حجاب تنازعہ سے سیاسی فائدہ اور طلبہ کا تعلیمی نقصان

محمد عبدالحلیم اطہر سہروردی

ہندوستان کی جنوبی ریاست کرناٹک میں مختلف تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی لگاکر اب حجاب کو ایک تنازعہ بنایا جارہا ہے اور اس تنازعہ کو ریاست بھر میں پھیلایا جارہا ہے،اور اس کو ایک منظم منصوبہ کے تحت مسلم طالبات کو ہراساں کرنے اور انہیں تعلیم حاصل کرنے میں دشواریا ں پیدا کرنے کا ذریعہ بنایا جارہا ہے ۔ اور یہ تنازعہ اب پورے ملک میں پھیلا کر گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ کہلائے جانے والے ہمارے ملک ہندوستان کی شبیہ کو نقصان پہنچایا جارہاہے جہاں ایک طرف یہ شرپسند فرقہ پرست عناصر اس معاملہ میںشدت اختیار کرتے جارہے ہیں وہیں ملک کی عدلیہ چاہے وہ ہائی کورٹ ہو یا سپریم کورٹ اس معاملہ میںقطعی فیصلہ دینے کی بجائے ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے چونکہ اس وقت اترپردیش ،گوا، اتراکھنڈ سمیت 5ریاستوں میں انتخابات ہورہے ہیں جہاں اس تنازعہ کو انتخابی موضوع بناکر سیاسی فائدے حاصل کرنے کی گھناؤنی کوشش ہورہی ہے اور اس تنازعہ پر تقریبا تمام سیاسی پارٹیوں نے سیاست شروع کردی ہے۔ گذشتہ دنوں یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب ایک تعلیمی ادارے نے طالبات کو حجاب اتار کر کلاس میں آنے کی شرط ر کھی جس سے طالبات نے انکار کیا اور ادارے کے حکم کے خلاف نہ صرف احتجاج کیا بلکہ ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر کردی ۔ اس کے بعد ایک منظم سازش کے تحت اس معاملہ کو اتنا طول دیا گیا کہ یہ پورے ملک میںمتنازعہ بن گیا۔ حجاب کی مخالفت میں بہت سے لڑکے لڑکیاں بھگوا (زعفرانی) رنگ کی شال، پگڑیوں اور دوپٹے میں نظر آئے جسے ہندوتوا کا رنگ کہا جاتا ہے اور سنگھ پریوار والے اسے اپنا نشان مانتے ہیں۔سوشل میڈیا پر جہاں حجاب میری شناخت کے تحت بات ہو رہی تھی وہیں بھگوا میری پہچان اور بھگوا میری شان کا بھی ذکر ہو رہا تھا۔ہندوستان میں آج کل اس رنگ کو برسر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی اور دوسری ہندو تنظیمیںفرقہ وارانہ تفریق کیلیے استعمال کر رہی ہیں۔دوسری جانب کرناٹک کے علاوہ مہاراشٹر ،آندھرا پردیش سمیت ملک کی کئی ریاستوں کے مختلف شہروں میںاس تنازعہ کے خلاف حجاب کی حمایت میں مظاہرے ہوئے اور حجاب کو متنازعہ بنانے کی شرپسند فرقہ پرست تنظیموں کی کوششوں کو ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا ۔اتنا ہی نہیں بلکہ اب یہ معاملہ عالمی سطح پر بحث اور تشویش کا موضوع بن گیا ہے۔

عالمی سطح پر مذہبی آزادی کے نگران امریکی حکومت کے ادارے انٹرنیشنل ریلیجس فورم نے حجاب کو متنازعہ بنانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے ۔ اس کے علاوہ دیگر ممالک نے بھی حجاب کو متنازعہ مسئلہ بنانے پر تنقید کی ہے جس کے جواب میں ہندوستان کی وزارت خارجہ نے بین الاقوامی تنقید کو ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔واضح رہے کہ آئین ہند کے آرٹیکل 21، 21A،14اور 25کے مطابق تمام ہندوستانیوں کو زندگی گذارنے کا حق ، تعلیم کا حق ، برابری کا حق اور مذہبی آزادی کا حق حاصل ہے ۔ اس کے باجود یہ شر پسند فرقہ پرست تنظیمیں منظم ومنصوبہ بند سازش کے تحت حجاب معاملہ کو متنازعہ بنارہی ہیں اور اس کے لیے مسلسل کوشش کررہی ہیں حالانکہ سالانہ امتحانات بالکل قریب ہیں ایسے وقت میں جب طلباء وطالبات امتحانات کی تیاری میںمشغول ہیں انہیں ہر اساں وپریشاں کرکے ان کا تعلیمی نقصان کیا جارہاہے ۔گندی سیاست اور اقتدار کی ہوس میں طلباء کے مستقبل سے کھلواڑ کیا جارہاہے ۔ یہ معاملہ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اور سپریم کورٹ نے بھی کہا ہے کہ وہ اس معاملہ پر نظر رکھے ہوئے ہیں اس کے باوجود حجاب معاملہ کو لے کر طالبات اور اساتذہ کو ہراساں کیا جارہاہے اور جوطالبات واساتذہ حجاب کے ساتھ اسکول یا کالج آرہی ہیں انہیں پریشان کیا جارہاہے ایسے حالات میں مسکان نامی لڑکی نے جو اللہ اکبر کے نعرے لگائے تو اس کی ہر جانب سے ستائش کی گئی انعامات دئے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے حجاب معاملہ میں یہ لڑکی حجاب آیئکن گرل بن گئی لیکن دوسری جانب ملک بھر میں خاص طورسے ہماری ریاست کرناٹک میں حجاب کو تنازعہ بنا کر طالبات کےساتھ جو بد تمیزی ہورہی ہے انہیںجو تکالیف دی جارہی ہیں وہ حد درجہ افسوس ناک ہے ۔ ہماری ہر طالبہ کومسکان کی طرح نڈر ہوکر مقابلہ کرنا ہوگا ۔ اور پولیس اور انتظامیہ کو بھی چاہیے کہ وہ اشرار کو کھلی چھوٹ دینے کے بجائے ان کے خلاف کارروائی کرے اور طالبات کی حفاظت کو یقینی بنائے ملک بھر میں بھی جو سیکولر پارٹیاں تنظیمیں اور لیڈر ہیں وہ حجاب کو متنازعہ بنانے پر مخالفت کا اظہار کررہے ہیں۔

اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں نعمت اسلام سے نوازا اور ایک ایسی شریعت دی جس میں صحیح عقائد، عمدہ اخلاق اور کردارکی پاکیزگی کی اعلیٰ تعلیم ہے اور شرک وبدعت و بداخلاقی اور بے حیائی سے ممانعت پوری تاکید کے ساتھ موجود ہے۔ اور ہر ہر قدم پر علم وعمل اور قانون کے ذریعہ عفت وپاک دامنی کو فروغ دیا گیا اور بے حیائی، زناکاری وغیرہ پر پابندی عائد کی گئی ہے۔پاکیزہ معاشرہ کے لیے عورتوں کو گھروں میں رکھ کر گھریلو ذمہ داریاں ان کو دی گئیں اور مردوں کو باہر کی ذمہ داریوں کا پابند کرکے مردوں اور عورتوں کو باہمی اختلاط سے روکا گیا؛ تاکہ ایک صاف ستھرا اور پاکیزہ معاشرہ وجود میں آسکے اور مسلم معاشرے کی یہ خصوصیت اب تک باقی تھی اور تقریباً پچاس سال سے غیروں کی حیاسوزی کی تحریک بلکہ یلغار سے ہمارا معاشرہ بری طرح متاثر ہوا ہے اور افسوس اور حد درجہ ماتم کی چیز یہ ہے کہ اس کا مقابلہ اورفحاشی کا خاتمہ کرنے اور اس پر روک لگانے کے بجائے بعض مسلم دانشوران اس کوشش میں ہیں کہ بے حجابی کو جواز کا درجہ دے دیا جائے؛ بلکہ بعض نے تو چہرہ کے حجاب کو غیر ضروری قرار دے دیا ہے اور اس بات کا دعوی ہی نہیں؛ بلکہ دعوت دینی شروع کردی ہے کہ چہرہ، ہتھیلیوں اور پیروں کو کھلا رکھا جائے۔حقیقت بھی یہی ہیکہ حجاب عورت کی عفت اور پاکدامنی کا پاسبان ہے۔ اس سے عورت کی شرم وحیا کا اظہار ہوتا ہے۔

حجاب عورت کو حیا کا پیکر بناتا ہے ۔عورت کا نا محرموں اور اجنبیوں سے ا پنے آپ کو ڈھا نپ کر رکھنا اور اپنے ستر کو چھپا کر رکھنا حجاب ہے ۔قرآن پاک میں اللہ تعا لیٰ نے مختلف سورتوں میں اس کا باقاعدہ حکم د یا ہے۔ سورہ نور کی آیت 31 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:مسلما ن عورتوں سے کہوکہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظا ہرنہ کر یں سو ا ئے اس کے جو ظا ہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیا ں ڈالے رہیں اور اپنی آرائش کوکسی کے سا منے ظا ہر نہ کریں۔سورہ احزاب کی آیت نمبر 59میں اللہ تعالیٰ فرما تے ہیں :اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! اپنی بیویوں اور صا حبزادیوں سے اور مسلما نوں کی عورتوں سے کہہ دوکہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں ڈال لیا کریں اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستا ئی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔عورتوں کے لیے پردہ (حجاب) تین مرحلوں میں ہے:پہلا مرحلہ:اللہ سے حجاب کا ہے یعنی جب عورت نماز کے لیے کھڑی ہو تو چہرہ، دونوں ہاتھ پہنچوں تک اور دونوں قدم ٹخنے سے نیچے تک چھوڑکر (کہ یہ تین اعضاء نماز کے حجاب میں داخل نہیں) بقیہ پورا بدن چھپاکر نماز پڑھنا ضروری ہے۔ دوسرا مرحلہ:محارم سے حجاب کا ہے یعنی جن لوگوں سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہے، ان کے سامنے عورت اپنا چہرہ سر، گردن ، دونوں ہاتھ، دونوں پنڈلیوں کے علاوہ بقیہ اعضاء بدن کا چھپانا لازم ہے۔تیسرا مرحلہ:حجاب کا اجنبیوں سے ہے اور وہ پورے بدن کا حجاب ہے، اس میں ہاتھ، پاوئں، چہرہ سر وغیرہ کا کوئی استثناء نہیں، سبھی چیزوں کا پردہ ہے، حتی کہ آواز کا بھی پردہ ہے، حجاب کا جو تیسرا مرحلہ ہے اجانب اور غیرمحارم سے پردے کا اس میں عورتیں بڑی بے راہ روی میں مبتلا ہیں، چہرے کے پردہ کو ضروری نہیں سمجھتی ہیں، حالانکہ چہرے کو چھپانا ہی سب سے زیادہ ضروری ہے کیوں کہ چہرہ مجمع حسن ہونے کی وجہ سے فتنے کا امکان سب سے زیادہ رہتا ہے۔

دین اسلام میںہمارے لیے اچھی اور پاکیزہ زندگی جینے کی مکمل رہنما ئی ہے۔ یہ حقیقت ہیکہ انسا ن کا حلیہ ہی اس کے ظاہر اور باطن کا آئینہ دار ہوتا ہے۔انسان اس کے ظا ہری حلیے کی وجہ سے پہچا نا جاتا ہے۔ انسان کے علاقائی، ذہنی اور اخلاقی رجحا نات اسکے ظاہری حلیے سے ہی ظاہر ہو تے ہیں۔ حلیہ ہماری زندگی میں بہت اہمیت رکھتا ہے اور بحیثیت ایک مسلمان خا تون کسی بھی خاتون کواپنے لباس میں اس چیز کا بہت خیال رکھنا چا ہئے کہ وہ ایک مسلمان با وقار خا تون دکھا ئی دیں۔حجاب یقینا خوا تین کا وقار ہے اور اس کا تعلق براہ راست شرم وحیا سے ہے ۔زیادہ پرانی بات نہیں، ہمارے ملک اور معاشرے میں خواہ مسلم ہو یا غیر مسلم خواتین اور لڑکیوں کادوپٹے اور حجاب کے بغیر باہر نکلنا ایک معیوب بات سمجھی جاتی تھی اور خواتین پردے کا خاص خیال رکھتی تھیں اور بچیوں کو بھی اس بات کی تربیت دی جاتی تھی کہ اپنے پردے کا خیا ل رکھیں،جب ایک مسلمان عورت اپنے سر کو ڈھانپتی ہے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے اپنی پہچا ن کا احساس ہے اور وہ اسلامی تہذیب اورثقافت کیلیے سر اٹھا کر کھڑی ہے لیکن جوں جوں معا شرہ ترقی کرتا گیا اور فیشن آتا گیا تو اس ترقی یافتہ دور کے بہت سے نقصا نات بھی سامنے آئے ہیں اور فیشن انڈسٹری نے دوپٹے کو عورت کے لباس سے گھٹا دیا ہے اوراس دوپٹے کو خیر آباد کہنے سے بطور خاص ہمارے مسلم معاشرے میںاس کے بہت سے نقصانات سامنے آرہے ہیں۔ہر خاتون مسلمان معاشرے کی ایک رکن ہے، خواہ وہ مغرب میں رہتی ہو ،ایشیا میں یا عرب میں۔ کچھ سال پہلے ان تمام معا شروں میں ایک مسلمان خا تون باوقار طریقے سے رہتی تھی کیونکہ اس کا حجاب اس کے لیے بہت اہمیت رکھتا تھا لیکن آجکل مادہ پرستی اور فیشن کی جدت نے عورت کو اپنے حجاب سے بے نیاز کر دیا ہے۔

آج کل کی ما ئیں اور بیٹیاں سب اس بات پر مضطرب نظر آتی ہیں کہ دوپٹہ اوڑھنے کی چیز ہے یا سا ئیڈ پر لٹکا نے کی چیز ہے۔ہمارے معاشرے میں بے راہ روی بڑھنے کی ایک بڑی وجہ خواتین کی بے پردگی ہے۔اس کے باجود پورا مغرب اور مخالف اسلام طاقتیں حجاب سے خوف زدہ نظر آرہے ہیں۔فرانس اور دیگر ممالک میں حجاب پر پا بندی لگائی جا رہی ہے۔ اب ہمارے ملک ہندوستان میں مختلف تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی لگا نے سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ یہ عناصر مسلم خوا تین کے تشخص کو نہیں ما نتے، کیو نکہ حجاب مسلمان خواتین کے تشخص کی علامت ہے جبکہ دیگر سب تہذیبوں کو مانا جا رہا ہے۔صرف اسلام سے انہیں بغض ہے ۔

موجودہ حالات کے مدنظر ایک فکری و فوری اقدام یہ ہونا چاہیے کہ ایک ایسا اجتماعی فیصلہ لیا جائے کہ ہماری طالبات صرف مسلم اداروں میں ہی تعلیم حاصل کریں اور مسلم ادارے ایسی معیاری تعلیم دیں کہ ہماری طالبات کو کسی اور ادارے میں جانے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو بلکہ جاریہ تنازعہ کے پیش نظر فوری طور پر غیر مسلم انتظامیہ کے تعلیمی اداروں میں مسلم طالبات داخلہ ہی نہ لیں اور ایسے اداروں کا تو مکمل بائیکاٹ کیا جائے جنہوں نے مسلم طالبات کو ہراساں و پریشاں کیا ہے۔ہمیں احساس ہونا چاہیے کہ غیر محسوس طریقہ سے گذشتہ کئی دہوں سے اسکولوں میں مخلوط تعلیم اور ایسے یونیفارم کا رواج دیا جارہا ہے کہ جس میں نصف برہنگی کے ساتھ بے حیائی ہے۔ مخلوط تعلیم اور بے حیائی کے لباس پر اعتراض کرنے والوں کو قدامت پسند اور دقیانوس کہہ دیا جاتا ہے؛ حالانکہ اسکولوں کی بے حیائی والے ماحول میں نشوونماپانے کے بعد کالج اور یونیورسٹی میں پہنچنے تک مسلم بچیوں کے رنگ وروپ بالکل بے حیائی میں ڈھل چکے ہوتے ہیں اور حیاسوزی اور فحاشی کے وہ مناظر سامنے آنے لگتے ہیں کہ انسانیت اور شرم وحیا اپنا سر پیٹ کے رہ جائیں۔سوال یہ ہے کہ تعلیم کے لیے کیا مخلوط تعلیم ضروری ہے اور کیا بے حجابی اور نیم عریانی کے بغیر کوئی لیکچر سمجھ میں نہیں آئے گا اور کیا کسی مضمون کو سمجھنے کے لیے زیب وزینت والا چہرہ ضروری ہے اور کیا چھوٹے اور چست لباس کے بغیر کوئی کتاب سمجھی نہیں جاسکتی۔ اور کیا کلچر کے نام پر والدین کے سامنے ان کی بیٹیوں کو اسٹیج پر بے حیائی کے لباس میں ڈانس کروانا اور نچوانا حصول تعلیم کے لیے ضروری ہے۔یہ سب بے حیائی کے کام اب مسلمان بھی کررہے ہیں ،اس پر بھی اسلام کے دشمن مطمئن نہیں ہیں اب حجاب کا مسئلہ اٹھا کر مسلم لڑکیوں کا تعلیم حاصل کرنا مشکل ترین بنا دینا چاہتے ہیں ۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے اپنے مذہبی تشخص کے ساتھ ایسے حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے عزم و حوصلہ کے ساتھ تعلیم جاری رکھیںاور دنیا کی دیگر اقوام کے شانہ بشانہ ترقی کریں اور اپنی قابلیت سمیت اپنی پہچان و شناخت کو منوائیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