انتخاب 2019: پیش کر غافل عمل جو بھی ترے دفتر میں ہے

اے۔ رحمان

اب اس بات میں اختلاف کی گنجائش نہیں رہی کہ2019 میں ہونے والا انتخاب ملک کے مستقبل کو شاید اگلے پچاس برس کے لیے طے کر دے گا۔ برسرِ اقتدار جماعت اور حزب مخالف دونوں جانب سے ایک ہی بات الگ الگ جذبے کے تحت کہی جا رہی ہے۔ وہ یہ کہ یہ آخری  انتخاب ہوگا۔ بی۔ جے۔ پی کے نزدیک اس کا مطلب ہے کہ ہندو راشٹر قائم ہو جائے گا اور دوسری جماعتوں کو خدشہ ہے کہ اگر بی۔ جے۔ پی نے ایک مرتبہ پھر اقتدار حاصل کر لیا تو تمام آئینی اداروں پر اس کا مکمل قبضہ ہوگا۔ جمہوریت کا تصور مٹا دیا جائے گا اور ملک کا سیاسی ڈھانچہ اس طور تبدیل کر دیا جائے گاکہ عام انتخابات کی ضرورت ہی نہ رہے۔ ہندو راشٹر واد کے حامی اب پورے طور پر ننگے ہو کر سامنے آگئے ہیں اور اس کی اہم ترین وجہ ہے موجودہ حکومت کے پچھلے پانچ سال کے اعداد و شمار اور عوام سے کیے گئے وعدوں کا حشر جن سے روگردانی کا اب کوئی بہانہ کسی کے پاس نہیں رہا۔ نوٹ بندی نے معیشت کی کمر توڑ کر درمیانہ درجے کے کاروبار کا بیڑہ غرق کر دیا تھا۔ GST کے نفاذ نے رہی سہی کثر پوری کر دی۔ کالا دھن واپس نہیں آیا۔ دو کروڑ روز گار پیدا ہونے کے بجائے بے روز گاری میں اضافہ ہوا۔ رام مندر اور بابری مسجد قضیہ کا کوئی سیاسی حل بر آمد نہ ہو سکا۔ دوسرے الفاظ میں رام مندر نہیں بن سکا۔ رافیل سودے کی بد عنوانی چھپائی نہیں جا سکی، چین اور پاکستان کے معاملے میں خارجہ پالیسی بری طرح ناکام نظر آئی، عالمی سطح پر ملک کی شبیہہ داغدار ہوئی خصوصاً مذہبی عدم رواداری کے نکتے پر۔ وکاس یعنی ترقی کا لفظ جو  پچھلے انتخاب کا کلیدی لفظ یا نعرہ تھا ایک مذاق بن کر رہ گیا۔ قومی معاشرہ اخلاقی اور نفسیاتی زاویوں سے خطرناک حد تک غیر متوازن ہو گیا جس میں الیکٹروناک میڈیا نے خصوصی طور پر منفی کردار ادا کیا۔ پوری تواریخ کو زعفرانی رنگ دے کر توڑنے مروڑنے کی منظم کوششوں کے ساتھ ساتھ ملک کے بنیادی تعلیمی ڈھانچے کو آر۔ ایس۔ ایس کے ایجنڈے کے مطابق تبدیل کرنے کا عمل جاری ہے۔

 پانچ سالہ دورِ حکومت کی کار گزاریوں اور کارناموں کی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیے۔ قومی جائزہ دفتر(NSSO) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق بے روز گاری کی موجودہ شرح نے پچھلے پینتالیس سال کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ سوئٹزر لینڈ کے سب سے بڑے مالیاتی ادارے اور عالمی سطح پر مستند اور قابل بھروسہ بنکCRedit Suisse کی رپورٹ کہتی ہے کہ انفرادی آمدنی پچھلے80سال میں سب سے زیادہ نا مساوی ہے۔ یعنی امیر و غریب کا فرق اور فاصلہ غیر معمولی طو رپر بڑھ گیا ہے۔ اقوام متحدہ کا صحت سے متعلق ادارہ WHO بتا رہا ہے کہ اس وقت دنیا کے دس بدترین آلودہ شہر ہندوستان میں ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے حال ہی لکھا ہے کہ حالیہ  دو سال میں ہندوستانی سپاہیوں کی شہادت پچھلے تیس سال میں سب سے زیادہ رہی۔ رائٹرز کے جائزے میں سامنے آیا کہ ہر لحاظ سے خواتین کے لیے بدترین ملک اس وقت ہندوستان ہے۔ قیمتوں اور مہنگائی سے متعلق عالمی ادارے WPI کے جائزے میں درج ہوا کہ ہندوستانی کسان پچھلے اٹھارہ سال میں سب سے زیادہ نقصان کا شکار 2017اور2018 میں ہوئے جس سے قومی معیشت کو دھکا پہنچا۔ ISPکہتا ہے کہ مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد گائے سے متعلق تشدد اور ہجومی قتال میں فقید المثال اضافہ ہوا۔

 گلوبل ویلتھ رپورٹ مظہر ہے کہ  دولت کی تقسیم کے حساب سے ہندوستان اس وقت دنیا کا دوسرا سب سے نا مساوی ملک ہے۔ زر ِ مبادلہ کی کارکردگی کے معنی میں ہندوستانی روپیہ اس وقت ایشیا کی بدترین کرنسی ہے۔ ماحولیاتی تحفظ اور آلودگی کے زاویے سے ہندوستان تیسرا بدترین ملک ہے۔ 2017 میں جو فائننس بل پاس ہوا اس کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاری اور اس کے تحت کی جانے والی بد عنوانی کو تقریباً قانونی تحفظ دے دیا گیا۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے وزیر اعظم مودی کی پالیسیوں اور سیاسی رویوں پر جس قسم کے تبصرے کیے ہیں انھیں پڑھ کر صرف شرم آتی ہے۔ پچھلے ستّر سال میں اس ملک کا کوئی وزیر اعظم اتنا غیر جوابدہ اور غیر ذمہ دار نہیں رہا کہ اس نے اپنے دور حکومت میں ایک بھی پریس کانفرنس نہ کی ہو۔ قومی سطح کے اہم اداروں کا یہ حال بے حال ہوا کہ سی۔ بی۔ آئی جیسے حساس ادارے میں اعلیٰ ترین افسران باہم دست و گریباں ہوئے اور معاملات عدالت تک گئے۔ ریزرو بنک آف انڈیا کی عوام مخالف پالیسیاں اور اندرونی خلفشار طشت از بام ہوا اور عدالت عظمیٰ کے چار جج صاحبان کو پریس کانفرنس طلب کرکے ’ جمہوریت خطرے میں ‘ کا نعرہ بلند کرنا پڑا۔ لیکن بنیادی جمہوری اقدار و معیار کے لیے جوچیز  سمّ ِقاتل ثابت ہو رہی ہے وہ ہے ذرائع ابلاغ خصوصاً الیکٹرانک میڈیا پر حکومت کا مکمل قبضہ جسے بڑے شرمناک طریقے سے اونچی قیمت دے کر خرید لیا گیا اور نا خواندہ اور نیم خواندہ عوام پر مشتمل ملک کی بیشتر آبادی حقائق سے محروم ہو کر حکومت کے خاطر خواہ سیاسی پروپیگنڈے کے زیر اثر آ گئی۔ اس کا سب سے تکلیف دہ نتیجہ یہ ہوا کہ معاشرے کو ایس۔ ایس کی سرنج سے لگائے ہوئے مذہبی منافرت او ر فرقہ وارانہ افتراق کے انجکشن کا مہلک زہر کافی حد تک سرایت کرگیا۔

تقریباً ہر معاشی اور معاشرتی محاذ پر حکومت کی مکمل ناکامی کو دیکھتے ہوئے تو آئندہ الیکشن میں بی۔ جے۔ پی کی کامیابی کے امکانات صفر سمجھے جانے چاہئیں کیونکہ ان کے پاس ایک بھی انتخابی نعرہ یا مدعا نظر نہیں آتا۔ نہ ہی کوئی ایسا ممکنہ سبز باغ باقی بچا ہے جسے دکھا کر عوا م کی حمایت یا رغبت حاصل کی جا سکے، سوائے ہندوتو یعنی ایک ہندو ریاست کے قیام کی تعبیر جو ممکن ہو سکتی ہے اگر بی۔ جے۔ پی واپس اقتدار میں آ جائے۔ حالانکہ وہ اتنا آسان تو نہیں ہوگا لیکن حالیہ دور اقتدار میں جس طور آئین اور آئینی اداروں کو نقصان پہنچایا گیا، سیکولرزم اور مساوات کی دھجیاں اڑائی گئیں، سول کوڈ کی دہائی دے کر فرقہ وارانہ اور مسلکی تنازعات پیدا کیے گئے، کارپوریٹ سیکٹر کو پوری طرح مٹھی میں کر لیا گیا اسے دیکھتے ہوئے آر۔ ایس۔ ایس کے متصورہ سیاسی انقلاب کا وقوع پذیر ہو جانا ناممکن بھی نہیں۔ جہاں تک انتخاب میں کامیابی اور ناکامی کا سوال ہے تو یو۔ پی میں متوقع اتحاد ناکام ہو جانے کے بعد سیاسی بساط کی صورت ِ حال ناگفتہ بہ ہے۔ صوبائی سطح پر مختلف النوع اور منتشر اتحاد بی۔ جے۔ پی کے خلاف کتنی تعدادی قوت پیدا کر پائے گا اور الیکشن کے نتائج آنے کے بعد کس حد تک متحد رہ پائے گا یہ اندازہ بھی کرنا مشکل ہے۔ اب تو بہترین حکمت ِ عملی یہ ہو سکتی ہے کہ جو جماعتیں سیکولر ازم کے نام پر بی۔ جے۔ پی کے خلاف پر خلوص طریقے  سے متحد ہیں وہ جمہوری اقدار اور قومی یکجہتی جیسے ایشو لے کر عوام کے پاس جائیں نہ کہ ’’ مودی ہٹاؤ ‘‘  نعرہ لے کر جو مودی کو مظلومیت کی چادر اوڑھ کر عوامی ہمدردی کے حصول کا موقع فراہم کر دے گا۔

تبصرے بند ہیں۔