اردو میں سرگرم  ویب سائٹس اور پورٹل : ایک تجزیاتی مطالعہ

 قمر اعظم صدیقی

(بانی و ایڈمن  ایس آر میڈیا)

٢٧ مارچ ٢٠٢٢ کو اردو صحافت کے ٢٠٠ سال مکمل ہو گۓ۔ ان دو سو سالوں میں اردو صحافت نے وقت کی مناسبت سے بہت کچھ دیکھا، سمجھا اور سیکھا ہوگا۔ ایک وہ دور بھی تھا جب اردو صحافت کو کافی مشکلوں اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا اور   کن کن مشکلات  سے گزرنا پڑا۔ پچھلے زمانے میں نہ  آج کے ترقی یافتہ دور کی طرح اتنے وسائل موجود تھے اور نہ ہی رقم کی اتنی فراہمی موجود تھی۔ آج لوگ بس ایک خواہش پر ایک کلک اور ایک کال کرکے اپنی ضروریات اور خواہش کی تکمیل گھر بیٹھے انجام دے لیتے ہیں۔ آنے والی نسلیں اور آنے والا وقت ممکن ہے اس سے بھی کہیں زیادہ سہولت  کا ہوگا۔ شروع  زمانے میں لوگ  ہاتھ سے لکھے ہوۓ اخبار کا مطالعہ کرتے تھے۔ ہاتھ سے لکھ کر اخبار تیار کرنا کتنا مشکل کام رہا ہوگا اور پھر عوام تک اس کو پہنچانے میں کتنی دشواری رہی ہوگی اس کے متعلق ہر شخص اپنے گھر خاندان اور محلے، بستی کے بڑے بزرگوں سے جانکاری حاصل کر سکتے ہیں۔ پھر پریس پرنٹنگ کا دور آیا اسکے بعد کمپیوٹرائز پرنٹنگ  اور موجودہ وقت میں  ہم لوگ ڈیجیٹل ورلڈ کی جانب گامزن ہیں۔ ڈیجیٹل ورلڈ میں ٹیکنیک کی اتنی فراوانی ہوگئ کہ ہم لوگ دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود ہوں کسی بھی وقت ایک موبائل، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ کے ذریعہ کسی بھی اخبار، رسائل کتاب کو ایک کلک پر پڑھ سکتے ہیں۔ اور اسی طرح کسی بھی چائنل کے نیوز کو براہ راست دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ اسی ضمن میں پچھلے پانچ سالوں میں اردو صحافت میں ویبسائٹ اور پروٹل نے اپنی کافی مضبوط پکڑ بنائ ہے جس کے ذریعے ہم اور آپ بآسانی اسکے ویبسائٹ اور لنک پر جا کر ملی، فلاحی، سیاسی، سماجی، دینی  مضامین و مقالات اور خبروں کو پڑھ سکتے ہیں۔

ویبسائٹ اور پروٹل کی دنیا میں تقریباً ٣ درجن سے زائد ناموں  کو میں جانتا ہوں جو ادبی دنیا میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں۔ کم و بیش زیادہ تر ویب سائٹ، پورٹل، بلاگ، پیج ادبی دنیا میں اپنے معیار کے مطابق سرگرم ہیں اور اپنی اردو دوستی کا حق بحسن و خوبی انجام دے رہے ہیں۔

جن جن لوگوں تک میری رسائی ممکن ہو سکی میں نے سبھی لوگوں کو فون اور میسیج کے ذریعہ انکے ویب سائٹ کی تفصیل مانگی اور اپنے اس تحریر میں اس کا ذکر کر رہا ہوں تاکہ ان کے خدمات کو پکی روشنائی میں قلمبند کیا جا سکے۔ زیادہ تر لوگوں نے اپنی تفصیل بھیجی ہے جن کا میں شکر گزار ہوں۔ جن لوگوں نے نہیں بھیجی ان کو کئ بار اصرار کیا باوجود اسکے تفصیل نہیں آئ ممکن ہے ان کی کوئ مجبوری رہی ہوگی۔ میں انکا بھی شکر گزار ہوں کہ وہ اردو کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ جن لوگوں کی تفصیل آئ ہے میں اسے شامل کر رہا ہوں۔ اور جن کی تفصیل نہیں آئ انکے  ویب سائٹ کا نام بھی اس میں درج کیا جائیگا۔

ایس آر میڈیا 

میں خود بھی فیس بک پر "ایس آر میڈیا پیج” چلاتا ہوں جس کی شروعات یکم اگست ٢٠٢١ سے کی گئ ہے۔ الحمداللہ  اتنے کم وقتوں (صرف چھ ماہ ) کی مدت میں مجھے آپ لوگوں کی جو محبتیں  اور حوصلہ افزائی ملی ہیں اس کے لیے میں آپ تمام لوگوں کا شکر گزار ہوں۔ ایس آر میڈیا پیج بنانے کا مقصد صرف اورصرف اردو کی خدمت کرنا مقصود ہے۔ یہاں جہاں  نۓ قلمکاروں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے وہیں اس پیج پر کہنہ مشق اور معروف قلم کار وں جیسے خالد سیف اللہ رحمانی، مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی، مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی، انوار الحسن وسطوی، ڈاکٹر ریحان غنی، ڈاکٹر امام اعظم، حقانی القاسمی،پروفیسر صفدر امام قادری، پروفیسر ڈاکٹر محمد توقیر عالم، ڈاکٹر مظفر نازنین، محمد ولی اللہ ولی، انور آفاقی، ڈاکٹر محمد سراج اللہ تیمی، جاوید اختر بھارتی، سید نوید جعفری، کامران غنی صبا، پریم ناتھ بسمل، شیبا کوثر، مظہر وسطوی وغیرہم کے مضامین بھی شائع ہوتے رہتے ہیں۔ ان لوگوں کے مضامین سے میرے پیج کے قارئین کی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے وہیں مجھے بھی ان لوگوں کی تحریر سے بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا ہے۔ وہیں روز   اول سے ہی ایس آر میڈیا پیج نے نۓ قلمکاروں کی مستقل حوصلہ افزائی کی ہے اور کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پیج چلانے سے قبل میری رسائی بڑے ادیبوں اور قلمکاروں تک نہیں تھی لیکن الحمداللہ  جب مجھے بڑے ادیبوں جیسے پروفیسر صفدر امام قادری ، حقانی القاسمی، ڈاکٹر امام اعظم، مفتی محمد ثناءالہدی قاسمی، ڈاکٹر ریحان غنی، انوار الحسن وسطوی، کامران غنی صبا اور ان جیسے میرے بہت سارے مخلصوں کی حوصلہ افزائی ملی تو  مجھے لکھنے پڑھنے کا حوصلہ بھی ملا اور مزید کچھ  بہتر کرنے کا خواہاں بھی ہوں۔ ایس آر میڈیا پیج کے قارئین تقریباً ہندوستان کے تمام  جگہوں میں موجود ہیں۔ ہندوستان کے علاوہ بیرونی ممالک پاکستان، سعودی، بحرین، قطر سے بھی میرے پاس فون آۓ ہیں کہ میں آپ کے پیج کے مضامین کو پابندی سے پڑھتا ہوں۔

  ایس آر میڈیا پیج کے تعلق سے   ڈاکٹر مظفر نازنین صاحبہ کی لکھی گئ تحریر کے چند اقتباسات آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ جسکا عنوان ہے :

” قمر اعظم صدیقی اور ایس آر میڈیا آج کے ڈیجیٹل ورلڈ میں ” 

      ” اب اخبارات زیادہ تر ڈیجیٹل ہیں۔ اور نیوز ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔ اس سلسلے میں شیریں زبان اردو کے فروغ کے لیے ویب سائٹ، ویب پیج، نیوز پورٹل کا استعمال کیا جارہا ہے۔ اس ضمن میں "ایس آر میڈیا پیج” اردو کی ترقی اور ترویج و فروغ اور بقا میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ جس کے روح رواں قمر اعظم صدیقی صاحب ہیں۔ ان کا اصل نام قمر اعظم اور قلمی نام قمر اعظم صدیقی ہے۔ ان کے والد کا اسم گرامی شہاب الرحمن صدیقی ہے۔ قمر اعظم صاحب کے والد گرامی بھی اردو کے کامیاب ترین استاد رہے ہیں۔ وہ سرکاری ملازمت میں درس و تدریس کے فرائض کو انجام دے کر چند سال قبل سبکدوش ہو چکے ہیں۔ قمر اعظم کا تعلق بہار کے ضلع ویشالی میں شہر حاجی پور کے قریب بھیرو پور سے ہے۔ قمر اعظم نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے فاصلاتی کورس سے ایم اے اردو تک کی تعلیم حاصل کی۔ ان کا مشغلہ تجارت ہے لیکن اردو ادب سے انہیں گہری دلچسپی ہے بلکہ دوران طالب علمی سے ہی اردو ادب،  شاعری سے گہرا شغف رہا ہے۔ علاوہ ازیں شخصیات اورحالات حاضرہ پر مضامین، افسانے قلمبند کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں ہندوستان کے مختلف اخبارات، ویبسائٹ اور پروٹل پر گاہے بگاہے شائع ہوتے رہتی ہیں۔

قمر اعظم صاحب کو اپنی مادری شیریں زبان اردو سے خاصی رغبت، انسیت اور محبت ہے اور اسی محبت و اردو کی خدمت کے جزبے میں انہوں نے ” ایس آر میڈیا ” ویب پیج کی تخلیق کی ہے۔ ویب پیج کافی دلکش، معیاری اور معلوماتی ہے۔ ان کے اس ویب پیج پر نہ صرف نئے قلمکاروں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، بلکہ مشاہیر اہل قلم کے نگارشات بھی شائع ہوتے ہیں۔ جن میں کہنہ مشق اور مقبول قلم کار مضمون نگار شامل  ہیں  ان تمام اسکالر کے ساتھ راقم الحروف مظفر نازنین کے بھی مضامین ’’ ایس آر میڈیا پیج ‘‘ پر شائع ہوتے رہتی ہیں۔ جس کے لیے میں قمر اعظم صاحب کی بےحد شکر گزار ہوں۔

ایس آر میڈیا مضمون نگار کے لیے کافی دلکش اور خوبصورت ٹایٹل پیج بنا کر جہاں مضمون نگار کو محبت کا تحفہ پیش کرتی ہے وہیں قارئین کو تحریر پڑھنے پر مجبور کرتی ہے۔ الحمداللہ اب تک ’’ایس آر میڈیا پیج ‘‘ کی نیوز اور مضامین کو سولہ ہزار لوگوں تک رسائی کا شرف حاصل ہے۔ دیگر سائٹ یا اخبار کے قارئین اس پیج کی تحریر وں کو پڑھنے کے لیے فیس بک میں جا کر سرچ بار میں ٹائپ کریں ’’ایس آر میڈیا ‘‘۔ قمر اعظم صاحب کی اردو سے اتنی گہری رغبت ہے کہ اس ویب پیج کے نام بھی صرف اردو زبان میں ہی بنائے گیے ہیں۔ اگر آپ انگریزی میں سرچ کرینگے تو دستیاب نہیں ہے۔میں قمر اعظم صاحب کی اردو کی بے لوث خدمت کے لیے تہ دل سے پر خلوص مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ انکا مقصد صرف سوشل میڈیا کے ذریعے اردو کی تحریک کو فروغ دینا ہے۔ قمر اعظم صاحب کی یہ کاوش قابل ستائش ہے۔ بارگاہ خداوندی میں سربسجود ہو کر دعا کرتی ہوں کہ خدا اردو کے اس شیدائی قمر اعظم صاحب کو صحت کے ساتھ حیات بخشے۔ استقامت عطا کرے تاکہ پورے جوش و خروش کے ساتھ ادب کی خدمت میں مصروف رہیں۔ اور انشاءاللہ وہ دن دور نہیں جب’’ ایس آر میڈیا پیج ‘‘پر پوری اردو دنیا کے مشاہیر قلم اور سخنوران ادب اپنی نگارشات ارسال کریں گے۔

 بصیرت آن لائن

 بصیرت آن لائن نیوز پورٹل کا آغاز اپریل ٢٠١٢ ء میں عمل میں آیا۔ اس کے بانی و چیف ایڈیٹر جناب  غفران ساجد قاسمی صاحب ہیں۔ سعودی عرب میں رہتے ہوئے غفران صاحب کو اس وقت پورٹل بنانے کا خیال آیا جبکہ عمومی طور پر اخبار والے نئے قلم کاروں کے مضامین کو اپنے یہاں  جگہ  دینے سے قاصر تھے۔ بصیرت آن لائن نے سب سے پہلے تربیتی طور پر نئے قلم کاروں کی تخلیق کو اپنے پورٹل  میں خصوصیت کے ساتھ جگہ دے کر ان کی حوصلہ افزائی کا کام کیا تب  اس کے نتیجے میں اخبار والوں نے بھی ان لوگوں کے مضامین کو اپنے یہاں جگہ دینا شروع کیا۔ بصیرت آن لائن نے سن ٢٠١٥ ء  میں ہندی اور انگریزی زبانوں میں بھی اپنی خدمات کا آغاز کیا لیکن بدقسمتی سے چند مہینوں میں پے در پے تین بار سائبر حملوں کا شکار ہوا آخیر کار ہیکروں کی جانب سے اسے بند کر دیا گیا اور اس پر شائع تمام مضامین کو ڈیلیٹ کر دیا گیا جو کہ بصیرت آن لائن کے لیے کسی بڑے حادثے سے کم نہ تھا۔ اس کے بعد اب تک ہندی زبان میں  دوبارہ آغاز نہیں ہوسکا  لیکن  یہ ویب سائٹ اردو  اور انگریزی میں مسلسل تسلسل کے ساتھ  اپنی خدمات انجام دے رہا  ہے۔ بصیرت آن لائن پر مضمون کی اشاعت کو خصوصی توجہ دی جاتی ہے  یہی وجہ ہے کہ مضامین کی بہت بڑی تعداد بصیرت آن لائن پر موجود ہے۔ پاکستان کی مردان یونیورسٹی نے بصیرت آن لائن سے اجازت لے کر ان کے مضامین کو اپنے ریسرچ کا حصہ بنایا ہے جس میں وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر  اردو کی خدمات کے تعلق سے تحقیقی کام  انجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح دھنباد کی  کول مائن یو نیورسٹی کے ایک ریسرچ اسکالر نے بھی بصیرت آن لائن کے خدمات کو  اپنی  تحقیق کا حصہ بنایا ہے۔ اس وقت  بصیرت آن لائن عالمی سطح پر اردو کے ایک مقبول ترین نیوز پورٹل میں شامل ہے اور تقریباً ١٠٠ سے زائد ممالک میں پڑھا جاتا ہے۔ بصیرت آن لائن کا آغاز  ہندوستان  میں ایسے  وقت میں  ہوا تھا جب کہ  ایک یا دو کی تعداد میں اردو ویب سائٹ موجود تھا۔‌

اس ویب سائٹ کا مقصد ماہر ایماندار صحافی و مضمون نگار تیار کرنا، میڈیا کے درست استعمال پر زور دینا، زرد صحافت اور خبروں کو بے نقاب کرنا، اہم موضوعات پر کانفرنس  سمینار اور پروگرام کا انعقاد کرنا، مختلف مقامات پر وقتاً فوقتاً صحافت کے تربیتی کیمپ لگانا اور باضابطہ صحافت کے کلاسوں کا نظم کرنا، یو ٹیوب چائنل فیس بک لائیو کے ذریعہ مختلف تعمیری و اصلاحی پروگرام پیش کرنا، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی سازشوں کا پردہ فاش کرکے دین کی اشاعت کا فریضہ ادا کرنا ، ان کے ایک اہم مقاصد میں خود کا میڈیا ہاؤس قائم کرکے ٹیلی ویزن  چینل کا قیام کرنا بھی شامل ہے اس کے علاوہ اور بھی اہم موضوعات شامل ہیں۔

الحمداللہ بصیرت آن لائن اب "بصیرت میڈیا ہاؤس” کے نام سے رجسٹرڈ بھی ہو چکا ہے اسی کمپنی کے تحت ایک ہفت روزہ رجسٹرڈ اخبار ” ملی بصیرت ” بھی پابندی کے ساتھ  شائع ہو رہا ہے۔

    اس کے بانی غفران ساجد صاحب نے فضیلت تک کی تعلیم الحمداللہ دارالعوم دیوبند سے سن ٢٠٠٠ ء میں مکمل کیا۔ اختصاص المعہد العالی اسلامی حیدرآباد سے مکمل  کرنے کے بعد انگریزی ڈپلومہ مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر دہلی سے مکمل کیا ہے اور ابھی باضابطہ طور پر اپنے ہی قائم کردہ پورٹل بصیرت آن لائن میں بحسن و خوبی اپنی خدمت انجام دے رہے ہیں۔

مضامین ڈاٹ کام 

مضامین ڈاٹ کام کی ابتداء اپریل ۲۰۱۵ میں  عرفان وحید اور خالد سیف اللہ اثری کے ہاتھوں ہوئ تھی۔ بہت ہی قلیل مدت میں یہ ویب سائٹ اردو کی مقبول ترین ویب سائٹس میں شمار ہونے لگی۔اس کے بانی و مدیر خالد سیف اللہ اثری و عرفان وحید صاحب ہیں۔ ادارتی و انتظامی امور کی ذمہ داری جناب محمد اسعد فلاحی صاحب اور تکنیکی امور کی ذمہ داری راشد اثری صاحب بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ اس وقت ہندوستان اور دیگر ممالک سے ایک ہزار سے زیادہ قلم کار مضامین ڈاٹ کام سے وابستہ ہیں اور اہم  موضوعات پر ان کے مضامین اور  مقالات مسلسل شائع بھی  ہورہے ہیں اور اس کے قارئین کی تعداد لاکھوں میں پہنچ چکی ہے۔

مضامین ڈاٹ کام آن لائن پلیٹ فارم کے ساتھ ساتھ ایک اشاعتی ادارہ اور ایک فعال تنظیم بھی ہے، جس کے تحت سماجی، سیاسی و دینی موضوعات پر مفید کتابیں منظر عام پر لائی جاتی ہیں اور زمینی سطح پر ادبی، سماجی اور تعلیمی سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔

اس ویب سائٹ کا مقصد اردو داں طبقہ کو جوڑنا اور قاری و قلم کار کے رشتے کو مضبوط کرنا ہے۔ یہاں تمام طرح کے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ یہاں   ایسا مواد شائع نہیں  کیا جاتا ہے جو مسلکی، گروہی یا فرقہ ورانہ تعصب یا منافرت کا سبب بنے۔ یہ ویب سائٹ قلم کاروں اور تمام قارئین کے آزادی رائے کا احترام کرتی ہے اور انہیں موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ ہر موضوع پر اپنے مثبت اور تعمیری خیالات کا اظہار کریں۔ مضامین ڈاٹ کام پر اسلام، اسلامی علوم، تہذیب و تمدن کے علمی موضوعات کے علاوہ بر صغیر کی سیاست، ثقافت، معاشرت، معیشت نیز حالات حاضرہ اور تازہ واقعات پر متوازن اور بھرپور تبصرے، جائزے اور مضامین پیش کیے جاتے ہیں تاکہ وطن عزیز، بر صغیر اور عالم اسلام کے بارے میں مثبت اور صحیح تصویر پیش کی جاسکے۔ ‘مضامین ڈاٹ کام’ اپنے قارئین اور قلم کاروں کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے جس کے ذریعے وہ کسی بھی موضوع پر آزادانہ اپنی رائے پیش کرسکیں؛ دنیا کے ہر گوشے میں آباد اردو داں طبقہ ایک دوسرے کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کرسکے نیز ایک دوسرے کے مسائل سے باخبر ہوسکے۔ ‘مضامین ڈاٹ کام’ کا مقصد مثبت رویوں کے لیے تحریک دیتا ہے۔ مضامین ڈاٹ کام  اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت بھی دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں۔ یہی وجہ ہے کہ ‘مضامین ڈاٹ کام’ پر شائع ہونے والے تجزیوں، مقالات اور تحریروں پر تبصروں کی سہولت موجود ہے۔ اس کے علاوہ ہر شخص جو ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہے، اس کا رکن بن سکتا ہے اور اپنی نگارشات بھی شامل کرسکتا ہے۔ اس کا میل آئ ڈی  ہے:   [email protected]

 ملت ٹائمز

١٨ جنوری ٢٠١٦میں ممبئی کی سرزمین پر ہندوستان کے معروف عالم دین مولانا رابع حسنی ندوی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ و ناظم ندوة العلماء لکھنو کے ہاتھوں اس کا افتتاح عمل میں آیا تھا۔ اپریل ٢٠١٦ میں ملت ٹائمز نے انگریزی نیوز پورٹل کا آغاز کیا جس کے بانی ممبر اور ایڈیٹر محمد ارشاد ایوب ہیں۔ ایک سال مکمل ہونے کے بعد دہلی کے سینیر  صحافیوں کے ہاتھوں ١٩ جنوری ٢٠١٧ کو ملت ٹائمز نے ایپ لانچ کیا۔ جولائی ٢٠١٧ میں بیرسٹر اسد الدین اویسی کے ایک انٹرویو کے ذریعہ شمس تبریز قاسمی نے ملت ٹائمز کے یوٹیوب چینل کا بھی آغاز کیا۔ ٢٠١٨ میں ملت ٹائمز نے ہندی نیوز پورٹل کی شروعات کی جس کے بانی ایڈیٹر مرحوم محمد قیصر صدیقی تھے۔٢٤ اکتوبر ٢٠٢٠ کو محمد قیصرصدیقی کی وفات کے بعد یہ ایڈیٹر کی ذمہ داری اسرار احمد سنبھال رہے ہیں۔ ملت ٹائمز اردو کے ایڈیٹر ظفر صدیقی ہیں۔

ملت ٹائمز کے دوسرے چینلز اور پورٹلز ملت ٹائمز نے علاقائی خبروں کیلیے متعدد نیوز پورٹل بھی شروع کررکھاہے جس میں ”میوات ٹائمز“ تین زبانوں میں آن لائن اخبار اور یوٹیوب چینل ہے جس کے ایڈیٹر محمد سفیان سیف ہیں۔ ” ایک اور علاقائی نیوز پورٹل” سیتامڑھی ٹائمز “ہے جسے مرحوم قیصر صدیقی نے شروع کیاتھا۔ ٢٤ اکتوبر ٢٠٢٠ ء  میں ان کی وفات کے بعد سیتامڑھی ٹائمز کی ذمہ داری مظفر عالم اور ثاقب رضا کو سونپی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ملت ٹائمز کا یک مستقبل ہندی نیوز پورٹل ”جے جے پی نیوز“ ہے جس کے چیف ایڈیٹر محمد شہنواز ناظمی ہیں۔ ملت ٹائمز کے تحت تاریخی اور معلوماتی ویڈیوز کیلیے مستقل ایک یوٹیوب چینل ہے” ہسٹری آف اسلام“۔ اردو زبان و ادب کے فروغ کیلیے ”اردو ٹاک“ کے نام سے باضابطہ ایک پلیٹ فارم کی شروعات کی گئی ہے، اسی نام سے یوٹیوب چینل بھی ہے جہاں اردو ادب سے متعلق ویڈیوز اپلوڈ کی جاتی ہیں اور زمرین فاروق اس کی انچارج ہیں۔ مذہبی امور کی اشاعت کیلیے ”مدینہ ٹی وی اردو “کے نام سے ویب سائٹ اور یوٹیوب چینل لانچ کیا گیا ہے۔ یہ سبھی آن لائن اخبارات اور نیوز پورٹل ملت نیوز نیٹ ورک پرائیوٹ لمٹیڈ کے ماتحت ہیں۔ ملت ٹائمز کے بانی اور سی ای او شمس تبریز قاسمی ہیں جو دارالعلوم دیوبند کے فارغ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے گریجویٹ اور ایم اے ہیں۔ شمس تبریز قاسمی ہندوستان میں صحافیوں کی سب سے قدیم تنظیم پریس کلب آف انڈیا کی ایگزیکیٹو کمیٹی کے بھی ممبر ہیں۔ اقوام متحدہ کے شعبہ انسانی حقوق سے منظور شدہ بھارت کے معروف تھنک ٹینک ادارہ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز میں میڈیا کو آڈینٹر کے طور پر بھی کام کرچکے ہیں۔ اس سے قبل سال ٢٠١٤ سے ٢٠١٦ تک وہ مشہور نیوز ایجنسی آئی این انڈیا میں بطور ایڈیٹر اپنے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ اردو اخبارات میں ان کا ہفت روزہ کالم ” پس آئینہ “ بہت زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ صحافتی خدمات کی بنیاد پر وہ متعدد ایوارڈ سے بھی سرفراز ہوچکے ہیں۔

پس منظر :

بیباک صحافت،سرکاری دباؤ سے آزاد اور اقلیتوں کے ایشوز کو نمایاں کرنے کیلیے ملت ٹائمز کو خصوصیت کے ساتھ جانا جاتا ہے۔ ملت ٹائمز کا بنیادی ایجنڈا ان ایشوز کو اٹھانا ہے جسے مین اسٹریم میڈیا اور ٹی وی چینلوں کے ذریعہ نہیں دکھایا جاتا ہے یا سچ کو چھپا دیا جاتا ہے۔ آن لائن اخبارات کے ساتھ ملت ٹائمز کے یوٹیوب چینل کےناظرین کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔ یوٹیوب پر خبر در خبر۔ خاص ملاقات۔ انٹریوز گراؤنڈ رپوٹ، پبلک اوپینن، صدائے نوجوان , اسپیشل رپوٹ جیسے پروگرام بیحد مقبول ہیں۔ ملت ٹائمز نے کئی ایسی اسٹوریز کی ہے جو ہندوستان کی حکومت، انتظامیہ، سماج، ملی تنظیموں، اہم شخصیات اور مین اسٹریم میڈیا اثر انداز ہوئی ہے۔ ہندوستان کے بیشتر اردو اخبارات ملت ٹائمز کی خبریں اور مضامین اپنے یہاں شائع کرتے ہیں۔ بیرون ممالک میں شائع ہونے والے اردو ویب پورٹل اور اخبارات اپنے بین لاقوامی صفحات کیلیے ہندوستان کی خبریں ملت ٹائمز کے حوالے سے شائع کرتے ہیں۔

دہلی کے علاوہ، ممبئی، پٹنہ، کولکاتا، چننئی، لکھنؤ سمیت کئی شہروں اور صوبوں میں ملت ٹائمز کے بیورو چیف موجود ہیں۔ علاوہ ازیں بہار، مہاراشٹرا، بنگال، اتر پردیش اور دہلی میں ملت ٹائمز کے علاقائی اور ضلع نمائندے بھی ہیں۔

ملت ٹائمز کے یومیہ قارئین کی تعداد تقریباً ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔ کئی مرتبہ ملت ٹائمز کے قارئین کئی لاکھ تک پہونچ جاتے ہیں۔ سال ٢٠٢٠ ء  میں صرف پانچ دنوں میں ملت ٹائمز کے قارئین کی تعداد چھ ملین تک پہونچ گئی تھی۔ ٢٦ جولائی ٢٠١٧ء کو ملت ٹائمز اردو کے قارئین کی تعداد تقریباً دو ملین تک پہونچ گئی تھی۔ یوٹیوب پر بھی ملت ٹائمزکے سبسکرائبر آٹھ لاکھ سے زیادہ ہیں اور دسیوں ویڈیوز کے ناظرین کی تعداد ایک ملین سے زیادہ۔ فیس بک پر پانچ لاکھ سے زیادہ فلووز ہیں اور لاکھوں میں یہاں ملت ٹائمزکو دیکھا جاتا ہے۔ ملت ٹائمز کو ہندوستان کے علاوہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، برطانیہ اور امریکہ میں بھی بہت زیادہ اہتمام اور دلچسپی کے ساتھ پڑھا جاتاہے۔

ملت ٹائمز رجسٹرڈ کمپنی ملت نیوز نیٹ روک پرائیوٹ لمٹیڈ کے ماتحت ہے۔ اس سے وابستہ زیادہ تر صحافی نوجوان ہیں اور وہ لوگ ہیں جو صحافت کے ذریعہ ملک کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں۔

قندیل آن لائن

اس ویب سائٹ کا نام قندیل آن لائن ڈاٹ کام qindeelonline.com  ہے۔ اس کے مدیر اعلیٰ نایاب حسن اور مدیر عبدالباری قاسمی صاحب ہیں۔  شا ہین باغ، ابول الفضل انکلیو، جامعہ نگر، اوکھلا  نئ دہلی  میں اسکا دفتر موجود ہے۔

انہوں نے اپنے ویب سائٹ کی شروعات  نومبر٢٠١٧ میں ہوئی تھی پہلے اس کا ڈومین قندیل ڈاٹ ان تھا، پھر ٢٠١٩ سے قندیل آن لائن ڈاٹ کام ہوا۔ اس ویب سائٹ پر ادبی مضامین، حمد، نعت، غزل، نظم، قومی خبریں، بین الاقوامی خبریں، سائنس اور ٹیکنالوجی، نقد تبصرے اور اس طرح کی تمام مضامین شائع کیے جاتے ہیں۔ ویب سائٹ سے ابھی تک کسی بھی طرح کی آمدنی نہیں ہے، ذاتی خرچ سے ہی چلایا جا رہا ہے۔ مواد کے معیار پر ان کے  یہاں خاص توجہ دی جاتی ہے۔تیس سے زائد ممالک میں ان کے قارئین موجود ہیں۔ مدیر شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں۔

ادبی میراث 

ادبی میراث بھی ویبسائٹ کی دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے جس کا مختصر تعارف آپ کے سامنے نوشاد منظر کے حوالے سے پیش کر رہا ہوں۔

ویب سائٹ کا نام ” ادبی میراث ” ہے۔ جسکے بانیان ڈاکٹر نوشاد منظر اور محترمہ سمیّہ محمدی ہیں۔ جس کے  ایڈیٹر ڈاکٹر نوشاد منظر خود ہی ہیں۔ اس ویبسائٹ کا قیام ١٢ اگست ٢٠٢٠ ء کو ہوا۔ اس ویبسائٹ کو بنانے کا مقصد   ادب کی اعلیٰ قدروں کی ترویج کے ساتھ یونیورسٹی میں رائج اردو نصاب اور اس سے متعلق مواد کی فراہمی ہے۔ اردو ادب کی اس ویب سائٹ پر مختلف موضوعات پر مضامین، کہانیاں، شاعری اور دیگر اصناف کے ساتھ اسلام اور سماجی موضوعات کے ساتھ سیاسی مضامین بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی ادبی خبروں کے لیے بھی ایک گوشہ قائم ہے۔ مگر بنیادی طور پر اس ویب سائٹ کا مقصد ادب کی ترویج ہے۔ اس ویب سائٹ کی ایک خاصیت یہ ہے کہ نئے قلمکاروں کے لیے "ادب کا مستقبل” نام سے ایک گوشہ قائم کیا گیا ہے جو نووارد قلمکاروں کی حوصلہ افزائی کرنے اور ان کو پلیٹ فارم فراہم کرنے کی ایک عمدہ کوشش ہے۔ ویب سائٹ قائم کرنے کا واحد مقصد طلبا کو بہترین مواد فراہم کرنا ہے۔ ادبی میراث کے حوالے سے بڑے قلمکاروں اور ادیبوں کے مضامین بھی اس ویب سائٹ پر شائع ہوۓ ہیں جس میں اہم نام جناب حقانی القاسمی، ڈاکٹر زاہد ندیم احسن، نسیم اشک، ڈاکٹر عمیر منظر، ڈاکٹر انوار الحق وغیرہم کے نام قابل ذکر ہیں۔ جسے ویب سائٹ پر پڑھا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر نوشاد منظر کا تعلق سمستی پور بہار سے ہے آپ کی ابتدائی تعلیم مدرسہ اسلامیہ  شاہ پور بگھونی میں ہوئی بعد ازاں بی اے تا پی ایچ ڈی کی تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی سے حاصل کی۔ یہی نہیں جامعہ سے ہی آپ نے بی ایڈ بھی کیا ہے۔ آپ نے اردو سے جے آر ایف کیا ہے۔ اب تک درجنوں مضامین اور تبصروں کے علاوہ ان کی چار کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔

1۔ رسالہ شاہراہ کا تجزیاتی مطالعہ اور اشاریہ 2013، ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاؤس، دہلی

2۔ افسانہ اور افسانہ نگار(ترتیب) 2014، کتابی دنیا، دہلی

3۔ غالب ہندی ادیبوں کے درمیان(غالب پر ہندی مین لکھے گئے مضامین کا ترجمہ) (2021)، غالب انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی

4۔ پؤرن آہوتی اور دیگر کہانیاں (ترجمہ)(2021)۔ ساہتیہ اکادمی، نئی دہلی

ان کتابوں کے علاوہ ایک راجستھانی ناول ” گواڑ ” کا ہندی سے اردو ترجمہ کیا ہے جو طباعت کے مرحلے میں ہے۔

آپ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی میں پروجیکٹ اسسٹنٹ "کانٹریکٹ” کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اس ویب سائٹ میں بانیان کی حیثیت سے تعلق رکھنے والی محترمہ سمیہ محمدی کا تعلق دربھنگہ کے جالے سے ہے، آپ مولانا مجاہد الاسلام قاسمی ؒ کی نسبتی پوتی ہیں۔ آپ کی مکمل تعلیم (نرسری تا پی ایچ ڈی ) جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ہوئی ہے۔ سمیہ محمدی شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے استاد پروفیسر کوثر مظہری کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ آپ کے کئی مضامین اور تبصرے شائع ہوچکے ہیں۔

 دی سورس بھارت

دی سورس بھارت  اُردو کے فروغ اور ترقی کے ارادے و نیت سے وجود میں آیا ہے، اور اپنے اسی جذبے کے ساتھ سفر پر رواں دواں ہے۔۔جس کا مقصد صرف اور صرف اُردو سے محبت ہے۔اس محبت کا پیغام  ہر اس دل تک پہنچانا ہے جن کی دھڑکنوں میں اردو بستی ہے اور ہر اس قلم کی نوک پر لے جانا ہے جو اس رسم الخط کو صفحہ قرطاس پر اُتارنے سے کترانے لگے ہیں۔ اردو کی آبیاری اور ان مقاصد کی تکمیل میں ہر ممکنہ اقدام اٹھائے جائیں گے۔ دی سورس نئے لکھنے والوں کا پرتپاک خیر مقدم کرتی ہے، اُن کی حوصلہ افزائی کے واسطے ان کی تحریروں کو فوقیت دیتی ہے، کیوں کہ اُردو ادب کی نئی نسل ہی اُردو کی بقا کی ضامن ہے۔ اُستاد ادبا اور شعراء نے اپنا فرض بخوبی نبھایا ہے۔اب یہ ذمہ داری نئے لکھنے والوں کو اٹھانی ہوگی۔ ساتھ ہی دی سورس بھارت ادب کے نام ور ادیب اور شعراء حضرات سے دستِ ادب جوڑ کے استدعا کرتا ہے کہ آپ بھی دی سورس بھارت مشن کا حصہ بنیں اپنی راہنمائی اور تحریروں سے  حوصلہ بڑھائیں۔

دی سورس کی تشکیل کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔ اکتوبر ٢٠٢٠ ء میں” محترمہ عرشیہ انجم صاحبہ” جو کہ اس وقت دی سورس بھارت کی مدیر ہیں اور ان کا تعلق اتر پردیش سے ہے جو کہ درس و تدریس کے فرائض کو بخوبی انجام دے رہی ہیں انکے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ ایک ایسا ادارہ قائم کیا جائے جو اُردو کے فروغ میں اپنا اہم کردار ادا کرے۔ اس ڈیجیٹل دور میں اُردو کو عوام کے دلوں تک پہنچانے کے لیے کیوں نہ اس کی مُٹھی اُس کی انگلی کا ساتھ لیا جائے یعنی کچھ ایسا کیا جائے کہ اُردو ادب ہمیشہ لوگوں کے ساتھ ساتھ چلے۔ اُن کے پاس رہے اور یہ قرب اور رفاقت توصرف ایک ہی صورت میں ممکن ہے جب وہ موبائل میں اپنی جگہ بنا لے۔ اسی کو مدّنظر رکھتے ہوئے اور عہدِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے آن لائن اُردو ادب کی ویب سائٹ تشکیل کا خاکہ  تیار کیا گیا۔ خاکہ تو بن گیا لیکن  مشکل یہ تھی کہ  ویب سائٹ سازی سے محترمہ عرشیہ انجم  بالکل نابلد تھیں جیسے ایک بچہ جسے حروف سے شناسائی نہ ہو اور وہ کتاب لے کر اسے پڑھنے کی ضد کر لے۔کُچّھ یہی حال ان کا  بھی تھا، مگر عزم باندھ لیا ارادہ مضبوط کر لیا یہ سوچ کر

آسانیوں سے پوچھ نہ منزل کا راستہ

اپنے سفر میں راہ کے پتھر تلاش کر

۔

ذرے سے کائنات کی تفسیر پوچھ لے

قطرے کی وسعتوں میں سمندر تلاش کر

اس کے بعد انہوں نے  سب سے پہلے مرحوم ذوقی سر سے فون پر مشورہ کیا۔۔ انہوں نے ان کے  ارادے کو نیک بتایا، دعائیں دیں اور ایک جملہ کہا

"سیکھنے میں خود کو جھونک دو عرشیہ”

چھ مہینے کی مشقت، ریاضت کے بعد دی سورس قارئین کی خدمت میں حاضر ہو سکا۔ عرشیہ انجم صاحبہ  نے تنہا اس سفر کی مشقت اٹھائی۔ نیندیں قربان کیں، آرام و سکون کو حرام کیا، رشتے اور احباب سے کچھ وقت تک صرف نظر کیا،روزمرہ کے بہت سے کام ملتوی کیے، بہت سی خواہشوں کو درکنار کیا یہاں تک مطالعے سے بھی اجتناب کیا۔سوشل میڈیا اکاؤنٹ بند رکھے، تب کہیں جا کر اس آگ کے دریا کو عبور کر سکیں۔ اس کوہِ پیما کو ناپ سکیں۔ اس بحر بیکراں میں ڈوب سکیں۔

یہ مرحلہ آسان نہ تھا۔ راستے اجنبی، منزل کے نشان کا سراغ نہیں ظاہر سی بات ہے ایسے حالات میں تھک کر قدم واپس کر لینے کے خیال بھی ان کے دل میں آئے۔ مایوسی کا غلبہ بھی ہوا اور شکستہ آمیز آوازیں بھی باز گشت کرتی رہیں کہ

“تمھاری اس کوشش سے کیا فرق پڑنے والا ہے؟”

لیکن انہوں  نے خود کو کمزور نہیں ہونے دیا۔ طرح طرح سے ڈھارس بندھائی اور خود کو بچوں کی ان کہانیوں سے مضبوط کرتی رہیں جو اپنی دادی، نانی سے سنتی تھیں اور اب خود  وہ اپنے بچوں کو سناتی ہیں۔

 دی سورس کے کالم، مضامین، تراجم، افسانوی اور غیر افسانوی تخلیقی نثر نیز غزل اور نظم سے لطف اندوز ہونے کے لیے دی سورس بھارت  کے ویبسائٹ کو ملاحظہ فرمائیں۔

 اس ویب سائٹ پر  تزئین کا خاص خیال رکھا جاتا ہے جس سے قارئین تحریر پڑھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کچھ منفرد کرنے کے ارادے سے انہوں نے  "نیا سویرا ” کالم شروع کیا اس میں تحریکی مضامین شائع ہوتے ہیں جس کے  کالم نگار "محمد ریحان” ہیں اور خاص بات یہ ہے کہ  یہ کالم صرف "دی سورس بھارت” پر ہی شائع ہوتے  ہیں  اس کے مضامین کہیں اور شائع نہیں ہوتے۔ اس کے ساتھ ہی دوسرا خاص کالم "ادب کے درخشاں ستارے” ہے جس میں  جدید اور کلاسیکی شعراء کے تعارف شائع ہوتے ہیں۔ کالم نگار مشہور افسانہ نگار "سلمیٰ صنم صاحبہ” ہیں۔ ابھی چند دنوں قبل  ایک اور کالم کی شروعات کی گئ ہے جس کا نام "کامیابی کے راستے” ہے۔ جس میں یہ  کوشش  کی گئ ہے کہ اس کالم کے تحت اس ڈیجیٹل عہد کی ٹاپ اسکل پر مضامین شائع کی جاۓ جو  نوجوانوں کو اسکل فل بنا سکیں اور ان کی زندگی میں بہتری آ سکے۔ اس ویب سائٹ کا میل آئ ڈی نیچے درج ہے: [email protected]

بسمل جی اردو میں

” بسمل جی اردو میں ” یہ نام آپ کو کچھ اٹپٹا سا لگے گا لیکن میں آپ کو بتا دوں کہ یہ ایک ویب سائٹ کا نام ہے اور اس کے بانی  غیر مسلم ہیں  جن کا نام پریم ناتھ بسمل ہے اور انہوں نے اپنے ہی نام کی مناسبت سے ویب سائٹ کا انعقاد کیا ہے اور اس   کے ذریعہ اردو کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ آپ اس کے علاوہ دوسرے ناموں سے بھی ویبسائٹ چلا رہے ہیں۔ آپ کا پورا نام پریم ناتھ بسمل ہے۔ اور آبائ مقام  مرادپور، مہوا، ویشالی، بہار ہے۔

آپ نے   ایم اے اردو پٹنہ یونیورسٹی  سے ۲۰۱۰ ء میں میں مکمل کیا ہے اس سے قبل ٢٠١٩ ء  میں نیٹ کی ڈگری حاصل کی۔

زریعہ معاش کے لیے آپ اس وقت اردو ٹیچر، گورنمنٹ مڈل سکول  مہوا سنگھ راۓ میں درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

شعر و شاعری  بالخصوص غزل گوئی سے آپ کو گہری دلچسپی ہے  اس لیے آپ نے پہلے  ” ہندی اردو  ساہتیہ سنسار ” نام سے ویبسائٹ کا ایجاد کیا جس کا پروٹل ایڈریس  نیچے درج ہے:  www.premnathbismil.com

ویبسائٹ کی شروعات ستمبر  ٢٠٢٠ ء میں کی گئ۔ پھر انہوں نے دوسری ویبسائٹ  ” بسمل جی اردو میں ” کی شروعات اکتوبر ٢٠٢١ ء میں کی ہے۔ جسے آپ  www.bismilji.com پر جا کر پڑھ سکتے ہیں۔

اس دونوں ویب سائٹ کے بانی و اڈیٹر ” پریم ناتھ بسمل وینا کماری ہیں۔ ان کے ویبسائٹ  بنانے کے مقصد  شروع شروع  میں صرف اتنا تھا کہ وہ اپنے  شعر و شاعری کو اپنے ویبسائٹ پر ڈال سکیں۔ کیونکہ وہ اپنی چیزیں   اکثر اخباروں اور ویب سائٹ کے لیے اپنی غزلیں بھیجتے  رہتے  تھے  جن کی اشاعت میں کافی تاخیر  ہوتی تھی اور کچھ لوگ  تو موقع دینا بھی بیکار سمجھتے تھے۔پھر انہیں  محسوس ہوا کہ ان کی  طرح سے اور بھی بہت سے  نئے لکھنے والوں کے لیے  ایسی ہی دشواریاں ہوں گی لہذا اس کا کچھ راستہ نکالا جائے۔اسی فکر کا نتیجہ  اتر پردیس کے بارہ بنکی سے نکلنے والا ہفت روزہ اخبار صدائے بسمل بھی ہے۔جس کے ایڈیٹر ذکی طارق بارہ بنکوی ہیں۔اس اخبار کو  جاری کرنے  میں انہیں بہت سے  مشکلات کا سامنا بھی کرنا پرا۔ اخباروں کا معاملہ تو انہوں نے  حل کر لیا تھا لیکن ویب سائٹ کا مسئلہ ابھی باقی تھا۔ آخر کار انہوں نے یہ فیصلہ بھی کر لیا کہ میں اپنی ویب سائٹ  خود بناؤں گا  اور اس پر  ویسے تمام لوگوں کی  تخلیقات  شائع کروں گا  جن كو کہیں موقع نہیں ملتا ہے پھر انہوں نے   ٩ ستمبر ۲۰۲۰ ء کو  پہلا ویب سائٹ ’’ ہندی اردو  ساہتیہ سنسار ‘‘ بنایا اور اس  پر تیزی سے پوسٹ کرنا شروع کر دیا   لیکن اس ویب سائٹ  میں بہت سی تکنیکی خامیاں تھیں  اور اس کو ٹھیک کرنا  بسمل صاحب کے  بس کی بات بھی نہ تھی۔ اس لیے نبلی صاحب  نے  موبائل فون کے ذریعے بسمل صاحب کی  مدد کی اور  انہوں  نے  اس ویب سائٹ میں   کافی تبدیلی کی۔ تقریبا سال بھر تک دن رات محنت کرنے کے بعد  ویب سائٹ پر ٹریفک آنا شروع ہو گیا۔ ابھی  اس ویب سائٹ  پر ڈیڑھ لاکھ کا ماہانہ ٹریفک ہے۔اس ویب سائٹ پر زیادہ تر لوگ ہندوستان سے ہی آتے ہیں اس لیے اس  پر  آمدنی اتنی اچھی نہیں ہے پھر بھی ہر مہینے چالیس سے پچاس ڈالر کے بیچ آمدنی رہتی ہے اس لیے کہ انڈیا کا سی پی سی کم رہتا ہے۔ ہندی اردو  ساہتیہ سنسار اپنے آپ میں مکمل ویب سائٹ ہے  پھر بھی  الگ سے اردو کے لیے بسمل جی اردو میں بنانے کا  مقصد یہ ہے کہ اردو پڑھنے والے کو صرف اردو میں  چیزیں دستیاب کرائی جاسکے اور ہندی والے کو صرف ہندی میں   ویبسائٹ  کے  تعلق سے بسمل جی کا تجربہ یہ ہے کہ  اسے مشغولیت کا ایک بہترین ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے  اس لیے کہ  اس کے ذریعے  دوسرے لوگوں کو بھی  لوگوں تک پہنچنے کا موقع ملتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس  سے اردو کی خدمت بہت زیادہ ہو رہی  ہے مگر حاصل بہت کم ہے اس لیے اسے اکیلے نہیں ایک مکمل ٹیم بنا کر اس کام کو آگے بڑھایا جائے تو کامیابی کی امید کی جا سکتی ہے۔

العزیز میڈیا سروس

العزیز میڈیا سروس کی شروعات  چھ مارچ ٢٠٢١ کو ہوئ۔ اس کے بانی و ایڈمن عبدالرحیم صاحب ہیں۔ ان کے  پیج بنانے کا مقصد اپنی تمام تحریروں کو یکجا اور محفوظ کرنا تھا۔ اور نۓ قلم کاروں جن کی تحریریں اخبارات میں شائع نہیں ہوپاتی تھیں  انکی حوصلہ افزائی کرنا بھی مقصود تھا۔ دوسری خاص وجہ یہ بھی تھی کہ ویسا نوجوان طبقہ جو شوشل میڈیا پر لا حاصل  اپنا وقت  ضائع کر دیتے ہیں اور  آخرت  کی فکر کے بغیر  زندگی گزار رہے ہیں  انکو اپنے پیج سے جوڑنا اور  اردو ادب کی جانب ان کو  رغبت حاصل کرانا بھی مقصود تھا۔  عبدالرحیم  صاحب نے حضرت مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب نائب ناظم امارت شرعیہ  کے مشورے کے بعد اپنے پیج کا نام اپنے پردادا حافظ عبدالعزیز صاحب مرحوم کی طرف منسوب کرکے العزیز میڈیا سروس رکھا ہے۔  ان کا ارادہ  ویب سائٹ بنانے کا ہی  تھا  مگر اس پر خرچ ہونے والے اخراجات اور  وسائل کی فراہمی نہیں ہونے پر انہوں نے  اپنے ارادے کو  ترک کردیا اور اسی  نام سے فیس بک پر ہی” العزیز میڈیا سروس”  پیج بنا ڈالا جو بہت کم ہی وقتوں میں مقبول بھی ہو گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی  ٨١٥ مستقل فالورز موجود ہیں۔ ان کے پیج کے  مضامین کو ہزاروں کی  تعداد میں پرھا جاتا ہے۔ ان کے پیج کے  قارئین ملک کے ہر صوبے میں موجود ہیں حتیٰ کہ  بیرونی ممالک  پاکستان،  سعودی عرب و  برطانیہ میں بھی اس پیج کے قارئین موجود ہیں۔ اب الحمداللہ اسی نام  سے انہوں نے  ویب سائٹ بھی بنا لیا ہے لیکن وقت کی کمی اور یکسوئی نہیں ہونے کی وجہ کر ویب سائٹ پر  وقت نہیں دے پارہے  ہیں۔ ویسے عبدالرحیم صاحب میرے بہت ہی مخلص دوستوں میں سے ایک ہیں میں نے انہیں گزارش کی کہ آپ اپنے ویب سائٹ پر توجہ دیں۔ کم از کم دو گھنٹہ وقت ضرور دیں۔ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ انشاءاللہ وقت نکالوں گا۔ عبدالرحیم صاحب کا میں بے حد مشکور و ممنون بھی ہوں کہ انہوں نے ہی زیادہ تر ویب سائٹ اور پورٹل تک میری رسائی کروائی ہے۔ جن جن لوگوں کا نمبر میرے پاس محفوظ نہیں تھا ان کا نمبر بھی  دستیاب کرایا اللہ انہیں اجر عظیم عطا فرمائے۔ آمین

بقول انکے یہ بھی واضح کر دوں کہ اس پیج سے  ابتک تو اردو کی خدمت ہی  ہوئ ہے حاصل تو  کچھ نہیں ہوا ہے لیکن  اس سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ بڑے ادیبوں تک رسائی ممکن ہو سکی اور ان سے استفادہ بھی ہوا ہے۔

اب چند باتیں  ایڈمن کے حوالے سے :

ان کا اصل نام عبدالرحیم اور قلمی نام عبدالرحیم برہولیاوی ہے۔ ان کے والد کا نام ڈاکٹڑ مولوی انور حسین ہے۔ موضع، پوسٹ برہولیا، وایا کنسی سمری، ضلع دربھنگہ، بہار ہے۔ بنیادی تعلیم ان کے  والد ماجد کے قایم کردہ مدرسہ اسلامیہ برہولیا سے ہی ہوئ اسکے بعد میٹرکولیشن ہائ اسکول سمری سے کیا پھر انٹر میڈیٹ ملت کالج دربھنگہ شعبہ سائنس سے کرنے کے بعد "بی اے، ایم اے اردو” کورس للت ناراین متھلا یونیورسٹی  دربھنگہ سے کیا۔ ابھی نیٹ جی آر ایف کی تیاری جاری ہے۔

ذریعہ معاش کے لیے  معھدالعلوم الاسلامیہ،  چک چمیلی سراۓ، ویشالی میں مدرس ہیں ساتھ ہی پرانی بازار سراۓ کی  مسجد میں امامت کے فرائض بھی بخوبی  انجام دے رہے ہیں۔ ادبی اور مذہبی کتابوں کا مطالعہ کرنا آپ کو پسند ہے۔  آپ کے  مضامین اور تبصرے بھی گاہے بگاہے ہندوستان کے مشہور و معروف اردو روزنامہ، ویب سائٹ اور پورٹل پر آتے رہتے ہیں۔ ان کا نظریہ یہ ہے کہ  ہمارے قارئین ہی ہماری دولت ہیں سوشل میڈیا سروس کے ذریعہ اردو کے تحفظ اور اسکی بقا اور اسکی نشر اشاعت کا بڑا کام ہورہا ہے

اردو ویب سائٹ کو یقیناً ذریعے معاش بنایا جاسکتا ہے مگر اسکے لیے مستقل محنت لگن جستجو اور ایماندار  دوست کی ایک ٹیم  کا ہونا ضروری ہے۔

جہازی میڈیا

اس ویب سائٹ کا  نام ہے  جہازی میڈیا.کام  اس کے  ایڈیٹر ہیں محمد یاسین جہازی۔ ٢٦ چھبیس نومبر ٢٠١٨ کو اس ویب سائٹ کی شروعات کی گئی تھی جو مسلسل جاری ہے۔ اس سے  کوئی مستقل ذریعہ آمدنی نہیں ہے توکل علی اللہ اصل سرمایہ ہے۔ بقول ایڈیٹر اس ویب سائٹ  کو بنانے کے کئ  مقاصد ہیں جو  مندرجہ ذیل ہیں :

