بیدی کی کہانیوں میں عورت

فرید احمد

 راجندر سنگھ بیدی کا شمار اردو افسانہ نگاروں کی صفحہ اوّل فہرست میں ہوتاہے۔ ان کے افسانوں میں زندگی کی سچائی، سماجی مسائل، نفسیات اور نسوانی عمق پائی جاتی ہے۔

                بیدی نے صرف کاغذکا پیٹ بھرنے اور قلم دکھانے یا تفریح طبع کا سامان فراہم کرنے کے لیے نہیں لکھا۔ نہ ہی زندگی کے حقیقتوں سے فراہم حاصل کرکے رومانی عشرت گاہوں میں پناہ لینے کی کوشش کی۔ بلکہ ایک حقیقت فنکار کی طرح زندگی کے حقائق سے آنکھیں چار کی اور زندگی کے مختلف رنگوں کو اپنی کہانیوں میں سمویا ہے۔ جیسے انکی مٹھی میں ’’قوس قزح ‘‘قید ہو۔ زندگی کے بے رحم سچائیوں، زخمی صداقتوں اور کھردری حقیقتوں کو اپنی کہانی کا موضوع بنایا۔ اور اپنے دور کے جیتے جاگتے سماج کی حقیقتوں کواپنے افسانوں میں یوں پیش کیا کہ حقیقت اور افسانہ کا بنیادی فرق ہی مٹ گیا۔  ۱؎

                بیدی کی کردار نگاری حقیقت نگاری کی باعث ہے۔ ان کے کردار زندگی کے حقیقتوں، سماج کی برائیوں اور متوسط طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ مزدوروں کی پریشانیوں، سماج کے ذریعہ استحصال کئے گئے غریب انسانوں اور عورتوں کے پیش منظر نظر آتے ہیں۔

                بیدی، منٹو اور کرشن چند تقریباً ہم عہدافسانہ نگار ہیں منٹو اپنی جنسیت کرشن چند اپنی رومانیت کے سبب جلد ہی معروف ہوئے اور توجہ کا مرکز بن گئے۔ لیکن بیدی نے جو کچھ بھی لکھا بہت ہی عمیق اور پر اثر لکھا۔ ایک ایک کردار کی تخلیق بہت ہی سوچ سوچ کرکی۔ جس پر منٹو نے اپنے خط میں بیدی نے لکھا  تھا۔ ’’تم سوچتے بہت ہو۔ لکھنے سے پہلے سوچتے ہو، بیچ میں سوچتے ہو،اور بعد میں سوچتے ہو۔‘‘چنانچہ بیدی کا زیادہ سوچنا اور سوچ کر لکھنا ان کی عادت بن گئی جس وجہ سے بیدی نمایا ں کرداروں کے بہترین تخلیق کار بن گئے۔

’’گرہن ‘‘ کے پیش لفظ میں بیدی نے خود ہی لکھا ہے۔

                لکھنے سے پہلے میرے ذہن میں نفس مضمون کا محض ظاہری پہلوہوتاہے۔ یہاں یہاں تک تو مشاہدے کا تعلق تھا۔ اس کے بعد میرے تخیل نے طنز کی صورت ایک باطنی پہلو تلاش کیا۔ ذہن اور تحریر دونوں آپس میں یوں گھل مل گئے کہ مجموعی طور پر ایک تاثر کی صورت اختیار کرلی۔ علیٰ ہٰذاالقیاس۔ ۲؎

