علامہ اقبال اور حافظ شیرازی

ڈاکٹرغلام قادر لون

(حدی پورہ رفیع آباد)

 علامہ اقبال کی فارسی مثنوی ۱۹۱۵ ء میں شائع ہوئی۔ اس میں افلاطونؔ اور حافظ شیرازیؔ پر علامہ نے تنقید کی تھی۔ انہوں نے حافظؔ پر ۳۵ اشعار میں تنقید کرتے ہوئے مسلمانوں کو حافظ کے کلام سے بچنے کی تلقین کی تھی   ؎

ہوشیار از حافظ صہبا گسار

جامش اززہر اجل سرمایہ دار

رہن ساتی خرقہ پریزاو

مئی علاج ہول رستا خیز او

نیست غیر ازبادہ دربازار او

ازدوجام آشفتہ شددستار او

آن فقیہہ ملت می خوارگاں

آں امام اُمت بیچارگاں

                حافظؔ پر تنقید دیکھ کر ادبی حلقوں میں بحث چھڑگئی۔ اہل تصوف علامہ سے بدظن ہوگئے۔ اخباروں میں ان کے خلاف مضامین لکھئے گئے۔ بعض حضرات نے ان کی مثنوی کا منظوم جواب دیا۔ جہلم کے ایک ٹھیکہ دار میاں ملک محمد قادری نے اپنے منظوم جواب میں حافظؔ کا دفاع کرتے ہوئے کہا:

حافظ ماشمس دینِ مصطفی ﷺ

مظہر انوار و اسرارِ خدا

صاحب حالِ است و مردقال نے

 درپے دنیائے دوں پامال نے

آن لسان الغیب جانی معرفت

برتراز ادراک ماداروصفت

 محکمہ انہار پنجاب کے ڈپٹی کلکٹر پیر زادہ مظفر احمد فضلی نے ’اسرار خودی ‘کے جواب میں ’’راز بیخودی‘‘ کے عنوان سے مثنوی لکھی جس میں انہوں نے علامہ اقبالؔ پر تنقید کی اور حافظ کا دفاع کیا    ؎

ہرچہ گفتی از خودی حاشاغلط

سربسراز لفظ تامعنیٰ غلط

درحریم حق خودی رانیست بار

 درحرم مزدور دیواں راجہ کار

اے کہ حافظ راشماتت میکنی                

زند میکش را ملامت بی کنی

اے بعلم خوبش مخمورعمل

توچہ دانی سرمستان ازل

                رسالوں اور اخبارات میں بھی علامہ کے خلاف مضامین شائع ہوئے۔ حافظ پر تنقید سے حسن نظامی اور اکبر الہ آبادی بھی ناراض ہوئے ۔ موخرالذکر نے مولانا عبدالماجد دریا بادی کے نام اپنے خطوط میں اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔’ اسرار خودی ‘کے شائع ہونے کے دو سال بعد انہوں نے مولانا دریا بادی کو ایک خط محررہ یکم ستمبر ۱۹۱۷ کو تحریر کیا:

                ’’اقبال صاحب کو آج کل تصوف پر حملے کا بڑاشوق ہے۔ کہتے ہیں عجمی فلاسفی نے عالم کو خدا قرار دے رکھا ہے اور یہ بات غلط ہے۔ خلاف اسلام ہے۔‘‘

                ’رموز بیخودی ‘شائع ہوئی تو علامہ اقبالؔ نے اکبر الہ آبادیؔ کو اس کا نسخہ بھیجا مگر وہ اس قدر ناراض تھے کہ انہوں نے اسے دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ ۱۱ جون ۱۹۱۸ ء کو انہوں نے مولانا دربابادی کو لکھا:

                ’اقبال نے جب سے حافظ شیرازی کو علانیہ بُرا کہا ہے میری نظر میں کٹھک رہے ہیں ۔ انکی مثنوی اسرار خودی آپ نے دیکھی ہوگی۔ اب رموز بیخودی شائع ہوئی ہے۔ میں نے نہیں دیکھی ۔ دل نہیں چاہا۔ ‘

                تاہم بعد میں اکبر الہ آبادی ہی نے علامہ اقبال اور حسن نظامی میں صلح کروادی۔

                حافظ پر تنقید سے اہل نصوف بھی علامہ سے ناراض ہوئے۔ انہوں نے اس تنقید کو تصوف دشمنی پر محمول کیا۔ چنانچہ ۱۵ جنوری ۱۹۱۶ ء کو علامہ اقبال نے ’’وکیل‘‘ میں ’ اسرار خودی اور تصوف‘کے عنوان سے ایک مضمون لکھا جس میں انہوں نے تحریر کیا:

                ’’شاعرانہ اعتبار سے میں حافظؔ کو نہایت بلند پایہ سمجھتا ہوں لیکن ملی اعتبار سے کسی شاعر کی قدر و قیمت کا اندازہ کرنے کیلیے کوئی معیار ہونا چاہیے۔ میرے نزدیک معیار یہ ہے کہ اگر کسی شاعر کے اشعار اغراض زندگی میں ممد ہیں تو وہ شاعر اچھا ہے۔ اگر اس کے اشعار زندگی کے منافی ہیں یا زندگی کی قوت کو پست یا کمزور کرنے کا میلان رکھتے ہوں تو وہ شاعر خصوصاً قومی اعتبار سے مضرت رساں ہے۔ جو حالت خواجہ حافظ اپنے پڑھنے والوں کے دل میں پیدا کرنا چاہتے ہیں وہ حالت افراد قوم کیلیے جو اس زمان و مکان کی دنیا میں رہتے ہیں نہایت ہی خطر ناک ہے۔ ‘‘

                علامہ اقبال نے مہاراجہ کشن پرشاد کو ۱۳ اپریل ۱۹۱۶ ء کے ایک خط میں حافظ کے بارے میں یہی بات دہرائی اور فن کے متعلق اپنا نظریہ واضح کیا:

                ’’خواجہ حافظ کی شاعری کا میں معترف ہوں ۔ میرا عقیدہ ہے کہ ویسا شاعر ایشیا میں آج تک پیدانہ ہوا اور غالباً پیدا بھی نہ ہوگا لیکن جس کیفیت کو وہ پڑھنے والے کے دل پرپیدا کرنا چاہتے ہیں وہ کیفیت قوائے حیات کو کمزور اور ناتواں کرنے والی ہے ۔ یہ ایک نہایت اور دلچسپ بحث ہے جو اس مختصر خط میں سمانہیں سکتی ۔ میں نے مسلمانوں اور ہندوٗں کی گزشتہ دماغی تاریخ اور موجودہ حالت پر بہت غور کیا ہے؛ جس سے مجھے یقین ہوگیا کہ ان دونوں قوموں کے اطباء کو اپنے مریض کا اصلی مرض اب تک معلوم نہیں ہوسکا ہے۔ میرا عقیدہ ہے کہ ان کا اصلی مرض قوائے حیات کی ناتوانی اور ضعف ہے اور یہ ضعف زیادہ تر ایک خاص قسم کے لڑیچر کا نتیجہ ہے ؛جو ایشیا کی بعض قوموں کی بدنصیبی سے ان میں پیدا ہوگیا۔ جس نکتہ خیال سے یہ قومیں زندگی پر نگاہ ڈالتی ہیں وہ نکتہ خیال صدیوں سے مضعف مگر حسین و جمیل ادبیات سے مستحکم ہوچکا ہے اور اب حالات حاضرہ اس امر کے مقتضی ہیں کہ اس نکتہ خیال میں اصلاح کی جائے۔‘‘

                علامہ اقبال کی حمایت میں مولانا اسلم جیراجپوری نے بھی ایک مضمون لکھا؛ جس میں انہوں نے کہا کہ خواجہ حافظ ؔکے بارے میں اس طرح کی رائیں پہلے بھی ظاہر کی جاچکی ہیں ۔ چنانچہ مشہور ہے کہ اور نگ زیب عالمگیر نے منادی کرادی تھی کہ دیوان حافظ کوئی نہ پڑھے کیوں کہ لوگ اس کے ظاہری معنیٰ سمجھ کر گمراہ ہوجاتے ہیں ۔

                منشی محمد الدین فوق نے جب علامہ اقبال سے پوچھا تھا کہ آپ نے حافظ پر کیوں اعتراض کیا ہے۔ تو علامہ اقبال نے اس وقت اس کا واضح جواب نہ دیا بعد میں جب فوق نے انہیں اپنی تازہ تصنیف ’’و جدانی نشتر‘‘ؤبھیجی تو علامہ اقبال کو معلوم ہوا کہ ان کے سوال کا جواب انہیں کی تصنیف کے صفہ ۹۴ پر موجود ہے۔ علامہ نے اس کا ذکر اپنے مضمون میں کیا اور یہ واقعہ بیان کیا:

                ’’اورنگ زیب عالمگیر نے جو بڑا متشرع بادشاہ تھا ،ایک مرتبہ حکم دیا کہ اتنی معیاد کے اندر جتنی طوائفیں ہیں نکاح کرلیں ورنہ میں کشتی میں بھرکر سب کو دریا برد کردونگا ، سیکڑوں نکاح ہوگئے مگر پھر بھی ایک بڑی تعداد رہ گئی۔ چنانچہ ان کے ڈبونے کیلے کشتیاں تیار ہوئیں ۔ صرف ایک دن باقی رہ گیا۔ یہ زمانہ حضرت شیخ کلیم اللہ جہاں آبادی کا تھا۔ ایک حسین نوجوان طوائف روزہ مرہ آپ کے سلام کو آیا کرتی تھی۔ جب آپ درود وظائف سے فارغ ہوتے وہ طوائف سامنے آکر دست بستہ کھڑی ہوجاتی ۔ جب آپ نظر اٹھاتے وہ سلام کرکے چلی جاتی۔ آج جب وہ آئی تو بعد سلام عرض رساں ہوئی کہ آج خادمہ کا آخری سلام بھی قبول ہو۔ آپ نے حقیقت حال دریافت فرمائی ۔ جب تمام کیفیت بیان کردی تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ حافظ شیرازی کا یہ شعر   ؎

درکوئے نیکنامی مارا گزرنہ دادمذ

گر تو غے پسندی تغیر کن قضارا

                تم سب یاد کر لو اور کل جب تمہیں دریا کی طرف لے چلیں تو بآواز بلند اس شعر کو پڑھتے جاؤ۔ ان سب طوائفوں نے اس کو یاد کرلیا۔ جب روانہ ہوئیں تو یاس کی حالت میں نہایت خوش الحانی سے بڑے درد انگیز لہجے میں اس شعر کو پڑھنا شروع کیا ۔جس جس نے یہ شعر سنا دل تھام کر رہ گیا۔ جب بادشاہ کے کان میں آواز پہنچی تو بے قرار ہوگیا۔ ایک عجیب کیفیت طاری ہوئی حکم دیا کہ سب کو چھوڑو۔‘‘

                فوق کی تصنیف سے یہ واقعہ نقل کرنے کے بعد علامہ نے اپنے مضمون میں لکھا ہے:

                ’’مسئلہ تقدیر کی ایک ایسی غلط مگر دلآویز تعبیرسے حافظؔ کی شاعرانہ جادوگری نے ایک متشرع اور نیک نیت بادشاہ کو جو آئین حقہ شرعیہ اسلامیہ کی حکومت قائم کرنے اور زانیات کا خاتمہ کرکے اسلامی سوسائٹی کے دامن کو اس بدنما داغ سے پاک کرنے میں کوشاں تھا،قلبی اعتبار سے اس قدر ناتواں کردیا کہ اسے قوانین اسلامیہ کی تعمیل کرانے کی ہمت نہ رہی۔‘‘

                امر واقع یہی ہے کہ حافظ کی جاودبیانی سے آہن بھی موم بن جاتا ہے ۔ ان کے کلام کے سحر سے بچنا بے حد دشوار ہے۔ اورنگ زیب عالمگیرؒ ہی کو لیجئے۔ انہوں نے عام لوگوں کو’ دیوان حافظ‘ کے پڑھنے سے منع کیا تھا مگر ’دیوان حافظ‘ ان کے سرہانے ہوتا تھا اور وہ اس کا مطالعہ ہی نہیں اس سے فال بھی نکالا کرتے تھے۔ خود علامہ اقبال ؔجس زمانے میں حافظؔ پر تنقید کررہے تھے۔ انہوں نے مہاراجہ کشن پرشاد کو ایک غزل ۲۸ دسمبر ۱۹۱۴ ء کو ’’تزک عثمانیہ‘‘ میں شائع کرنے کیلیے بھیجی۔ ایک ماہ بعد مولانا گرامی کو لکھا کہ میں نے یہ اشعار مہاراجہ سرکشن پرشاہ کو بھیجے تھے۔ غزل بالکل حافظ کے رنگ میں ہے ۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ خود علامہ اس وقت بھی بلبل شیراز کی خوش کلامی سے مسحور تھے۔

                حافظ پر تنقید کرنے کی وجہ سے بہت سے حلقے علامہ اقبال سے بدظن ہوگئے تھے۔ اس لیے’ اسرار خود ی‘ کے دوسرے ایڈیشن میں انہوں نے وہ اشعار حذف کردئے۔ انہوں نے مولانا اسلم جیراجپوری کے نام ایک خط میں تحریر کیا:

                ’’حافظ پر تنقید کرنے سے میرا مقصد محض ایک لٹریری اصول کی تشریح و توضیح تھا۔ خواجہ کی پرائیویٹ شخصیت یا ان کے معتقدات سے سروکار نہ تھا لیکن عوام اس باریک امتیاز کو نہ سمجھ سکے اور نتیجہ یہ ہوا کہ اس پر بڑی لے دئے ہوئی اگر لٹریری اصول یہ ہو کہ حسن حسن ہے خواہ اس کے نتائج مفید ہوں خواہ مضر تو خواجہ دنیا کے بہترین شعراء میں سے ہیں ۔بہر حال میں نے وہ اشعار حذف کردئے اور ان کی جگہ اس لڑیری اصول کی تشریح کرنے کی کوشش کی ہے جس کو میں صحیح سمجھتا ہوں ۔‘‘

                ’اسرار خودی ‘کے دوسرے ایڈیشن میں حافظ پر تنقید ی اشعار حذف کرنے کے بعد علامہ نے درحقیقت ’’شعرو اصلاح ادیبات اسلامیہ‘‘ کے عنوان کے تحت شاعری اور ادیبات اسلامیہ کی اصلاح کے بارے میں اپنا نکتہ نظر پیش کیا ہے۔ انہوں نے چار بندوں پر مشتمل مبحث کے پہلے بندمیں شعر کی حقیقت بیان کی ہے اور اچھے اور اصلی شاعر کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حقیقی شاعر قوم کے کارواں کو منزل کی طرف گامزن کریتا ہے۔ قوم کو متحرک اور فعال بنا دیتا ہے اور اس کا پیغام پوری دنیا کیلیے صدائے عام ہوتا ہے یعنی اس کا پیغام عالمگیر ہوتا ہے: اہل عالم را صلابر خوان کند۔ آتش خودراچو بادارزاں کند

                دوسرے بند میں علامہ نے اس قوم کی بدنصیبی کارونا رویا ہے جس کے شعرا ء قوم کو زندگی کے حقائق سے فرار کی تلقین کرتے ہیں اور اپنی مردہ شاعری سے قوم کو افیون کھلا کر سست اور کاہل بنا دیتے ہیں ۔ انہوں نے اس بند میں ایسے شعراء کی خامیاں بیان کرکے کہا ہے کہ یہ شعرء اپنی شاعری کے فسوں سے قوم کا بیڑا غرق کردیتے ہیں اس لیے مسلمانوں کو ان کے کلام سے حذر کرنا چاہیے   ؎

ازخم ومنادجامش الحذر

ازمے آئینہ فاش الحذر

                تیسرے بند میں علامہ نے بتایا کہ جعلی شراء کی شاعری سے مسلمان اس قدر تن آسان اور مقصدِ حیات سے غافل ہوگئے ہیں کہ وہ ان کے لیے ’رسوائی‘ اور ننگ کا باعث بن گئے ہیں ۔ حرم میں پیدا ہوکر تنجانے میں مر گیا ہے۔ یعنی اس کے عشق کی آگ بجھ کر خاکستر ہوچکی ہے۔

وائے ہر عشقے کہ ناراوفسرد   

درحرم زائید و در تنجانہ مرد

                چھوتھے بند میں علامہ نے شعراء کو تلقین کی ہے کہ اپنی شاعری کو زندگی کی کسوٹی پر پرکھو، کیوں کہ یہ روشن فکرو عمل کی طرف رہ نمائی کر تی ہے۔ ادب میں بھی فکرِ صالح درکار ہے، اس لیے عجمی شاعری کی جگہ عربی شاعری کی طرف واپس جائو تاکہ زندگی کے مصائب کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکو۔

تاشوی درحورد پیکار حیات

جسم و جانت سوز از تا ر حیات

علامہ اقبال کا یہی وہ پیغام ہے جو ہمیں ان کی ہرتصنیف میں نظر آتا ہے ۔ اردو میں انہوں نے ان اشعار میں بھی اپنا نظریہ پیش کیا ہے۔

تاثیر غلامی سے خودی جس کی ہوئی نرم

اچھی نہیں اس قوم کے حق میں عجمی لے

۔

ہے شعر عجم گرچہ طرب ناک و دل آویز

اس شعر سے ہوتی نہیں شمشیر خودی تیز

افسردہ اگر اس کی نوا سے ہو گلستاں

 بہتر ہے کہ خاموش رہے مرغ ِسحر خیز

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا