تنگ نظری کی نظر

مدثراحمد

دنیا میں پرنٹنگ پریس کی ایجاد 1377 میں ہوئی اوراس مشین کا استعمال عثمانیہ سلطنت میں جب 1587 میں کرنے کے لیے اس وقت کے سلطان نے پیش رفت کی تو ترکی کے علماء خصوصََا شیخ السلام نے اس پرنٹنگ مشین کو استعمال کرنے سے روکا اور کہا کہ یہ فرنگیوں کی ایجاد ہے، سلطان نے علماء سے منت سماجت کی تو آخر میں انہوںنے بائبل اور یہودیوں کے لٹریچر کو ہی پرنٹ کرنے کی اجازت دی تھی، اس وقت یہ لوگ جدید ٹکنالوجی کا استعمال کرنے کے بجائے موجد کی ذات و مذہب کا پتہ لگارہے تھے، بلآخر پرنٹنگ ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے یہود و عیسائی ترقی کرگئے، پھر کچھ عرصے بعد جب چیچک کا ٹیکہ دریافت کیا گیا تو اس وقت بھی مسلمانوںنے چیچک کے ٹیکے کو استعمال کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ یہ بھی عیسائیوں کی ایجاد ہے اسلیے اسکا استعمال ہمارے لیے حرام ہے۔

 اب یہ باتیں تاریخ کی تھیں لیکن پڑوسی ملک پاکستان کی ہی لیں وہاں آج بھی پولیو کی خوراک محض اس لیے استعمال نہیں کی جاتی ہے کیونکہ اس خوراک کو اقوام متحد ہ یعنی یونائیٹڈنیشن فنڈنگ کرتاہے اور کچھ دقیانوسی لوگوں کا سمجھنا ہے کہ اقوام متحدہ کو فنڈ یہودی دیتے ہیں اسلیے اسکا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ تینوں معاملات، جس میں پرنٹنگ پریس کا بائیکاٹ کرنا، چیچک کی بیماری کے انجکشن کو استعمال کرنے سے انکار کرنا، پولیو کی دوائی کا استعمال نہ کرنا یہ تما م مسلمانوں کی عقلمندی کی مثال کہی جائے یا بیوقوفی ؟۔ اب دنیا بھر میں کورونا کی وباء تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے اور ہر دن ہزاروں لوگ موت کا شکار ہورہے ہیں، بھارت میں ہی اب تک ایک لاکھ سے زائد لوگ فوت ہوچکے ہیں باوجود اسکے لوگوں کا سوال یہ کیوں ہے کہ کورونا حقیقت ہے یا بناوٹی بیماری ہے۔ اگر واقعی میں یہ بیماری بناوٹی ہوتی تو اب تک دنیا بھرکے ترقی یافتہ ممالک میں اس کا بھانڈا کیوں نہیں کھلا؟

پچھلے سال شروع ہونے والی اس وباء کی نظرمیں ہزاروں وہ لوگ بھی موت کے گھاٹ اترے ہیں جو خود کہا کرتے تھے کہ کورونا بیماری ہی نہیں بلکہ حکومتوں، سرمایہ داروں کی جانب سے بنائی جانے والی ایک نقلی بیماری ہے اور اسکامقصد صرف کمائی کرنا ہے۔ چلیے مان لیتے ہیں کہ یہ بناوٹی بیماری ہے اور اسکا مقصد کمائی کرناہے، لیکن جو مسلمان عمائدین، نمائندے، علماء اور عام لوگ اس بات کی دلیل پیش کررہے ہیں وہ کیوں نہیں اس بیماری کی تحقیق کرنے کے لیے ایسی نسل تیار نہیں کررہے ہیں جو سچ اور جھوٹ کو واضح کرے۔ دراصل مسلمانوں کی ذہنیت شادی میں شرکت کرنے والے اس پھوپھا، داماد اور موسا جیسی ہے جو ہر بات میں کسی نہ کسی طرح کا نقص نکالتے ہیں بجائے اسکے کہ وہ معاملے کو سلجھائیں یا سنبھالیں یا کم از کم درست کرنے کی کوشش کریں۔ اب کورونا کوایک سال تک بدنام کرنے کے بعد کورونا کے لیے بنائی جانے والی انجکشن کو لے کر مسلسل افواہیں پھیلائی جارہی ہیں کہ اس انجکشن کو لینے کے بعد ہمارا ڈی ین اے بدل جائیگا، خواتین بچے پیداکرنے کے لائق نہیں رہیں گی، حکومت نامرد بنارہی ہے، حکومت لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کررہی ہے اس طرح کی باتیں سوشیل میڈیا میں مسلسل شیئر کی جارہی ہیں۔

 سوال یہ اٹھ رہاہے کہ آخر یہ کونسے مسلم سائنسدان ہیں جنہوںنے کورونا کی دوا تو نہیں بنائی البتہ کورونا کی دوائی سے ہونے والے مضر اثرات کے تعلق سے تحقیق کرلی اور اتنی گہری تحقیق کرلی کہ ڈی ین اے کی تبدیلی کے تعلق سے بھی ہمارے پاس دلیل مل گئی، پھر آگے چل کر وہ بات جس میں کہا گیا ہے کہ عورتیں بانجھ ہوجائینگی، پچھلے تین مہینوں سے دیے جارہے اس انجکشن کی وجہ سے کتنی خواتین بانجھ ہوچکی ہیں یہ کوئی ثابت کردکھائے، ویسے بھی آج کل تو عورتیں ہم دو۔ ہمارے دو کے فارمولے پر عمل کررہے ہیں، آخر میں وہ دلیل جس میں کہا گیا ہے کہ کورونا کے انجکشن کو لینے سے آدمی نامرد ہوجاتاہے، ہمارے اخبارات، کتابیں، میگزین، دیواریں، پیڑوں کے تنے سب تو نامردی کے علاج کو دور کرنے کے اشتہارات سے بھرے پڑے ہیں، ہر کوئی آج طب یونان کا ماہر بن چکا ہے اور ہر کسی کو مردانہ کمزوریوں کو دور کرنے کے نسخے دے رہاتو کورونا کی انجکشن سے ہونے والے سائڈ ایفکٹ سے کیا ڈرنا۔

 ہماری قوم کا حال اتنا ہی نہیں، ایک صاحب کو ایک عالم نے کہاکہ میںنے تو کورونا کا ویکسن لے لیاہے آپ بھی لے لیں تو اس بندہ خدانے کہا کہ میں تو نبی ﷺکا سچا عاشق ہوں، ان پر مرنے والوں میں سے ہوں اسلیے مجھے کورونا نہیں آئیگا اور نہ ہی مجھے ویکسن کی ضرورت ہے۔ یہ سب باتیں اور واقعات اس لیے پیش کیے جارہے ہیں کہ لوگ جان لیں کہ قوم مسلم کتنی الرٹ ہے اور وہ کس طرح سے حالات سے نمٹنے کے لیے تیارہے۔ نہ ان میں سائنسی بنیادوں پر بات کرنے کی استطاعت ہے، نہ ہی سائنس، میڈیکل سائنس اور فارمیسسٹ کے شعبے میں تحقیق و ترقی کرنے کی کوئی حیثیت ہے، جذباتی باتیں۔ بیماریوں کو بھی ہندو مسلم کا نام، دوائیوں کو سازش کہنا اور چائے کی دکانوں پر بے جاتبصرے کرناانکا شیوہ بن چکاہے۔

جس قوم کے پاس قرآن جیسی کتاب ہو، طب نبوی جیسا سائنس ہو وہ قوم سائنس و ٹکنالوجی کی دنیامیں آگے آنے کے بجائے صرف ادھر ادھر کی باتیں کرتی ہوئی گھوم رہی ہے اور جولوگ کام کررہے ہیں نہ انہیں کرنے دے رہے ہیں نہ ہی خود کچھ کرنے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ امت مسلمہ کورونا ویکسن حاصل کرنے کے لیے پیش رفت کریں، ہم جیسے لکھاریوں کی بات پر یقین نہ ہوتو مسلم ڈاکٹروں سے رجوع کریں اورویکسن ضرور لیں ورنہ مذہب مذہب کھیلتے بیٹھے رہیں گے توایک دن ملک میں سڑکوں پر آکر دم توڑینگے۔ وسیع النظر بنیں نہ کہ تنگ نظری کی بھینٹ چڑھیں۔

تبصرے بند ہیں۔