” ١۔ حق کی نمائندگی

بالخصوص اردو میں اسلامیات کے حوالے سے کچھ سرچ کریں گے تو عام طور پر فرقہ ضالہ کی تحریریں سامنے آتی ہیں، کیوں کہ اس سے حوالے سے اہل حق ابھی تک بہت پیچھے ہیں، اس لیے جہازی میڈیا نے اس کمی پر غور کرتے ہوئے، اس پہلو پر خصوصی توجہ دینے کی کوشش کی ہے، تاکہ اسلام کے بار ے میں جاننے والوں کو صحیح، مستند اور معتبر رہ نمائی مل سکے۔

٢. تھنک ٹینک

نیوز کے اخبارات اور پورٹل تو ان گنت ہیں، لیکن نظریاتی حوالے سے اگر یہ کہا جائے کہ اس کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے، تو مبالغہ نہیں ہوگا۔اور آپ بہ خوبی واقف ہیں کہ

قوت فکر وعمل پہلے فنا ہوتی ہے

پھر کسی قوم کی شوکت پر زوال آتا ہے

اور اس حقیقت سے بھی واقف ہیں کہ جس ملک، تنظیم، تحریک اور قیادت کے پاس جتنا تھنک ٹینک ہوتا ہے، وہ اتنی ہی تعمیر و ترقی میں آگے ہوتی ہے۔ تھنک ٹینک فکری و نظریاتی پالیسیاں طے کرتا ہے اور ادارے انھیں عملہ جامہ پہناتے ہیں۔ آج امت مسلمہ کی زوال پذیری کی اہم وجوہات میں ایک یہ بھی ہے کہ اس کے پاس عالمی تو دور، ملکی؛ بلکہ محلہ کی سطح پر بھی کوئی تھنک ٹینک نہیں ہے، جس کا نتیجہ سامنے ہے کہ ہر کوشش لاحاصل نظر آتی ہے۔ جہازی میڈیا کی کوشش یہ ہے کہ ایسے اہل بصیرت اور نبض شناس افراد کو تیار یا تلاش کیا جائے جو امت مسلمہ کے لیے تھنک ٹینک کا فریضہ انجام دے۔

٣. چوں کہ اردو زبان اس کی بنیاد ہے، اس لیے اردو کی خدمت  ہی اس کا اصل  اساسہ  ہے۔

اس وقت  سات ریاستوں میں جہازی میڈیا کے سب ایڈیٹرس کام کر رہے ہیں۔

چیف ایڈیٹر  دارالعلوم دیوبند سے فضیلت کی سند حاصل چکے ہیں۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی سے بی اے اور  ایم اے کرنے کے بعد   دہلی یونیورسیٹی دہلی سے ماس میڈیا کورس بھی مکمل کیا۔ ان کا

پیشہ ہے  جرنلزم اور ٹرانسلیشن۔

جمعیت علمائے ہند سے عملی وابستگی بھی ہے۔

جہازی میڈیا کے اہم اہم صفحات اور ان کے مخصوص مقاصد

جہازی میڈیا کئی اہم صفحات کے توسط سے کام کر رہا ہے۔ ہر صفحہ کا مخصوص مقصد ہے، تفصیلات پیش ہیں:

(۱) اہم خبریں

گرچہ جہازی میڈیا فکری و نظریاتی مضامین پر بنیادی توجہ دیتا ہے، لیکن حالات پر نگاہ رکھنا بھی اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے، اس لیے ضروری، بالخصوص ملی خبروں کی اشاعت کے لیے یہ پیج بنایا گیا ہے۔

(۲) انڈیا

اس پیج پر اپنے ملک عزیز کے مخصوص سیاسی، سماجی، اقتصادی اور دیگر شعبہ زندگی سے متعلق تحریریں لوڈ کی جاتی ہیں۔

(۳) عالمی مسائل

کچھ مسائل ایسے ہیں، جو سرحدوں کی قید سے آزاد ہیں، جیسے پوپولرائزیشن، دہشت گردی وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کی تحریروں کے لیے یہ پیج بنایا گیا ہے۔

(۴) مضامین

کچھ متفرق مضامین ایسے ہوتے ہیں، جن کے مجموعے پر کوئی ایک عنوان فٹ نہیں بیٹھتا، ایسے مختلف مسائل پر لکھی گئی تحریروں کو یہاں شامل کیا جاتا ہے۔

(۵) اسلامیات

خالص اسلامی موضوعات پر مشتمل تحریروں کے لیے یہ پیج مخصوص ہے۔ اس میں ان تحریروں کو اولیت دی جاتی ہے، جو عصری مسائل کے لیے اسلامی فارمولے پیش کرتی ہیں۔

(۶) فقہ و فتاویٰ

اس پیج میں پوچھے گئے سوالات کے جوابات لوڈ کیے جاتے ہیں۔ اور اس کے لیے مستند مفتیان کرام کی ایک مستقل ٹیم کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ کوشش یہ ہے کہ جلد ازجلد جوابات قارئین تک پہنچائے جائیں، اس لیے جدید ٹکنالوجی کا سہارا لیا جارہا ہے۔

(۷) ننھے قلم کار

بہت سے اخبار و رسائل اپنے معیارات سے سمجھوتہ نہیں کرتے، کیوں کہ ان کے پاس ایسا متبادل آپشن نہیں ہوتا۔ جہازی میڈیا کی کوشش ہے کہ نوآموزوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک الگ پلیٹ فارم دے دیا جائے تاکہ معیار بھی برقرار رہے اور نوآموزوں کی حوصلہ افزائی بھی ہوسکے۔ اس لیے ننھے قلم کار کے عنوان سے یہ پیج بنایا گیا ہے۔ اور ایسے قلم کاروں سے آگے آنے کی گذارش کرتا ہے۔

(۸) زبان و ادب

یہ پیج زبان و ادب اور ادبی مضامین کے لیے مخصوص ہے۔

(۹) ملٹی میڈیا

اس میں دو ذیلی صفحات ہیں: (۱) تصاویر۔ (۲) ویڈیوز۔

جہازی میڈیا اس پیج پر جو بھی تصاویر لوڈ کرتا ہے وہ گوگل امیج سے لنک ہوجاتا ہے، جہاں اپنی تصاویر تلاش کرسکتے ہیں۔ ویڈیوز کو یوٹیوب چینل سے اپلوڈ کیا جاتا ہے۔ آپ اپنا ویڈیوز لوڈ کرانے کے لیے جہازی میڈیا کی خدمات حاصل کرسکتے ہیں۔ یاد رہے کہ غیر شرعی ویڈیوز جہازی میڈیا لوڈ نہیں کرتا۔

(۱۰) کتابیں

اہم اہم کتابیں اس پیج پر لوڈ کی جاتی ہیں جنھیں بس ایک کلک پر پڑھ سکتے ہیں، ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں اور اپنے دوستوں کو بھی تحفہ میں پیش کرسکتے ہیں۔

(۱۱) جہازی میڈیا آپ کی ریاست میں

جہازی میڈیا باہمی تعاون کے جذبہ کے پیش نظر وسیع پیمانے پر کام کرنے کا عزم رکھتا ہے، اس لیے کوشش یہ ہے کہ اکثر ریاستوں سے کام شروع کیا جائے۔ الحمد للہ اب تک گیارہ صوبوں میں جہازی میڈیا قائم ہوچکا ہے۔ اور دیگر ریاستوں میں بھی پہنچنے کی کوشش جاری ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