                بیدی کے افسانوں میں عورت کو ایک مرکزیت کی حقیقت حاصل ہے۔ ان کے افسانوں کے نسوانی کردار خاص طور سے متاثر کرتے ہیں۔ بیدی عورت کی نفسیات سے بے حد واقیفیت رکھتے ہیں۔ ان کی نسوانی کرداروں میں ایک عورت ماں، بیٹی،  بہو، ساس یا پھر بیوی کی شکل میں شامنے آتی ہے۔ بیدی ان تمام کرداروں کو ایمانداری سے پیش کرتے ہوئے جذبات اور احساسات کی مکمل تصویر پیش کرتے ہیں۔ ’گرہن‘،’کوکھ جلی ‘،’لاجونتی اپنے دکھ مجھے دیدو ‘،’دیوالہ ‘،’گرم کوٹ‘ اور ایک عورت جیسے افسانے اس لحاظ سے بہت نمایا ں ہیں۔                افسانہ ’’گرہن ‘‘ میں بیدی نے ایک ایسی عورت ’’ہولی ‘‘کی منظر کشی کی ہے جو سسرال میں اپنی ساس کے روز روز کے طعنے سنکر اور اپنے انسان نما جانور شوہر ’’رسیلا‘‘کی مار کھا کھا کر اپنی زندگی سے تنگ آگئی ہے۔ اور اپنے اوپر ہوئے ظلم وستم کے باعث وہ حسین وجمیل سوکھ کر کانٹیکی مانند ہوگئی ہے۔ بیدی نے یہ منظرکچھ اس طرح پیش کیا۔

                ’’۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہولی نے اساڑھی کے کائتھوں کو چار بچے دیئے تھے۔ اور پانچواں چند ہی مہینوں میں جننے والی تھی۔ اس کے آنکھوں کے گرد گہرے سیاہ حلقے پڑھنے لگے۔ گالوں کی ہڈیاں اُبھر آئیں اور گوست ان میں چپک گیا وہ ہولی جسے پہلے مَیّاپیار سے چاندرانی کہہ کر پکارتی تھی اور جس کی صحت اور سندرتا کا ’سیلا‘حاسد تھا۔ گرئے ہوئے پتے کی طرح زرداور پژمردہ ہوچکی تھی ‘‘  ۳؎

                بیدی کا افسانہ ’’کوکھ جلی ‘‘عورت بحیثیت ’ماں ‘ کے کردار میں نظر آتی ہے۔ جو اپنے لڑکے ’’گھمنڈی ‘‘ کو سماج کی برائیوں اور آوارہ ہونے ہونے سے روکنے کی بے حد کوشش کرتی ہے۔ تانکہ اس کا لڑکا ایک اچھا اور عزت دار شہری بن سکے۔ اور سماج میں شریف کی حیثیت سے زندگی بشر کر سکے۔ جس پر بیدی ’ماں ‘پر اپنا خیال کچھ اس طرح پیش کرتے ہیں۔

                ’’دنیامیں کوئی عورت ماں کے سوا نہں۔ اگر بیوی بھی کبھی ماں ہوتی ہے تو بیٹی بھی ماں۔ ۔۔۔۔۔۔۔تو دنیا میں ماں اور بیٹے کے سوا اور کچھ نہیں۔ عورت ماں ہے اور مرد بیٹا۔ ۔۔۔۔۔۔۔ماں کھلاتی ہے اور بیٹا کھا تاہے۔ ۔۔۔۔ماں خالق ہے اور بیٹا تخلیق۔ ۔۔۔‘‘   ۴؎

                حالانکہ فسادات اور عورت کے موضوع پر کئی افسانے لکھے جاچکے ہیں۔ جن میں دوران فساد عورت پر ہوئے ستم اور عصمت دری کی کہانیاں اور واقعہ بیان کئے گئے ہیں۔ لیکن بیدی نے ایک ایسی کہانی لکھی جو تمام فسادات کے متعلق لکھی گئی کہانیوں اور افسانوں سے بالکل ہی الگ مقام رکھتی ہے۔ اور شاید ہی بیدی کے علاوہ کسی کا بھی ’مغویہ ‘عورتوں کی طرف ذہن نہیں گیا۔ بیدی نے ’’لاجونتی ‘‘عنوان سے ایک ’مغویہ ‘عورت کا افسانہ لکھا جو سب سے مختلف اور نفسیاتی تجربہ ہے۔

                ’لاجونتی ‘کو فسادات کے دوران اغواکرلیا جاتاہے۔ تو اس کا شوہر ’سندلال ‘’دل میں بساؤ‘ نام کی تحریک جو کہ مغویہ عورتوں کو بسانے کی تحریک ہے وابتہ ہوتاہے۔ اور لاجونتی کو ڈھونڈتاہے۔ آخر کار سندلال کولاجونتی مل جاتی ہے۔ اور پھر ایک رات لاجونتی سے کہتاہے۔

                ’’کون تھا وہ۔ ۔۔۔۔؟‘‘

                لاجونتی نے نگاہیں نیچے کرتے ہوئے کہا ’’جمّاں ‘‘پھر وہ اپنی نگاہیں سند لال کی چہرے پر جمائے کچھ کہنا چاہتی ہے۔ لیکن سند لال ایک عجیب سی نظروں سے لاجونتی کے چہرے کی طرف دیکھ رہاتھا۔ اور اس کے بالوں کو سہلا رہا تھا۔ لاجونتی نے پھر آنکھیں نیچی کر لیں۔ اور سندلال نے پوچھا۔

                ’’اچھا سلوک کرتا تھا

                ’’ہاں ‘‘

                ’’مارتا تو نہیں تھا ‘‘

                لاجونتی نے اپنا سر سند ل لال کی چھاتی پر سرکاتے ہوئے کہا ’’نہیں ‘‘اور پھر بولی ’’وہ مارتانہیں تھا ‘‘ پرمجھے اس سے زیادہ ڈر لگتاتھا۔ تم مجھے مارتے بھی تھے۔ پر میں تم سے ڈرتی نہیں تھی۔ ۔۔۔۔۔۔’’اب تو نہ ماروگے۔ ۔۔۔۔۔؟‘‘

                سند ل لال کی آنکھوں میں آنسو امڑ آتے۔ اور اس نے بڑی ندامت اور بڑے تامت سے کہا ’’نہیں دیوی اب نہیں مارونگا۔ ‘‘  ۵؎

                عورت یعنی قربانی کی مثال۔ عورت اپنا سب کچھ قربان کردیتی ہے یہ عورت کی فطرت ہے کہ وہ جب اپنے خلوص،محبت پر آجائے تو وہ اپنے شوہر کے تمام رنج وغم، دکھ درد، پریشانیاں اور مشکل حالات سے دو چار ہونے کے بجائے شانہ بشانہ چلنے کو آمادہ ہوجاتی ہے ’’اپنے دکھ مجھے دیدو ‘‘ایک ایسی ہی عورت کی کہانی ہے۔ اندو کی شادی’مدن ‘ سے ہوتی ہے اور شادی کی پہلی رات اندو مدن سے صرف اور صرف اس کی دکھ مانگتی ہے۔

                ’’۔۔۔۔۔۔۔میں اب تمہاری ہوں۔ اپنے بدلے میں تم سے ایک ہی چیز مانگتی ہوں ‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔ مدن نے کچھ بے صبری اور کچھ دریا دلی کے ملے جلے شبدوں میں کہا۔

                ’’کیا مانگتی ہو ؟ جو بھی کہوگی میں دونگا۔ ‘‘

                ’’پکی بات ہے ؟‘‘اندو بولی

                مدن نے کچھ اُتاولے ہوکر کہا۔۔۔۔۔۔ ہاں۔ ہاں۔ کہا جو پکی بات ہے لیکن اس بیچ مدن کے من میں ایک وسوسہ آیا۔ میرا کار وبار پہلے سے ہی مدّا ہے۔ اگر اندو کوئی ایسی چیز مانگ لے جو میری پہنچ سے باہر ہو تو پھر کیا ہوگا۔ ؟ لیکن اندو نے مدن کی سخت اور پھیلے ہوئے ہاتھوں کو اپنے ملائم ہاتھوں میں سمیٹتے اور اسن پر اپنے گال رکھتے ہوئے کہا۔ ’’تم اپنے دکھ مجھے دیدو ‘‘  ۶؎

