حجاب میں بنیادی مسائل چھپانے کی کوشش

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

 تاریخی وثقافتی طور پر مالا مال ریاستوں میں کرناٹک ایک ہے۔ اس کی راجدھانی بنگلورو آئی ٹی انڈسٹری کے لیے جانی جاتی ہے۔ دنیا کی کئی نامی کمپنیوں کے یہاں دفاتر ہیں۔ ملک کے نوجوانوں کے لیے یہ ان کے روشن مستقبل کا مرکز بھی ہے۔ لیکن فرقہ پرستوں کی نفرت بھری سیاست کرناٹک کو پسماندگی کی غار میں دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تعلیمی اداروں میں حجاب کا تنازعہ ان کی اسی کوشش کا ایک نمونہ ہے۔ بھارت کثرت میں وحدت والا ملک ہے یہ بات فرقہ پرستوں کے گلے نہیں اترتی۔ وہ ہر بات کو اپنے نظریہ سے دیکھتے ہیں۔ اسے بنیادی سوالوں سے دھیان بھٹکانے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات سے عین قبل حجاب کے مسئلہ کو ہوا دینا اسی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ بی جے پی پوری طرح سے مذہبی پولرائزیشن کرنا چاہتی ہے۔ کیوں کہ اس کے پاس انتخابات میں بتانے لائق کچھ بھی نہیں ہے۔ اور تمام رائے عامہ کے جائزے شروع سے اشارہ دے رہے ہیں کہ اس بار بی جے پی کے لیے امکانات اچھے نہیں ہیں۔ اس سے بی جے پی بری طرح بوکھلائی ہوئی ہے۔ مغربی بنگال کی شکست کے بعد اس کا وقار یوپی انتخابات میں داؤ پر لگا ہوا ہے۔

 مہنگائی، بے روزگاری، کورونا کی دوسری لہر کے دوران گنگا میں بہتی لاشیں، لاک ڈاؤن کے دوران شاہراہوں پر مزدوروں کی قطاریں، خواتین پر مظالم، لاقانونیت، امن و امان، زرعی قانون اور لکھیم پور کھیری واقعہ اور گنا بھگتان کے بقایا پر کسانوں کی ناراضگی، ان تمام وجوہات نے اس بار بھاجپا کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایک طرف پرینکا گاندھی کی قیادت میں کانگریس کا چیلنجز اور دوسری طرف اکھلیش یادو، جینت چودھری کا مضبوط اتحاد یوگی حکومت کو شکست کا خوف دکھا رہا ہے۔ اس سب کے درمیان بی جے پی کو جیت کا صرف ہندو مسلم ایجنڈا ہی سمجھ میں آ رہا ہے۔ اسی لیے پہلے جناح، پاکستان، شمشان، قبرستان کی بات ہوئی، پھر بی جے پی کے اشتہارات میں جالی دار ٹوپی کا خوف دکھایا گیا، اب انتخابی منشور میں لو جہاد کا ذکر کیا گیا ہے۔

کرناٹک میں حجاب کا تنازعہ رکنے کے بجائے بڑھتا جا رہا ہے۔ کچھ دن قبل ریاست کے وزیر داخلہ اراگا گیانندرا نے کہا تھا کہ بچوں کو اسکول میں نہ تو حجاب پہننا چاہیے نہ بھگوا شال اوڑھنا چاہیے۔ لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ریاست میں یہ تنازعہ کس نے اور کیوں کھڑا کیا۔ اس کے شروع ہوتے ہی حکومت نے اسے روکا کیوں نہیں؟ دراصل یہ معاملہ انفرادی پسند اور اسکول یونیفارم کا ہے۔ جسے مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جبکہ لڑکیاں یونیفارم کے خلاف نہیں ہیں۔ حجاب ڈریس سے مستثنیٰ ہے، کرناٹک کے سرکاری اسکولوں میں لڑکیوں کی ڈریس شلوار، قمیض اور دوپٹہ ہے۔ اب یہ لڑکیوں کی اپنی پسند ہے کہ وہ دوپٹہ کندھے پر ڈالیں یا سر پر اوڑھیں۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ گھونگھٹ نکالنا، سر پر پلو رکھنا یا حجاب پہننا بھارت کی تہذیب کا حصہ ہے۔

اب کرناٹک کا یہ تنازع عدالت تک پہنچ چکا ہے۔  کرناٹک ہائی کورٹ میں جسٹس کرشنا دیکشت کی سنگل بنچ نے اس معاملے کو سماعت کے لیے بڑی بینچ کو بھیج دیا ہے۔ دریں اثنا، اسکول اور کالج پہلے تین دن اور اب ہفتہ بھر کے لیے بند ہیں اور پولیس نے بنگلور میں دو ہفتوں کے لیے ایک نئی ہدایت جاری کر کے اسکول، پری یونیورسٹی کالج، ڈگری کالج یا دیگر تعلیمی اداروں کے گیٹ سے 200 میٹر کے اندر کسی بھی قسم کے احتجاج یا اجتماعات پر روک لگا دی ہے۔ پولس کا یہ قدم غالباً حجاب پہنے ایک لڑکی کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ جسے کالج کے باہر بھگوا شال پہنے لڑکوں کے ایک گروپ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کرناٹک میں نوجوانوں کو زعفرانی اسکارف پہن کر حجاب کی مخالفت کے نام پر غنڈہ گردی کے لیے اکسائے جانے کو دیکھتے ہوئے پولیس کا ہدایات جاری کرنا درست ہے۔ لیکن اس کوشش سے یہ واقعات چند دنوں کے لیے تو ملتوی ہو جائیں گے۔ لیکن معاشرے پر نفرت کے جو خطرات نظر آرہے ہیں، ان کے بارے میں سوچنا ہوگا کہ اس سے کیسے نمٹا جائے۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی حکومت کی اس وقت ایسی کسی مثبت سوچ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ریاست کے وزیر تعلیم بی سی نگیش نے مسئلہ کو حل کرنے کے بجائے اپنے بیان میں کہا کہ یکساں ڈریس کوڈ پر عمل نہ کرنے والی طالبات کو دوسرے نعم البدل تلاشنے کی چھوٹ ہے۔

