زکوٰۃ کا اجتماعی نظام ہی مطلوب ہے

سہیل بشیر کار

یہ بات خوش آئند ہے کہ دن بہ دن زکوٰۃ کے متعلق امت بیدار ہو رہی ہے. گارڈین کے مطابق ساڑھے تین بلین ڈالر ہر سال زکوٰۃ کی صورت میں مال مسلمان دیتے ہیں، امت مسلمہ کے بہت سے افراد حساب لگا کر زکوٰۃ نکالتے ہیں لیکن زکوٰۃ کے وہ عملی اثرات جو معاشرے پر پڑنے چاہیے نہیں پڑ رہے. اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے زکوٰۃ کو انفرادی طور پر ادا کرنا شروع کیا ہے، امت مسلمہ میں نظمِ زکوٰۃ کا تصور پایا نہیں جاتا، اس وجہ سے زکوٰۃ کا بنیادی مقصد فوت ہو جاتا ہے، زکوٰۃ ایک منظم پروگرام ہے اس کا مقصد جہاں ازالہ غربت ہے وہیں یہ عالم اسلام میں ایسی اجتماعیت قائم کرتاہے جس سے ایسا نظام وجود پاتا ہے کہ انفرادیت منتشر اور برباد نہیں ہوجاتی. امام رازی لکھتے ہیں کہ ‘خذ من اموالھم صدقہ’ کی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ کی وصولی کا حق امام کو ہے، دور نبوت میں اس طرف خصوصی توجہ دی گئی. زکوۃ اور صدقات وصول کرنے والے افسران ،کاتبین صدقات، باغات میں پھلوں کا تخمینہ لگانے والے ، مویشیوں کی چراگاہ سے محصول وصول کرنے والے ، اس قدر اہتمام سے اس فریضہ کو ادا کرنے کے لیے دربارِ نبی ﷺ سےہوا کرتاتھا۔امت مسلمہ کے ذہین ترین افراد کو زکوٰۃ کی وصولی پر لگایا جاتا. حضرت عمر فاروق ؓ کو مدینہ کے اطراف ، حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کو بنو کلب،عمرو بن عاصؓ کو قبیلہ فزارا ، حضرت عدی بن حاطم ؓ قبیلہ طئے اور اسد کی ذمہ داری دی گئی تھی ۔ حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ کو عزینہ اور کنانہ قبیلے کے لیے معمور فرمایا ۔ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دور میں جب قبائل نے زکوٰۃ بیت المال میں جمع کرنے سے انکار کیا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ان کے خلاف اعلان جنگ کیا، زکوٰۃ کا باضابطہ ایک سسٹم ہے، اس میں باضابطہ حساب لگانا پڑتا ہے۔

بدقسمتی سے ہم نے زکوٰۃ کی صحیح سپرٹ کو سمجھا ہی نہیں. مولانا ابو الکلام آزاد اپنی کتاب ‘حقیقت زکوٰۃ’ میں لکھتے ہیں: "زکوٰۃ کے نظام سے لوگ بتدریج غافل ہوگئے اور رفتہ رفتہ یہ حالت ہوگئی کہ لوگوں نے سمجھ لیا زکوٰۃ نکالنے کا معاملہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ خود حساب کرکے ایک رقم نکال لیں اور پھر جس طرح چاہیں خود خرچ کرڈالیں۔ حالانکہ جس زکوٰۃ کی ادائیگی کا قرآن نے حکم دیا ہے اس کا قطعاًیہ طریقہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کی جو جماعت اپنی زکوٰۃ کسی امین زکوٰۃ یا بیت المال کے حوالے کرنےکی جگہ خود خرچ کر ڈالتی ہے؛ وہ دیدہ و دانستہ حکم شریعت سے انحراف کرتی ہے اور یقناً عنداللہ اس کے لیے جوابدہ ہوگی‘‘۔زکوٰۃ کے اپنے مد ہیں. ایک اجتماعی نظام ہی سے ممکن ہے کہ ان تمام مدوں میں زکوٰۃ تقسیم ہو.  مولانا صدر الدین اصلاحی اپنی کتاب "اسلام ایک نظر میں” لکھتے ہیں: ‘مسلم بستیاں جس طرح اپنی نمازوں کے لیے مسجد کا ،جماعت کا ، امامت کا انتظام کرتی ہیں؛ اسی طرح اپنی زکوٰۃ کے لیے بھی بیت المال قائم کریں. بستی کی زکوٰۃ اکھٹی کریں ، مستحقین تک پہنچانے کا انتظام کریں ، تاکہ اسلام کے اس اہم رکن کا جو منشا ہے وہ نظم حکومت کی عدم موجودگی میں بھی اس قدر حاصل ہوتارہے جس قدر حاصل کیا جاسکتاہے۔ اگر ایسا نہ کیاگیا تو یہ اجتماعی غلط کاری ہوگی۔”اسلامی زندگی میں جس طرح نماز اجتماعی طور پر ادا کی جاتی ہے اسی طرح زکوٰۃ کے لیے بھی اجتماعی نظم قائم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ زکوٰۃ کی وصولی اور تقسیم کا بہتر انتظام ہو سکے. اسلام کا تمام نظام اجتماعیت کے ساتھ مطلوب وپسندیدہ ہے۔ اسی طریقہ پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء کا عمل بھی تھا۔ اسی چیز کی طرف قرآن میں اشارہ کیا گیا ہے۔ ان کے مالوں میں سے زکوٰۃ وصول کر کے ان کو پاک وصاف کر دو۔ (سورہ توبہ آیت ۱۰۳) والعاملین علیہا  کا لفظ خود بتاتا ہے کہ صاحب ثروت سے لےکر صاحب ضرورت تک پہنچانے کا یہ ایک سسٹم ہے جس پر پر لوگ کام کریں گے۔ نماز جس طرح جماعت اور مسجد کے بغیر بھی انجام پاجاتی ہے لیکن فرضیت کے بعض مقاصد سے دور ہو جاتی ہے۔ اس طرح زکوٰۃ بھی بیت المال کی مجتمع صورت کے علاوہ بھی ادا ہو جاتی ہے مگر اس کی فرضیت کے مقاصد فوت ہو جاتے ہیں۔ یہی سبب تھا کہ حضرت ابو بکر ؓ کے عہد خلافت میں بعض قبیلوں نے یہ کہا کہ وہ زکوٰۃ بیت المال میں داخل نہ کریں گے بلکہ بطور خود اس کو صرف کریں گے۔ تو آپ نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا اور بزور ان کو بیت المال میں داخل کرنے پر مجبور کیا.

زکوٰۃ باضابطہ ایک نظام ہے. بدقسمتی سے مسلمانوں میں اجتماعی ادارے قائم نہیں. اگر ہیں بھی تو بھی بہت سے مفروضے کھڑے کیے گئے، جیسے پہلے اپنے رشتہ دار کو دینا چاہیے؛ اس کا دوگنا ثواب ملتا ہے یا مدرسہ کو دینا چاہیے؛ اس کو دوگنا ثواب ملتا ہے. رشتہ دار کو جو حدیث میں دوگنا ثواب دینے کی بات ہے وہ عام صدقہ کے لیے ہے. زکوٰۃ منظم طریقہ سے جمع کی جائے گی اور منظم طریقے سے خرچ کی جائے گی. اسی طرح امت مسلمہ کی 70 فیصد زکوٰۃ مدارس پر خرچ کی جاتی ہے حالانکہ قرآن کریم کا اصول ہے کہ جو چیز پہلے بیان کی جائے اس کی زیادہ اہمیت ہے، قرآن کریم میں زکوٰۃ کے جو مد بیان کیے گئے ہیں وہ یہ ہیں؛ "صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور [زکوٰۃ جمع کرنے والے]عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر پر (خرچ کرنے کے لیے ہیں)،یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے”۔ [التوبة:60]

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ کے سب سے زیادہ مستحق فقراء ہیں. اس کے بعد مساکین، اب یہ کہا جاتا ہے کہ مدارس میں غریب طلبہ کو ہی پڑھایا جاتا ہے لیکن فقہ حنفی میں یہ بات لازمی ہے کہ مستحق کو مالک بنایا جائے پھر مستحقین کی اپنی مرضی ہے کہ وہ کس چیز پر خرچ کریں. ایک اور مفروضہ کھڑا کیا گیا ہے کہ زکوٰۃ چپکے چپکے دینی چاہیے، دائیں ہاتھ سے اگر دی جائے تو بائیں ہاتھ کو پتہ نہیں چلنا چاہیے حالانکہ زکوٰۃ کے معاملہ میں ایسا نہیں. یہ صدقہ کے بارے میں کہا گیا ہے، زکوٰۃ کا باضابطہ نظام ہے. یہ سب کے سامنے اجتماعی طور پر جمع کرنے والوں کے حوالے کی جائے گی. ایک اور بات زکوٰۃ کے لیے اہم ہے کہ کوشش ہونی چاہیے کہ جو مال جس بستی سے وصول کیا جائے وہ اسی بستی کے مستحقین میں خرچ کیا جائے. حضرت معاذ بن جبل کو رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ "زکواۃ ان کے مالداروں سے لے کر ان کے غریبوں کو دی جائے گی”اگر کسی جگہ مسلمانوں کی حکومت ہو تو کوشش کرنی چاہیے کہ وہی اجتماعی زکوٰۃ کا نظام قائم ہو، اگر اسلامی حکومت نہ ہو تو وہاں ایسے ادارے قائم کیے جائیں جو زکوٰۃ وصول کریں. مولانا خالد سیف اللہ الرحمانی صدر ‘فقہ اکیڈمی ہند’ لکھتے ہیں:

"جہاں اس طرح کا نظام (اسلامی نظام ) قائم نہ ہو وہاں مسلمانوں کو کوئی ایسی اجتماعی شکل پیدا کرنی چاہیے جو زکواۃ کی وصولی و تقسیم کا نظم سنبھالے.”

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر قصبہ میں ایک اجتماعی نظم تشکیل دیا جائے، اور صرف وہی زکوٰۃ وصول اور تقسیم کریں. اس اجتماعیت میں علماء،  ماہرین معیشت ، چارٹر ایکونٹنٹ ہوں. یہ اجتماعیت ہر سال الگ الگ مدات کے لیے بجٹ بنا کر ان کو عملایا کریں، مدارس کو بھی یہی اجتماعیت بجٹ الاٹ کیا کریں، ہر سال آڈیٹر آڈٹ کریں. اسی سے زکوٰۃ کے عملی اثرات پڑیں گے، جیسا کہ قرن اول میں پڑے ہیں. حضرت عمرؓ کے زمانہ ٔ خلافت میں زکوٰۃ کی تقسیم کی صورت حال کا اندازہ اس سے ہوسکتاہے کہ حضرت معاذ بن جبل ؓ نے یمن سے جب زکوٰۃ کا ایک تہائی حصہ مدینہ روانہ کیا تو خلیفہ ٔ وقت نے لینے سےانکار کرتے ہوئے کہاکہ میں نے ٹیکس یا جزیہ وصول کرنے کے لیے آ پ کو نہیں بھیجا تھا، بلکہ اس لیے بھیجا تھا کہ ان کے امرا سے زکوٰۃ وصول کرکے انہی کے فقراء میں تقسیم کردو۔ حضرت معاذؓ نے جواب میں لکھا کہ میں نے زکوٰۃ لینے والے کسی شخص کو محروم رکھ کر نہیں بھیجا ہے ۔ دوسرے سال معاذؓ نے نصف مال ارسال کردیا۔ دونوں میں پھر یہی باتیں ہوئیں۔ تیسرے سال پوری زکوٰۃ کی وصول شدہ رقم ارسال کی۔ پھر وہی سوال جواب ہوئے۔ اور حضرت معاذؓ نے کہاکہ یہاں زکوٰۃ لینے والا کوئی نہیں ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کے زمانے میں مصر کے گورنر حضرت عمرو بن عاصؓ نے خلیفہ ٔ وقت کو لکھا کہ صدقہ اور زکوٰۃ کی رقم لینے والا یہاں کوئی نہیں ہے۔ اب  اس رقم کا وہ کیا کریں۔ عمر بن عبدالعزیزؒنے لکھ بھیجا کہ غلاموں کو خرید کر آزاد کرو۔ شاہراہوں پر مسافروں کے لیے آرام گاہیں تعمیر کرو، ان نوجوان مردوں اور عورتوں کی مالی امداد کرو، جن کا نکاح نہیں ہواہے۔ ابن ِ کثیر ؒ نے لکھا ہے کہ خلیفہ نے خصوصی طورپر اس کام کے لیے ایک شخص کو مقرر کیا تھا؛ جو شہر کی گلیوں میں اعلان کرتاتھا ’’کہاں ہیں مقروض لوگ، جو اپنا قرض ادا نہیں کرسکتے، کہاں ہیں وہ لوگ ، جونکا ح کرنا چاہتےہیں ۔ کہاں ہیں محتاج اور حاجت مند ، کہاں ہیں یتیم اور بے سہارا لوگ. ‘‘کوئی جواب موصول نہیں ہوتاتھا۔ سوسائٹی میں تمام لوگ مالدار ہوگئے تھے ، غربت اور مفلسی کا خاتمہ ہوگیاتھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا