تعلیم کے انفرادی مقاصد

ڈاکٹرمحمد واسع ظفر

تعلیم کسی بھی سماج کی بقا اور ترقی کے لئے ایک ناگزیر عمل ہے۔ انسانی تہذیب کی ارتقا کے ہر دور میں اس کی افادیت کو محسوس کیا گیا ہے کیونکہ انسان کا تعلق خواہ کسی بھی فلسفہ حیات سے کیوں نہ ہو، اسے اپنی زندگی کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے تعلیم کا سہارا لینا ہی پڑتا ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ جب تعلیم زندگی کے مقاصد کو حاصل کرنے کا ایک آلہ کار ہے تو اس کے بھی کچھ مقاصد ہونے چاہیے کیونکہ بے مقصد تعلیم ایک فضول اور لایعنی عمل بن کر رہ جاتا ہے۔ مقاصد کا تعین ہی اسے ایک محرک اور اثر آفریں عمل بنادیتا ہے۔ مقاصدنہ صرف یہ کہ تعلیمی نظام کے رخ کو متعین کرتے ہیں بلکہ اسے اندرونی تحریک بھی دیتے ہیں۔ مقاصد چونکہ اقدار(Values) ہی ہوتے ہیں جن کی سماج کی نگاہ میں کچھ وقعت ہوتی ہے اس لئے یہ کسی فرد کو اپنی توانائی لگاکر انہیں حاصل کرنے کے لئے آمادہ کرتے ہیں۔ مقاصد کے تعین کے بغیر نصاب تعلیم اور طریقہ تعلیم کا تعین بھی دشوار ہوتاہے۔ ان کے علاوہ مقاصد ان اصول اور میعار کا تعین بھی کرتے ہیں جن کی بنیاد پر تعلیمی عمل کی تشخیص کی جائے۔

ان ہی فوائد کے پیش نظر تہذیبی تاریخ کے ہر دور میں تعلیم کے مقاصد کا تعین ہوتا رہا ہے اور ابتداء سے ہی اس بات کی بھی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ تعلیم کا ایک جامع اور حتمی مقصد (Ultimate Aim) متعین ہو لیکن فلسفہ حیات کے زبردست اختلاف نے ماہرین تعلیم کو کبھی کسی خاص مقصد پر متفق نہیں ہونے دیا۔ فلسفہ حیات کے علاوہ تعلیم کے مقاصد کے تعین میں جو دوسرے عناصر کارفرما رہے ہیں وہ ہیں تاریخی پس منظر (Historical Context)، سیاسی نظریات (Political Ideology)، سائنسی ترقیات ( Scientific Developments)، سماجی، اقتصادی اور تمدنی حالات (Socio-Economic-Cultural Pattern) وغیرہ۔ ان ہی عناصر سے متاثر ہوکر ماہرین تعلیم نے مختلف ادوار میں مختلف تعلیمی نظریے پیش کئے اور مختلف مقاصدکو اہمیت دی۔ اس مضمون سے راقم کی غرض کسی خاص فلسفہ حیات سے متعلق تعلیمی مقاصد کی وکالت کرنا نہیں بلکہ مختلف تعلیمی فلسفوں سے ان مقاصد کا انتخاب ہے جن کی معنویت پر موجودہ دور میں بھی کوئی کلام نہیں اور مستقبل میں بھی ان کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔

اب تک ماہرین تعلیم نے تعلیم کے جو مقاصد تجویز کئے ہیں ان میں کچھ مقاصد تو ایسے ہیں جن کا تعلق کسی فرد کی اپنی شخصیت یا اپنی زندگی سے ہی ہے، انہیں ہم انفرادی مقاصد کہہ سکتے ہیں۔ دوسری طرف کچھ ایسے مقاصد ہیں جن کا تعلق کسی سماج یا ملک سے ہے یعنی جن کی کسی سماج یا ملک کو ضرورت ہوتی ہے، ایسے مقاصد کو ہم سماجی مقاصد یا قومی مقاصد کہہ سکتے ہیں۔ زیر نظر مضمون میں بحث کا موضوع صرف تعلیم کے انفرادی مقاصد ہیں جو حسب ذیل ہیں:

1۔ متوازن شخصیت کی تعمیر (Harmonious Development of the Personality) :

دور جدید کے اکثر ماہرین تعلیم بچے کی متوازن شخصیت کی تعمیر کو تعلیم کا اولین مقصد قررار دیتے ہیں۔ متوازن شخصیت کی تعمیر سے مراد یہ ہے کہ بچے کی شخصیت کے تمام پہلوؤں یعنی جسمانی، ذہنی، جذباتی، سماجی، اخلاقی، روحانی اور جمالیاتی پہلو کی نشو نما مناسب اور یکساں طور پر ہو تاکہ وہ انفرادی اور سماجی زندگی میں اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی ادا کرسکے۔ موجودہ تعلیمی نظام کے نقائص میں سے ایک نقص یہ بھی ہے کہ ہماری تمام تر توجہ بچوں کی صرف ذہنی نشوونما پر ہوتی ہے اور شخصیت کے دیگر اہم پہلوؤں کو ہم بالکل ہی نظر انداز کردیتے ہیں۔ ہمارے امتحانات صرف بچوں کی قوت یادداشت کی تشخیص پر مبنی ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری نئی نسل سماجی، جذباتی اور اخلاقی تربیت سے خالی نظر آتی ہے۔ ہم ذہین پیشہ ور (Professionals) ضرور تیار کررہے ہیں لیکن ان کے اندر سماجی اور اخلاقی قدروں کا فقدان ہے۔ اس لئے سماج کے اندر تعلیم سے جو تبدیلی آنی چاہیے وہ نہیں آرہی ہے بلکہ سماج شر و فساد میں ڈوبتا جارہا ہے۔ جذبات کی تربیت کی کمی کی وجہ سے ہماری نئی نسل ان جرائم کی مرتکب ہورہی ہے جس کی ہمیں کبھی کوئی توقع نہ تھی۔

اس لئے یہ ضروری ہے کہ بچوں کی ذہنی تربیت کے ساتھ ساتھ شخصیت کے دیگر پہلوؤں کی بھی مکمل تربیت ہو۔ اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ژاں ژاک روسو (Jean Jacques Rousseau, 1712-1778) نے اٹھارہویں صدی میں یہ نظریہ پیش کیا کی بچوں کی شخصیت کے تمام پہلوؤں کی نشوونما مناسب طور پر ان کی فطرت کے مطابق ہونی چاہیے۔ روسو کی اس تحریک کو یوہان ہینرک پسٹالوژی (Johann Heinrich Pestalozzi, 1746-1829) نے آگے بڑھایا اور بعد کے تمام ماہرین تعلیم اس نظریہ سے متفق نظر آتے ہیں۔ گاندھی جی، ربندرناتھ ٹیگور اور ہندوستان کے لگ بھگ سارے مفکرین تعلیم اس مقصد کے قائل ہیں۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ ان تمام حضرات کی کوششوں کا ہندوستانی تعلیمی نظام پر آج بھی بہت زیادہ اثر نہیں بلکہ روز افزوں ہم اس مقصد سے دور ہی ہوتے چلے جارہے ہیں۔ اس لئے قطع نظر اس کے کہ اسکول کون سے فرائض انجام دے رہے ہیں اور اساتذہ کی کیا ذمہ داریاں ہیں، والدین کو اپنے بچوں کے سلسلہ میں بہت زیادہ باخبر رہنے کی ضرورت ہے۔ یہاں یہ واضح کردینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ شخصیت کے مختلف پہلوؤں کی تربیت سے میری کیا مراد ہے۔

(الف) جسمانی تربیت:

