عالمی یوم خاندان اور سماجی رشتوں کی پامالی

 ڈاکٹر سیّد احمد قادری

      عہد حاضر کی یہ تلخ حقیقت ہے کہ گاؤں کی مشترکہ تہذیب اوروہاں کی بہت ساری مثبت خاندانی روایات   کے ساتھ ساتھ گاؤں کی رونق، شادابی، تازگی، شگفتگی اور رعنائیوں کو شہر کی چکا چوند نے نگل لیا ہے۔گاؤں کی خاندانی وتہذیبی روابط، اقدار اور روایات اب قصہ ٔ پارینہ بنتی جا رہی ہے۔ شہر کی بہت ساری خامیوں اور کمیوں کو گاؤں نے اپنے اندر سمیٹ لیا ہے۔ عصری ماحول میں اور وقت کی بڑھتی رفتا رسے خاندان کے اندر سماجی رشتوں کے بکھراؤ، مثبت سوچ اور فکر رکھنے والے اداروں اور افراد کے لیے باعث تشویش ہے۔ان حالات میں عصری منظر نامے پر ایک نظر ڈالی جائے تو اندازہ ہوگا کہ گھر کے بزرگ اور دیگر رشتہ دار جو کبھی خاندان کے لیے نعمت تھے وہ مادہ  پرست معاشرے میں زحمت تصور کئے جا رہے ہیں۔ شاندار روایات، تہذیبی اقدارکو اب فرسودگی قرار دیا جا رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں پیار، محبت، ایثار، احترام، اخلاق، رواداری اور حفظ مراتب کے احساسات و جذبات ختم ہوتے جارہے ہیں۔ ان ہی بڑھتے خاندانی مسائل کے مد نظر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1994 ء سے ہر سال عالمی سطح پر 15؍ مئی کو یوم خاندان کے انعقاد کا بہت مثبت اور اہم قرارداد منظور کیا تھا۔

    اقوام متحدہ کے مطابق ایک اچھا خاندان بہتر سماج کی تشکیل میں مثبت رول ادا کرتا ہے۔ اس لیے عوام الناس میں خاندان کی اہمیت، افادیت اورخاندانی زندگی سے متعلق شعور و آگہی کواجاگر کرنا موجودہ خاندان اور معاشرتی نطام کے لیے ضروری خیال کیا گیا۔ عہد حاظر کے تناظر میں اس بات کو سمجھنا بے حد اہمیت رکھتا ہے کہ خاندان کے افراد ایک ساتھ مل جل کر ہم آہنگ ہو کر اپنی خوشحال اور صحت مند زندگی گزر بسر کریں۔ ایک اچھے اور مشترک خاندان کی اہمیت اور افادیت کل بھی تھی، آج بھی ہے اور کل بھی یقینی طور پر رہے گی۔ اس لحاظ سے پوری دنیا کے لوگوں کے لیے اقوام متحدہ نے ایک بہت اچھا اور قابل عمل پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔ آج کا یہ دن یقینی طور پر فکر و احساس کا یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ جو لوگ خاندان کو منقسم کر زندگی گزارتے ہیں یا اس کی اہمیت کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ ان کی اس طرح ذہن سازی کی جائے کہ ایسے افراد مشترک خاندان یا جوائنٹ فیملی میں رہ کر ایک مثالی فرد کا رول ادا کر یں۔ اس عمل سے اس خاندان کا تعلیمی، سماجی، معاشی اور معاشرتی سطح پر فلاح و بہبود کے راستے ہموار ہو نگے، جس سے ایک مثالی سماج کی تشکیل ہوگی۔ جو قوم وملک کے لیے بہت مثبت کردار ادا کا اہل ہوگا۔ یوم خاندان کے اس موقع پر اس کی اہمیت اور افادیت کو سمجھتے ہوئے آج کے دن ملک کے طول و عرض میں ورک شاپ، سیمنار، مزاکرہ کے انعقاد کے ساتھ ساتھ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے تعاون سے بحث  ومباحثہ  منعقد کر اور مختلف طرح کے مضامین وغیرہ کی اشاعت کر لوگوں کی ذہن سازی کی جا سکتی ہے۔  نصاب تعلیم میں بھی ایسے معاشرتی، تہذیبی، اور روایتی قدروں پر مبنی مضامین کی شمولیت کی بھی ضرورت ہے تاکہ نئی نسل جو عصری ماحول میں خاندان کی اہمیت اور افادیت کو جان رہا ہے اور نہ سمجھ رہا ہے، ان کا بھی ذہن کھلے اور وہ مثالی خاندان اور سماج کی تشکیل میں اہم رول ادا کریں۔

