قرآن مجيد ميں معاشيات و ماليات

(تکوين و تقسيم دولت کے ليے نئي تحريک کي ضرورت)

ايچ عبد الرقيب

قرآن مجيد ميں چھ ہزار سے زيادہ آيات ہيں، ليکن اس کي سب سے بڑي آيت،    سورة البقرةکي آيت ۲۸۲ہے، جسے ‘آيتِ دَين’بھي کہتے ہيں۔ وہ قرآن کے معاشي، اقتصادي اور مالياتي پہلوؤں کو اجاگر کرتي ہے۔ اس آيت ميں سب سے پہلے يہ حکم ديا گيا ہے کہ ‘‘باہم لين دين کا معاملہ ايک متعين وقت کے ليے ہو تو لکھ ليا کرو۔’’ آج سے چودہ سو سال پہلے، جب کہ معاشرے ميں گنتي کے چند ہي افراد لکھنے پڑھنے پر قادر ہوتے تھے، ان سے کہا جا رہا ہے کہ وہ ‘‘لکھنے سے انکار نہ کريں۔’’علم اللہ کي طرف سے ايک نعمت ہے اور اس نعمت کا استعمال دوسروں کے ليے کرنا چاہيے۔

دوسري حيرت انگيز بات يہ ہے کہ اس دستاويز کا املا کون کرے؟ آج کے دور کي طرح قرض دينے والا نہيں بلکہ مقروض جو فريقين ميں کم زور ہوتا ہے اور جس پر قرض دينے کا حق ہے۔ وہ اللہ سے ڈر کر معاملہ کے عين مطابق املا کروائے۔اگر مقروض بيمار ہے، ناسمجھ اور معذور و مجبور ہے تو دوسرے کاتب کي خدمات حاصل کرکے اسے املا کرايا جائے، جو عدل و انصاف سے لکھے۔ کاتب کو لکھنے سے پس و پيش نہيں کرنا چاہيے۔ اس کے بعد اس دستاويز پر دو لوگ گواہي کے ليے بلائے جائيں۔ اگر دو مرد نہ مليں تو ايک مرد اور دو عورتوں کي گواہي لي جائے۔

ياد رہے کہ چھوٹے بڑے جزئيات بھي دستاويز کي دفعات ميں شامل ہوں۔ تحرير صاف اور شک سے بالا تر ہو (اَ لَّا تَرْتَا بُوا)۔ اس بات کا بھي خيال رہے کہ کاتب کو اور شہادت دينے والوں کو بھي نقصان نہ پہنچايا جائے۔ تعجب خيز بات يہ ہے کہ عرب کے اس معاشرے ميں جہاں لڑکيوں کو زندہ درگور کيا جاتا تھا، انھيں قرض کے لين دين کے معاملات کے ايک اہم مرحلے ميں گواہي دينے کا موقع دے کر ان کے مقام و مرتبے کو اونچا اٹھايا گيا ہے۔

گويا قرض لينے والے معاشرے کے کم زور فرد کو املا کروانے کا حق دے کر اور خواتين کو قرض کي دستاويز ميں گواہ کي حيثيت سے شامل ہونے کا حق دے کر، قرآن نے معاشرے کے کچلے اور دبے ہوئے حصے کو باعزّت مقام عطا کيا ہے۔

‘آيتِ دين’کے علاوہ قرض کے بارے ميں چند ارشادات رسولؐ بھي ملاحظہ فرمائيں:

جوشخص کسي سے اس نيت سے قرض لے کہ وہ اس کو ادا کر دے گا تو اللہ تعاليٰ اس کے قرض کي ادائيگي کے ليے آساني پيدا کرتا ہے اور اگر قرض ليتے وقت اس کا ارادہ ہڑپ کرنے کا ہے تو اللہ تعاليٰ اس طرح کے اسباب پيدا کرتا ہے، جس سے وہ مال ہي برباد ہو جاتا ہے۔ (بخاري)

قرض کي ادائيگي پر قدرت کے باوجود وقت پر ادائيگي ميں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ (بخاري)

اللہ تعاليٰ شہيد کے تمام گناہوں کو معاف کر ديتا ہے، مگر قرض معاف نہيں کرتا۔(مسلم)

حضرت جابرؓ کي روايت ہے کہ ايک شخص کا انتقال ہوا۔ ہم نے غسل دے کر کفن سے فراغت کے بعد رسول ﷺ سے نماز پڑھانے کو کہا۔ آپ نے پوچھا کہ اس پر کوئي قرض تو نہيں ہے؟ ہم نے کہا اس پر دو دينار کا قرض ہے۔ تو آپ نے ارشاد فرمايا: تم ہي اس کي نماز پڑھو۔ حضرت قتادہؓ نے فرمايا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اس کا قرض ميں نے اپنے ذمہ لے ليا۔ اس کے بعد آپ نے اس شخص کي نماز جنازہ پڑھائي۔

مال کے بارے ميں صحيح اور متوازن تصور

قرآن مجيد نے مال و دولت کو انساني زندگي کے قيام کا ذريعہ بنايا ہے (النساء۴:۵)۔ مال کو خير (العاديات) اور اللہ کا فضل (الجمعہ۶۲:۱۰) قرار ديا ہے۔ مال و دولت انساني معاشرے کے ليے وہي حيثيت رکھتے ہيں، جيسے انساني زندگي خون کے بغير قائم نہيں رہ سکتي۔ کوئي بھي معاشرہ معاشي سرگرمي کے بغير قائم نہيں رہ سکتا۔ اس وجہ سے معاشرے کي ترقي کے ليے مال و دولت کے متعلق ايک صحيح اور متوازن فکر کي ضرورت ہے۔ اللہ تعاليٰ کا ارشاد ہے:

پھر جب نماز ہو چکے تو زمين ميں پھيل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔(الجمعة۶۲:۱۰)

(حج کے دوران) تم پر اپنے رب کا فضل تلاش کرنے ميں کوئي گناہ نہيں ہے۔ (البقرة۲:۱۹۸)

پاني ميں تم ديکھتے ہو کہ کشتياں اس کا سينہ چيرتي ہوئي چلي جا رہي ہيں، تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکر گزار بنو۔ (فاطر۳۵: ۱۳)

تجارت، زراعت، صناعت (ہنرمندي) اور ہر جائز وسيلے سے مال کمانے کي شريعت نے نہ صرف اجازت دي ہے، بلکہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بيٹھے رہنے اور دوسروں کا دست نگر بننے کے بجائے ہاتھ پاؤں مار کر محنت و مشقت کرکے روزي روٹي حاصل کرنے اور مال کمانے کي ترغيب دي ہے:اچھا مال، اچھے انسان کے ليے اچھا ہے۔(صحيح البخاري، الادب المفرد)

اس کے برخلاف دنيا سے کنارہ کشي اختيار کرکے عزلت نشين بننے کے بجائے دنيا ميں رہ کر اور دنيا کے لوگوں سے مل کر ان کے ساتھ لين دين کرکے مال کمانے، پھر حاصل شدہ مال کو  اللہ کي راہ ميں اور محتاج اور ضرورت مند انسانوں ميں خرچ کرکے دنيا ميں عزت و شرف اور آخرت ميں بھي مقام بلند حاصل کرنے کي راہ بھي دکھائي ہے۔

حضرت انس بن مالکؓ سے مروي ہے:’’ہم رسول اللہ کے ساتھ ايک لڑائي ميں شريک تھے۔ ہمارے پاس ايک پھر تيلا نوجوان گزرا، جو غنيمت ميں حصے کے طور پر ملے مويشي کو ليے جارہا تھا، تو ہم بول پڑے کہ ’اگر اس کي جواني و سرگرمي اللہ کي راہ ميں صرف ہوتي تو کيا ہي اچھا ہوتا‘۔ ہماري يہ بات رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم تک پہنچي تو آپؐنے فرمايا: ’تم کيا کہہ رہے تھے؟‘ ہم نے بتايا کہ ’يہ اور يہ‘۔ آپؐنے فرمايا: ’’اگر وہ والدين يا ان ميں سے کسي ايک کے ليے بھاگ دوڑ کرے، تو يہ بھي اللہ کي راہ ميں شمار ہوگا، اور اگر وہ اہلِ دنيا کے کے ليے تگ و دو کر رہا ہو، تاکہ ان کي کفالت کر سکے تو يہ بھي اللہ کي راہ ميں گنا جائے گا، اور اگر اپني ذات کے ليے کام کرے تو يہ بھي في سبيل اللہ ہوگا‘‘۔(بيہقي)

نبي کريم ﷺ کے بارے ميں قرآن ميں وارد ہے: وَوَجَدَکَ عَآئِلًا فَأَغْنٰی(الضحٰي ۹۳:۸) ‘‘اور تمھيں نادار پايا اور پھر مال دار کرديا۔’’

رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم نے اپنے ساتھي حضرت ابوبکر صديقؓ کي تعريف کرتے ہوئے فرمايا:‘‘مجھے ابو بکر کے مال کي طرح کسي کے مال نے فائدہ نہيں پہنچايا۔’’

رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم نے اپنے خادم خاص حضرت انسؓ کے ليے يہ دعا فرمائي: ‘‘اے اللہ ان کو مال فراواں دے۔’’

آج ہم ديکھتے ہيں کہ مال کمانے ميں جائز وناجائزکي تميز نہيں کي جا رہي ہے۔ جھوٹ، دھوکا، رشوت، ناپ تول ميں کمي، وعدہ خلافي کا عام چلن ہے اور کسبِ معاش ميں حرام و حلال کے حدود و قيود کا پاس و لحاظ نہيں کيا جا رہا ہے۔ حالاں کہ ارشاد رباني ہے: ‘‘اے رسولو! عمدہ اور پاکيزہ چيزيں کھاؤ اور صالح عمل کرو۔’’(المؤمنون۲۳: ۵۱)

علما نے تشريح کي ہے کہ اس آيت ميں اللہ تعاليٰ نے عمل صالح سے پہلے رزق حلال اور طيب چيزوں کے کھانے کا ذکر کر کے يہ بات واضح کر دي ہے کہ اعمالِ صالحہ کي قبوليت کا دار و مدار رزقِ حلال پر ہے۔ اس ليے ہم ميں سے ہر شخص پر لازم ہے کہ حلال رزق کے حصول کو دين کي اوّلين ذمہ داري سمجھے۔

مال کے حصول اور استعمال کے بارے ميں ارشاد نبوي صلي اللہ عليہ وسلم ہے:’’يہ مال ہرا بھرا اور دل آويز ہے۔ جو شخص اسے جائز طريقے سے حاصل کرے گا اس ميں برکت ہوگي اور جو شخص اسے ناجائز طريقے سے حاصل کرے گا، اس کے ليے اس ميں برکت نہيں ہو گي، اور وہ اس شخص کے مانند ہوتا ہے جو کھاتا رہتا ہے اور سير نہيں ہوتا۔’’

انسدادِ سود اور معاشي استحصال کا خاتمہ

اللہ فرماتا ہے: اے اہل ايمان! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سودي مطالبات باقي رہ گئے ہيں ان کو اگر تم درحقيقت مومن ہو چھوڑدو۔ اگر تم نے ايسا نہ کيا، تو آگاہ ہوجائو کہ اللہ اور اُس کے رسولؐ کي طرف سے تمھارے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔ اگر تم توبہ کرو اور سودي معاملات سے باز آجائو تو تمھارے راس المال تمھارے ہيں وہ تم کو مليں گے۔ نہ تم زيادتي کرو نہ تمھارے ساتھ زيادتي کي جائے۔ (البقرة۲۷۸-۲۷۹)

سود کي مذمت اور اس سے اجتناب کي تلقين ميں اسلام اس حد تک سخت ہے کہ اس معاملے ميں جو کوئي کسي طرح شريک ہو، چاہے اس کي دستاويز لکھنے والا ہو يا اس پر گواہي دينے والا، ان سب پر وہ لعنت بھيجتا ہے۔ حضرت جابرؓ سے مروي ہے کہ نبي اکرم صلي اللہ عليہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے اور اس کي دستاويز لکھنے والے، اس پر گواہي دينے والوں، سب پر لعنت بھيجي ہے اور فرمايا کہ يہ سب برابر ہيں۔

اسلام محنت کي عظمت اور تقدس کو اہميت ديتا ہے اور اسے ملکيت اور نفع کي اساس قرار ديتا ہے۔ وہ اس بات کو روا نہيں رکھتاکہ ہاتھ پاؤں توڑ کر بيٹھے رہنے والا فرد مال کا حق دار ٹھيرے يا دولت سے دولت پيدا کرے۔ دولت صرف محنت سے پيدا ہو سکتي ہے بصورت ديگر وہ مال حرام قرار پاتا ہے۔

حرمت سود ميں ايک اور حکمت مضمر ہے جو آج ہم پر دور جديد ميں منکشف ہو رہي ہے اور غالباً اس سے پہلے سامنے نہيں آئي تھي، وہ يہ کہ سود ايک ايسا عامل ہے جو سرمايہ ميں بے حد وحساب اضافہ کرتا جاتا ہے۔ يہ اضافہ نہ کسي سعي وجہد کا نتيجہ ہوتا ہے اور نہ کسي طرح کي محنت کا ثمرہ۔سود کي يہ صفت ايسي ہے جو ہاتھ پاؤں توڑ کر بيٹھے رہنے والوں کو موقع فراہم کرتي ہے کہ وہ افزائش دولت کے سلسلہ ميں تمام تر اسي ايک ذريعے پر انحصار کر بيٹھيں۔ يہ سب کچھ ان محنت کشوں کے بل پر جو دولت کے محتاج ہوتے ہيں اور تنگي کے عالم ميں مجبور ہو کر سودي قرض ليتے ہيں۔ اس طرح دوخطرناک اجتماعي امراض سر اٹھاتے ہيں۔ سرمايہ ميں بے حد وحساب اضافہ اور انسانيت کي بلند وپست دو طبقات کے مابين روز افزوں تفريق جو کسي بھي حد پر جا کر رکنے کا نام نہيں ليتي۔ حقيقت يہ ہے کہ سود کھانا اسلامي تصور زندگي کے اس بنيادي اصول سے ٹکراتا ہے کہ مال اللہ کا ہے جس ميں اس نے انسانوں کو نائب بنايا ہے۔ ان شرطوں کے تحت کہ نائب بنانے والے اللہ کا منشا پورا کرے نہ کہ انسان جو چاہے کرے؟

بين الاقوامي مالي ادارے مثلًا آئي ايم ايف اور ورلڈ بنک آسان شرطوں پر امداد کے نام پر سودي قرضے فراہم کر کے ترقي پزير اور کمزور ملکوں کے اندروني معاملات ميں دخل اندازي اور ان کے عالمي تعلقات کو اپنے مفاد ميں کنٹرول کرتے ہيں۔ اس وقت دنيا کي بيشتر آبادي قرضوں کے بوجھ تلے سسک سسک کر زندگي گزار رہي ہے۔ لاطيني امريکا ميں پيدا ہونے والا ہر متنفس۱۶۰۰ ڈالر کے قرضے کے ساتھ پيدا ہوتا ہے۔ افريقہ جنوبي صحارا کے ممالک ميں پيدا ہونے والے ہربچے پر ۳۳۶ ڈالر کا قرضہ پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ حالانکہ سود کي شکل ميں ان کے آبا واجداد ۵کھرب اور ۶۷ ارب ڈالر ادا کر چکے ہوتے ہيں۔اس طرح سود معاشي استحصال کا بڑا ذريعہ ہے۔ معاشي استحصال سے بچنے کے ليے انسدادِ سود ناگزير ہے۔

سورة توبة اور زکوٰة

قرآن مجيد کي ايک اہم سورة جس کي خصوصيت يہ ہے کہ اس کي ابتدا ميں دوسري سورتوں کي طرح ’بسم اللہ‘ شامل نہيں ہے۔ اس سورة ميں زکوٰة کا ذکر چھ آيتوں ميں آيا ہے، جس کي بنياد پر زکوٰة کا پورا نظام قائم ہے۔ اس ليے بعض علما اس سورة کو سورة الزکوٰة سے بھي تعبير کرتے ہيں۔

  سورۂ توبہ کي آيت ۱۰۳ ميں فرمايا گيا ہے:‘‘اے نبيﷺ، تم ان کے اموال ميں سے صدقہ لے کر انھيں پاک کرو اور (نيکي کي راہ ميں) انھيں بڑھاؤ، اور ان کے حق ميں دعائے رحمت کرو۔’’ پھر آيت ۶۰ ميں تفصيل کے ساتھ بتايا کہ زکوٰة کے حاصل کرنے کے بعد ہدايت فرمائي کہ حاصل شدہ زکوٰة کے خرچ کرنے کي مدات کيا ہيں؟:

‘‘صدقات (يعني زکوٰة) اللہ کي طرف سے فرض ہے فقراء کے ليے، مساکين کے ليے، اور ان لوگوں کے ليے جو زکوٰة کے وصول و تقسيم پر مقرر ہيں اور ان کے ليے جن کي تاليف قلب مقصود ہے اور گردن چھڑانے کے ليے، قرض داروں کے ليے، راہِ خدا اور مسافروں کے ليے۔ اللہ بہتر جاننے والا اور حکمت والا ہے‘‘۔ (التوبہ۶۰)

