عصمت دری کا ملزم

الطاف حسین جنجوعہ

                ’عالمی یوم ِ خواتین ‘کی مناسبت سے دنیا بھر کے ساتھ ساتھ ہمارے وطن عزیز میں بھی تقاریب وسرگرمیوں کا اہتمام ہوا۔ اسی نسبت آج کے اِس کالم میں خواتین سے جُڑے اہم معاملہ کی طرف توجہ مبذول کرانے کی سعی کر رہا ہوں۔ جس معاملے کا بھی ذکر کرنا چاہتا ہوں، اگر چہ اِس کے متاثرین کی شرح ہمارے معاشرے میں کم ہی ہے لیکن اِس سے جو گھرانے متاثر ہوتے ہیں، اُس کے اثرات نہ صرف زیادتی کرنے والے یا جس پر زیادتی کی گئی وہ سالہا سال متاثر ہوتے ہیں بلکہ اُن کی اولاد اور اُن کے حلقہ ِ اثر پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

                خواتین کو جنسی استحصال وزیادتی سے محفوظ رکھنے کے لیے اگر چہ تعزیرات ِ ہندکے علاوہ مخصوص طور بنائے گئے قوانین میں سخت سزائیں متعین کی گئی ہیں۔ اُن کے حقوق کے تحفظ کے لیے آئین ِ ہند میں بھی خصوصی دفعات موجود ہیں لیکن ہمارے ملک میں خواتین کے ساتھ عصمت دری کے واقعات یومیہ بنیادوں پر لاکھوں کی تعداد میں رونما ہوتے ہیں، جن میں کثیر تعداد ایسی ہے جو رپورٹ نہیں ہوتی۔پولیس تھانوں میں جو مقدمات اِس حوالے سے درج ہوتے ہیں، اُس میں متعدد ایسے بھی ہیں جو جھوٹ کی بنیاد پر بھی ہوتے ہیں، خیر سوچ اور جھوٹ ثابت کرنا تو عدالتوں کا کام ہے لیکن عصمت دری و جنسی زیادتی کے کچھ معاملات ایسے ہوتے ہیں جس میں حالات وواقعات کو مد ِ نظر رکھ کر کچھ رعایت کی ضرورت ہے۔یہاں میں نام وجگہ اور کورٹ کی رازداری رکھتے ہوئے ایک مقدمے کا حوالہ دینا چاہوں گا۔ معاملہ کچھ یوں ہے کہ لڑکا اور لڑکی ایکدوسرے کو پسند کرتے تھے، دوستی پیار میں بدلی اور شادی سے قبل ہی دونوں نے جنسی تعلقات بھی بنالیے جو کہ سراسر غلط، غیر شرعی، غیر قانونی اور ناجائز تھا جس کوکسی بھی صورت میں صحیح قرار دینے کی قطعی حماقت نہیں کی جاسکتی۔دلچسپ امر یہ ہے کہ بعد ازاں لڑکا ٹیچر لگ گیا، اُس نے لڑکی سے شادی کرنے سے انکار کر دیا۔لڑکی نے بے وفائی کرنے پر تھانے میں شکایت کی اور لڑکے پر 376تعزیرات ِ ہند کا مقدمہ درج ہوا اور گرفتار ی ہوگئی۔ بعد ازاں لڑکے کی عقل ٹھکانے آئی تو اُس نے اُسی لڑکی یعنی کہ مستغیثہ سے شادی کرلی، عدالت میں لڑکی کے بیان پر ملزم، جواب اُس کا خاوند ہے، کی ضمانت ہوگئی مگر ٹرائل چل رہی ہے۔ اب اِن دونوں کی دوبیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ بڑی بیٹی9سال کی ہے اور سب سے چھوٹی بیٹی 4سال کی۔مقدمے کی ٹرائل چلتے دس سال سے زائد کا وقت ہوچکا ہے۔قانون کی نظر میں یہ ٹیچر دفعہ376کا ملزم ہے جبکہ عملی طور وہ مستغیثہ کا خاوند اور تین بیٹے بیٹوں کا باپ بھی بن چکا ہے۔ دس سال کے مقدمہ کے دوران باقاعدگی سے ہرماہ تاریخ پر حاضر ہونا، وکیل کی فیس وغیرہ جاری ہے۔ اِس شخص سے جب اپنی اولاد یہ سوال کرتی ہوگی کہ ابو عدالت کیوں گئے تھے، کیوں جارہے ہو، کیا جرم ہے، تو وہ باپ کیا جواب دے گا اور کس منہ سے دے گا۔ اس شخص کے لیے اپنی اولاد کے سامنے بھی ایک عجیب وغریب سی صورتحال ہے۔ اگر چہ شادی تو اِس شخص نے کر لی مگر ٹرائل کی وجہ سے میاں بیوی کے رشتے پر بھی کہیں نہ کہیں منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

                ایسے درجنوں مقدمات جموں وکشمیر کی متعد د عدالتوں میں زیر التوا ہیں اور ملک بھر کے اندر ہزاروں اس نوعیت کے مقدمات ہوں گے جس میں دفعہ376کے ملزم نے دوران تحقیقات مستغیثہ سے شادی کر لی مگر مقدمہ پھر بھی چل رہا ہے۔ ایسے مقدمات کی ٹرائل جاری رکھنا نہ صرف عدالتوں کا قیمتی وقت برباد کرنے کے مترادف ہے، بلکہ اِس کا غلط اثر کئی افراد پر بھی پڑتا ہے۔ ایسی صورتحال کے لیے قانون میں ترمیم لازمی ہے اور قانون دانوں کو اِس متعلق سنجیدگی سے غور وفکر کرنا چاہیے۔ اس میں ایسا کیاجاسکتا ہے کہ ایسے ملزم پرمقدمہ ختم کرنے کی سخت شرائط رکھی جاسکتی ہیں، جیسے کہ مستغیثہ کے اکاؤنٹ میں کم سے کم مقرر کردہ رقم جمع کرائی جائے، ملزم اِس بات کی ضمانت دے کہ وہ مستغیثہ کا ہرطرح سے خیال رکھے گا اور اُس کے حقوق کی تلفی نہ کرے گا، ظلم وزیادتی نہ کرے گا اور نہ اُس کو ایسی کوئی بھی بات کہے گا جس سے اُس کی تذلیل ہویا جذبات مجروح ہوں۔ مستغیثہ کی باوقار اور خوشحال زندگی کی ضمانت لیکر ملزم کیخلاف مقدمہ جلد خارج کرنے کے حوالے سے قانونی ترمیم پر غور کیاجاسکتا ہے تاکہ اگر ملزم ومستغیثہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کا فیصلہ کر لیں تو پھر اُن کی اولاد پر اُن کی غلطی کا اثر سالہا سال تک نہ پڑتا رہے۔

                8مارچ کو ہرسال عالمی یوم جودنیا بھر میں منایا جاتا ہے، کا مقصد خواتین کی اہمیت سے آگاہ کرنا اور لوگوں میں خواتین پر تشدد کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے کے لیے ترغیب دینا ہے۔ اس موقع پر ہمیں ایسے معاملات پر بھی غوروفکر کرنے اور اِن کا کوئی قابل قبول اور مثبت حل نکالنے کی سبیل کرنی چاہیے۔

                ہمارے معاشرے میں صنف نازک کے ساتھ ایسی زیادتی نہ ہو، اُن کے خلاف جرائم نہ ہوں کے لیے ہمیں اپنے بچوں کو زیادہ سے زیادہ مذہبی تعلیم کے زیور سے آراہستہ کرنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ وہ شروع سے ہی ایسی سوچ اور برائیوں سے دور رہیں۔ دین ِاسلام نے خواتین کو جومقام ومرتبہ عطا کیا ہے، اُس کی نظیر دُنیا میں کہیں نہیں ملتی، خواتین کے حقوق پر تو مغرب میں بیسویں صدی کے آغاز سے باتیں ہونا شروع ہوئیں لیکن اسلام نے چھٹی صدی عیسوی میں خواتین کے تقدس اور حقوق کا جوتصور پیش کرنے کے ساتھ عملی مظاہرہ کیا وہ ہمیشہ کے لیے تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھاجاتا رہے گا۔

                 اسکولی نصاب میں ’اخلاقیات ‘موضوع پر خصوصی مضمون اول سے آٹھویں جماعت تک لازمی طور متعارف کرنے کی ضرورت ہے جس میں رشتوں کی اہمیت، احترام، تقدس پر بات ہو۔کیوں کے صرف تعلیم سے ہی کوئی قوم یا معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا جب تلک کہ اُس میں اخلاقی اقدار نہ ہوں۔ ایسا کرنے سے ہمیں مخصوص دن منانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی کیونکہ کسی دن کو کسی کے نام سے منا لینے سے اُس کے تمام حقوق ادا نہیں ہوجاتے؟ جیسا کہ آج کل فادرس ڈے، مدرس ڈے، چلڈرنس ڈے، ٹیچرس ڈے، مزدور ڈے، وغیرہ صرف ایک دن منائے جاتے ہیں، جبکہ یہ وہ سارے رشتے ہیں جن کی اہمیت ہر وقت اپنے کسی نہ کسی حقوق کی متقاضی ہے۔ہاں اِن خاص دنوں کو منانے کا ایک مقصد یہ ہونا چاہیے اِن رشتوں کی اہمیت وافادیت کے تئیں اگر کوئی غافل ہے، انفرادی، سماجی یاحکومتی سطح پر کوئی نا انصافی یا لاپرواہی کی جارہی ہے، کو دور کرنے پر آواز بلند ہوا اور گذر ے سال کی گئی غلطیوں کی تصحیح کر کے آئندہ اِنہیں نہ دہرانے کا عزم کیاجائے۔

تبصرے بند ہیں۔