بھارتیہ آئین اور تبدیلیٔ مذہب

ڈاکٹرایم اعجاز علی

  تبدیلیٔ مذہب کو جبر کا ایک مسئلہ بنا کر ایک بار پھر سے کامنل سیاست کو گرمانے کی کوشش شروع ہو گئی ہے۔ یہ اُس برہمنوادی نظام کی حکمت عملی کے تحت ہے جو پچھلے صدی سے ملک کی سیاست پر حاوی ہے ورنہ کورونا جیسی مہاماریوں نے کئی بار ملک کی سیاست کو’’ کامنل‘‘ سے ’’کامن‘‘ سیاست کی طرف موڑنے کی کوشش کی جو زیادہ تر ناکام رہا ہے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ جنوبی ایشیاء خاص کر ہندوستان، پاکستان،بنگلہ دیش(شری لنکا، مینامار کی بھی) کی سیاست مندر مسجد، ہندو مسلمان اور ہندوستان و پاکستان کے اردگرد ہی آج تک گھوم رہا ہے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ مذہبی معاملات کی حیثیت ووٹ کی سیاست کیلیے صرف ایک مسالہ کے برابر ہے۔ مثلاً تبدیلیٔ مذہب کا مسالہ جو ایک مسئلہ ضرور ہے لیکن دونوں قوم کے بیچ بے جا نفرت پیدا کر نے کیلیے زیادہ کارگر ثابت ہو سکتا ہے ساتھ ہی کچھ بے گناہ افراد کو مفت میں دکھ جھیلنا پڑے گا چاہے ووٹ کی سیاست میں اس کا فائدہ ہو نہ ہو۔ ہاں تبدیلیٔ مذہب کا ایک آئینی مسئلہ آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں جس کی نوعیت دوسری ہے اور جو کہیں نہ کہیں پر آئین کے سیکولر پیشانی پر ایک داغ کے مانند لگا دی گئی ہے۔ یوں تو بھارتیہ آئین کی اس معاملے میں ساری دنیا میں دھوم ہے کہ ہزار طرح کے اختلافات کے باوجود پورے بھارتیہ سماج کو ایک دھاگے میں باندھ کر رکھنے میں اب تک کامیاب رہا ہے ورنہ ذات پات، مذہب، نسل، زبان، علاقائیت اور طورطریقوں میں اتنا بھید بھائو ہے کہ دوسرے ملکوں کے آئین کے ذریعہ یہ بندھن کسی بھی حالت میں ممکن نہیں ہوتا۔ ایسی صورت حال میں جب یہ ہلچل مچائی جاتی ہے کہ گلف ممالک کے فنڈوں سے یہاں ہندوئوں کو جبراً مسلمان بنایا جارہا ہے تو ہمیں بہت تعجب ہوتا ہے۔

دفعہ 341کی تحریک کے درمیان ہم نے جو پایا وہ تو اس ہلچل کے بالکل اُلٹ ہے۔ صرف آئین کی دفعہ 25 پر ہی ہماری ساری انرجی لگی رہتی ہے، دفعہ 341 کا بھی تو مطالعہ کر کے دیکھیں۔ دلتوں کو ریزرویشن اسی دفعہ 341 کے تحت ملتا ہے۔ اس آرٹیکل کو جب آپ ہلکے میں پڑھیں گے تو پتہ چلے گا کہ اس میں مذہبی پابندی کا کہیں تذکرہ نہیں ہے لیکن جب تفصیل میں جائینگے تو پائیں گے کہ بھارت کی سرکار (نہرو سرکار) نے اس ریزرویشن پر دو ایسی پابندیاں لگارکھی ہیں کہ جس سے صرف مذہب یا مذہبی آزادی ہی نہیں بلکہ آئین کے بنیادی اصولوں (Fundamental Right) کی دھجیاں ہی اُڑاکر رکھ دی گئی ہو۔ پہلا سرکاری آرڈر 10؍اگست 1950 کو آیا جسے صدارتی حکم نامہ 1950 کے نام سے جانا جاتا ہے، اس میں شیڈول کاسٹ ریزرویشن پانے کیلیے’’ ہندو ہونا‘‘ لازمی شرط قرار دیا گیا۔ دلیل یہ دی گئی کہ ذات پات کا چکر صرف ہندوئوں میں ہی ہوتا ہے اسی لیے ایسا کیا گیا۔ حالانکہ ویسی بات نہیں ہے۔ مسلم مخالف ذہنیت اس بات سے واقف ہے کہ بھارتیہ مسلمانوں کی بڑی آبادی دلت نسب کی ہے۔ مسلم راجائوں کے دور میں بھی یہ کس غلامی کی حالت میں رہی، یہ ساری جانکاری اُن کے ذہن میں ہے۔ بھلے ہی ہمارے سربراہان اور ان کے پیچھے چلنے والی چند آبادی اپنے عربی ہونے کا دعویٰ کرتے رہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ تقریباً سو فیصد مسلم آبادی بھارتیہ نسب کی ہے اور ذات پات سے آزاد نہیں کیوں کہ ذات پات کا نظام تو بھارتیہ سماج کے کلچر کا ہی حصہ ہے اور اس کی جڑیں اتنی مضبوط ہیں کہ یہاں کی آبادی کا کوئی بھی حصہ اس سے اچھوتا نہیں رہ سکتا ہے چاہے مذہب جو بھی ہو یا اختیار کر لے۔

