اردو صحافت کے دو سو سال کا سفر 

 ڈاکٹر سیّد احمد قادری

       سال رواں یعنی 2022 ء کی تاریخ27 ؍مارچ کئی لحاظ تاریخی اہمیت کی حامل ہے کہ اب سے دو سؤ برس قبل اسی تاریخ کو اردو صحافت کی کلکتہ میں داغ بیل ڈالی گئی تھی۔ اس وقت فارسی زبان رؤسا، نوابوں اور جاگیرداوں کی زبان تھی۔ ان خواص کے درمیان مقبول فارسی زبان کے ہفتہ وار اخبار ’’جام جہاں نما ‘‘میں اردو زبان میں ضمیمہ کے طور پراس کے مالک ہری ہر دت اور مدیر منشی سدا سکھ رائے نے شائع کرنے کا آغاز کیا تھا۔ اس اخبار کو کمپنی سرکار کی سرپرستی حاصل تھی۔ گرچہ اس اخبار کے ضمن میں کئی متنازعہ باتیں بھی سامنے آئی ہیں، جنھیں بیان کرنے کا یہ موقع نہیں ہے۔ بس اتنا ضرور ہوا کہ اردو صحافت کی بنیاد اس اخبار نے ڈال کر تاریخ رقم کر دی۔ جو کئی اعتبار سے تاریخی ثابت ہوا۔ یہ اخبار 23 جنوری 1828 ء تک کئی شکلوں میں جاری رہا۔ اس اخبار میں خبروں سے زیادہ مضامین شائع کئے جاتے تھے۔ جس کی نثر سادہ ہوا کرتی تھی۔ اس اردو اخبار کے آغاز سے اردو زبان کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہونے لگا۔ خواص بھی اس زبان کی شیرینی سے متاثر ہوئے اور وہ بھی اسے اپنانے کو مجبور ہوئے۔چراغ سے چراغ جلنے لگے اور بہت سارے نامساعد حالات سے مقابلہ کرتی ہوئی اردو صحافت آج اس مقام تک پہنچی کہ ہم اس اردو صحافت کا دو سو سالہ جشن منا ر ہے ہیں۔ اس موقع پر ہم ان بے شمار اردو صحافیوں کی قربانی کو یاد کرتے ہوئے، انھیں خراج عقیدت پیش کرنا ضروری ہیں، جن کے ایثار اور قربانیوں نے اردو صحافت کو ایک اہم مقام بخشا۔ دارو رسن کی صعوبتیں برداشت کیں، فاقہ کشی میں بھی اس اردو صحافت کی حرمت کو برقرار رکھا۔ کبھی بھی ذاتی منعفت کا ذریعہ نہیں سمجھا۔ اس اردو صحافت کی ان ہی خصوصیات کے باعث نے  اپنی جنم بھومی سے نکل کر جغرافیائی حدود کو توڑتی ہوئی نہ صرف ہند و پاک بلکہ امریکہ،برطانیہ، کناڈا، افریقہ، جرمنی، فرانس، آسٹریلیا، ڈنمارک جیسے ممالک تک پہنچ کر لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنا چکی ہے۔

   صحافت اگر حق گوئی، بے باکی، بے خوفی، جرأت مندی اور حوصلہ مندی کا نام ہے تو اکیسویں صدی میں صحافت مشکل دور سے دوچار ہے۔جب سے صحافت ریاضت اور عبادت سے دور ہو کر صارفیت اور تجارت کی نذر ہو گئی ہے۔ اس میں کئی طرح کی خامیاں در آئی ہیں، بلکہ یہ اپنی شاندار روایت سے بہت دورکھڑی نظر آ رہی ہے۔

