افراط زر اور ہمارا نظام معیشت

اکسائز اور ویٹ کے نام پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں 60 فیصد بڑھی ہیں۔

سراج الدین فلاحی

گذشتہ سال جب پوری دنیا میں لاک ڈاؤن لگا تو لوگوں کا نقل و حمل کم ہو گیا تھا، نقل و حمل کم ہونے سے کروڈ آئیل کا کنزمشن کم ہو گیا، کنزمشن کم ہونے سے ڈیمانڈ میں کمی آئی جس کے نتیجے میں قیمت نیچے چلی گئی اور کروڈ آئیل کا ریٹ جو تقریبا 70 ڈالر فی بیرل تھا وہ گر کر 20 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ ان سب کو دیکھتے ہوئے پٹرول ایکسپورٹ کرنے والے ممالک کی تنظیم OPEC جنہوں نے عالمی مسابقہ آرائی سے بچنے کے لیے ایک کارٹیل بنا رکھا ہے انہوں نے اپریل 2020 میں پٹرول کی پروڈکشن کو کم کرنے کا دو سال کا ایک معاہدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پٹرول کی سپلائی کم نہ کی گئی تو قیمت مزید گر جائے گی اور اس کا نقصان صرف اور صرف اپیک کا ہو گا۔ چنانچہ اس معاہدے میں طے پایا کہ وہ پٹرول کا پروڈکشن دس ملین بیرل فی دن کم کریں گے جو کہ کل پروڈکشن کا 22 فیصد ہوتا ہے۔ اب جبکہ معیشت کھل چکی ہے، نقل و حمل بڑھنے لگا ہے تو کروڈ آئیل کے ڈیمانڈ میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے لہذا کروڈ آئیل کی قیمتیں عالمی بازار میں تقریبا 75 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری سرکار بار بار ایک ہی بات کی رٹ لگا رہی ہے کہ عالمی بازار میں کروڈ آئیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں جس کی وجہ سے ہمارے ملک میں پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہو رہا ہے۔ تو کیا بات صرف عالمی بازار میں کروڈ آئیل کی قیمتوں میں اضافہ تک محدود ہے؟

مہنگائی دو طرح کی ہوتی ہے۔ اشیاء اور خدمات کی ڈیمانڈ میں اضافہ کی وجہ سے جب ان کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اسے Demand pull inflation کہتے ہیں اور جب خام مال یا کاسٹ بڑھنے کی وجہ سے پروڈکٹ مہنگے ہوتے ہیں تو اسے Cost push inflation  کہتے ہیں۔ ہماری معیشت میں ابھی جو مہنگائی دیکھنے کو مل رہی ہے وہ کاسٹ میں اضافہ کے سبب ہے۔ چونکہ ہمارے ملک میں تمام طرح کی اشیاء کے ٹرانسپورٹیشن کا انحصار ٹرکوں پر ہے اس لیے پٹرول اور ڈیزل کے مہنگا ہونے کی وجہ سے ٹرانسپورٹیشن کاسٹ بڑھ گیا ہے جس کا سیدھا اثر قیمتوں پر پڑا ہے۔ گذشتہ ایک سال کے دوران صرف خوردنی تیل کی قیمت میں تقریبا 45 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ پھل، سبزیاں، دال، مسالے اور دودھ یعنی ہر وہ شئی جو ہماری زندگی کے لیے ناگزیر ہے مہنگی ہو گئی ہے۔ چنانچہ آپ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو دیکھیں گے کہ کنزیومر پرائس انڈیکس یعنی CPI  کا افراط زر 6.27 فیصد اور ہول سیل پرائس انڈیکس (WPI) کا افراط زر 12.9 فیصد پر پہنچ گیا ہے۔ مہنگائی کی یہ سطح ہمارے ملک میں سرکار کے ذریعے متعین کی گئی بیش ترین سطح سے بھی زیادہ ہے۔ حالات اتنے نازک ہو چکے ہیں کہ اب ماہرین معاشیات Stagflation کا خطرہ ظاہر کر رہے ہیں جس میں اشیاء اور خدمات کی قیمتیں بڑھنے لگتی ہیں جبکہ ڈیمانڈ کم ہو نے کی وجہ سے معیشت کا پہیہ رک جاتا ہے۔ سرکار کی سردردی یہ ہے کہ اگر وہ مہنگائی کو کنٹرول کرتی ہے تو جی ڈی پی گروتھ گر جاتا ہے اور جب جی ڈی پی کو ڈھیل دینے کے لیے معیشت میں لیکویڈیٹی ڈالتی ہے تو مہنگائی مزید بڑھ جاتی ہے۔

پٹرول اور ڈیزل پر اکسائز ڈیوٹی اور ویٹ کے نام سے مرکزی اور ریاستی سرکاریں جتنی وصولیاں کر رہی ہیں اس سے پہلے اتنی وصولی کبھی نہیں ہوئی تھی۔ 2014 میں سرکار نے جب اقتدار سنبھالا تو اس وقت پٹرول پر اکسائز ڈیوٹی کے نام سے اس نے تقریبا ایک لاکھ کروڑ کمایا تھا، اس سال یہ رقم ساڑھے چار لاکھ کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ ریاستی سرکاریں بھی کچھ کم نہیں ہیں اس وقت وہ بھی پٹرول اور ڈیزل پر بھاری ویٹ لگا کر اپنی بھاری بھر کم توند بھر رہی ہیں۔ 2014 میں ریاستی سرکاروں نے ویٹ کے ذریعے 137 ہزار کروڑ روپیہ کمایا تھا۔ اس سال یہ کمائی دو لاکھ کروڑ سے زیادہ ہے۔ پہلے مہنگائی در بڑھتی تھی تو لوگوں کی فی کس آمدنی بھی بڑھتی تھی اب معاملہ اس کے برعکس ہے۔ اس بار مہنگائی بڑھی ہے لیکن لوگوں کی فی کس آمدنی گھٹ گئی ہے۔ IMF کے آنکڑے دیکھیں تو انڈیا میں فی کس آمدنی گھٹ کر ایک لاکھ روپیہ سے بھی کم ہو گئی ہے جبکہ انڈیا کے پڑوسی ملک بنگلہ دیش اور سری لنکا میں فی کس آمدنی انڈیا سے زیادہ ہے۔ اتنی کم فی کس آمدنی کے باوجود انڈیا پوری دنیا میں پٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس لگانے والے ممالک کی فہرست میں اونچا مقام رکھتا ہے۔ دھیان رہے کہ کسی بھی ملک کی معیشت میں مہنگائی جب لگاتار بڑھتی ہے تو معیشت میں Wage-Price Spiral کی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔ اس صورت حال میں مہنگائی کی وجہ سے چونکہ قوت خرید کم ہو جاتی ہے اس لیے مہنگائی بھتا کے نام پر ملازمین کی تنخواہیں بڑھتی ہیں اور بڑھی ہوئی سیلری کی وجہ سے مہنگائی مزید بڑھ جاتی ہے۔ یعنی قیمت اور اجرت دونوں ایک دوسرے کا تعاقب کرتی ہیں۔ مہنگائی جب طویل عرصہ تک قائم  رہتی ہے تو ملک کا ایکسپورٹ عالمی بازار میں مہنگا ہونے کی وجہ سے اپنا وقار کھونے لگتا ہے اور پھر وہاں فاریکس ریزرو کی کمی ہونے لگتی  ہے جس کے نتیجے میں امپورٹ کا مسئلہ ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید کم ہو جاتی ہے اور خام مال کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ نتیجتا ملک میں FDI کا فلو بھی رک جاتا ہے۔

سرکار یہ کہ کر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ کر رہی ہے کہ اس نے ایک سال تک ملک کے 80 کروڑ غریب عوام کو ماہانہ پانچ کلو اناج مفت دیا ہے جس کی وجہ سے سرکاری خزانے پر سوا دو لاکھ کروڑ کا بوجھ پڑا ہے۔ حالانکہ گذشتہ ایک سال کے اندر امپورٹ ڈیوٹی کی وجہ سے ریفائن اور پام آئیل کی قیمتوں میں تقریبا 45 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اکسائز اور ویٹ کے نام پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں 60 فیصد بڑھی ہیں۔ LPG میں 31، دالوں میں 12، پھل اور سبزیوں میں تقریبا 9 فیصد کا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اسی لیے وہ کمپنیاں جو اشیائے خوردونوش فروخت کرتی ہیں ان کی آمدنی گذشتہ ایک سال میں ساڑھے چار لاکھ کروڑ روپیے بڑھی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق جن کمپنیوں کے پروڈکٹ کووڈ کی وبا میں سب سے زیادہ مہنگے ہوئے ہیں ان کمپنیوں نے سیاسی فنڈنگ بھی خوب کی ہے۔ کیا یہی وجہ نہیں ہے کہ اس وقت ملک کی ایک بڑی آبادی اس قدر آلام و مصائب کا شکار ہو گئی ہے کہ NCRB کی رپورٹ کے مطابق پچھلے سال کی نسبت اس سال 20 فیصد زیادہ خود کشی کے معاملات سامنے  آئے ہیں۔ انڈیا جہاں تقریبا ایک تہائی آبادی خط افلاس سے نیچے زندگی گذار رہی ہے وہاں بڑی کمپنیاں نہ صرف اپنی مصنوعات کو بیچ کر بھاری منافع کما رہی ہیں بلکہ نئی کمپنیوں کو خریدنے کے لیے بینکوں سے قرض بھی  لے رہی ہیں، قرض لے کر خود کو دیوالیہ بھی ڈیکلیئر کروا رہی ہیں۔ پھر ان کو خریدنے کے لیے دوسری کمپنی لائی جاتی ہے اور وہ انہیں بینکوں سے لون لے کر ڈوبی ہوئی کمپنی کو کوڑیوں کے دام خرید لیتی ہے جن بینکوں کو پہلی کمپنی نے چونا لگایا تھا۔ ذرا سوچیے کہ یہ اور اس طرح کے گیم جب ہمارے معاشی نظام کا حصہ بن جائیں جن کے ذریعے بینکوں میں رکھی عوام کی گاڑھی کمائی کو یہ بڑے کھلاڑی بڑی آسانی سے لوٹ رہے ہوں تو وہاں مہنگائی کا رونا تو بہت چھوٹی بات ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