دفعہ 341 پر لگائی گئی اس پابندی سے ایسا لگتا ہے کہ مسلمانوں کی بڑی آبادی، جو بنیادی طور پر دلت ہے، کو اس ریزرویشن سے محروم کرنے کیلیے ہی ’’نہرو کابینہ‘‘ نے اس آرڈر کو نافذ کروایا تھا۔ چلو مانا کہ 1950 کا ماحول افراتفری کا شکار تھا، پاکستان بن چکا تھا، اس لیے رد عمل میں مسلمانوں کو حقوق سے بے دخل کرنا ایک عام ذہنیت بنی ہوئی تھی اس لیے ایسا ہوا۔ ماحول کے پس منظر میں ہو سکتا ہے کہ مسلم سربراہان بھی صبر و تحمل سے کام لیتے رہے ہوں جبکہ ایک سے ایک اسٹال وارٹ موجود تھے۔ وجہ جو بھی ہو لیکن اس آرڈر نے مسلمانوں کی بڑی آبادی کو آج ایسے حاشیے پر لا کر کھڑ اکردیا ہے مانو دو نمبر کے شہری ہوں۔ اس کا تحریری سرکاری گواہ سچر کمیٹی رپورٹ ہے اور حالت حاضرہ بھی خود گواہ ہیں لیکن ابھی بھی صاحب حیثیتوں کی آنکھیں نہیں کھلی ہیں جبکہ کل اُن کا بھی نمبر لگ سکتا ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ خطرناک آرڈر 23؍جولائی 1959 میں آیا، نہرو کابینہ نے ہی لایا جس کے ذریعہ دفعہ 341 پر یہ شرط لگایا گیا کہ ’’مذہب بدل کر دوبارہ ہندوازم قبول کرنے پر یہ ریزرویشن پھر سے ملنے لگے گا‘‘۔

مطلب یہ ہوا کہ ایسے دلت جو (کسی زمانے میں ) ہندوازم کو تیاگ کر دوسرے مذہب (اسلام، عیسائیت، بدھزم، سکھزم) میں چلے گئے تھے وہ اگر مذہب بدل کر پھر سے ہندوازم قبول کرینگے تو انہیں شیڈول کاسٹ ریزرویشن کا فائدہ ملنے لگے گا۔ یہ دو وہ شرائط ہیں جو ہمارے آئین کا حصہ ہیں اور جنہیں اب پارلیامنٹ اور عدالت عظمیٰ ہی بدل یا ہٹا سکتا ہے۔ اب آپ خود اندازہ لگائیے کہ ان دو شرائط کا مقصد کیا ہے۔ بعد کے سالوں میں اس شرط کو سکھوں اور بودھوں پر سے ہٹا لیا گیا لیکن مسلمانوں اور عیسائیوں پر ابھی بھی لاگو ہے۔عیسائیوں پر تو اس 70 سالوں کی بندش کا اثر تو نہیں پڑا ہے لیکن مسلمانوں پر پڑا ہے۔ غربت، جہالت اور بد حالی کی زندگی گذارنے والی دلت مسلموں کی بڑی آبادی ’’گھر واپسی‘‘ کے اس آئینی آرڈر کا بُری طرح سے شکار ہوئی ہے۔ دلّی کے نزدیک گرگائوں کے علاقے میں ڈووم(میریاسن) برادری کی بڑی آبادی مرتد ہو چکی ہے چونکہ یہ برادری دلت زمرے کی ہے اور دلت مراعات پانے کے لیے ہندوازم کا دامن تھامنا لازمی شرط ہے لہٰذا اس مادی دَور میں ’’مرتا جونہ کرتا‘‘۔ صرف یہی نہیں بلکہ بعض ایسے دلت مسلم جو صاحب حیثیت ہیں یا نامور ہیں اور اقتدار کی خواہش جن کے دل و دماغ میں گھر کر گیا ہو وہ بھی کرسی پانے کے لیے تبدیلیٔ مذہب کو گلے لگانے میں دیر نہیں کرتے جیسے پنجابی گانے میں ماہر ’’صدیقی‘‘ جو فی الوقت پنجاب کے کسی ریزرو حلقے سے ایم ایل اے ہیں اور کیپٹن امریندر سنگھ کے قریبیوں میں بتائے جاتے ہیں انہوں نے خود کو سکھ بتاکر چنائو لڑا۔اسی طرح یوپی میں شبیر مالمکی جو چردہ سے ایم ایل اے ہوا کرتے تھے۔خود کو کورٹ میں ہندو ہونے کا حلف دیا۔ مہاراشٹر کے کئی حلقے میں کھٹک، بھنگی اور حلال خور برادری والے مسلمان لوکل باڈی چنائو تک میں اپنا مذہب ’’ہندوازم‘‘ دکھا کر انتخاب میں حصہ لیتے ہیں۔ اسی طرح سے نٹ، منگتا، سنپیرے، پاسی، موچی برادری و الی آبادیوں کے سامنے ایک طرف بنیادی سرکار کی سہولیات ہیں اور دوسری طرف مذہبی حاشیہ برداری۔ ان آبادیوں کے لیے بھوک اور بدحالی کی کفالت زیادہ ضروری ہو جاتی ہے۔ محض چند سال قبل آگرہ کے ایک علاقے میں 150 گھر ان مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا جو کچرہ چُننے کا کام کرتے ہیں۔ انہیں تو یہی سمجھا کر مذہب تبدیل کرایا گیا کہ مفت دکان، بی پی ایل کارڈ، ضعیفی پنشن، غیر سودی قرض تبھی مل سکتا ہے جب وہ ہندو مذہب قبول کرینگے۔ یہی شرط تو آئین میں بھی لکھا ہوا ہے۔