      اس ضمن میں اقوام متحدہ نے 2030 ء تک کے لیے کئی طرح کے پروگرام مرتب کر یہ ہدف رکھا ہے کہ اس مدت میں بہتر خاندان کی تشکیل کی کوششوں سے غربت کا خاتمہ، معاشی ترقی میں حصہ داری، سماجی فلاح، نابرابری کا خاتمہ کے ساتھ ساتھ ماحولیات کی حفاظت کر ہر ایک خاندان کے لوگ خود کو بہتر محسوس کریں۔

     اگر ان امور پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے تو یقینی طور پر حیات انسانی کے لیے بہت بہتر اور شاندار نتائج سامنے آنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ مشہور شاعرشہریار نے عصری حالات اور بکھرتے سماج کو دیکھتے ہوئے ہی ہوئے غالباََ یہ شعر کہا تھا    ؎

سینے میں جلن، آنکھوں میں طوفان ساکیوں ہے

اس شہر میں ہر شخص پریشان ساکیوں ہے

      حقیقت یہ ہے کہ موجودہ منظر نامہ میں ان دنوں ہر شخص پریشان اس لیے ہے کہ وہ صارفیت کی سفّاکی کے دور سے گزر رہاہے۔ جس میں ہر رشتے، ناطے، تعلقات،تہذیب، قدریں فراموش ہوتی جا رہی ہیں۔ پہلے لوگ ایک خاندان میں شیر و شکر ہو کر رہا کرتے تھے۔ ایک دوسرے کی خوشی  وغم کو اپنی خوشی اوراپنا غم سمجھتے تھے۔ اپنائیت کا جذبہ تھا۔ جس سے خاندان کا ہر فرد ایک انجانی خوشی محسوس کرتا تھا، اس کا نفسیاتی اثر یہ ہوتا تھا کہ خاندان کا ہر فرد کی یہ سوچ  اور اطمینان تھا کہ میں تنہا نہیں ہوں۔ اگر میں کچھ اچھا اور باوقار عمل کرونگا تو خاندان کے افراد میری اس خوشی میں شامل ہونگے، تعریف وتوصیف کرینگے اور اگر کوئی غلط یا نا پسندیدہ کام کرونگا تو مجھ سے باز پرس کرنے والے گھر کے اندر ہمارے بڑے بزرگ موجود ہیں۔ اس طرح یہ احساس ایک اچھے خاندان کے افراد کے لیے جہاں اچھا، مثبت اور شائستہ کام کرنے کے لیے مہمیز ہوتا ہے وہیں غلط اور نا پسندیدہ کام کرنے سے روکتا ہے۔

       لیکن افسوس کہ جیسے جیسے ہمارے سماج اور معاشرے میں صارفیت کے اثرات بڑھ رہے ہیں، ویسے ویسے مشترک خاندان کا تصور معدوم ہوتا جا رہا ہے اوریہ سماجی برائی امریکہ اور یورپ سے نکل کر دنیا کے بیشتر ممالک کو اپنے چنگل میں لے چکی ہے۔ امریکہ اور یورپ کی طرز زندگی کو اپناتے ہوئے چھوٹا خاندان کے تصور پر پوری طرح عمل کیا جا رہا ہے۔ جن کے بہرحال مثبت کے بجائے منفی نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی تہذیب کے پروردہ گھروں میں بہت ساری سہولیات میسر ہونے کے باوجود وہ خوشی، انبساط، سکون واطمینان نصیب نہیں، جو کبھی مشترک خاندان کو حاصل تھا۔ خاندان میں دادا، دادی یا نانا، نانی، خالہ خالو، پھوپھی، پھوپھا کے ساتھ گھر کے، ماں باپ، شوہر، بیوی،بیٹے، بیٹیاں، بھائی، بہن سب کے سب ایک ساتھ ہنسی خوشی رہا کرتے تھے اور بھرپور زندگی جیتے تھے۔لیکن آج کے پر آشوب او رہر سطح پر بحران  وانتشار کی کیفیات کے ماحول میں لوگ بس کسی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ اس میں، میں ان لوگوں کو شامل نہیں کر رہا ہوں، جو ہر رشتے، ناطے کو تیاگ کر صرف اور صرف اپنے مفاد کے لیے ہر تعلق کو ایک شئے کی طرح خریدنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ایسے منفی سوچ کے باعث خاندان محدود ہو کر بس شوہر، بیوی اور بچوں تک ہی رہ جاتاہے۔ جس کے نتیجہ میں لوگوں کی تنہائیاں بڑھتی ہیں اور تنہائیوں میں وقت گزارنے والوں پر کئی طرح کے منفی اور نفسیاتی اثرات پڑتے ہیں۔ خاندان سے دوری کی وجہ کر رشتوں کا بکھراؤ، اخلاقی قدروں کا فقدان عام ہوتا جا رہا ہے۔ ہماری پرانی خاندانی روایات، اخلاقی قدریں در حقیقت، انسانیت کے بنیادی تقاضے ہیں۔ جو انفرادیت کی بجائے اجتمائیت اور اس کے مثبت پہلوؤں کو آشکار کرتے ہیں۔ جو آپسی میل، محبت، بھائی چارگی، اخوت، یکجہتی، خلوص، ایمانداری، رواداری، عدل وانصاف، شجاعت، سچائی، صلہ رحمی، حیا، صبر وتحمل  او رخدمت خلق کے احساسات  وجذبات کی کارفرمائیوں کو مہمیز کرتے ہیں۔

         ہم اس امر سے بھی انکار نہیں کر سکتے ہیں کہ سماجی زندگی میں خاندان کو مرکزیت حاصل ہوتی ہے، جو اسے خاندان کے تمام افراد کی بہتر طرز  زندگی کا لائحہ عمل تیار کرتا ہے۔ بہترین اور مثالی خاندان کی پہچان یہ بھی ہے کہ خاندان کی فلاح  وبہبود اور بہتر خاندانی نظام کو کبھی درپیش مشکلات کا سامنا کرنا پڑ جائے تو، خاندان کا ہر فرد اس کے تدارک پر نہ صرف غور وفکر کرے، بلکہ عملی کوشش بھی کرے۔ جس سے دنیا کے مختلف ممالک میں خاندانی اکائیوں کے استحکام پر کسی طرح کے منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔ ان امور سے دوری کے باعث میں امریکہ میں ہم نے دیکھا ہے کہ بظاہر معاشی طور لوگ خوش ہیں، لیکن خاندان کے ساتھ رہ کر جو خوشیاں، جو سکون و اطمینان ملنا چاہیے، وہ انھیں نصیب نہیں۔ امریکہ میں 18سال کی عمر ہوتے ہی بیٹے، بیٹیاں اپنا الگ آشیانہ بنا لیتے ہیں اور آسائش وعیش عشرت سے بھری زندگی گزارنے کے لیے وہ وہاں کی مشینی زندگی کا حصہ بن کر رہ جاتے ہیں، اور ویک اینڈ میں خوش ہونے کی طرح طرح کی ترکیبیں نکالتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ تنہائی وہا ں کا مقدر ہے، یہاں تک بڑے بڑے مال میں بھی یہ لوگ تنہائی کے درد کو جھیلتے نظر آتے ہیں۔ ماں، باپ الگ تھلگ رہ رہے ہیں یا پھر کسی اولڈ ایج ہوم میں باقی بچی زندگی کو کسی طرح کاٹ رہے ہیں۔ یہی اگر مشترک خاندان کے فرد ہوتے تو ان کے بیٹا، بیٹی، پوتے، پوتیاں ساتھ ہوتے اور زندگی ان کی بچوں کی لککاریوں سے بھری ہوتیں۔

       کاش، آج کے یوم خاندان کی اہمیت اور افادیت کو سمجھتے ہوئے مشترک خاندان کے تصور کو پھر سے زندہ کیا جائے تو دادا، دادی یا نانا، نانی اور پوتا، پوتی یا ناتی، نواسی سب خوش رہ سکتے ہیں۔ یہ خوشی ملتی ہے تو گھر کا ہر فرد پُر سکون اورخوش رہ سکتا ہے۔اقوام متحدہ نے شہر میں بڑھتی ہر طرح کی آلودگی اور کثافت کے مدّ نظر ہی اس سال یعنی2022  ء کے لیے عالمی یوم خاندان کے موقع پر جوتھیم دیا ہے وہ ہے۔

” Families and urbanization – aim to raise awareness on the importance of sustainable, family friendly urban policies.”

    اقوام متحدہ کے اس تھیم پر اگر سنجیدگی سے لوگ عمل کرتے ہیں تو عہد حاضر کے بگڑتے اور بکھرتے ماحول میں ایک بہتر خاندان کا تصور ممکن ہے۔

٭٭٭٭

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