اسلامی تہذیب و ثقافت کا نمائندہ: انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر

 ڈاکٹرمظفرحسین غزالیٓ

انڈیا اسلامک سینٹر کی انتخابی مہم اپنے آخری مرحلہ میں داخل ہو چکی ہے۔ 6 جنوری کو سبھی پوسٹوں کیلئے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ الیکشن میں ایک طرف سراج الدین قریشی اپنی پندرہ سالہ کارکردگی کے ساتھ میدان میں ہیں۔ ان کے انتخابی منشور میں سینٹر کی توسیع بھی شامل ہے۔ تو وہیں دوسری طرف عارف ممحمد خان سینٹر کو نئی اونچائی پر لے جانے کے عزم اور وعدہ کے ساتھ چناؤ لڑ رہے ہیں۔ انتخابی منشور کے بارے میں پوچھے جانے پر عارف صاحب نے کہا کہ سینٹر کا دستور ہی ان کا منشور ہے۔ عارف صاحب کے ساتھ ایگزیکٹیو ممبر کیلئے الیکشن لڑ رہے کلیم الحفیظ (ہلال ملک) نے’ایک خواب جس کی تعبیر ابھی باقی ہے‘ کتابچہ لکھ کر سینٹر کے تعلق سے اپنی فکر مندی کا اظہار کرنے کے ساتھ ہی سینٹر کی اہمیت اور اس کے ذریعہ کیا کام ہونے چاہئیں، اس پر روشنی ڈالی ہے۔ عارف صاحب نے اس کتابچہ کا افتتاح کرکے واضح کر دیا ہے کہ سینٹر محض کلب نہیں ہے اسے تھنک ٹینک کے طور پر کام کرنا چاہئے اور مسلمانوں کی رہنمائی کے ساتھ غیر مسلموں میں اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرکے آپسی بھائی چارے کو فروغ دینا چاہئے۔ جبکہ سراج صاحب کا کہنا ہے کہ سینٹر آئین کے مطابق اپنی خدمات پوری ذمہ داری کے ساتھ ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے سینٹر سے کبھی کچھ لیا نہیں بلکہ ہمیشہ دیا ہے۔ سینٹر ہمیشہ سماجی رواداری اور یکجہتی کو آگے بڑھانے میں پیش پیش رہا ہے۔ ہم نے اسے کلچر کا مرکز بنایا ہے۔ یہاں تمام مذاہب کے اہم تہوار منائے جاتے ہیں۔ اور سبھی مذاہب کے لوگ اس کے ممبران میں شامل ہیں۔

اسلامک کلچرل سینٹر کا انتخاب کئی معنوں میں اہم ہے۔ ایک تو یہ مسلم دانشوروں کا یہ اکلوتا مرکز ہے، جہاں مذہب کا دخل نہ کے برابر ہے۔ دوسرے اس کی نمائندگی کرنا سماجی طور پر اعزاز کی بات ہے۔ اس سے بڑی بات یہ ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں سینٹر کے مکھیا کو عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ غیر ممالک میں بھی اس کا بڑا نام ہے۔ خاص طور پر خلیجی ممالک میں سینٹر کے ذمہ دار کی قدر و منزلت بہت زیادہ ہے۔ اس کی وجہ ہے ملک کے نمائندہ دانشوروں کی سینٹر کے ساتھ وابستگی۔ جن میں غیر مسلم ممبران کی تعداد بھی کافی ہے لیکن سینٹر کے انتخاب میں مسلم سیاست حاوی رہتی ہے، کیونکہ مسلم ممبران کی تعداد زیادہ ہے۔ حالانکہ سینٹر میں عید، دیوالی اور کرسمس جیسے تہوار منائے جاتے ہیں جو ملک کی سیکولر شبہ کو ظاہر کرتے ہیں۔ اسلامک سینٹر کے ذمہ دار کی حیثیت سے کسی سے بھی ملنا یا سینٹر میں بلانا آسان ہے۔ اس لئے چناؤ میں دم خم لگایا جا رہا ہے۔ سراج صاحب کے پینل کا کئی حضرات انفرادی طور پر سامنا کر رہے ہیں۔ ان میں خواجہ محمد شاہد نائب صدر، ڈاکٹر فخرالدین محمد، ایم ڈبلیو انصاری، مدثر حیات بودڈ آف ٹرسٹی کیلئے امیدوار کے طور پر شامل ہیں۔

اسلامک سینٹر کا خیال اس وقت وجود میں آیا جب چودھویں صدی ہجری کے اختتام پر پوری مسلم دنیا اسلامی صدی تقریبات منا رہی تھی۔ ہندوستانی مسلمانوں میں بھی اس کو لے کر بہت جوش وخروش تھا۔ ملک میں اسلامی تہذیب و تمدن کی تاریخ اور ہندوستانی معاشرہ پر اس کے اثرات پر کانفرنس، سیمینار اور مباحثے ہو رہے تھے۔ یہ دور تہذیبوں کے درمیان تصادم کا نقطۂ آغاز اور سرد جنگ کے عروج کا تھا۔ ایسے میں سماجی رواداری، قومی یکجہتی کے فروغ اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے متعلق پائے جانے والے شک وشبہات کو دور کرنے کیلئے ایک مرکز کے قیام کی تجویز ابھری۔ جس پر اس وقت کی وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی نے لبیک کہا۔ 1980 میں نائب صدر جمہوریہ جسٹس ہدایت اللہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس نے سینٹر کا خاکہ تیار کیا اور 12 اپریل 1981 کو انڈیا اسلامک کلچرل سوسائٹی کے نام سے اسے رجسٹرڈ کرایا گیا۔

سوسائٹی کا صدر حکیم عبد الحمید صاحب کو بنایا گیا۔ سرکار کی جانب سے سینٹر کیلئے لٹین زون میں الاٹ کی گئی 8000 مربع گز زمین کی لیز کی رقم مبلغ ساڑھے گیارہ لاکھ روپے حکیم صاحب نے ادا کی۔ اسی کے بعد 24 اگست 1984 کو مسز اندرا گاندھی نے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کا سنگ بنیاد رکھا۔ مفتی عتیق الرحمن عثمانی، بدرالدین طیب جی، سید شفیع احمد، چودھری عارف، غلام نقشبندی، بیگم عابدہ صاحبہ جیسے نیک اور پاک طینت افراد کی نگرانی میں سینٹر کی تعمیر کا کام شروع ہوا۔ اس کی تعمیر میں سینٹر کے ڈائرکٹر جنرل کی حیثیت سے موسیٰ رضا صاحب نے بھی اہم کردار ادا کیا لیکن دو دہائیوں تک سرکاری ریشہ دوانیوں اور اپنوں کی بے اعتنائیوں کی وجہ سے سینٹر کا کام تعطل کا شکار رہا۔ 2004 میں سراج الدین قریشی نے صدر منتخب ہونے کے بعد سینٹر کا تعمیری کام ذاتی دلچسپی لے کر مکمل کرایا۔ 12 جون 2006 کو سونیا گاندھی نے سینٹر کی عمارت کا افتتاح کیا۔

سینٹر کی کوشش سے کتنے ہی بچے بچیاں روزگار پانے میں کامیاب ہو ئیں۔ مثلاً سینٹر کی جانب سے عید ملن، دیوالی ملن، کرسمس ڈے، یوم آزادی، یوم جمہوریہ کے علاوہ پرسنالٹی ڈیولپمنٹ، میموری ڈیولپمنٹ، کمیو نی کیشن اسکلز کو بہتر بنانے کیلئے کورسز کرائے جاتے ہیں۔ سول سروسز کی تیاری کیلئے فری کوچنگ کا انتظام کیا جاتا ہے۔ روزگار میلہ، ہیلتھ چیک اپ کیمپ، قرآن ورکشاپ، اردو عربی کوچنگ کلاسز وغیرہ میں طلبہ خاص دلچسپی لیتے ہیں۔ سینٹر میں منعقد ہونے والے جشن سیرت النبیﷺ، ثقافتی اور صوفیانہ پروگرام عوامی رابطہ کا ذریعہ بنتے ہیں۔ شائقین کتب کیلئے کتابوں کی نمائش کے ذریعے نادر کتابیں مہیا کرائی جاتی ہیں۔ سینٹر میں ایک اچھی لائبریری ہے جس سے طلبہ مستفید ہوتے ہیں۔

 سینٹر کے مقاصد کی بات کریں تو اس کے آئین میں ملک کے شہریوں کے درمیان رواداری اور باہمی افہام وتفہیم کو فروغ دینا، اسلام اور اس کی تعلیمات کے تیئں غلط فہمیوں کا ازالہ، اسلامی تہذیب و اخلاق کو فروغ دینا، عدم تشدد، عالمی اخوت، محبت اور خیر خواہی کی بنیاد پر اخلاقی سماج کی تعمیر میں تعاون کرنا اور ماضی کی تہذیبوں کے مطالعہ، باہمی انفارمیشن اور تبادلہ خیال کیلئے سہولیات فراہم کرنا شامل ہے۔ سینٹر کی سرگرمیاں آئین کے عین مطابق ہونا چاہئے۔ فی الوقت سینٹر میں تحقیق یا تہذیبوں کے مطالعہ کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ نہ ہی بین المذاہب مکالمے، سیمنار یا کانفرنسیں ہوتی ہیں۔ ایسی کسی اسکالرشپ کی بات بھی کبھی سامنے نہیں آئی جو تہذیبی تحقیق کیلئے سینٹر کی جانب سے دی گئی ہو۔ سینٹر سے کوئی جنرل، نیوز لیٹر تک شائع نہیں ہوتا۔

کئی حضرات انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کو انڈیا ہیبیٹاٹ سینٹر یا انڈیا انٹرنیشنل سینٹر کی سطح کا ادارہ بنانے کی بات کرتے ہیں۔ ان کی نیک خواہش کا احترام کرتے ہوئے اس کی کوشش کی جانی چاہئے۔ غور اس پر بھی کیا جائے کہ اسلامک سینٹر کے الیکشن میں لنچ اور ڈنر پر زور کیوں بڑھتا جا رہا ہے۔ بات اس پر بھی ہونی چاہئے کہ سینٹر کا ممبر شپ صلاحیت یا کسی خاص اہلیت کی بنیاد پر دی جائے نہ کہ دولت کی۔ سوال یہ ہے کہ جن اداروں کے معیار پر اسلامک سینٹر کو لانا چاہتے ہیں کیا ان کی باگ ڈور کسی سیاسی شخص کے ہاتھ میں ہے ؟ اگر نہیں تو پھر سیاسی حضرات کیوں اس سینٹر پر قبضہ کرنا چاہتے۔ یہ اکیلا ایسا ادارہ ہے جس کا اعتماد ملک میں ابھی باقی ہے۔ جس کا کسی سیاسی مقصد کیلئے استعمال نہیں ہو سکا ہے۔ جس سے قوم کی رہنمائی اور اہل وطن کے ساتھ بہتر مراسم قائم کرنے کا کام لیا جا سکتا ہے۔ یہ کام کوئی سیاسی شخص نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے اپنے مقاصد ہوتے ہیں۔ اب یہ سینٹر کے 3525 ممبران طے کریں گے کہ وہ اس کی کمان کس کے سپرد کرتے ہیں۔ ان کے جو سینٹر کے مقاصد کے تئیں سنجیدہ ہیں یا ان کے جو اس کو سیاست کا میدان بنانے پر آمادہ ہیں۔

تبصرے بند ہیں۔