 کرناٹک حکومت میں توانائی کے وزیر سنیل کمار نے کہا کہ اگر کانگریس اقتدار میں آتی ہے تو وہ ایک ایسا قانون بنا سکتی ہے جس سے ہندوؤں کو حجاب پہننے پر مجبور کیا جائے، بی جے پی اس پورے معاملے کو فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ملک کو درپیش سنگین چیلنجوں سے عوام کی توجہ ہٹائی جا سکے۔ اس تنازع پر پرینکا گاندھی نے کہا کہ لڑکی کا اپنی پسند کے کپڑے پہننا اس کا حق ہے۔ لیکن اس پر انہیں ٹرول کیا جا رہا ہے۔ اس پورے معاملے کو زبردستی اس طرح پیش کیا جا رہا ہے جیسے مسلم طالبات نے یونیفارم کی مخالفت کی ہو۔ جبکہ مسئلہ ان کی انفرادی آزادی کا ہے۔ اس سے پہلے بسنت پنچمی پر جب راہل گاندھی نے ٹویٹ کیا تھا کہ ہم ہندوستان کی بیٹیوں کا مستقبل چھین رہے ہیں۔ تب کرناٹک بی جے پی کے سربراہ نلین کمار کٹیل نے اسے طالبانائزیشن قرار دیا تھا۔ حقائق کو اپنے مفاد کے لیے توڑ مروڑ کر پیش کرنے سے ملک کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بہار کے سابق وزیر اعلیٰ نے تو یہاں تک تشویش کا اظہار کیا کہ ملک خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ان کی فکر مبالغہ آرائی ہو سکتی ہے، لیکن ملک ذات، مذہب اور زبان کی بنیاد پر تقسیم کا شکار ہو رہا ہے۔ یہ خوف کب سچ ہو جائے گا، کہا نہیں جا سکتا۔

 ایس سی، ایس ٹی، دلت، اقلیتیں اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے پسماندہ طلبہ کو تعلیم سے لے کر روزگار تک مختلف رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ موجودہ دور میں سرکاری وغیر سرکاری زمرے میں روزگار کے مواقع کم ہوئے ہیں۔ ایسی صورت میں وہ یا اعلیٰ ذات کے بچے کیا کریں گے، اس کا جواب حکومت کے پاس نہیں ہے۔ بدھ کو ہی مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے پارلیمنٹ میں جواب دیا کہ 2018 سے 2020 تک 25 ہزار سے زیادہ شہریوں نے بے روزگاری اور قرض کی وجہ سے خودکشی کی ہے۔ یاد رہے کہ یہ اعداد و شمار کورونا دور سے پہلے کے ہیں۔ جب کہ کورونا میں کروڑوں نوکریاں ختم ہو چکی ہیں اور کاروبار ٹھپ ہو چکے ہیں۔ اس لیے جب 2020 سے 2022 تک کے اعداد و شمار سامنے آئیں گے تو اندازہ لگانے سے ڈر لگتا ہے کہ تصویر کتنی خوفناک ہو گی۔ لیکن ان سنگین خدشات پر بات کرنے کے بجائے، ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی اپنے 12- 14 گھنٹے صرف کانگریس کو کوسنے یا اقتدار میں رہنے کے راستے تلاش کرنے میں صرف کر رہے ہیں۔

 اگر حکومت کی ناکامی 25 ہزار لوگوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی ہے تو خبر یہ بھی ہے کہ مکیش امبانی اور گوتم اڈانی ایشیا کے امیر ترین شخص بننے کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ یہ دونوں حکومت کے قریب ہیں اور حکومتی اداروں کی ڈس انویسٹمنٹ میں ان کا حصہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ لیکن بی جے پی اس وقت پریشان ہے کہ حجاب پر پابندی کیسے لگائی جائے۔ اس کے لیے صرف طلبہ کو ہی استعمال نہیں کیا جا رہا بلکہ عوام اور عدلیہ کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس وقت آئینی اداروں کے ذمہ داران کا ایک سیاسی جماعت کے ترجمان کے طور پر کام کرنا، رفائل جہازوں کی خرید میں گڑبڑ، معیشت کو سدھارنے کے نام پر ملک کے اثاثوں کی فروخت اور بینک کا اب تک کا سب سے بڑا گھوٹالہ ملک کے سامنے حجاب سے بڑے سوال ہیں۔ جنہیں حجاب میں چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