قانون برائے حق اطلاعات(RTI) اور ہماری لاعلمی

یوں تو قانون برائے حق اطلاعات 2005 ایک ایسا قانون ہے جس سے متعلق یہ کہنا مبالغہ ہرگز نہ ہوگا کہ قانون برائے حق اطلاعات کے بغیر اس ملک کی آزادی بے معنی ہے کیونکہ حکومت اور اس کے دلال لیڈر سمیت ملک کا انتظامیہ ہی دراصل عوام کا سب سے بڑے لٹیرے ہیں اپنی قوت اور وسائل کے ذریعے عوام کو ان کی سہولیات سے محروم کرنا اور ان کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈالنا بھی ایک طرح کا کاروبار ہے جو انسانوں کو راتوں رات ارب پتی بنا دیتا ہے اور گویا کہ اقتدار کے آڑ میں ننگے، بھوکے، محروم عوام کو لوٹنے کا لائسنس فراہم کرتا ہے قانون برائے حق اطلاعات سے پہلے ارباب اقتدار کے اصل دلال انتظامیہ کے دفاتر کے روبرو لگی ہوئی عوام کے قطاریں اور افسران سے لیکر چپراسی تک تمام ہی انتظامی ملازمین کی دھتکار، پھٹکار سے خوف زدہ عوام ناک رگڑنے پر مجبور ہوا کرتے ہیں
عوامی بنیادی حقوق کی خاطر منظور شدہ فنڈ سہولیات کا اربوں کھربوں روپیہ پورے نظم و ضبط کے ساتھ لیڈروں کی تجوریوں میں جمع ہو جایا کرتا ہے کسی معمولی کاشتکار کو معمولی زمین کا کاغذ حاصل نہ ہونے کی وجہ سے اسے اپنے حق سے محروم ہونا پڑتا تھا یہی وجہ ہے کہ اس ملک کی مکمل جائیداد کا 67.5 فیصد حصہ صرف ایک فیصد طبقے کی تجوری میں جمع ہیں جبکہ صرف 32.5 فیصد جائیداد میں ملک کے 99 فیصد افراد دو وقت کی روٹی اور بوند بوند پانی کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر آج بھی مجبور ہے لاکھوں کی تعداد میں کا شکار اور مزدور سے لے کر کارپوریٹ سیکٹر کے افسران تک لوگوں کی زندگی کی مشکل گھڑیوں سے تنگ آکر موت کو سینے سے لگایا دنیا کے 26 ممالک کو اناج فراہم کرنے والے ملک کے کاشت کار آج بھی اپنی تباہ کن فصل کو دیکھ کر ماتم کرتا ہے
ملک کی بیٹیاں دس ایکڑ زمین کے مالک کے مقابلے میں معمولی چپراسی کو شادی کے لیے پسند کرنے لگی ہے کیونکہ ڈسٹرکٹ بینک سے لے کر قومی بینکوں کے قرضوں میں ڈوبے ہوئے کاشت کار کی زندگی داؤ پر لگی ہوئی ہے جبکہ گیارہ ہزار کی بیسک تنخواہ کا حامل چپرا سی زندگی کی سیکورٹی کے ساتھ تو جیتا ہے علاوہ ازیں بڑے صاحب تک پہنچنے کا ذریعہ بنتے ہوئے روزانہ ہزاروں کی نوٹوں سے جیب بھرتا ہے معاشرے میں اس کا وقار ہوتا ہے قانون برائے حق اطلاعات کے بعد بھی اس کے تئیں عوام میں لا علمی اور کم فہمی کے نتیجے میں رشوت خوری و کالا بازاری پر نکیل کسنے میں کامیابی حاصل نہ ہوسکی تو دوسری جانب ارباب اقتدار اور انتظامی افسران کے گلے کی پھانسی بنا ہوا قانون برائے حق اطلاعات حکومت کی جانب سے دن بہ دن کمزور کیا جا رہا ہے
تازہ ترین سروے کے مطابق ملک بھر میں تی3 کروڑ 33 لاکھ اور ریاست مہاراشٹر میں سے 6 لاکھ 30 ہزار 516 کی تعداد میں درخواست برائے حق اطلاعات انصاف کے انتظار میں دم توڑ رہے ہیں ان پر کسی بھی قسم کی کارروائی نہ ہونے پر کئیوں نے ہائی کورٹ، سپریم کورٹ کے دروازے دستک بھی دی ہے لیکن نتیجہ صفر نکلا کیونکہ خود اس ملک کی عدالتوں کا یہ حال ہے کہ عدالتوں کے لیے آج بھی ججوں کی بے شمار کمی ہے قانون برائے حق اطلاعات کمیشن میں خالی جائیدادیں بھرنے سے حکومت گریز کررہی ہے مصدقہ اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں مرکزی اور ریاستی حق اطلاعات کمیشن میں جملہ 160 جائیدادیں موجود ہیں جن میں سے 29 جائیدادیں چیف انفارمیشن کمشنر اور 130 جائیدادیں انفارمیشن کمشنروں کی ہے لیکن ان میں بھی چیف انفارمیشن کمشنر کی 4 جائیدادیں خالی ہے جبکہ انفارمیشن کمشنر کی 34 جائیدادیں خالی ہے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل انڈیا کی رپورٹ کے مطابق مرکزی انفارمیشن کمیشن میں گیارہ جائیدادیں جو پچھلے گیارہ سالوں سے پر نہیں کی گئی ceo سمیت صرف 8 کمیشن میں حق اطلاعات کا قانون بحال کیے جانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن حکومت کی جانب سے اس پر بھی نکیل کس لی گئی تھی دیکھا جائے تو ایک ہی کمیشن پر دو دو بینچوں کا بوجھ ڈالا جاتا ہے تاکہ انصاف میں تاخیر ہوتی رہے اور ارباب اقتدار کے دلال سرکاری افسران کی گردنیں محفوظ رہیں اور عوام کا استحصال ہوتا رہے
قانون برائے حق اطلاعات اورنگ آباد کی حال تو بہت ہی زیادہ قابل ترس ہے دوسری اپیل میں سماعت کے لیے 8 سے 10 ماہ کا عرصہ گزر جاتا ہے کیونکہ حق اطلاعات کمیشن پر اس وقت ناگپور بینچ کی بھی ذمہ داری عائد کی گئی ہے یہاں پر دوسری اپیل کی سماعت کے لیے درکار 10 ماہ کے عرصے میں مجرم اپنے پھانسی کا پھندہ توڑ کر فرار ہونے میں بآسانی کامیاب ہوتے ہیں قانون برائے حق اطلاعات کی ناکہ بندی میں دلچسپ بات یہ محسوس ہوتی ہے کہ وزیر اعظم کے دفتر کو اس قانون سے آزاد رکھا گیا ہے تاکہ وزیر اعظم اور ان کے تمام رفقاء جو بھی سیاہ سفید کریں اور PM CARE Found میں جو بھی چراغ لگائے کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو اور ارباب اقتدار جیسے چاہے قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے عوام کا خون چوستے رہے اور ان کے خلاف کوئی افف بھی نہ کر سکے آج بھی حق اطلاعات سے ناواقفیت کی بنیاد پر مز دور سے لے کر قانون کے پروفیسر تک بڑے بڑے لوگ بھی اپنے حقوق سے اس لیے محروم ھیکہ ان میں اس قانون کے تئیں کوئی خاص علم نہیں ہے
بیچارے نہیں جانتے کہ پولیس ڈیپارٹمنٹ میں ان کے حقوق کیا ہے ؟ عدالتوں میں ان کے حقوق کیا ہے؟ کلکٹر کے دفتر میں ان کے حقوق کیا ہے؟ تعلیم کے میدان میں ان کے حقوق کیا ہے؟ راشن کے محکمے میں ان کے حقوق کیا ہے؟ گراہک کی حیثیت سے ان کے حقوق کیا ہیں! میونسپل کارپوریشن میں ان کے حقوق کیا ہے؟ کیوں انہیں آج بھی ایک معمولی سرکاری کاغذ حاصل کرنے کے لیے ہزاروں کی رشوت دینی پڑتی ہے؟ کیوں راشن دکانوں پر دکاندار کی دادا گیری برداشت کرنی پڑتی ہے؟ نہیں معلوم کہ کیوں کسی خاکی وردی کا خوف راتوں کی نیند حرام کر دیتا ہے ؟ کیوں انہیں آپنے حق کی تنخواہ یا وظیفہ حاصل کرنے کے لیے معمولی چپراسی کے پیر پکڑنے پڑتے ہیں یہ سارے استحصال کی جڑ قانون برائے حق اطلاعات سے ناواقفیت کی بنیاد پر ہے

تبصرے بند ہیں۔