در اصل زکوٰة صرف انفرادي طور پر صدقات اور خيرات کو تقسيم کرنے کا نام نہيں ہے اور نہ اس کي تقسيم کو اميروں کي صواب ديد پر چھوڑ ديا گيا ہے، بلکہ يہ ايک سماجي اور فلاحي ادارہ ہے، جس کي نگراني حکومتِ وقت کرے گي اور اس کا انتظام و انصرام عوامي ادارہ حکومت يا کسي اجتماعي نظم کے تحت ہوگا۔

مزيد يہ کہ اللہ تعاليٰ کا فرمان ہے: ‘‘ان کے مالوں ميں سے صدقہ حاصل کرو اور انھيں پاک کرو اور ان کے تقويٰ اور پرہيزگاري کو بڑھاؤ۔’’ اس ميں خذ (حاصل کرو) کا خطاب نبي صلي اللہ عليہ وسلم سے ہے بہ حيثيت سربراہ مملکت اور اس پر عمل خليفہ نے بہ حيثيت خليفۂ رسول کيا ہے۔ علما و فقہا نے تصريح کي ہے کہ ’خذ‘ کا اطلاق اوّلاً نبي کريم صلي اللہ عليہ وسلم پر تھا اور آپؐ کے بعد ہر شخص جو ملت کا ذمہ دار ہے يا وہ معتبر ادارہ جس پر ملت کا بھر پور اعتماد ہو۔

زکوٰة، اسلام کا تيسرا اہم ستون ہے، جس کے ذريعے اللہ تعاليٰ نے امت مسلمہ کے مالوں، حکومت اور معاشرے کي ذمہ داريوں ميں فقراء و مساکين کے حقوق کي ضمانت دي۔ آج ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈاليں تو الحمد للہ، کلمۂ شہادت کے تقاضوں پر عمل کرنے کے ليے محنت ہو رہي ہے، نماز کي اقامت اور اس کي ادائيگي کا اہتمام ہو رہا ہے، نہ صرف فرائض بلکہ نوافل ميں چاشت، اوابين، صلوٰة التسبيح اور تہجد پر زور ديا جا رہا ہے۔ رمضان کے روزے رکھنے، حتيٰ کہ شوال کے چھ روزے اور عاشورہ کا روزہ کي ترغيب دي جا رہي ہے۔ مالي عبادات ميں حج کا شوق کافي بڑھا ہے اور عمرہ کا بھي خوب اہتمام ہو رہا ہے، ليکن ايتائے زکوٰة جو پس ماندگي کو دور کرنے کے ليے دراصل اُمت کے فقراء و مساکين کا حق ہے، اس کي طرف توجہ کي کمي ہے۔ حال يہ ہے کہ زکوٰة کے اجتماعي نظم اور ان آٹھ مدات ميں جہاں اس رقم کو خرچ ہونا ہے، اس سے امت کا ايک بڑا طبقہ ناواقف ہے۔

چند سال پہلے بمبئي کے مؤقر ادارہ (AMP) نےملک گير سروے کرکے زکوٰة کي صورتِ حال معلوم کرنے کي کوشش تو چونکا دينے والے اعداد و شمار منظر عام پر آئے:

  • %30 مسلم مرد اور عورت کو معلوم ہي نہيں ہے کہ زکوٰة کيا ہے؟
  • 40% لوگوں کو اپنے مال اور اثاثہ ميں زکوٰة کا اندازہ کيسے کرنا ہے؟ معلوم نہيں ہے۔
  • 60% لوگ ايسے ہيں جو ہرسال  انہي افراد و ادارے اور خاندان کو زکوٰة ديتے آرہے ہيں جو برسوں سے زکوٰة کي رقم حاصل کرتے رہے ہيں۔
  • 70% افراد کي خواہش ہے کہ زکوٰة کا اجتماعي نظم قائم کرکے بہتر انداز سے اس کي تقسيم سارے ہي مدات ميں خرچ کي جائے۔

ہميں اس کي بھي معلومات حاصل کرنے کي ضرورت ہے کہ دنيا کے مختلف ممالک ميں اجتماعي نظمِ زکوٰة کس طرح کاميابي کے ساتھ چلايا جا رہا ہے؟ ملايشيا ميں غريبوں کو زکوٰة سے فائدہ اُٹھانے والوں کو دو حصوں ميں تقسيم کيا گيا ہے جنھيں ’پيدا واري غريب‘ (Productive Poor) اور ‘غير پيداواري غريب’( Non-Productive Poor) کا نام ديا گيا ہے۔ ’غير پيداواري غريب‘ سے مراد عمر رسيدہ، بوڑھے، اپاہج، دائم المريض وغيرہ ہوتے ہيں، جن کي آمدني کا کوئي ذريعہ نہيں ہوتا اور ان کي معاشي حالت خراب ہوتي ہے۔ ان کي مستقل اور مسلسل مدد کي جاتي ہے۔ ان پر زکوٰة کا ۲۰،۲۵ في صد صرف ہوتا ہے، البتہ باقي۷۵، ۸۰ في صد ‘پيداواري غريبوں’ پر خرچ کيا جاتا ہے۔