  اس مضمون کا اخذ یہی ہے کہ بھارتیہ آئین میں مسلم مخالف ذہنیت کے تحت لگایا گیا یہ دونوں شرط دلت مسلمانوں کی ’’گھر واپسی‘‘ مہم کو ٹارگیٹ میں رکھ کر تیار کیا گیا تھا۔ ایک سو سال کیلیے تیار کئے گئے اس مہم کا پہلا مرحلہ یہ تھا کہ ریزرویشن سے محروم کر مسلم سماج کے بڑے حصے کو روزی، روٹی، تعلیم اور دیگر معاملات میں اتنا بدحال کر دیا جائے تاکہ یہ مخالف طاقتوں کے سامنے سر جھکانے کو تیار ہو جائیں۔ اس میں انہیں پچاس سے ساٹھ سال لگے ہیں اور اثر بھی دیکھنے کو ملا ہے۔ اب دوسرے مرحلے میں مختلف حربے اپنائے جائیں گے جس میں ڈر اکر، دھمکا کر، مآب لنچنگ کر ایسی آبادیوں کو گھیرے میں لیا جاسکے۔ خدا نخواستہ ملک کی بڑی مسلم آبادی جب گھر واپسی کے اس مہم کے شکنجے میں پھنس جائیگی تو پھر باقی آبادی کے پاس طاقت ہی کیا بچے گی جو طیش دکھائینگے۔ 1994 سے چل رہی دفعہ 341 میں ترمیم کے ایشو پر مسلمانوں کے بیچ جو بھی گمراہی ہو، اس کا وقت ختم ہو چکا ہے اور اب تو یہی وہ تحریک ہے جس کی نوعیت کو سمجھتے ہوئے سارے دانشوروں، سماجی کارکنوں، سیاسی رہنمائوں اور تحریک کاروں کو چاہیے کہ ایک من بنا کر دفعہ 341 میں ترمیم کی لڑائی کو اپنی سطح سے آگے بڑھائیں۔ صرف اتنی ہی مانگ کریں کہ ’’ہندوئوں، سکھوں اور بودھوں کی طرح مسلمانوں کو بھی دفعہ 341 میں شامل کیا جائے‘‘۔ غور کرنے کی بات ہے کہ مسلم مخالف ذہنیت نے اتنے بڑے آئین کے صرف ایک دفعہ 341 کو نشانہ بنایا بلکہ پوری مسلم سماج کو اس موڑ پر لا کر کھڑ اکر دیا کہ آنے والے 50-60 سالوں میں کیا ہوگا کہنا مشکل ہے۔ اب تو مذہبی تشخص کے تحفظ کا مسئلہ ہی ہمارے لیے چنوتی ہے۔وقت کا تقاضہ یہی ہے کہ ساری مانگوں کو چھوڑ کر صرف اسی دفعہ 341 میں سُدھار کی تحریک پر زور دیں۔ معاملہ فی الوقت سپریم کورٹ میں ہے۔ تحریری تحریک چلانے کے ساتھ اصل تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ میں اس پر کیسے فائٹ کیا جائے۔ بابری مسجد، پرسنل لاء وغیرہ کے معاملات میں پرسنل لاء بورڈ، ملی کونسل، جماعت اسلامی، جمیعت العلماء ہند وغیرہ کیسے جم کر لگ جاتے ہیں اسی طرح سے دفعہ 341 میں بھی کو شش کی جانی چاہیے۔ صرف یونائٹیڈ مسلم مورچہ پر ہی اس کام کو چھوڑدینا ٹھیک نہیں ہے۔ہوسکتا ہے کہ اﷲ اس ایشو پر فتح نصیب کرے تاکہ پچھلی صدی میں ہوئی ساری شکستوں کا ازالہ ہو سکے۔ حدیث ہے کہ ایک غیر مسلم کے اسلام کے دائرے میں آنے سے جتنا ثوا ب ملتا ہے اس کا 70 گنا عذاب انہیں ملتا ہے جن کی نظروں کے سامنے ایک مسلمان مرتد ہو جائے۔

٭٭٭

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