20 ؍ سال قبل اس کے حوالے سے چھڑنےوالی جنگ  اپنے  منطقی انجام کو پہنچ چکی ہے۔ طالبان نے اپنی نئی حکومت کی حلف برداری کے لیے ۱۱؍ ستمبر کا انتخاب کرعالمی  استکبار کے     گال پر وہ کرارہ طمانچہ رسید کیا ہے کہ جس کو گونج بہت دور تک اور بہت دیر تک سنائی دے گی۔ تہذیبی تصادم کا نعرہ لگانے والوں کو پتہ چل گیا ہوگا کہ  کون  سی ثقافت غالب ہوئی اور کسے سرنگوں ہونا پڑا۔ بیس سال قبل اسلام کے دشمن اسی طرح پھولے نہیں سمارہے تھے جس طرح  مجوسیوں کی  رومیوں  پر فتح پر کفار مکہ  خوش ہوئے تھے۔  ان دگر گوں حالات میں  رب کائنات نے ارشاد فرمایا :’’ ا۔ل۔م رومی قریب کی سر زمین میں مغلوب ہو گئے ہیں، اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہو جائیں گے۔ اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اور وہ دن وہ ہو گا جبکہ اللہ کی بخشی ہوئی فتح پر مسلمان خوشیاں منائیں گے ‘‘۔آج  مغرب کی پسپائی  پر اس کے سارے حواری سوگوار ہیں اور مسلمان اسی طرح خوشی منارہے ہیں جیسے مجوسیوں کی شکست اور غزوہ ٔ بدر کی فتح  پر  وہ شادمان  تھے۔

یہ حسن اتفاق ہے کہ غزوۂ بدر کو یوم الفرقان کانام  کافروں نے دیا اور رسوا ہوئے ۔ اسی طرح امریکہ کے سابق صدر جارج ڈبلیو بش نے ازخود اپنی  مہم  کو صلیبی   جنگ قرار دیا اور  نامراد ہوگیا ۔ 13؍ سال کے بعد امریکیوں نے جنگ ختم کرنے کی خاطر  اچھے طالبان کی تلاش شروع کی ۔2018 میں بش کی اپنی جماعت کے ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے واپسی کا حتمی فیصلہ کرنے کے بعد فروری ۲۰۲۰ میں طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کردیئے۔ اس کے بعد جو بائیڈن نے اسی فیصلے کے پر عملدرآمد شروع  کیا تو طالبان کی فتح کے ایک  ماہ قبل ہی  جارج بش نے  اعتراف کیا کہ ’میرا دل ٹوٹ گیا ہے‘۔  یہ وہی ظالم حکمراں ہے جس نے ساری دنیا کے سربراہان مملکت کو مخاطب کرکے کہا تھا ’ہمارے ساتھ یا دہشت گردوں کے ساتھ ‘۔آج افغانستان کے سارے پڑوسی طالبان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ کوئی نہیں ہے  بلکہ وہ خود  بھی طالبان کو تسلیم کرنے کا بہانہ ڈھونڈ رہا ہے۔ جارج ڈبلیوبش نے دنیا کو تقسیم کرکے ایک بہت بڑے حصے کو اپنے ساتھ کرلیا اور ان سب کے ساتھ افغانستان پر ہلہ بول دیا لیکن ناکام رہا۔

جارج بش کی فرعونیت  اس آیت کے مصداق تھی کہ :’’ واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کر دیا‘‘۔ وہ تقسیم و تفریق اور ظلم و جور میں ایسا فرعون وقت ثابت ہواجس کی بابت ارشادِ ربانی ہے:’’ ان میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا، اس کے لڑکوں کو قتل کرتا اور اس کی لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا تھا فی الواقع وہ مفسد لوگوں میں سے تھا‘‘۔ امریکی انتظامیہ نے افغانستان پر اپنا تسلط قائم رکھنے کی  خاطر ظلم و ستم کی انتہا کردیمگر فرمان ربانی  ہے کہ  :’’ اور ہم یہ ارادہ رکھتے تھے کہ مہربانی کریں ان لوگوں پر جو زمین میں ذلیل کر کے رکھے گئے تھے اور انہیں پیشوا بنا دیں اور انہی کو وارث بنائیں‘‘۔ وہ طالبان جن کو کمزور پاکر کابل سے بے دخل کردیا گیا آج  افغانستان کے پیشوا بھی ہیں اور وارث بھی۔ وقت کے ساتھ امریکہ کو اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا تووہ اسی اندیشے میں مبتلا ہوگیاجو فرعون کو لاحق ہوا تھا  کیونکہ  مشیت الٰہی یہ تھی  :’’اور زمین میں ان کو اقتدار بخشیں اور ان سے فرعون و ہامان اور ان کے لشکروں کو وہی کچھ دکھلا دیں جس کا انہیں ڈر تھا‘‘ ۔ طالبان کی فتح نے امریکہ اور اس کے حواریوں کو وہ سب دکھلا دیا جس کا انہیں ڈر تھا ۔ گزشتہ 20 سالوں کی کشمکش شاہد ہے کہ فرعون کے چار ہزار سال بعد بھی :’’ تم خداکی سنّت میں ہرگز تغیر و تبدیلی نہ پاؤگے‘‘۔

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا