احتجاج کے دوران تشدد کے لیے ذمہ دار کون؟

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

بی جے پی کے قومی ترجمانوں کے پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی پر ملک کے مسلمانوں اور غیر مسلموں نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ کئی حضرات نے بی جے پی، اس کے ترجمانوں اور ٹی وی چینل کو نوٹس بھیجا۔ درجن بھر سے زیادہ مسلم ممالک اور او آئی سی نے اس حرکت پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ بھارت کے سفیروں کو سمن بھیج کر دفتر خارجہ میں طلب کر کے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے گستاخوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ ابتداء میں تو حکومت اور بی جے پی نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ لیکن جب ایک کے بعد دوسرے ملک سے بھارتیہ اشیاء کے بائیکاٹ اور کاروباری تعلقات منقطع کرنے کی خبریں آئیں تو بھاجپا نے اپنے ترجمانوں کو چھ سال کے لیے پارٹی سے معطل کر دیا۔ انہیں فرنج ایلیمنٹ کہہ کر بات کو ٹالنے کی کوشش کی گئی۔ غیر تصدیق شدہ خبر کے مطابق بی جے پی نے گزشتہ سالوں میں 2700 فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے انتہائی حساس بیان دینے والے اپنے 38 لیڈران کو تنبیہ کی ہے۔ ماحول کو نارمل کرنے کے لیے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے ایک پروگرام کے دوران کہا کہ مسجد میں شیولنگ کھوجنا بند ہونا چاہیے۔ وزیراعظم نریندرمودی نے عرب  ممالک میں جو امیج بنانے کی کوشش کی تھی وہ خاک میں مل گئی۔ ایسا کبھی نہیں ہوا جب کسی ملک نے بھارت کے نائب صدر جمہوریہ کو دیئے جانے والے سرکاری ڈنر کو بطور احتجاج رد کر کے اپنی منشا ظاہر کی ہو۔ یہ ملک کی بے عزتی ہے جو بی جے پی کے ترجمانوں نے کرائی ہے۔ مگر حکومت آہانت رسول جیسے حساس معاملہ میں ابھی تک خاموش ہے۔

مسلم شخصیات اور تنظیموں نے اہانت رسول پر سخت غم و غصہ کا اظہار کیا۔ مولانا توقیر رضا خان نے خط لکھ کر شاتم رسول نپور شرما اور نوین جندل کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر وہ پندرہ دن کے اندر ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیتی ہے تو وہ تحریک شروع کریں گے۔ ملک کے مختلف مقامات بشمول دہلی نپور شرما، نوین جندل پر ایف آئی آر درج کرائی گئی۔ اکھلیش یادو اور ممتا بنرجی نے بھی انہیں گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس لیڈر ششی تھرور نے نفرت انگیز بیانات اور اسلامو فوبیا کے بڑھتے واقعات پر وزیراعظم نریندرمودی سے اپنی خاموشی توڑنے کی اپیل کی۔ اقلیتی کمیشن نے پوچھا کہ دہلی پولس نے نپور شرما اور جندل کے معاملہ میں کیا کاروائی کی۔ انہیں ابھی تک کیفرکردار تک کیوں نہیں پہنچایا گیا ؟ ملک اور بیرون ملک میں اہانت رسول کا ارتکاب کرنے والے بھاجپا ترجمانوں کی گرفتاری کی مانگ ہوئی اور ہو رہی ہے۔ لیکن حکومت نے اس معاملہ پر کوئی توجہ نہیں دی۔ اس کی وجہ سے عوام خاص طور مسلم نوجوانوں میں غصّہ اور مایوسی پیدا ہوئی۔ اور وہ جمعہ کے دن نماز کے بعد اپنی ناراضگی ظاہر کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔

جمہوریت میں سب کو اپنی بات کہنے کا حق حاصل ہے۔ ملک میں ہمیشہ لوگ سڑکوں پر اتر کر اپنی آواز بلند کرتے رہے ہیں۔ مانا جاتا ہے کہ احتجاج کسی کی رہنمائی ہو، تاکہ وہ بھیڑ کو غلط سمت میں جانے سے روک سکے۔ جمعہ کے دن ہوئے احتجاج کا کوئی قائد نہیں تھا۔ ملی تنظیموں کے سربراہان ان نوجوانوں کی رہنمائی کر سکتے تھے لیکن وہ غائب رہے۔ اگر وہ اپنی ذمہ داری نبھاتے تو حالات کچھ اور ہوتے۔ یہ صحیح ہے کہ جمہوری انداز میں پرامن احتجاج زیادہ کامیاب ہوتا ہے۔ جو پر تشدد ہونے کی وجہ سے اپنا اثر کھو دیتا ہے بلکہ اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ کئی مبصرین جمعہ کے مظاہرہ کو مسلم ممالک کے بیانات کو ذمہ دار مانتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جو بی جے پی اہانت رسول کے معاملہ میں بیک فٹ پر تھی اس احتجاج نے اسے مسلمانوں کو بدنام کرنے کا موقع فراہم کر دیا۔ وہ مظاہرہ کے دوران ہوئی پتھر بازی کو ضمنی انتخابات میں بھنا سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ خفیہ ایجنسی نے جمعہ سے دو دن قبل وزارت داخلہ کو بڑے پیمانے پر گڑ بڑ ہونے کی اطلاع دی تھی۔ اس کے باوجود حکومت نے کوئی پیش بندی نہیں کی۔ ٹی وی چینلوں کو بھڑکانے والی خبروں کو نشر کرنے سے پرہیز کرنے اور پولس انتظامیہ کو ناخوشگوار واقعہ کو ہونے سے روکنے کی ہدایت نہیں دی کیوں؟ اگر سوجھ بوجھ سے کام لیا گیا ہوتا تو ملک بھر میں جو ماحول بنا اس سے بچا جا سکتا تھا۔

نپور شرما اور نوین جندل کے خلاف بھارت میں ہی نہیں پوری دنیا میں احتجاج چل رہا ہے۔ مگر پولس و انتظامیہ کا رویہ کہیں بھی اتنا سفاکانہ نہیں رہا جتنا رانچی، کانپور، الہ آباد اور سہارنپور میں دیکھا گیا۔ رانچی میں پولس نے مظاہرین پر سامنے سے گولی چلائی جس میں دو کی موقع پر موت ہو گئی اور کتنے ہی زخمی ہو گئے۔ بھیڑ کو کنڑول کرنے کے لیے پولس کو خاص تربیت دی جاتی ہے۔ جس میں آنسو گیس کے گولوں کا استعمال، پانی کی بوجھار کرکے بھیڑ کو آگے بڑھنے سے روکنا، انتہائی صورت میں ربر بلٹ یا دھڑ سے نیچے بلٹ کا استعمال شامل ہے۔ لیکن رانچی پولس ایسی کوئی زحمت نہیں کی اور سیدھے گولی چلا دی۔ وہ بھی دھڑ سے اوپر جو قانونی اور انسانی دونوں طرح سے غلط ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں کچھ نوجوانوں کو پولس کی موجودگی میں بھیڑ پر پتھر پھینکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ کوئی جانور کو بھی اس طرح نہیں پیٹتا جس طرح سہارنپور میں پولس نے حراست میں لیے گئے نوجوانوں پر لاٹھیاں برسائیں۔ الہ آباد سے بھی پتھر بازی کے واقعات سامنے آئے۔ وہاں محمد جاوید پمپ کو اس کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا اور ان کے گھر کو بلڈوزر سے گرا دیا گیا۔ جمعہ کے دن مظاہرہ کے دوران پتھر بازی کے الزام میں کم عمر لڑکوں اور نوجوانوں کی یکطرفہ گرفتاری ہوئی، گھروں پر بلڈوزر چلایا گیا۔ کئی مکانوں کے بجلی اور پانی کے کنکشن کاٹ کر خوف و حراس پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ سوال یہ ہے کہ پرامن مظاہرین کو کس نے اکسایا کہ تشدد برپا ہوا۔ وہ کون لوگ تھے جو پولس کی موجودگی میں پتھر پھینک رہے تھے۔ اس کی جانچ ہو اور اس کے مطابق کاروائی۔ حقیقت ملک کے سامنے آنی چاہیے کیونکہ خبر یہ بھی ہے کہ جنھیں گرفتار کیا گیا ہے وہ احتجاج کا حصہ ہی نہیں تھے۔

ملک میں حکومت کی اسکیم اگنی پتھ کو لے کر جو احتجاج ہوا وہ جمعہ کے مظاہرہ سے زیادہ وسیع اور پر تشدد تھا۔ اس کا کوئی رہنما یا قائد نہیں ہے جو اگنی ویروں کو تشدد سے روک سکے۔ انہوں نے اربوں روپے کی سرکاری املاک کو آگ کے حوالے کر دیا۔ پتھر بازی ہوئی، بسیں، ریل گاڑیوں میں آگ لگائی گئی۔ بی جے پی ارکان اور وزراء کو دوڑایا گیا۔ یہاں تک کہ ان کا گھر سے نکلنا دوبھر ہوگیا۔ دفتروں پر حملہ ہوا، سیکڑوں پولس اہلکار زخمی ہوئے۔ بہار جانے والی تمام ریل گاڑیاں رد کی گئیں۔ لیکن ان کے ساتھ پولس کا وہ رویہ نہیں تھا جو اہانت رسول کے مسئلہ پر پر امن طریقے سے اپنی بات کہنے کے لیے جمعہ کی نماز کے بعد مظاہرہ کر رہے تھے۔ اگنی پتھ کے خلاف احتجاج کرنے والے بیشتر اکثریتی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے بارے میں بنارس کے پولس کمشنر ستیش گنیش نے کہا کہ یہ ہمارے اپنے بچے ہیں۔ ہم انہیں سمجھائیں گے، سمجھا رہے ہیں۔ فوج کے تینوں اعلیٰ افسران نے پریس کانفرنس کرکے اسکیم کے فائدے بتائے۔ بی جے پی کے وزراء اور ذمہ داران کی فوج سمجھانے کے لیے میدان میں ہے۔ خود وزیراعظم نے کہا کہ کئی اسکیموں کے فائدے سمجھ میں آتے لیکن وہ مفید ہوتی ہیں۔ اس کا اندازہ بعد میں ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ اپنے بچے ہیں تو جمعہ کے دن احتجاج کرنے والے کس کے بچے ہیں۔ ان کے خلاف اگر بلڈوزر، گولی، حراست میں پولس کے ڈنڈے کا استعمال نہیں تو پھر ان کے خلاف کیوں؟ پولس، انتظامیہ، عدلیہ کا دوہرا رویہ ملک اور سماج کی صحت کے لیے مناسب نہیں ہے۔ اس سے حکومت کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ عوام کے درمیان مایوسی، نفرت اور غصہ پیدا ہوتا ہے۔ جو ملک کے اتحاد اور ترقی کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ قانون کا راج قائم ہو اور کسی کے ساتھ امتیاز نہ برتا جائے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا