اسلام میں روزہ کیوں اہم ہے؟

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

روزہ اسلام کا ستون اور جسمانی عبادت ہے۔ یہ صبر، برداشت، اطاعت، ہمدردی، خیر خواہی اور امن کی علامت ہے۔ مسلمانوں پر روزے اسی طرح فرض ہیں جیسے پہلی امتوں پر کئے گئے تھے۔ روزہ کا تصور تمام مذاہب میں موجود ہے۔ لیکن اسلام میں روزہ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ کیوں کہ یہ خدا کا خوف پیدا کرنے اور رضا الٰہی کا ذریعہ ہے۔ عربی میں روزہ کو صیام کہتے ہیں۔ جس کا مطلب ہے رک جانا، روزہ انسان کو ہر رائی سے روکتا ہے۔ یہاں تک کہ روزہ کی حالت میں وہ چیزیں بھی استعمال نہیں کی جا سکتیں جو عام حالات میں جائز ہیں۔ اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو غریبوں، مفلسوں، بے سہاروں، یتیموں، محتاجوں کی بھوک، پیاس اور محرومی کا احساس دلانا چاہتا ہے۔ تاکہ لوگوں میں ان کی عزت و احترام، محبت، ہمدردی اور مدد کا جزبہ پیدا ہو۔ انسان خود آگے آکر کمزور بے سہاروں کی خبر گیری اور تعاون کرے۔ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم کی آگ سے نجات حاصل کرنے کا ہے۔

سناتن دھرم میں نو راتری اور کرواچوتھ کے برت روزہ کی ہی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ نوراتری کے برت سال میں دو مرتبہ آتے ہیں۔ پہلے میں آٹھ دن برت کے بعد نویں دن رام نومی منائی جاتی ہے اور دوسرے میں درگا کی پوجا کی جاتی ہے۔ مگر یہ رمضان کے روزوں کی طرح فرض نہیں ہیں۔ نہ ہی اس کے ذریعہ انسانی زندگی میں کوئی تبدیلی لانا مقصود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوراتری کے برت تمام لوگ نہیں رکھتے۔ جو برت رکھتے ہیں ان میں بھی نہ انسانوں کی عزت، ہمدردی پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی روحانیت۔ رام نومی پر ملک بھر میں فرقہ وارانہ تشدد کے طوفان سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔ اس سال نوراتری مسلمانوں کے مبارک مہینے رمضان کے ساتھ آئے ہیں۔ وزیراعظم نریندرمودی نے رمضان کی مبارکباد دی مگر اسی دن شام تقریباً 6 بجے راجستھان کے کرولی میں بھگوا دھاریوں کے ذریعہ نکالی گئی ریلی میں مبینہ پتھراؤ کے بعد تشدد پھوٹ پڑا۔ تشدد کی یہ آگ کرولی تک محدود نہیں رہی بلکہ راجستھان کے بیاور، اجمیر مدھیہ پردیش کے کھرگون، گجرات کے ہمت نگر، کھمبات، دوارکا، جھارکھنڈ، بہار، اڑیسہ،  مغربی بنگال اور دہلی کے جہانگیر پوری تک دکھائی دی۔ اگر ہندو اپنے مذہب اور برت کی حقیقت سے واقف ہوتے تو شاید ہڑدنگ اور نفرت کی شدت دکھائی نہیں دیتی۔ رمضان کے دوران اس طرح کے واقعات اور بھی تکلیف دہ ہیں۔ خاص طور پر گاندھی کے ملک میں جو عدم تشدد میں یقین رکھتا ہے۔

عدم مساوات دور کرنا رمضان کا صرف ایک پہلو ہے۔ دوسری بے شمار فضیلتوں نے اس مہینہ کو مبارک بنا دیا۔ روزہ انسان میں روحانیت پیدا کرتا ہے۔ نفس، خواہش، غصّہ پر قابو پانے میں مدد کرتا ہے۔ اس کی وجہ سے انسان کو رب کی قربت حاصل ہوتی ہے۔ اسی مہینہ میں آسمانی کتاب قرآن حکیم نازل ہوا۔ جو رہتی دنیا تک کے لیے ہدایت ہے۔ رمضان میں انسان کے نظام ہضم کو راحت ملتی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جسم کی پرانی مردہ خلیات (سیلس) ختم ہو کر نئی بنتی رہتی ہیں۔ یہ عمل جسم کو توانائی بخشتا اور تندرست رکھتا ہے۔ پرانی یا مردہ خلیات جسم سے خارج نہ ہوں تو یہ کینسر کا سبب بنتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ چودہ پندرہ گھنٹہ بیس بائیس دن بھوکا رہنے پر جسم ان خلیات کو جلا دیتا ہے۔ جس سے کینسر کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ روزہ ہمارے جسم کو نہ جانے کتنی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔

رمضان المبارک کے روزے مسلمانوں پر دو ہجری میں فرض ہوئے۔ اسی سال مسلمانوں کو اپنے دفاع میں ہتھیار اٹھانے کی اجازت ملی۔ مکہ میں تیرہ سال تک مسلمانوں کو تبلیغ کرنے کا حکم تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت کر مدینہ آنے سے کفار مکہ بوکھلا گئے۔ وہ مدینہ پر حملہ کرنے کے منصوبے بنانے لگے۔ آپ نے میثاقِ مدینہ کے ذریعہ قبائل کے ساتھ امن کا معاہدہ کیا۔ مسلمان راتوں کو جاگ کر مدینہ کی حفاظت کرنے لگے۔ آپ نے مدینہ کو کفار مکہ سے محفوظ رکھنے کے لیے شام کا راستہ روکنے اور مدینہ کے آس پاس کے قبائل سے جنگ میں مکہ والوں کا ساتھ نہ دینے کا معاہدہ کیا۔ مکہ سے شام جانے والے تجارتی قافلوں پر نظر رکھنے کے لیے صحابہ کرام کی کئی ٹکڑیوں کو الگ الگ علاقوں میں بھیجا۔ کئی مقامات پر آپ بھی صحابہ کرام کے ساتھ تشریف لے گئے۔ خبر ملی کہ بڑی مقدار میں ہتھیار لے کر مکہ والوں کا قافلہ ابوسفیان کی قیادت میں شام سے آ رہا ہے جو بدر سے ہو کر گزرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو بدر کوچ کرنے کا حکم دیا۔ ادھر ابوسفیان کو مسلمانوں کے بدر پہنچنے کا علم ہوا تو اس نے مکہ اس کی خبر بھیجی۔ اطلاع ملتے ہی ابوجہل ایک ہزار جنگ جوؤں کے ساتھ بدر کے لیے روانہ ہو گیا۔ خبر کی تصدیق ہونے پر ابوسفیان نے قافلہ کا راستہ بدل لیا۔ قافلہ کے محفوظ ہونے کی خبر مکہ بھیج دی۔ جب یہ خبر ملی تو کئی سرداروں نے واپس ہونے کا مشورہ دیا مگر ابوجہل نے بدر پہنچ کر مسلمانوں کو سبق سکھانے کی بات کہی۔

صحابہ رسول ؐ کے حکم کا انتظار کر رہے تھے۔ آپ نے صحابہ کرام سے معلوم کیا کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ مہاجرین میں سے ایک صحابی کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ہم موسیٰ کی قوم کی طرح یہ نہیں کہیں گے دشمنوں سے آپ اور آپ کا خدا مقابلہ کرے۔ ہم مقابلہ کریں گے اور جہاں آپ کا پسینہ گرے گا ہم اپنا خون بہا دیں گے۔ آپ نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور پھر معلوم کیا کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ اس مرتبہ انصار میں سے ایک صحابی کھڑے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپ پر اور آپ کے خدا پر ایمان لائے ہیں۔ ہم مقابلہ کریں گے دشمنوں کو آپ تک پہنچنے کے لیے ہماری لاش سے گزرنا پڑے گا۔ یہ سترہ رمضان المبارک تھا جب بدر کا معرکہ پیش آیا۔ ہزار مسلحہ جنگ جوؤں کے مقابلہ 313 صحابہ تھے۔ جن کے پاس پورے ہتھیار بھی نہیں تھے۔ صرف دو گھوڑے، سات اونٹ، چند تلواریں اور گنتی کے تیر تھے۔ دوسری طرف کسی چیز کی کوئی کمی نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان پر غالب کر دیا۔ ستر کفار مارے گئے، ستر گرفتار ہوئے۔ سترہ رمضان کو یوم بدر یوم فرقان کہا جاتا ہے۔ اللہ کی مدد سے چند مسلمانوں کو کثیر تعداد پر فتح حاصل ہوئی۔ رمضان یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ خود پہل نہ کرو لیکن جب پانی سر سے گزر جائے تو اپنی دفاع کے لیے تیار رہو۔ تمہیں کامیاب ہوگے اگر تم مومن ہو۔

رمضان کے آخری عشرہ میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار راتوں سے افضل ہے۔ اسے طاق راتوں میں تلاش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس رات کو فرشتے اتارے جاتے ہیں جو عبادت کرنے والوں سے مصافحہ کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ فجر تک جاری رہتا ہے۔ روزہ رکھنے سے ہو سکتا ہے جسم کچھ کمزور ہو جائے لیکن اس سے ایمان پختہ اور خدا سے تعلق مضبوط ہوتا ہے۔ اللہ کی نصرت اور مدد میں یقین پیدا ہوتا ہے۔ دو ہجری میں روزہ فرض ہونے کے ساتھ پہلی عید سعید منائی گئی۔ اسی سال مسلمانوں کا قبلہ (مرکز) خانہ کعبہ کو بنایا گیا۔ اس کی طرف منھ کرکے نماز پڑھنے کا حکم نازل ہوا۔ اللہ کو بھوک، پیاس نہیں پہنچتی بلکہ وہ تقویٰ پہنچتا ہے جو رمضان کے روزے رکھنے کی وجہ سے مومن میں پیدا ہوتا ہے۔ رب العزت روزہ کے ذریعہ ایمان والوں کی تربیت کرتا ہے کہ مومن ہر حال میں اس کا شکر بجا لائیں۔ چاہے پورے دن بھوکا رہنا پڑے یا پیاسا، چاہے موسم کی سختی سے گزرنا پڑے یا حالات کی نزاکت سے۔ مومن غم نہ کریں اس کی رحمت سے مایوس نہ ہوں ایمان کا دامن تھامے رکھیں، اس مدد آ کر ہی رہتی ہے۔ یہی اس ماہ مبارک کی اہمیت ہے۔ ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ اللہ رمضان المبارک کی قدر کرنے، اس میں پوشیدہ حکمتوں کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے جیسا کہ اس کا حق ہے۔ آمین یا رب العالمین

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا