ایودھیا: ثالثی صبر طلب اور سیاست بے تاب

اے۔ رحمان

 دنیا کے تمام مذاہب اور فلسفے اس بات پر متفق ہیں کہ پر امن بقائے باہم اور جذبۂ اخوت انسانی معاشرے کا نصب العین ہونا چاہیے مگربغض و حسد،  اختلافِ عقائد اور جرم بھی فطرت انسانی کے اجزائے ترکیبی ہیں لہٰذا ان سے پیدا شدہ مسائل کے حل کے لیے قانون اور عدالتیں وجود میں آئیں لیکن حصولِ انصاف کے عدالتی عمل کی قیمت، پیچیدگی اور طوالت کو دیکھتے ہوئے بہت جلد دنیا بھر میں متبادل طریقہ ہائے تصفیہ(Alternative Dispute Redressal) کی حمایت اور ترویج کی جانے لگی۔ ہندوستان میں ویدک دور سے ہی ثالثی کا تصور موجود ہے اور گوتم بدھ کی تعلیمات میں بھی’ امن‘ کو بنیادی مقصد قرار دے کر جھگڑوں اور قضیوں کے نبٹارے کا راستہ سجھایا گیا ہے۔ اسلام نے تو صلح جوئی اور ثالثی کو نہایت پسندیدہ اور احسن عمل قرار دیتے ہوئے دو فریقو ں کے مابین صلح کرانے والے کو ثوابِ دارین کا وعدہ کیا ہے۔

         ایودھیا معاملے کی پچھلی چار سماعتوں میں کئے گئے احکامات کو بنظر ِ غائر دیکھ کر بین السطور پڑھا جائے تو صاف پتہ چلتا ہے کہ فاضل چیف جسٹس نے عزم کر لیا تھا کہ اس قضیے کو حکومت ِ وقت کے ذریعے سیاسی مفاد کے لئے استعمال نہیں کرنے دیا جائے گا  لہذٰا  معاملہ (جائز اور معتبروجوہات کی بنا پر) ٹالا جاتا رہا۔ اور اب سپریم کورٹ نے عدالتی حکم کے ذریعے اسے ثالثی (mediation ) کے حوالے کیے جانے کا حکم صادر کرکے جس اعلیٰ تدبر او منصفانہ صوابدید کا ثبوت دیا ہے وہ قابل تحسین بھی ہے اور  فقید النظیر بھی۔ خصوصاً اس صورت میں کہ خود سپریم کورٹ نے جولائی2010 میں Afcons Infra  مقدمے پر دیے گئے اپنے ایک فیصلے کی رو سے قائم کی گئی نظیر کے خلاف اجودھیا مقدمے کو ثالث کے حوالے کیا ہے۔ اُس مقدمے میں عدالت نے متعلقہ قانون کی تشریح کرتے ہوئے یہ اصول قائم کیا تھا کہ ’ نمائندہ‘ نوعیت کے مقدمات کو ثالثی کے لیے نہیں بھیجا سکتا۔ نمائندہ نوعیت کا مقدمہ وہ ہوتا ہے جس میں فریقین کی ذاتی غرض،  دعویٰ یا حق شامل نہیں ہوتابلکہ وہ کسی ایسی ہستی، ادارے یا گروہ کے حقوق کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں جو بنفس ِ نفیس عدالت کے سامنے موجود نہیں ہوتا یا نہیں ہو سکتا۔ ایودھیا مقدمے کے فریق ایک جانب ہندو قوم کے مذہبی عقیدے کے لیے مدعی ہیں تو دوسری جانب پورے مسلم فرقے کے آئینی حقوق کی نمائندگی کا معاملہ ہے۔ فریقین کی قانونی حیثیت میں ایک بنیادی فرق یہ بھی ہے کہ مسلم فرقہ بابری مسجد کے انہدام کی وجہ سے زخم خوردہ مظلوم کی حیثیت سے عدالت کے سامنے ہے اور اس چیز نے پورے معاملے کو اور بھی زیادہ پیچیدہ کر دیا ہے۔ آج سے پچیس برس قبل بھی سپریم کورٹ نے مشورتاً کہا تھا کہ یہ معاملہ ثالثی کے ذریعہ حل کر لیا جائے۔ لیکن وہ مشورہ ان سنا کر دیا گیا تھا۔ اس مرتبہ معاملہ مختلف ہے۔ عدالت نے ایک ’حکم‘ کے ذریعے فریقین پر ثالثی عائد کر دی ہے۔ یہ ایک بے مثال اور تاریخی پیش رفت ہے۔ عدالت نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ یہ معمولی ملکیت ِاراضی کا مقدمہ نہیں بلکہ اس پورے معاملے میں دیے گئے کسی بھی فیصلے کا قومی معاشرے اور ملک کے سیاسی ڈھانچے پر گہرا اثر پڑے گا۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا کہ زخموں کے اند مال اور ہندو مسلم فرقو ں کے مابین خوشگوار تعلقات کی بحالی کو فوقیت دیا جانا ضروری ہے۔ بعض جوانب سے اس فیصلے پر نہ صرف اعتراضات اٹھائے گئے ہیں بلکہ اس کے خلاف احتجاج بھی کیا گیا ہے۔ ہندو خیمے کے چند فریقین نے ثالثی کو قبول کرنے سے انکار بھی کیا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو موجودہ صورت حال پر سیاست بھی زور شور سے شروع ہو گئی ہے۔ کوئی بھی متنازع مسئلہ سیاست کی اس آگ پر گھی کاکام کرتا ہے جس پر سیاستدانوں کے ذاتی مفاد کی ہانڈیاں چڑھی ہوتی ہیں۔ عام گفتگو اور اخبارات میں شائع مضامین اور مباحث میں صاف طور پر کہا جا رہا ہے کہ ایودھیا مسئلہ ثالثی کے ذریعے حل ہونا ممکن نہیں۔ نہایت خوشی کا مقام ہے کہ مسلم فریق نے برضا و رغبت ثالثی کے عمل کو قبول کر لیا ہے ماسوا شری شری روی شنکر کی بحیثیت ثالث تقرری کے جس پر تمام اہم مسلم رہنماؤں نے بجا طور  پراعتراض کیا ہے کیونکہ ثالثی پر خود سپریم کورٹ کے مرتب کردہ اصول وضوابط کے کتابچے میں درج ہے کہ ثالث کا قطعی غیر جانبدار ہونا ضروری ہے اور شری شری اس قضیے کے بارے میں اپنی متعصبانہ رائے کا برملا اظہار کر چکے ہیں۔ یہ جاننا ضروری ہوگاکہ عدالت نے کس مصلحت یا سفارش کے تحت شری شری کے نام پر مہرِ قبولیت ثبت کی۔

        جو لو گ عدلیہ کی تقدیس کی دہائی دے کر عدالتی فیصلے کے حق میں ہیں وہ عدالتی عمل کے عواقب و نتائج سے یا تو بے بہرہ ہیں یا ان پر غور نہیں کر رہے ہیں۔ خصوصاً ایسا تنازعہ جو طویل عرصے تک زیر سماعت رہا ہو فریقین میں ذاتی عناد و مخاصمت کا باعث ہوجاتاہے۔ عدالت ثبوت و شواہد کی بنیاد پر کسی ایک فریق کے حق میں فیصلہ کر نے پر مجبور ہے۔ نتیجے کے طو رپر شکست خورہ فریق احساس ِ ہزیمت سے مغلوب ہو کرجرم و تشدّد پر آمادہ ہو سکتاہے۔ مخاصمت گہری  اور شدید ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس ثالثی کا عمل پورے طور پر گفت وشنید اور افہام و تفہیم پر مبنی ہے۔ اس افہام و تفہیم میں دعویٰ جواب دعویٰ اور ثبوت و شواہد کو بالائے طاق رکھ کر صرف امن و آشتی اور باہمی رضا مندی کے ذریعے کسی ایسے فارمولے کی تلاش کی جاتی ہے جو  ہار اور جیت، غلط اور صحیح  کے سوالات قائم کئے  بغیربنائے مخاصمت کو  اس طورتحلیل کر دے کہ کسی فریق کی سبکی نہ ہو۔ مندر مسجد قضیے سے سیاسی مفاد کا حل کر نے کے خواہاں لوگوں کو یقین ہے کہ گفت و شنید سے معاملہ حل نہیں ہوگا۔ لہٰذا انھیں اس بات کی جلدی ہے کہ عمل ثالثی کی ناکامی کا اعلان ہو تاکہ پھر سیاسی ماحول گرما دیا جائے۔ اس سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اتنے طویل عرصے سے چلے آ رہے تنازعے کا حل آٹھ ہفتے کی قلیل مدت میں تلاش کر لینا ممکن نہیں۔ لیکن ایک اچھی سمت میں ایک اچھی ابتدا ہو چکی ہے اور آئندہ کارروائی کا انحصار اس رپورٹ پر ہوگا جو آٹھ ہفتے بعد سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوگی۔ اس رپورٹ میں پینل مزید وقت بھی طلب کر سکتا ہے جو عدالت بلا تامل عطا کر دے گی۔ رپورٹ میں گفت و شنید کی تفصیل بھی ہوگی جس سے کم از کم عدالت کو فریقین کا ذہن پڑھنے میں آسانی ہوگی اور اگر ضرورت محسوس کی گئی تو عدالت اس کے بعد بھی رہنما خطوط متعین کر کے ثالثی کے عمل کو جاری رکھنے کا حکم دے سکتی ہے۔ سمجھنے کی کوشش کی جائے تو صاف سمجھ میں آتا ہے کہ سپریم کورٹ نے اس تنازعے کا خطرناک اور مہلک ڈنک توڑ دیا ہے۔ اب سامنے بیٹھ کر فہمائش کے بجائے فرمائش اور تجویز جوابی تجویز کا جو سلسلہ شروع ہو گا اس سے اور کچھ نہیں تو ایسی فضا ضرور قائم ہو جائے گی جس میں سرکش اور تند خو فریق اپنے قد آور گھوڑوں سے اترنے پر مجبور ہوں گے اور جس لمحے بھی فریقین مشترک اور مساوی سطح پر آگئے وہی لمحۂ مبارک ہو گا۔ کہا گیا ہے کہ سنگین ترین مسٔلے کو بھی وقت دو۔ ۔ دیتے رہو تو وہ خود کو حل کر لیتا ہے۔ جیسا کہ مذکور ہوا ایک اچھی ابتدا ہو چکی۔ اب سیاست کو پست کر کے اس عمل کو وقت دیا جائے، صبر کیا جائے اور شجر ِ ثالثی سے پیوست رہا جائے تو بہار ہی بہار ہے۔ انشأاللہ

تبصرے بند ہیں۔