عالمی یوم انصاف اور ہماری ذمہ داریاں

ہماری قیادت کو اقوام متحدہ کے بجائے برِصغیر کا ایک الگ پلیٹ فارم قائم کرکے اپنی بات کو اقوام متحدہ تک پہنچانا ہوگا

زبیر خان سعیدی

آج 17 جولائی ہے، جسے دنیا بھر میں عالمی یومِ انصاف کے طور پر منایا جاتا ہے۔  بتاتا چلوں کہ اس دن کو منانے کا فیصلہ یکم جون 2010 کو کیا گیا تھا، تب سے لیکر آج تک پوری دنیا میں انصاف کے طلب گار اس دن کو مناتے آرہے ہیں۔

بین الاقوامی جسٹس کے اس عالمی دن کو بین الاقوامی جسٹس ڈے یا بین الاقوامی کرمنل جسٹس ڈے بھی کہا جاتا ہے، یہ بین الاقوامی طور پر انصاف کے ابھرتے ہوئے نظام کو تسلیم کرنے کی ایک کارگر کوشش ہے۔

پہلی بار اسے سال 2010 میں اس وقت منایا گیا تھا جب روم میں نصب کئے گئے مجسمے جسے انصاف کی علامت سمجھا جاتا ہے، اس کی سالگرہ تھی۔

اس وقت یکم جون 2010 کو دنیا کے انصاف پسند ممالک کے مابین ایک معاہدہ ہوا تھا، جس کے مطابق 17 جولائی کو بین الاقوامی کرمنل جسٹس ڈے اور ایک بین الاقوامی عدالت بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

یوگنڈا کے شہر کلپلا میں منعقدہ روم مجلس کی جائزہ کانفرنس میں ریاستی جماعتوں کی اسمبلی نے 17 جولائی کو بین الاقوامی جسٹس ڈے کے دن جشن منانے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس جشن کا مقصد دنیا بھر میں لوگوں کے لیے بین الاقوامی مجرمانہ عدالتوں کو فروغ دینا ہے اور خاص طور پر بین الاقوامی کرمنل عدالت کے قیام کی حمایت کے لئے ہونے والی کانفرنسیز کی میزبانی کرنے کے لئے اس دن کو  استعمال کیا جاتا ہے.

اب تک یہ دن بین الاقوامی خبروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں کافی کامیاب رہا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پورے عالم میں اگر عدل و انصاف قائم ہوگیا تو دنیا بھر کے بہت سے مسائل کو حل کرنے کی جانب ایک مثبت پیش رفت ہو سکے گی اور کوئی بعید نہیں کہ عالمی عدالتیں اس میں کامیاب بھی ہو جائیں۔

چودہ سو سال پہلے اسلام کے پیغمبر محمد ﷺ نے عدل و انصاف کی جو تاریخ رقم فرمائی تھی اور عدل و انصاف کا جیسا نظام دینِ اسلام میں موجود ہے، روئے زمین میں بسنے والے تمام ذی روح و ذی شعور نفوس کے لئے مشعل راہ اور قابل تقلید ہے۔

عدل و انصاف کے پیغامبر ﷺ نے جرم کی سزا معافی کی سفارش پر جو جملہ ارشاد فرمایا تھا وہ رہتی دنیا تک بطور مثل و دلیل ہمیشہ پیش کیا جاتا رہے گا۔فرمایا: اگر میری بیٹی فاطمہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا بھی چوری کرتیں تو اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتاـ

عدل و انصاف کا یہ پیمانہ عالم انسانیت میں قیام انصاف کے لئیے بنیادی اینٹ کی حثیت رکھتا ہے،

17 جولائی کا دن عالمی یومِ انصاف کے طور پر منایا جاتا ہے مگر، عالمی طاقتیں اور خاص طور پر اقوم متحدہ و عالمی عدالت انصاف دینے میں میرٹ پر فیصلے کرنے کی وجہ سے بری طرح ناکام رہے ہیں۔ خاص طور پر جب جب بھی عالم اسلام یا بر صغير کا کوئی کیس عالمی طاقتوں کے سامنے پیش کیا گیا ہے تو یکسر اسے نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

ہماری قیادت کو اقوام متحدہ کے بجائے برِصغیر کا ایک الگ پلیٹ فارم قائم کرکے اپنی بات کو اقوام متحدہ تک پہنچانا ہوگا، اگر ایسا نہیں ہوا تب تک کسی معاملے میں اقوام متحدہ سے سنجیدگی سے بات نہیں کرے گی۔

یہ تو ہوئیں، اس عالمی دن کی کچھ اچھی، سچی، تلخ اور کڑوی باتیں

اب بات کریں گے کہ اس ہمارے اوپر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں؟

اس سلسلے میں جان لیں کہ انصاف کی فراہمی کے لئے انصاف پسندی کا ہونا بہت ضروری ہے۔

 جو قومیں انصاف پسند نہیں ہوتیں وہ معاشرتی طور پر ہرگز انصاف نہیں کر سکتی ہیں، آج کے عہد میں تو تعصبات کی کھائی اس قدر عمیق ہو چکی ہے کہ بس اپنا مذہب، اپنا مسلک، اپنا وطن، اپنا دوست، اپنا گھر، اپنا پریوار، اپنے رشتے دار، اپنا قائد اور اپنی جماعت ہی بیشتر لوگوں کو اچھی اور سچی لگتی ہے باقی سب جھوٹے ہیں ان کے نظر میں۔

 قارئین ! انصاف پسندی اپنے آپ میں ایک وسیع موضوع ہے، میں کوشش کروں گا کہ کچھ سفارشات (مشورے) پیش کروں  اور کچھ تاریخی حوالوں سے یہ باور کرانے کی کوشش کروں گا کہ ماضی میں انصاف پسندی ہی ترقی یافتہ قوموں کا شعار رہا ہے۔

آج انصاف کا یکسر فقدان دیکھنے کو مل رہا ہے اس لئے اس وقت اس عالمی دن کی مناسبت سے اس موضوع پر بہت کچھ لکھنے، کرنے اور سیکھنے کی ضرورت ہے۔

▪️ انصاف پسند ہونے کا لازمی مطلب ہے، غیرجانبدار ہونا۔ کیونکہ جانبداری سب سے بڑا جھوٹ ہے، ایسا بیسویں صدی کے ایک نام نہاد اسلامی اسکالر نے بھی کہا تھا۔

اپنے احساسات، ذاتی خیالات، اندرون کے جذبات اور ہر قسم کے تعصبات کو اپنے فیصلوں پر اثرانداز نہ ہونے دینا انصاف پسندی ہے۔

اب سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ انصاف پسندی کے درج بالا مفہوم اور خصوصیت کو اپنے اندر سما لینے، عام معاشرے میں فروغ دینے کے لئے ہمیں کیا کرنا ہوگا؟ اسی ضمن میں کچھ سفارشات پیش کر رہا ہوں کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ ذیل میں آنے والے ان تینوں مشوروں کی مشق سے یہ مسئلہ تقریباً حل ہو سکتا ہے۔

١▪️ اپنی راہ میں روڑے اٹکانے والے تعصبات کا پتہ کرنے کی کوشش کریں اور ان سے نجات حاصل کرنے کی کوشش بھی کریں۔

٢▪️اگر کسی معاملے کا فیصلہ کرنے کا موقع ملے تو پہلے فریقین کا مکمل موقف، بہ غور سنیں۔

٣▪️اچھے کاموں کی ستائش و تکریم اور برے کام پر سرزنش کرنے کو اپنا مستقل شعار بنائیں۔

یہ بھی یاد رہے کہ

▪️انصاف ہر معاشرے کا حسن اور اس کی بنیادی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ ہمیشہ سے ایسے حکمرانوں کو پسند کرتے آئے ہیں، جنہوں نے عدل و انصاف کو اپنا شعار بنایا خواہ وہ بادشاہ تھے، جمہوری حکمران یا کسی جماعت و جمعیت کے سربراہ۔

▪️دنیا کے تمام آئینوں کی بنیاد معاشی، معاشرتی اور سیاسی انصاف پر رکھی جاتی ہے۔ لہٰذا معاشرے کے لیڈروں سے بھی انصاف کی فراہمی کے لئے ہرممکن کوشش کرنے کی توقع رکھی جاتی ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے وقت یورپ پر ہٹلر کے حملوں کے دوران انگلستان کے مختلف طبقات میں ملکی تحفظ کے متعلق سنگین قسم کے خدشات جنم لے رہے تھے۔ جب ان خدشات کا ذکر جب چرچل سے کیا گیا تو جواباً اس نے پوچھا کہ: ’’کیا ہمارے ملک میں عدالتیں لوگوں کو انصاف فراہم کر رہی ہیں؟‘‘ جواب اثبات میں ملا تو چرچل نے کہا۔ ’’اگر ہماری عدالتیں لوگوں کو انصاف فراہم کر رہی ہیں تو ہمارے ملکی تحفظ کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔‘‘

انصاف کی فراہمی بھی ایک چیلنج ہے اور یہ تمام لیڈروں کے لئے ایک بے حد اہم عنصر کی حیثیت رکھتی ہے اور ماضی کی تاریخ میں لیڈروں کی مقبولیت یا عدم مقبولیت میں اس کا اہم کردار رہا ہے۔

دنیا کے تمام مذاہب و عقائد نے ایک نصب العین کی حیثیت سے انصاف کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ تمام پیغمبروں نے اس کی تائید کی ہے اور آج کے جدید دور میں تمام ممالک کے آئین کی بنیاد بھی اسی پر رکھی گئی ہے۔ یہ الگ بات کہ یہ وصف مفقود ہوچکا ہے

اب میں دنیا کی تاریخ سے انصاف پسندی کی کچھ مثالیں بطور نمونہ آپ سب کی سماعتوں کی نذر کرنا چاہ رہا ہوں:

▪️ بابل کی قدیم تہذیب کے مشہور بادشاہ حموربی نے آج سے تقریباً چار ہزار سال پہلے تحریری شکل میں ایک قانونی ضابطہ تیار کیا تھا، جو انسانی تاریخ کا پہلا آئین بھی قرار دیا جاتا ہے۔ اس ضابطے کو سنگِ سیاہ کی الواح پر تحریر کیا گیا تھا واضح رہے کہ وہ الواح 1902ء میں کھدائی کے دوران برآمد ہوئیں اور آج پیرس کے لوور میوزیم میں موجود ہیں۔

حموربی اس ضابطے کے تعارف یا دیباچے میں بڑی وضاحت سے لکھتا ہے کہ اسے دیوتائوں کی طرف سے ’’سرزمین میں انصاف قائم کرنے، بدکاروں اور شریروں کو سزا دینے‘‘ کا حکم ملا ہے، وہ اپنے جمع کردہ قوانین کو ’’قوم کو اچھی اور مضبوط حکومت فراہم کرنے والے‘‘ کہہ کر پکارتا ہے اور کہتا ہے کہ اس نے اپنے احکام ایک ستون پر کھدوائے ہیں تاکہ ’’طاقتور کمزور کو دبائے نہیں، یتیموں اور بیوائوں کو بھی انصاف ملے۔‘‘ اس کے پیش کردہ انصاف کی بنیاد ’’آنکھ کے بدلے آنکھ‘‘ کے اصول پر تھی۔

اس کے پیش کردہ قوانین بابلی معاشرے کے تمام طبقات کی خیروعافیت کے ضامن تھے اور غریبوں اور کمزوروں بشمول عورتوں، بچوں اور غلاموں کو طاقتوروں اور دولتمندوں کی ناانصافیوں سے خصوصی تحفظ فراہم کرتے تھے۔

بادشاہ حموربی نے اس ضمن میں مزید پیش رفت کرتے ہوئے جھوٹے الزاموں، جھوٹی گواہیوں اور قاضیوں کی طرف سے ہونے والی کسی طرح کی ناانصافی کے لئے بھی سزائیں تجویز کیں۔

قدیم جاپان کے حکمران اپنے محلات کے باہر بڑے بڑے نقارچے رکھوایا کرتے تھے جنہیں انصاف کے طالب آ کر بجایا کرتے تھے۔ تاریخ میں ہمیں ایسی بہت سی قابل تقلید مثالیں ملتی ہیں۔

خلیفہ دوم حضرت عمر بن خطاب رضی ﷲ عنہ نے اپنے بیٹے کو خود سزا سنائی تھی، تاریخ میں اس سے بڑی انصاف کی مثال نہیں ملتی۔

عباسی خلیفہ ہارون رشید رات کے وقت بھیس بدل کر بغداد کی گلیوں میں پھرا کرتے تھے تاکہ شہریوں کے لئے انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

سلطان غیاث الدین بلبن نے غیرجانبدارانہ انصاف کی فراہمی کی خاطر اپنے بیٹے کو اتنی سخت سزا سنائی کہ وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔

خاندانِ مغلیہ کے شہنشاہ جہانگیر نے اپنے محل کے جھروکے سے ایک گھنٹی کے ساتھ بندھی ہوئی زنجیر لٹکا رکھی تھی۔ اسے زنجیر عدل کا نام دیا جاتا تھا اور عدل مانگنے والے آ کر اس زنجیر کو کھینچتے اور گھنٹی کو بجاتے تھے۔

تاریخ میں کچھ ایسے بھی لیڈروں کی مثالیں ملتی ہیں جو اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا دفاع کرنے کے لئے عام آدمیوں کی طرح عدالت میں پیش ہوئے تاکہ انصاف کی عملی شکل تاریخ کے مشاہدے کے لئے پیش کی جا سکے۔

 آج کے دور میں اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے، کیونکہ یہ آئین، قانون اور انصاف کا دور ہے لیکن آج کے اسی دور میں انصاف کے حصول کے لئے لوگوں کو سالہا سال تک بھٹکنا پڑتا ہے اور اس کے باوجود بھی انصاف کے حاصل ہو جانے کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔

آج کے دن ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے کہ اس جشن کے موقع سے پروگرام منعقد کریں، انصاف اور انصاف پسندی کی تاریخ سے لوگوں کو آگاہ کریں، ایک ایسا ماحول بنانے کی کوشش کریں کہ ہمیں عالمی عدالتوں کا رخ ہی نہیں کرنا پڑے۔

تبصرے بند ہیں۔