دہشت گردی کی پشت پناہی اور ہم!

عالم نقوی

پہلے سوامی اسیما نند(23 مارچ 2017)  پھر سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر(25 اپریل 2017) اور اب  لفٹننٹ کرنل پرساد پروہت (بدھ سولہ اگست 2017) جیسے یرقانی دہشت گردوں کو، جو  مہاراشٹر اے ٹی ایس کے مقتول سربراہ ہیمنت کرکرے کی دائر کردہ ایمانداری کی نظیر بننے والی  ایف آئی آر کے مطابق متعدد بم دھماکوں کی سازش اور ارتکاب میں  براہ راست ملوث تھے، ضمانت کا ملنا اور آٹھ نو سال بعد  جیل سے رہا ہو جانا خود زبان ِحال سے کہہ رہا ہے کہ ملک اب ’قانونِ انصاف ‘سے نہیں ’دہشتگردی کی نیِتِیُوں ‘سے چلایا جائے گا اور سنگھ پریوار کے مجوزہ ہندو راشٹر میں رام راج کے قیام کا طریقہ کار وہ ہو گا جو نام نہاد’لَو جہاد ‘ اور گؤ رکشا  کے نام پر ’بھیڑ کی ہِنسا (ماب لِنچِنگ) کے ذریعے بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں  پچھلے تین برسوں کے دوران  بار بار  سامنے آتا رہا ہے !

اسکرال ڈاٹ اِن سے وابستہ سینئر صحافی، سیاسی تجزیہ نگار اور مؤرخ شری ڈی این جھا کی  دوسری اور تازہ ترین  (سوا دو سو صفحات کی )اَہم کتاب ’شیڈو آرمیز ‘(2017) کے آٹھ میں سے دو ابواب ’ابھینو بھارت اور بھونسلے ملٹری اسکول (ص ص 135 تا 186) سادھوی پرگیا، اسیما نند اور کرنل پروہت کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے مختص ہیں ۔ملک میں اگر انصاف کی حکمرانی ہوتی تو نہ صرف ہیمنت کرکرے کا قتل (26 نومبر 2008) نہ ہوتا بلکہ اپنے تمام دہشت گرد ساتھیوں سمیت پرگیا اسیمانند اور پروہت کو پھانسی ہو چکی ہوتی، دہشت گردی کی  عملی اور مسلح  تربیت دینے والا بھونسلے ملٹری اسکول بند ہو چکا ہوتا اور ابھینو بھارت، سناتن سنستھا، ہندو یوا واہنی، بجرنگ دل، سری رام سینا اور ہندو ایکیہ ویدی وغیرہ دہشت گرد نیم فوجی تنظیموں پر ہمیشہ کے لیے اور مکمل پابندی لگ چکی ہوتی اور ان کے تمام اراکین جیلوں میں ہوتے۔

مالیگاؤں بم دھماکہ ذمہ داروں کو پھانسی کے بجائے ضمانت صرف اس لیے ملی کہ نام نہاد قومی تفتیشی ایجنسی ’این آئی اے ‘ نے پورے کیس کو کمزور اور مشتبہ بنا دیا جو ہیمنت کرکرے نے مکمل پیشہ ورانہ غیر جانبداری اور دیانت داری کے ساتھ قائم کیا تھا ۔ خصوصی پبلک پرازیکیوٹر روہنی سالین کا یہ بیان جون۔جولائی 2015 کے متعدد  جرائد  اور  اخبارات کے ریکارڈ پر ہے کہ 2014 میں مودی حکومت کے بر سر اقتدار آنے کے بعد سے این آئی اے  اُن کے اوپر مسلسل  یہ دباؤ ڈال رہی تھی کہ وہ ابھینو بھارت کے اُن اراکین کے ساتھ نرم رویہ اختیار کریں جو  مالیگاؤں بم دھماکہ کیس کےذمہ دار ہیں اورہیمنت کرکرے کے تیار کیے ہوئے پورے  کیس کو حتی ا لمقدور  اتنا کمزور  اور مشکوک بنا دیں کہ عدالت انہیں ضمانت دینے اور رہا کرنے پر مجبور ہوجائے۔

ہیمنت کرکرے کی چارج شیٹ میں دیگر ثبوتوں کے ساتھ ایسی پانچ میٹنگوں کا تفصیلی بیان ہے جن میں کرنل  شریکانت پروہت، میجر رمیش  اپادھیائے، سدھاکر چترویدی، سمیر کلکرنی وغیرہ شریک تھے اور جن میں مالیگاؤں وغیرہ بم دھماکوں کی تفصیلات طے کی گئی تھیں اور آر ڈی ایس وغیرہ دھماکہ خیز اشیا کی فراہمی کی ذمہ داری کرنل پروہت نے اپنے سر لی تھی جو اُس دیش دروہی افسر نے  بعد میں فوج کے ذخائر سے چوری کرکے (یا چوری کرواکے) بہ اِفراط فراہم کیں لیکن رہائی کے بعد   جو فوج ہی کی گاڑی میں بیٹھ کر اپنے گھر گیا اور جس کو برطرف کرنے کے بجائے صرف معطل کیا گیا اور سپریم کورٹ سے ضمانت پر رہا ہوتے ہی  21 اگست 2017 کو فوج کے ذمہ داروں کا یہ بیان آگیا ہے کہ عدالت کے فیصلے کی بنیاد پر پروہت کی معطلی بھی ختم کی جا سکتی ہے ۔کرنل پروہت کو معطلی کے دوران 75 فیصد تنخواہ ملتی رہی تھی اور اب اسے وردی پہن کے اپنے یونٹ میں حاضر ہونے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے !

دہشت گردوں کی اِن پانچ  میٹنگوں میں سے پہلی میٹنگ فرید آباد (ہریانہ) میں 25 تا 27 جنوری 2008 کو، دوسری میٹنگ بھوپال (مدھیہ پردیش) میں گیارہ اور بارہ اپریل  2008 کو ہوئی جس میں سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر بھی شریک تھی ۔تیسری میٹنگ اندور (مدھیہ پردیش ) کے سرکٹ ہاؤس میں 11 جون 2008 کو، چوتھی میٹنگ جولائی 2008 کے آخری ہفتے میں پونے (مہاراشٹر) میں اور پانچویں اجین (ایم پی) کے مہا کالیشور مندر کی دھرم شالہ میں تین اگست 2008 کو ہوئی جس میں کرنل پروہت کو ہدایت کی گئی کہ وہ دہشت گردوں کال سنگرا اور ڈانگے کو آر ڈی ایکس فراہم کرے ۔کرنل پروہت نے راکیش دھاؤڑے کے ذریعے پونے میں 9 اگست 2008 کوڈانگے اور کال سنگرا کو مذکورہ  دھماکہ خیز  مواد پہنچایا جو اسی سال ہونے والے مالیگاؤں بم بلاسٹ میں کام آیا ۔

آر ایس ایس کے پرچارک سوامی اسیما نند نے دسمبر 2010 میں گرفتاری کے بعد مجسٹریٹ کے سامنے  اپنے اقبالیہ بیان  میں بتایا کہ 2006 کا مالیگاؤں بلاسٹ ، 2007 کا سمجھوتہ ایکس پریس دھماکہ، نیز حیدرآباد کی مکہ مسجد اور اجمیر شریف  کی درگاہ میں ہونے والے بم دھماکے بھی  بھی ہندوتوا گروپوں نے (نام نہاد )’جہادی دہشت گردی ‘ کا ا نتقام لینے کے لیے  انجام دیے تھے !

سنگھ پریوار کے با ضابطہ سیاسی بازو بھارتیہ جنتا پورٹی کو1984 کے جنرل الکشن میں لوک سبھا کی صرف دو سیٹیں ہاتھ لگی تھیں جسے بابری مسجد کی مسماری (۱۹۹۲)گجرات نسل کشی تجربے (2002) اور بم دھماکوں کی دہشت گردی(2006 تا 2006) کےتوسل سے  اور ہندو  ووٹوں  کے منفی  ارتکاز  کے ذریعے2014 میں 282 تک پہنچانے میں کامیابی حاصل کرلی  گئی ۔ دلی اسمبلی الکشن میں عام آدمی پارٹی  اور بہار اسمبلی الکشن میں مہا گٹھ بندھن  کے ہاتھوں ملنے والی  شکست فاش  کے بعد سام دام دنڈ بھید کی بقیہ چانکیائی اور کوٹلیائی  پالیسیوں پر عمل، میڈیا پر قبضے  اور ای وی ایم گھوٹالے کے ذریعے پہلے  یو پی اسمبلی  پھر بہار اسمبلی پہر بھی پر قبضہ کر لیا  گیا اور اب 201+  کے لوک سبھا الکشن میں  دو تہائی یعنی تین سو ساٹھ سے زائد سیٹیں حاصل کرنے کا منصوبہ ہے !اور موجودہ سنگھی طاقت کے چار ستونوں میں سے ایک امت شاہ نے یہ متکبرانہ اعلان بھی کیا ہے کہ سنگھ پریوار نے دلی کے راج سنگھاسن پر صرف  پانچ سال کے لیے  نہیں، کم از کم پچاس سال کے لیے قبضہ کیا ہے تاکہ بھارت کو  پوری  طرح ہندو راشٹربناکرمنو اسمرتی کے قانون کے نافذ کیا جا سکے تاکہ سبھی غیر ہندوؤں  کو  با لعموم اور مسلمانوں کو با لخصوص   ہر  طرح کے شہری اور بنیادی حقوق سے محروم کیا جا سکے جس طرح سنگھ پریوار  کے فطری دوست اسرائل میں غیر یہودی برابر کے شہری اور انسانی حقوق سے محروم ہیں !

لیکن ۔۔’’مکرو و مکر ا للہ واللہ خیر ا لماکرین ! وہ اپنی سازشوں میں تھے اور اللہ کا اپنا منصوبہ ہے اور اللہ سے بہتر منصوبہ ساز اور کون ہو سکتا ہے ‘‘۔۔مگر سب سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ  ۔۔ھل نحن مسلمون ؟ کیا ہم قرآنی معیار کے مسلم و مؤمن ہیں ؟ اور یاد رکھیے اللہ کی سنت کبھی تبدیل نہیں ہوتی ’یہاں اس دار فانی میں جسے دنیا کہتے ہیں، ہر انسان کو بس اتنا ہی ملتا ہے جتنے کی وہ کوشش کرتا ہے ‘! فھل من مدکر ؟!

1 تبصرہ
  1. انس بدام کہتے ہیں

    سر، بہت بہترین تجزیہ کیا ہے۔جزاک اللہ خیرا

تبصرے بند ہیں۔