باد مخالف  سے گھبرائے بغیر فرض منصبی پر توجہ

عمیر کوٹی ندوی

دور حاضر کے شب وروز کی گردش بہت تیزی سے ملت اسلامیہ کے گرد حلقہ تنگ سے تنگ کرتی جارہی ہے اور زمانہ کا پہیہ بے دردی سے مسلم جانوں کو پیستا ہوا آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ ہم سب اس کے شاہد اور اس کے شکار ہیں۔ اس کے لیے مادہ پرستانہ ذہن مختلف اسبا ب و علل بیان کرتا ہے، اس پر قابو پانے  اور اس سے نجات حاصل کرنے کےنسخے اور تدبیریں بھی پیش کرتا ہے۔ اس کے ذریعہ کئے گئے حالات کے تجزیہ میں صورت حال سے قربت بھی پائی جاسکتی ہے اور اس کی بتائی ہوئی تدبیروں کو اختیار کرنے سے جزوی فوائد بھی حاصل ہوسکتے ہیں۔ لیکن اس وقت پیش آمدہ صورت حال اورحالات،خاص طور پر ملکی صورت حال کو مدنظر رکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ خالص مادہ پرستانہ تجزیہ اور حل سود مند ثابت نہیں ہوا بلکہ حالات نے پہلے سے زیادہ سنگینی کا اشارہ کردیا ہے۔ گزشتہ ماہ وسال میں مادہ پرستانہ ذہن کے ساتھ مسلمانان ہند کی بڑی تعداد نے گردش دوراں کو روکنے اور اس کے رخ کو موڑنے کے لیے جو بھی  حکمت عملی اختیار کی وہ بے سود ثابت ہوئی۔ صورت حال” الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا” سے بھی آگے بڑھ کر کچھ یوں ہوگئی کہ ” مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی”۔عالمی سطح پر اور خا ص طور پرملکی سطح پر یہ صورت حال ملت اسلامیہ کو سوچنے کی دعوت دیتی ہے ۔

دیگر اقوام وملل کے لیے خالص مادہ پرستانہ مفادات کا حصول اور اس کے لیے جدوجہد جگ ظاہر ہے۔ملت اسلامیہ کے لیے  گردش زمانہ پرسوچنے کی بات اس لیے ہے کہ ان حالات کا ہر جگہ ہرکہیں اصل نشانہ وہی ہے اور اسی کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے۔ اب تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اقوام وملل اپنے درپردہ عزائم کی تکمیل اور مقاصد کے حصول کے لیے ملت اسلامیہ کو محض ڈھال کے طور پر استعمال کرنے لگی ہیں۔خود ہمارے ملک میں کھلے طور پر اس کی مثالیں کثرت سے ملتی ہیں۔اس لیے کوئی بھی تبدیلی ملت اسلامیہ کے لیے لمحۂ فکریہ لے کر ہی آتی ہے۔ آج سے پانچ برس قبل کی سیاسی تبدیلی نے ملت کو فکرمند کردیا تھا۔اس تبدیلی کے فوراً بعد ملت کے ہر حلقہ نے صورت حال پر تبادلۂ خیال کےلیے نشستیں منعقد کیں، اس پر غور وخوض کیا گیااور آئندہ کے لیے لائحۂ عمل بھی تیار کیاگیا۔ لائحۂ عمل پر کتنا عمل ہوااس عرصہ میں گزرے ہوئے ملت کے شب وروز اس کے شاہد ہیں ۔ اس پوری مدت میں اس پر اور اس کے ضمن میں باتیں خوب ہوئیں  اور باتیں ہی باتیں ہوئیں ۔ عمل کا مرحلہ تو کہیں کہیں خال خال نظر آیا۔ اس بارماضی میں ہونے والی سیاسی تبدیلی  کے زیادہ مضبوط شکل میں سامنے آنے نے ملت کو ایک بار پھرفکرمند کردیا ہے اور پہلے سے زیادہ کردیا ہے۔ یہ فکرمندی غیر فطری نہیں ہے،اس لیے کہ اس حقیقت سے وہ ناآشنا نہیں ہےکہ اس سے سب سے زیادہ متاثر بھی وہی ہونے والی ہے۔

حالات کی اس تبدیلی اوراس بات کو جاننے کے باوجود کہ  وہی اس سے سب سے زیادہ متاثر ہے، وہ اس بات کو سمجھنے کو تیار نہیں ہے کہ حالات کی تبدیلی نظام قدرت کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو عطا کردہ نظام حیات میں اس بات کو اس طرح بیان کیا ہے کہ "یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں تم پر یہ وقت ا س لیے لایا گیا کہ اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سچے مومن کون ہیں، اور ان لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا تھا جو واقعی (راستی کے) گواہ ہوں کیونکہ ظالم لوگ اللہ کو پسند نہیں ہیں”(آل عمران-140)۔ زمانہ کے نشیب و فرازکو ملت اسلامیہ کے لیے سخت سے سخت تر کردینے کی اپنی قدر اور منشاء کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان کیا ہے کہ "اور ہم ضرور تمہیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمہاری آزمائش کریں گے۔ اِن حالات میں جو لوگ صبر کریں اور جب کوئی مصیبت پڑے، تو کہیں کہ: "ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے”۔ انہیں خوش خبری دے دو ان پر ان کے رب کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی، اُس کی رحمت اُن پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ راست رَو ہیں”(البقرہ:155-157)۔

یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ حالات کی یہ سختی یہیں رکنے والی نہیں ہے بلکہ یہ اپنی انتہا تک پہنچنے   تک اور مقصد کے حصول کے لیے سخت سے سخت تر ہوتی چلی جائے گی۔”پھر کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت کا داخلہ تمہیں مل جائے گا، حالانکہ ابھی تم پر وہ سب کچھ نہیں گزرا ہے، جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں پر گزر چکا ہے؟ اُن پر سختیاں گزریں، مصیبتیں آئیں، ہلا مارے گئے، حتیٰ کہ وقت کارسول اور اس کے ساتھی اہل ایمان چیخ اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی اُس وقت انہیں تسلی دی گئی کہ ہاں اللہ کی مدد قریب ہے”(البقرہ-214)۔اگر دور حاضرکے تقاضوں،موجودہ صورت حال اورحالات کی سختی کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کی دور حاضر کی  یہ تبدیلی ملت اسلامیہ کو اللہ  تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ فرض منصبی کی طرف واپس لانےکے لیے ہے۔ ملت اسلامیہ  اپنی پوری زندگی کواس طرح سے احکام اللہی کے تابع کردے کہ پورا کا پورا دین اللہ کے لیے ہوجائے اور دنیا کے تمام لوگوں کو حکمت ودانائی اور سمجھ بوجھ کے ساتھ اس کی طرف دعوت دے ۔ حکمت ودانائی مومن کا زیور اور اس کا گمشدہ سرمایہ ہے، زندگی کے ہرموڑ پر اس کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔آج کے حالات میں اس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ حکمت ہی ہے جو حالات کو سمجھنے اور اس کے مطابق معاملات کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ یہی حکمت حالات کے گزرجانے کے لیے مومن سے صبر کے دامن  کوتھامے رکھنے کو کہتی ہے اور ایسا کرنے والوں کو کامیابی کا مزدہ سناتی ہے۔”ائے آل یاسر صبر کرو،بیشک تمہارے لیے جنت کا وعدہ ہے”(شعب الایمان، بیہقی)۔

اہل سیاست جو چاہیں کریں اور اپنے لیے جو طئے  کرنا چاہیں کرلیں لیکن ملت اسلامیہ پر تو پیغامِ دعوت فرض ہےاور اسے تندئے باد مخالف  کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے  پوری کوشش کرنی چاہیے کہ  وہ پیغامِ دعوت کو لوگوں  تک پہنچائے جہاں تک وہ پہنچ سکےپہنچے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