                افسانہ ’’دیوالہ ‘‘روپا اور اس کی بھابھی کی کہانی ہے۔ بیدی نے بہت ہی عمدہ انداز میں عورت کی خواہشات اور نفسیات کو پیش کیا ہے۔

                ’’روپا بولی جب میں رادھا  بازار سے گزرتی۔ ناکہ پہ مجھے مل جاتا اشارے کرتا، سیٹیاں بجاتا لیکن میں پاس سے گزر جاتی۔ بُرے برُے منھ بناتی، گالیاں دیتی۔ لیکن آج پتہ نہیں مجھے کیاہوا میں بھیڑ میں چلی گئی۔ صرف اس کی انگلی اٹھانے پر۔۔۔۔۔۔۔ اور میں پھر ہم دونوں بھیڑسے نکل گئے اور شِو  مندر میں چلے گئے جہاں مسافروں کے لیے کو ٹھریاں بنی ہیں۔ میں کانپتی جارہی تھی۔ آخر میں نے سوچا بھی کہ بھاگ کھڑی ہوں۔ مگر مجھے کچھ کرتے نہ بنی۔ ۔۔۔۔۔اس کے بعد میں اندھی ہوگئی۔ ‘‘  ۷؎

                بیدی کا افسانہ ’’گرم کوٹ ‘‘ایک معمولی کلرک کی کہانی ہے لیکن بیدی نے ماں اور بیوی کے روپ میں ’ ’شمّی‘‘کے کردار کو بہت ہی خوبی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ بچوں کو پیٹ بھر روٹی کھلانے اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اس معمولی کلرک کو اپنی بہت سی ضروریات کو مارنی پڑتی ہیں۔ اور انہی ضروریات میں سے ایک ضرورت تھی ’’گرم کوٹ‘‘ جو چاہ کر بھی نہیں خرید سکتا تھا۔ گھر کے لیے ضروری سامان اور بچوں کی ضروریات کے سامان کے لیے ’شمی ‘کو کچھ روپیہ لیکر بازار بھیجتاہے۔ مگر شمی کو بالکل بھی گوارہ نہ تھا کہ اس کا شوہر وہ پٹھا پرانا کوٹ پہن کر دفتر جائے اور شمّی اپنی ضرورتوں اور بچوں کی خوہشوں کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔ تانکہ اس کا شوہر کو ایک نیا کوٹ حاصل ہوجائے   ’’شمّی اندر آتے ہوئے بولی۔ میں نے دو روپیہ کھیموں سے اُدھار لے کر خرچ کر ڈالے۔ ‘‘

                ’’کوئی بات نہیں۔ ‘‘ میں نے کہا

                پھر بچو! پوپی منّا اور میں تینوں شمنی کے آگے پیچھیے گھومنے لگے مگر شمنی کے ہاتھ میں ایک مندل کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس نے میز پر بنڈل کھولا۔ وہ میرے کوٹ کے لیے بہت نفیس ودسٹڈ تھا۔  ۸؎

                ایک ماں کے ممتا کے بہترین مثال بیدی کے افسانوں کا نمایا خصوصیات ہے۔ افسانہ ’’ایک عورت ‘‘ بیدی نے ماں اور اس کے لقوہ زدہ بچہ کی کہانی کو بیان کیاہے۔ کہ کس طر ایک ماں اپنے بچہ سے بے حد محبت کرتی ہے۔ چاہے بچہ، خوبصورت ہو یا بد صورت یا پھر لقوہ زدہ۔ جس کی رال ٹپکنے کے سبب وہ بہت ہی گھنونہ سالگتاہے۔ لیکن ماں کی نظر میں اس کا بچہ سب سے زیادہ خوبصورت ہو تاہے۔ اور وہ بے انتہا اپنے بچہ سے پییار کرتی ہے۔ بھلے ہی تمام دنیا اور جہاں کے لوگ اس کے بچہ سے نفرت کریں۔

                ’’لقوہ زدہ ہونے کے باعث اس کا بچہ بدصورت تھا اور اس کا چہرہ ہمیشہ رال سے آلودہ ہوتاتھا۔ اس کی ماں بیسئیوں دفعہ رومال سے اس کا منھ اور ٹھوڑی صاف کرتی تھی۔ مگر بچہ احتجاج سے ادھر اُدھر سر ہلانے لگتا اور صاف کیے جانے کے فوراً بیعد ہی لعاب کے بلبلے اڑانے لگتا۔ جو ہوا سے بکھرتے ہوئے اس کی ماں اور اس کے اپنے چہرے پر آگر تے اور ایک عجیب نفرت انگیزکیفیت پیدا ہوجاتی اس کے بعد وہ بے معنی احمقانہ ہنسی ہنسنے لگتا۔ اور وہ عورت خوشی سے رونے لگتی۔ ‘‘ ۹؎

                بلاشبہ بیدی اردو کے اعلیٰ افسانہ نگار ہیں۔ حالانکہ بیدی نے زیادہ نہیں لکھا لیکن جو کچھ بھی لکھا ہے وہ زندگی کے حقیقت کو سامنے رکھ کر لکھا۔ اور اس سبب سے بیدی کے کردار بھی حقیقی معلوم ہوتے ہیں۔ بیدی کے افسانوں میں عورت کا کردار ایک مرکز یت کی حیثیت رکھتاہے۔ وہ خوابوں کا سر چشمہ اور تعبیریں۔ جیسا کہ رومانی افسانہ نگاروں کا خیال ہے بلکہ نامیابی حقیقت ہے۔ ‘‘  ۱۰؎

حواشی

۱۔             ڈاکٹر فخرالاسلام اعظمی۔ شعور فن۔ شبلی نیشنل کالج اعظم گڑھ ۲۰۰۴ء۔ص۔ ۲۴۲

۲۔            گراہن۔ راجندر سنگھ بیدی۔ مکتبہ اردو لاہور۔ ص۔۱۰

۳۔            ایضاً۔ص۔ ۱۱

۴۔            کوکھ جلی۔ مکتبہ جامعہ لمیٹڈ۔ جامعہ نگر نئی دہلی۔   ۲۰۱۱ء  ص۔ ۴۳ ۔ ۴۲

۵۔            لاجونتی۔ راجندر سنگھ بیدی اور ان کے افسانے۔ مرتبہ ڈاکڑ اطہر پرویز۔ ایجو کیشنل بک ہائوس، علی گڑھ  ۲۰۰۶ء۔ ص۔ ۱۷۴

۶۔             اپنے دکھ مجھے دیدو۔ ایضاً۔ ص۔  ۱۳۰

۷۔            دیوالہ۔ ایضاً ۔ ص۔ ۱۸۸

۸۔            گرم کوٹ۔ ایضاً ۔ ص۔ ۱۲۶

۹۔            ایک عورت ۔ راجندر سنگھ بیدی۔ مکتبہ جامعہ لمیٹڈ جامعہ نگر نئی دہلی  ۲۰۱۱ ء۔ ص۔ ۱۲۴

۱۰۔          باقر مہدی۔ راجندر سنگھ بیدی۔ بھولا سے ببل تک۔ راجندر سنگھ بیدی اور ان کے افسانے، مرتبہ ڈاکٹر اطہر پرویز۔ ایجوکیشنل بک ہائوس علی گڑھ  ۲۰۰۶ ء۔ ص۔ ۵۱

تبصرے بند ہیں۔