اس دوسرے گروپ ميں ايسے مرد و خواتين ہوتے ہيں، جو سرمايے کي کمي کي وجہ سے اپنا کاروبار نہيں کرسکتے۔ بعض ايسے ہيں جن کو اگر ہنر سکھايا جائے اور اس کے ليے مدد کي جائے تو اپنے پيروں پر کھڑے ہو سکتے ہيں۔ کچھ ايسے طبقے بھي ہوتے ہيں جنھيں مشين يا آلہ و اوزار فراہم کيے جائيں تو وہ خود کفيل ہو سکتے ہيں۔ ان کي مدد مسلسل اور مستقل نہيں کي جاتي ہے بلکہ ان کي درخواستوں اور ضرورتوں کے پيش نظر بڑي رقم يکمشت يا قسط وار زکوٰة کي رقم سے دي جاتي ہے ۔ اس طرح سرمايہ کاري کے فروغ کے ذريعے انھيں بہت جلد خودکفيل بنا کر ’مستحق‘ (زکوٰة لينے والے) کو ‘مزکي’(زکوٰة دينے والا) بنانے کي کوشش ہوتي ہے۔

جنوبي افريقا کے اجتماعي نظم زکوٰة کي تنظيم SANZAF کو دو اعليٰ تعليم يافتہ اور با صلاحيت خواتين فيروزہ محمد اور ياسمين فرانيک چلاتي ہيں اور اس ادارے ميں ۵۲ في صد کارکنان خواتين ہيں اور اس کي خدمات اور نظامِ کار کو دنيا کے مشہور کيمبرج انسٹي ٹيوٹ نے کھلے لفظوں ميں سراہا ہے، جو ہمارے ليے ايک نمونہ ہے۔

زکوٰة کے علاوہ زراعت کے ذريعے سے جو آمدني ہو سکتي ہے، اس کے بارے ميں عشر اور اس کو جمع کرکے اسے بھي صحيح طريقے سے مختلف مدات پر خرچ کرنے کي طرف مسلم عوام ميں بيداري پيدا کرنے کي کوشش کرني چاہيے۔

قرآن ميں پيغمبروں کي معاشي سرگرميوں کا ذکر

            حضرت شعيب ؑ مدين شہر کي قوم کي طرف رسول بنا کر بھيجے گئے۔ مدين تجارتي قافلوں کے سفر کے درميان ايک اہم تجارتي مرکز تھا۔ وہاں شعيب ؑ نے قوم سے کہا۔ اے ميري قوم، اللہ کي عبادت  کرو اور اس کے سوا تمہارا کوئي معبود نہيں اور تم ناپ تول ميں بھي کمي نہ کرو ۔ ميں تمہيں آسودہ حال ديکھ رہا ہوں اور تم پر گھرنے والے دن کے عذاب کا خوف بھي۔

            اے ميري قوم ، ناپ تو ل انصاف کے ساتھ پوري پوري کرو کہ لوگوں کو ان کي چيزيں کم نہ دو اور زمين ميں فساد اور خرابي نہ پھيلائو۔ اللہ کا حلال کيا ہوا اور جو بچ رہے ، وہ تمہارے لئے بہت ہي بہتر ہے ۔ اگر تم ايماندار ہو۔

            انہوں نے جواب ديا کہ اے شعيب کيا تيري صلوة ( نماز ) تجھے يہي حکم ديتي ہے کہ ہم اپنے باپ دادائوں کے معبودوں کو چھوڑ ديں اور ہم اپنے مالوں ميں جو کچھ چاہيں اس کا کرنا بھي چھوڑ يں  ( ھود 85-87)

            اللہ کي عبادت نماز اور ناپ تول ميں کمي بيشي کے درميان کيا تعلق ہے اس کو واضح کيا جارہا ہے۔ عبادات کو معاملات اور خاص طور پر مالي معاملات سے علاحدہ کرکے ديکھا نہيں جاسکتا ۔