تعلیم کا ایک اہم مقصد جسمانی تربیت بھی ہے یعنی جسم کی صحیح نشوونما کو یقینی بنانا۔ زمانہ قدیم میں اس مقصد کو تعلیمی نظام میں ایک خاص مقام حاصل تھا۔ یونانی تہذیب میں خاص کر اسپارٹا (Sparta) کے تعلیمی نظام میں یہ ایک اہم مقصد تھا۔ افلاطون (Plato) اور روسو جیسے مفکرین نے بھی اس مقصد کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ یونانی مقولہ بھی ہے کہ صحت مند جسم میں ہی صحت مند دماغ نشوونما پاتا ہے اور تجربات و مشاہدات سے یہ ثابت ہے کہ جسمانی بدہیئتی(Physical Deformity) کا اثر انسان کی پوری شخصیت پر ہوتا ہے۔ کبھی کبھی جسمانی بدہیئتی کی وجہ سے انسان احساس کمتری اور احساس نامرادی کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ تعلیم کے ذریعہ نہ صرف بچوں کی صحیح نشو و نما کو یقینی بنایا جائے بلکہ انہیں اس بات کی تربیت بھی دی جائے کہ وہ اپنے آپ کو صحت مند اور چست درست کیسے رکھیں ؟ متوازن غذا، جسمانی ورزش اور صحیح عادت و اطوار کاصحت مند جسم کے نشو و نما میں جو رول ہے، انہیں اس سے بھی آگاہ کرنا چاہیے۔ والدین اور اساتذہ اگر ان باتوں کو یقینی بنانے میں اپنا صحیح کردار ادا کریں تو بچے کے جسم و دماغ کی صحیح نشو و نما کی توقع کی جاسکتی ہے۔

(ب) ذہنی تربیت:

زمانہ قدیم سے ہی ذہنی تربیت کو تعلیم کا خاص مقصد تصور کیا جاتا رہا ہے اور جیسا کہ میں نے ابتداء میں عرض کیا کہ آج یہ تعلیم کا واحد مقصد بن کر رہ گیا ہے۔ لیکن موجودہ تعلیمی نظام کی ایک بڑی خامی یہ ہے کہ ہم ذہنی نشو وو نما کو بھی مکمل طور پر یقینی نہیں بناپاتے۔ ہم لوگوں نے اسے صرف کتابی علوم کے حصول اور ان کی یادداشت تک ہی محدود کردیا ہے جبکہ ذہنی تربیت کا مطلب ہے ذہن کی تمام قوتوں مثلاً قوت فہم و فراست(Power of Understanding)، قوت امتیاز (Power of Discrimination)، قوت فکر (Power of Thinking)، قوت تخیل (Power of Imagination)، قوت استدلال (Power of Argumentation)، قوت تنقید و تشخیص (Power of Criticism & Evaluation)، قوت تجزیہ و ترکیب (Power of Analysis & Synthesis) وغیرہ کی تربیت۔ ان قوتوں کی مناسب نشو و نما کے بعد ہی کسی فرد کے اندر اپنی زندگی کے جملہ مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے والدین اور اساتذہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے حصول علم پر ہی نہیں بلکہ مختلف ذہنی قوتوں کی نشو و نما پر خصوصی توجہ رکھیں۔ اس سلسلہ میں ایک خاص بات یہ عرض کرنا ہے کہ بچوں کو اپنے مسائل خود حل کرنے اور اپنی ضروریات خود پوری کرنے کی تربیت شروع سے ہی دینی چاہیے، کچھ والدین بچوں کے مسائل خود حل کرنے لگ جاتے ہیں جس سے نہ صرف یہ کہ بچوں میں دوسروں پر انحصار کی خصلت پیدا ہوجاتی ہے بلکہ ان کی اپنی ذہنی صلاحیت کی نشو و نما بھی صحیح ڈھنگ سے نہیں ہوپاتی کیونکہ اس کا وقت پر صحیح استعمال ہی نہیں ہو پاتا۔ ایسے بچوں میں مسائل کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا نہیں ہوتی اور آگے چل کر وہ فرار پسند (Escapist) ہوجاتے ہیں۔ اس لئے والدین کو چاہیے کہ بچوں کو آزادانہ طور پر اپنے مسائل پر غور و فکر کرنے کا موقع دیں تاکہ وہ خود ان کو حل کرسکیں اور ان کے اندر مسائل کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت (Problem Solving Skill) نشو و نما پائے۔ ان کی مدد کے لئے کچھ واضح اشارے دے دینا ہی کافی ہے۔

(ج) جذبات کی تربیت:

جذبات کی تربیت کو بھی تعلیمی عمل میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ انسان کے اندر مختلف قسم کے فطری جذبات ہوتے ہیں مثلاً راحت و تکلیف کا احساس، خوشی و غم،غصہ و پیار،محبت و نفرت، رحم و ستم، حسد و ہمدردی، خوف و ہمت، عفت و شہوت، صبر و اضطراب وغیرہ۔ یہ تمام جذبات نشو و نما کے مختلف مراحل میں پیدا ہوتے ہیں اور سیرت کی تعمیر میں ان کا بہت ہی اہم رول ہوتا ہے۔ ان میں کچھ جذبے مثبت اور کچھ منفی تصور کئے جاتے ہیں۔ مثلاً غصہ ایک منفی جذبہ تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اکثر انسان غصہ میں بے قابو ہو کر الٹی سیدھی حرکتیں کر ڈالتا ہے لیکن دوسری طرف یہ جذبہ اپنی دفاع کے لئے بہت ضروری ہے کیونکہ اسی جذبہ کی وجہ سے جد و جہد کا رجحان پیدا ہوتا ہے۔ اسی جذبہ کی وجہ سے انسان ظلم کے خلاف آواز بلند کرتا ہے اور یہی جذبہ بڑی بڑی تحریکوں کا سبب بن جاتا ہے۔ اگر غلط کام کو ہوتے ہوئے دیکھ کر کسی کو غصہ نہ آئے تو یہ بھی شخصیت کی ایک کمی سمجھی جائے گی۔ گویا کہ غصہ بذات خود برا نہیں ہے بلکہ اس کا نامناسب استعمال اسے برا بنادیتا ہے۔ اسی طرح دوسرے جذبے بھی ہیں۔ اس لئے والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے جذبات پر نگاہ رکھیں اور انہیں ان کے مناسب اور برموقع اظہار کی تربیت دیں تاکہ وہ انہیں اپنی زندگی میں اعلیٰ اغراض و مقاصد کے حصول میں استعمال کرسکیں۔

(د) سماجی تربیت:

سماجی نشو ونما کو یقینی بنانا بھی تعلیم کا ایک اہم مقصد ہے کیونکہ بچے کو اپنی زندگی بہر حال سماج میں ہی گزارنی ہے اس لئے اس کے اندر سماجی احساس کا بیدار ہونا ضروری ہے۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ سماج پر اس کی زندگی کا انحصار کیسے ہے اور سماج کی اس پر کیا ذمہ داریاں ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے اندر مختلف سماجی جذبوں مثلاً دوستی، محبت، خدمت، امداد باہمی،ہمدردی، غمخواری، دلسوزی،بردباری، قربانی وغیرہ کا ہونا بھی اشد ضروری ہے تاکہ وہ سماج کا ایک اچھا فرد بن سکے۔

(ر) اخلاقی تربیت:

اخلاقی تربیت یا سیرت کی تعمیر تعلیم کا سب سے بڑا مقصد ہونا چاہیے۔ زمانہ قدیم میں کردارسازی کو ہی تعلیم سمجھا جاتا تھا لیکن موجودہ تعلیمی نظام میں اسے کوئی مقام حاصل نہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج انسان ڈاکٹر، انجینئر، سائنسداں سب کچھ بن رہا ہے لیکن انسان نہیں بن پارہا ہے۔ اخلاقی تربیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر جو حیوانی جبلتیں ہیں ان کا مناسب اور منضبط طور پر ارتقا ہو اور جو انسانی اور ملکوتی جبلتیں ہیں ان کو سنوارا اور اجاگر کیا جائے خصوصاً سچائی، دیانت داری، عفت، پاکیزگی، حیا، ایثار و ہمدردی، بڑوں کی عزت اور چھوٹوں پر شفقت وغیرہ صفات ذہن نشین کرائے جائیں۔ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر (Martin Luther King, Jr.) نے سیرت کی تعمیر میں تعلیم کے رول کو اجاگر کرنے کے لئے یہ کہا :

“The function of education is to teach one to think intensively and to think critically. Intelligence plus character – that is the goal of true education.”

یعنی ’’تعلیم کا مقصد کسی فرد کو شدت کے ساتھ اور ناقدانہ طور پر سوچنا سکھانا ہے۔ ذہانت اور کردارسازی ہی صحیح تعلیم کا مقصد ہے‘‘۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ صحیح تعلیم کے بغیر اچھی سیرت کا تصور نہیں اور جہاں کردارسازی نہ ہو وہاں حقیقی تعلیم کا وجود ہی مشکوک ہے۔

(س) روحانی تربیت:

روحانی تربیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان اس دنیا کی حقیقت اور اس دنیا میں اپنی حقیقت کو پہچانے۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کون ہے ؟ کہاں سے آیا ہے؟اس زندگی کے بعد کہاں جائے گا؟ اس کی زندگی کا کیا مقصد ہے ؟کن اعمال میں اس کی نیک بختی اورسعادت ہے اور کن اعمال میں اس کی بد بختی اورشقاوت ہے؟خلاصہ یہ کہ بندہ اپنے خالق کو پہچان کر جذبہ بندگی کے ساتھ زندگی گزارنے کے لائق ہو جائے یہی روحانی تربیت ہے۔ جذبات کی تربیت میں بھی اس کا بڑا رول ہے اوراخلاقی تربیت تو روحانی تربیت کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لئے بچوں کی روحانی تربیت کو بھی تعلیم کا ایک اہم مقصد سمجھنا چاہیے اور اس پر توجہ دینی چاہیے۔

(ص) جمالیاتی تربیت:

جمالیاتی تربیت سے مراد طلباء کے اندر جمالیاتی حس کا بیدار کرنا اور اس کی بہترین نشو و نما کرنا ہے۔ جس سے وہ قدرت کی تخلیقات اور قدرتی مظاہر میں پنہاں حسن و جمال کو محسوس کر سکے اور مختلف فنون لطیفہ کے وظیفہ کارسے لطف اندوز ہوسکے۔ جمالیاتی حس چونکہ ذہنی اور جذباتی استحکام کے حصول میں مددگار ہے اس لئے اس کی نشو و نما بھی جو کہ افراط اور تفریط سے پاک ہو بے حد ضروری ہے۔
شخصیت کے ان مختلف پہلوؤں کی تربیت کو ہی متوازن شخصیت کی تعمیر سے تعبیر کیا جانا چاہیے۔

3۔ ماحول سے تطابق کی تربیت(Training of Adjustment to Environment):

انسان جس ماحول میں زندگی گزار رہا ہو اس سے اس کی مطابقت از حد ضروری ہے کیونکہ مطابقت خوشگوار زندگی کی راہ ہموار کرتی ہے اور نقص مطابقت(Maladjustment) ناخوشگوار زندگی، ناکامیابی اور بعض اوقات خودکشی، موت اور تباہی کی راہ ہموارکردیتی ہے۔ اس لئے ماہرین تعلیم کا ایک طبقہ اس بات کا قائل ہے کہ تعلیم دراصل وہ عمل ہے جس کے ذریعہ انسان اپنے آپ کو اپنے فطری اور سماجی ماحول میں رہنے کے لائق بناتا ہے۔ فطری ماحول سے مراد کسی جگہ کے جغرافیائی حالات، موسم کی تبدیلی،قدرتی آفات وغیرہ ہیں۔ بچوں کو یہ تربیت دینی چاہیے کہ وہ ان حالات کا مقابلہ کیسے کریں۔ اسی طرح ہر سماج کے کچھ اپنے اعتقادات،اپنے رسم و رواج، اپنی تہذیب اور اپنے اقدار ہوتے ہیں۔ ان سے بھی کسی فرد کی مطابقت اور ہم آہنگی ضروری ہے کیونکہ ان سے عدم تطابق احساس تنہائی و نامرادی پیدا کرتا ہے اور انسان سماج سے دھیرے دھیرے علاحدگی اختیار کرتا جاتا ہے جو بالآخر اس کی ناکامی اور بربادی کا سبب بن جاتا۔ اس لئے تعلیم کے ذریعہ ماحول سے تطابق کا رجحان پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔

3۔ ماحول کوقابو میں رکھنے اور بدلنے کی تربیت(Training of Environmental Control & Change):

موجودہ دور میں جس قدر ماحول سے مطابقت ضروری ہے اس سے کہیں زیادہ ماحول کو قابو میں رکھنے اور اسے صحیح اور مناسب سمت میں بدلنے کا رجحان بھی ضروری ہے کیونکہ مادہ پرستی اور انانیت نے انسانی سماج کی بنیادیں کھود ڈالی ہیں۔ اخلاقی قدروں میں زبردست گراوٹ آئی ہے اور سماج ظلم و استبداد اور شر و فساد میں ڈوبتا جارہا ہے۔ انسانی کارکردگیوں نے نہ صرف سماجی ماحول بلکہ طبعی و فطری ماحول کو بھی پراگندہ کردیا ہے جس کی وجہ سے خود اس کا وجود خطرہ میں پڑگیا ہے۔ ایسے حالات میں ماحول سے مطابقت قطعی مفید نہیں ہوسکتی بلکہ اس کو قابو میں رکھنے اور اس میں انقلاب لانے کی ضرورت ہے۔ اس لئے تعلیم کے ذریعہ اپنی نئی نسل میں ان صلاحیتوں کا پیدا کرنا بھی ضروری ہے جس سے وہ ماحول کو قابو میں رکھیں اور اگر کوئی خرابی واقع ہو تو اس کا مقابلہ کرکے اس کو درست کرسکیں تاکہ سماج ہمیشہ ترقی کی راہ پر گامزن رہے۔ اس مقصد کے حامیوں میں امریکی فلسفی تھیوڈور بی ایچ براملڈ (Theodore B.H. Brameld) سر فہرست ہیں جنھوں نے فلسفہ نوتعمیریت (Reconstructionism) میں اس بنیادی نکتہ پر زور دیا کہ تعلیم سماج میں ثقافتی، سیاسی اور اقتصادی تبدیلی لانے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ تعلیم یافتہ افراد میں عالمگیر سطح پر پیدا ہونے والے معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے ورنہ تعلیم بے معنی ہے۔ اس احساس کے بیدار ہونے کی وجہ سے ہی آج ہم سماجی ماحول سے آگے بڑھ کر اپنے فطری و طبعی ماحول کو بھی قابو میں کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ماحول کی آلودگی سے حفاظت، قدرتی وسائل جیسے پانی کی حفاظت، قدرتی گیس و تیل کی حفاظت، جنگلات کی حفاظت حتٰی کہ حشرات الارض تک کی حفاظت اسی راستہ میں ایک قدم ہے۔

4۔ اقتصادی لیاقت کے حصول میں مدد(Achievement of Economic Efficiency):

تعلیم کا ایک اہم مقصداقتصادی لیاقت کا حصول بھی ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایک فرد کے اندر اتنی صلاحیت تو ضرور ہونی چاہیے کہ وہ اپنی ضروریات کا معاشی بوجھ خود برداشت کرسکے اور سماج پر بوجھ نہ بنے۔ اتنی صلاحیت کا حصول کہ وہ سماجی ذمہ داریوں کو بھی پورا کر سکے اور ملی و قومی فلاح و بہبود کے کاموں میں بھی حصہ لے سکے بدرجہا بہتر ہے لیکن یہ سمجھنا کہ تعلیم کا یہی حتمی مقصد ہے جیسا کہ موجودہ سماج نے تصور کرلیا ہے سراسر غلط ہے۔ اس کی بنیادی وجہ انسانی فکر پر مادیت اور عیش پرستی کا غلبہ ہے۔ آج کے دور میں انسان کی قدر انسانی صفات کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کے عہدہ اور معاشی حیثیت کی بنیاد پر ہونے لگی ہے۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ تعلیم کے اس مقصد پر اس قدر زور دیا گیا کہ دوسرے مقاصد ہی ذہنوں سے محو ہوتے چلے گئے حالانکہ دوسرے مقاصد جو سطور بالا میں بیان کئے گئے کبھی بھی اس مقصد کے تابع نہیں ہوسکتے۔

اس طرح متوازن شخصیت کی تعمیر، ماحول سے تطابق کی تربیت، ماحول کی تعمیر نو کی تربیت اور اقتصادی وسائل کے حصول میں مدد تعلیم کے وہ مقاصد ہیں جو انفرادی پس منظر میں نہایت ضروری ہیں۔ یہ وہ مقاصد ہیں جن کی معنویت پر موجودہ دور میں بھی کوئی کلام نہیں اور مستقبل میں ان کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ ایک طرح سے یہ مقاصد آفاقی مقاصد (Universal Aims) کہے جاسکتے ہیں۔ ان کے اندر وہ تمام مقاصد سموئے ہوئے ہیں جن کا تصور ماہرین تعلیم کے یہاں انفرادی پس منظر میں ملتا ہے، مثلاً مقصد اظہار خودی (Self-Expression)کو ہی لے لیجئے جس کا تصور فلسفہ فطرتیت (Naturalism) اور نظریہ فردیت (Individualism) میں ملتا ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب انسان ذہنی غلامی سے آزاد ہو اور اس کے لئے مکمل ذہنی تربیت لازمی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اظہار خودی کا مطلب حیوانی جبلتوں کا اظہار نہیں ہو سکتا بلکہ انسانی اور ملکوتی جبلتوں کا ہی اظہار ہے جس کے لئے سماجی و اخلاقی تربیت لازمی ہے۔ اسی طرح مقصد عرفان ذات(Self-realizattion) جس کا تصور فلسفہ تصوریت (Idealism) میں ہے روحانی تربیت کے بغیر ممکن نہیں۔ سماجی لیاقت (Social Efficiency)جس کا تصور فلسفہ افادیت (Pragmatism) نے دیا ان مقاصد کے حصول کے بعد خود بخود حاصل ہو جاتا ہے کیونکہ پروفیسر ولیم چینڈلر بیگلے (Prof. William Chandler Bagley) نے سماجی لیاقت کی تعریف تین صفات کی بنیاد پر کی ہے؛ منفی اخلاقیات (Negative Morality)، مثبت اخلاقیات (Positive Morality) اور اقتصادی لیاقت۔

منفی اخلاقیات کا مطلب ان کے مطابق اپنی ان خواہشات کو قربان کرنے کا جذبہ ہے جن کی تکمیل کسی دوسرے شخص کے اقتصادی لیاقت کے حصول میں رخنہ ڈالے اور مثبت اخلاقیات سے مراد اپنی ان خواہشات کو قربان کرنے کا جذبہ ہے جن کی تکمیل سماج کی ترقی میں بلاواسطہ یا بالواسطہ معاون نہ ہو یعنی انسان کی ہر خواہش کی تکمیل سماج کی ترقی میں کسی نہ کسی طرح ضرور معاون ہو۔ اخلاقی تربیت سے میری مراد ان دونوں جذبوں کی تربیت ہے اور تعلیم کے ذریعہ اقتصادی لیاقت کا حصول مذکورہ مقاصد میں شامل ہی ہے۔ ان مقاصد کے حصول کے بعد ہی ہم ایک فرد کی مکمل اور بہتر زندگی کی امید کر سکتے ہیں جس کا تصور ہربرٹ اسپنسر (Herbert Spencer) کے فلسفہ فطرتیت(Naturalism) ملتا ہے۔

تبصرے بند ہیں۔