 اب ہم اردو صحافت کو حال کے تناظر میں دیکھیں تو ہمیں بڑی مایوسیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں داخل ہوتے ہی صحافت نے عوام کے درمیان سے اپنا اعتماد اور اعتبار کھو دیا ہے۔ یوں تو ہر دور میں صحافت کو سیاست دانوں نے اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہوئے اس کی حرمت اور عظمت کو پامال کیا ہے۔ لیکن ایسے واقعات پہلے نسبتاََ کم ہوا کرتے تھے۔ ادھر گزشتہ چند برسوں میں صحافت نے جس طرح عوام کے درمیان سے اپنا وقار اور اعتمادکھویا ہے، وہ تشویشناک تو ہے ہی ہے، بلکہ ملک کی سیاہ تاریخ کا حصہ بن رہا ہے۔ صحافت کی عظمت، حرمت اور جرأت پر بھی گہن لگ چکاہے۔ سوشل میڈیا پر جو لوگ متحرک ہیں، وہ اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ اس دور میں ہونے والی زرد صحافت دراصل سیاہ صحافتی دور کا حصۃ میں تبدیل ہو رہی ہے۔ لیکن اردو صحافت اپنے دامن کو کسی حد تک بچائے رکھنے میں کامیاب ہے۔ چنداردو اخبارات و رسائل کو چھوڑ کر بیشتر اردو اخبار و رسائل نے اپنے ملک وقوم کے مسائل کو فوقیت دی ہے اور خصوصیت کے ساتھ جہاں کہیں جانبدارانہ، عامرانہ،متعصبانہ، جاگیردارانہ اور غیر منصفانہ رویۂ نظر آیا۔ اس کے خلاف سینہ سپر ہوتے ہوئے محاذ آرائی کی ہے۔ گرچہ ان کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز ہی رہی۔ پھر بھی اردو صحافت نے اپنے صحافتی فرائض اور ذمہّ داریوں کو فراموش نہیں کیا۔ ہم اس امر سے بھی انکار نہیں کر سکتے ہیں کہ موجودہ صارفیت کے اس دور میں اردو صحافت بھی عبادت اور ریاضت سے بھٹک کر تجارت کی دوڑ میں کسی حد تک شامل ہو گئی ہے۔ جس کا منفی اثر یہ ہو رہا ہے کہ سرکاری اشتہارات کے لیے بیشتر اخبارات حکومت وقت کی ٹیوننگ پر ڈانس کرتے نظر آتے ہیں۔ دوسر ی منفی بات اردو صحافت کی یہ نظر آ رہی ہے کہ بڑے بڑے تاجرانہ ذہنیت کے غیراردو داں صنعت کار اردو صحافت کی دنیا داخل ہو کر اردو  صحافت کو منافع کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔

ایسے ناگفتہ بہ حالات میں جو لوگ بڑے حوصلہ اور عزم کے ساتھ اردو صحافت کی خدمات انجام دے رہے ہیں اورحق وانصاف کے لیے بنرد آزما ہیں۔ وہ قابل مبارکباد ہیں۔

 ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہند و پاک میں صحافت کی ابتدا ٔ جبر، ظلم  اور استبداد کے خلاف آواز بلند کرنے، حق گوئی، صداقت اور آزادی ٔ تحریر کی جنگ کے ساتھ ہوئی،جس کا سہرا یقینا  جیمس آگسٹس  ہکیّ )  (James Augustus Hickyکے سرجاتا ہے، جس نے نہ صرف غیر منقسم بھارت میں صحافت کی باقاعدہ ابتدا کی، بلکہ ظلم وستم، استحصال اوربربریت کے خلاف بے باک،بے لاگ ا ور بے خوف صحافت کی نیو ٔڈالی تھی۔

29  جنوری  1780ء کو اجرأ کئے جانے والے چار صفحات پر مشتمل اور  12×8انچ سائز پر ایک ہفتہ وار اخبارHicky’s Gazette or Calcutta General Adviser  کے نام سے، جسے لوگ’’  ہکیّ گزٹ‘‘ کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں۔ اس میں جیمس آگسٹس ہکیّ نے لکھا تھا:

’’اخبار چھاپنے کا مجھے کوئی خاص شوق نہیں ہے اورنہ میری طبیعت کو اس کام سے لگائو  ہی ہے، میری پرورش بھی اس طرح کی نہیں ہوئی ہے کہ میں محنت و مشقّت کی غلامانہ زندگی کا عادی بن سکوں، لیکن ان سب باتوں کے باوجود روح و دماغ کی آزادی خریدنے کے لیے میں اپنے جسم کو بخوشی غلام بنا رہا ہوں۔ ‘‘  (ہندوستانی اخبار نویسی  از  : عتیق صدیقی، صفحہ -۶۴)

  اس ہکیّ گزٹ کی ایک فائل آج بھی  برٹش میوزیم میں اورایک فائل کلکتہ کی نیشنل لائبریری میں محفوظ ہے۔

   اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ صحافت ترسیل وابلاغ کا اتنا مؤثراور طاقتور ذریعہ ہے اورواقعات حاضرہ کی معلومات بہم پہنچانے کااتنا بہتر وسیلہ ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے سماجی پیشوا، سیاسی رہنما اور مشاہیرادب نے نہ صرف اس کی بھرپور طاقت کے سامنے سرتسلیم خم کیا بلکہ اپنے افکار واظہار کی تشہیر کے لیے صحافت سے منسلک بھی رہے۔ تواریخ شاہد ہے کہ صحافت نے کتنے ہی ملکوں کے تختے پلٹ دیے، بڑے بڑے انقلابات کوجنم دیا، اورظالم حکمرانوں کے دانت کھٹّے کردیے۔ عالمی پیمانہ پر ایسے کئی مقام آئے، جب صحافت کی بے پناہ طاقت، اس کی عوامی مقبولیت اوراس کی تنقید سے خوف زدہ ہوکر اس پرپابندیاں عاید کی گئیں۔ صحافت نے جیسے جیسے ترقی کی، ویسے ویسے اس کی مقبولیت، اہمیت اورافادیت بڑھتی گئی اورلوگوں کومتوجہ کرانے میں کامیاب ہوتی گئی اورایک وقت ایسا آیا، جب لوگ صبح آنکھ کھلتے ہی اخبارتلاش کرتے نظر آنے لگے۔ اس طرح صحافت انسانی زندگی کا ایک حصہ بن گئی۔ جس پرمشہورشاعراکبرؔ الٰہ آبادی نے اپنے مخصوص انداز میں طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ۔ ۔۔۔۔

 نہیں اب شیخ صاحب کی وہ عادت

 وضو کی اور مناجات سحر کی  

 مگر ہاں چائے پی کر حسب دستور

 تلاوت کرتے وہ  پائنیرکی

اکبرؔ الٰہ آبادی نے طنز کرنے کوتوکردیا، لیکن صحافت کا جادوجب ان کے سرچڑھ کربولنے لگا اوراس کی انقلابی طاقت کا انہیں اندازہ ہوا، تو پھر وہ یہ بھی کہنے پرمجبور ہوئے:

 کھینچو نہ کمانوں کو، نہ تلوار نکالو

جب توپ مقابل ہوتو اخبار نکالو

اس کا مطلب یہ ہوا کہ صحافت اتنی مؤثر اور طاقتورہے کہ اس کے سامنے تیر، کمان، بندوق اورتوپ بھی بے کارہیں۔ مندرجہ بالا شعر کہتے وقت اکبرؔ الٰہ آبادی کے ذہن میں یقینا تاریخ کے جانے مانے جرنیل اور اپنے عہد کے عظیم ڈکٹیٹر، نیپولین بونا پاٹ کا وہ مشہورمقولہ ہوگا، جس میں اس نے صحافت کی طاقت کے سامنے سرنگوں ہوتے ہوئے کہا تھا  :

          ” I fear three newspapers more than a hundred thousand bayonets”

 ’لاکھوں سنگینوں سے زیادہ میں تین اخبار سے خوف زدہ رہتا ہوں ‘۔

       نیپولین بوناپاٹ کا مندرجہ بالا خوف یقینی طورپر صحافت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اس نے ضرور اس بات کومحسوس کیا ہوگا کہ دشمن کی صفوں میں انتشاربرپا کرنے میں توپ، تفنگ، لائو لشکر، تیر، تلوار کے ساتھ ساتھ ہاتھیوں، گھوڑوں اورفوجیوں کی بے پناہ طاقت، صحافت (اخبار) کے سامنے کند ہے۔ جو کام صحافت سے لیا جاسکتا ہے،وہ توپ اوربندوقوں سے بھی نہیں لیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے مفکر، دانشور، سربراہ، مصلح، سیاستداں اوررہنما اس کی اہمیت کے معترف اورقائل رہے ہیں۔ اس کی سیکڑوں مثالیں عالمی طورپر ہمیں دیکھنے کوملتی ہیں۔ صحافت اپنے اندراتنی طاقت وسعت اورہمہ گیری  رکھتی ہے کہ جیسے جیسے سائنس اور ٹکنالوجی ترقی کے منازل  طئے کررہی ہے، ویسے ویسے صحافت بھی اپنے لیے راستہ ہموار کرتے ہوئے، کامیابی کی طرف گامزن ہے۔ اردو صحافت نامساعد حالات اور حکومت کے سوتیلے روئے کے باوجود اپنے سفر پر گامزن ہے، لیکن اسے اپنوں کی محبت کی زیادہ ضرورت ہے، تبھی دور تک کے  سفر کی کامیابی ممکن ہے۔

٭٭٭

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