            حضرت يوسفؑ کے واقعہ کو قرآن ’ احسن القصص ‘ قرار ديتا ہے اور تفصيل کے ساتھ بتاتا ہے کہ مصر ميں قحط کي وجہ سے پريشان حال قوم کے سامنے يوسف ؑ کي صلاحيتوں کا علم حاکم کو ہوا تو اس نے کہا :  اسے ميرے پاس لائو کہ ميں اسے اپنے خاص کاموں کے لئے مقرر کروں۔ پھر جب ا س سے بات چيت کي تو کہنے لگے کہ آپ ہمارے يہاں آج سے ذي عزت اور امانت دار ہيں ۔ يوسف ؑ نے کہا ، آپ مجھے ملک کے خزانوں پر مقرر کرديئے، ميں حفاظت کرنے والا اور باخبر ہوں ( اجعلني علي خزائن الارض ، اني حفيظ عظيم ) سي طرح ہم نے يوسف کو ملک کا قبضہ دے ديا ( و کذلک  مکنا لیوسف فی الارض )۔  يہ واقعات قرآن مجيد ميں ايک جليل القدر پيغمبر کے ملک کے Food Crisis کو کاميابي کے ساتھ حل کرنے ميں انبيائي مشن کو نماياں طور پر پيش کرتا ہے۔

            حضرت موسيؑ اور حضرت خضرؑ کا واقعہ سورہ کہف ميں تفصيل  کے ساتھ  بيان ہوا ہے جو قابل غور ہے۔ دونوں دوران سفر ايک گائوں پہنچے  اور وہاں اپنے لئے کھانا طلب کيا۔ انہوں نے ان دونوں کي مہمان نوازي سے صاف انکار کرديا۔ وہاں ايک گھر ميں ايک ديوار کو ديکھا  جو گرا چاہتي ہے ۔ ، اسے ٹھيک اور درست کيا۔ قصہ يہ تھا کہ اس ديوار کے نيچے ايک خزانہ (کنز) دفن تھا جسے ايک صالح باپ نے اپنے دو يتيم بچوں کو بڑے ہونے کے بعد اپني زندگي ميں استعمال کرنے کے لئے چھپا رکھا تھا۔ حضرت خضرؑ نے موسيؑ کو بتايا کہ يہ کام انہوں نے اللہ کا حکم سے کيا تھا ۔ اس کا مطلب يہ ہے کہ ايک بوڑھے باپ نے آئندہ کے لئے اپنے دو يتيم بچوں کي آئندہ کي بہتر زندگي کے لئے پوشيدہ رکھا تھا۔ قرآن کہتا ہے کہ وہ شخص صالح تھا اور يہ خزانہ اللہ کي نعمت تھي۔

                اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسا کہ اللہ کے رسول نے فرمایا :‘‘نعم المال الصالح للرجل الصالح ۔’’( اچھا مال اچھے انسان کے لئے اچھی چیز ہے: احمد)۔  اچھے مال کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ حضرت خضر جیسے جلیل القدر پیغمبر کو بھیجتا ہے اور حضرت موسی تک مال کے تعلق سے صحیح تصور اور اس کی حفاظت اور آئندہ کے استعمال کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

سورۂ قريش اور تجارت

عرب قوم ايک تجارت پيشہ قوم کي حيثيت سے مشہور تھي، سورئہ قريش ميں اس کي تفصيلات آتي ہيں۔ قريش مکہ سال ميں دو تجارتي سفر کرتے تھے، يعني موسم سرما ميں يمن کا سفر اور گرما ميں شام کا تجارتي سفر۔ قرآن نے سورۂ قريش ميں اس کا ذکر کيا ہے۔ انھي اسفار کي وجہ سے بنوہاشم اور خاندان قريش کو معاشي خوش حالي نصيب ہوئي اور ان کي ديني سيادت کو بھي تقويت ملي، جس کا ذکر مفتي تقي عثماني نے بھي کيا ہے۔

‘‘اللہ تعاليٰ نے تجارت کو حلال کيا اور سود کو حرام۔’’(البقرة۲۷۵)

تجارت کے بارے ميں سورۂ قريش ميں اس دور کي تجارتي سفر کي تفصيلات بتائي گئي ہيں۔ مدينہ آنے کے بعد اللہ کے رسول صلي اللہ عليہ وسلم نے يہوديوں کے معاشي استحصال اور احتکار کا مقابلہ کرنے کے ليے ’سوق المدينة‘ قائم کيا، جو سيرتِ رسولؐ کا ايک تاب ناک باب ہے۔ آپؐ نے ارشاد فرمايا: الجالب الٰي سوقنا کا لمجاھد في سبيل اللہ (مصنف ابن ابي شيبة، بلاذري) ‘‘و ہمارے اس بازار ميں مال لے کر آئے گا وہ اسي طرح کے اجر کا مستحق ہو گا جس طرح اللہ کي راہ ميں جہاد کرنے والا۔’’

نبي کريمﷺ کا معمول تھا کہ وہ مدينہ مارکيٹ کا جائزہ لينے کے ليے خود تشريف لے جاتے تھے۔ ايک بار آپؐ ايک تاجر کے پاس سے گزرے جو غلہ بيچ رہا تھا۔ آپؐنے غلہ کے اندر ہاتھ ڈالا۔ اندر کا حصہ گيلا تھا۔ آپؐ نے پوچھا: ‘يہ کيا ہے؟’اس نے کہا: حضور، بارش کي وجہ سے بھيگ گيا تھا۔ آپؐ نے فرمايا: ’پھر اسے اُوپر کيوں نہ رکھا؟ ‘اور ارشاد فرمايا: مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا (مسلم)‘‘جو دھوکا دے، وہ ہم ميں سے نہيں۔’’

مدينہ مارکيٹ ميں جہاں مردوں کا نام آتا ہے، وہاں خواتين کا بھي ذکر ہے۔ مثلاً اسماء بن محربہؓ، خولہ بنت صويبؓ، مليکہ ام سائب اور قبلہ النماريہ۔(ابن ماجہ، کتاب التجارة)

آج دنيا ايک گلوبل وليج بن چکا ہے اور تجارت و صنعت و حرفت نئے طرز اور جديد صورتوں ميں نماياں طور پر اُبھر رہا ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے بہتر مستقبل کے ليے ضروري ہے کہ مسلمان سرمايہ کار سرمايہ کاري اور تجارت کے فروغ کي طرف متوجہ ہوں۔ آج دنيا کي ترقي کا مدار قدرتي وسائل کي کثرت پر ہي نہيں بلکہ انسان کي فکر،(Creativity)کاروباري و فني ندرت (Business and Technical skills)، ہنرمندي (Skill Development) اور کاروباري ندرت (Entrepreneurship)پر منحصر ہے۔ اس ضمن ميں نبي اکرم ﷺکے مدينہ مارکيٹ کے قيام سے معاشرے کي خوشحالي کے ليے تجارت کے ليے اہم اقدام اُس دور ميں کيے گئے اور آج ہم کيا کر سکتے ہيں، اس کي طرف ملتِ اسلاميہ کو متوجہ کرايا جانا چاہيے۔

آپؐ کے فرمان: تِسْعَۃُ اَعْشَارِ الرِّزْقِ فِی التِّجَارَۃ (سلسلة الاحاديث الضعيفة الالباني، ص۲۴۳۴) ’’رزق کے دس حصوں ميں سے نوتجارت ميں ہيں‘‘ اور مَنْ صَنَعَ مِنْکُمْ شَیْئًا فَلْیُحْسِنُہُ  (تم جو چيز بھي تيار کرو، وہ بہترين ہو اور دوسري اشياء سے ممتاز ہو) سے امت مسلمہ نے دنيا بھر ميں تجارت کو فروغ ديا۔ عشرۂ مبشرہ ميں سے چار اصحاب: حضرت عثمانؓ، حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ، حضرت زبير بن العوامؓ اور حضرت طلحہ بن عبيد اللہ ؓ جہاں ايک طرف ميدانِ جنگ کے مجاہد تھے تو دوسري طرف کاروباري دنيا کے نامور ستارے تھے۔ وہ آج کے ارب پتيوں سے زيادہ صاحبِ ثروت تھے۔ واقعہ يہ ہے کہ  صحابہ کرامؓ تجارت ميں حصہ ہي نہيں ليتے تھے، بلکہ انھوں نے تجارت کو نئے انداز ميں اور بڑے پيمانے پر منظم کرکے بين الاقوامي سطح پر فروغ ديا۔ ان کي کارپوريٹ تجارت کے نتيجے ميں بڑے پيمانے پر مسلمان تاجر دنيا بھر ميں پھيل گئے۔ وہاں انھوں نے اسلام کي تبليغ بھي کي اور رزق حلال کے طريقے دنيا کو سکھائے اور معاشي ترقي ميں بھي بھر پور حصہ ليا۔

            مفتي تقي عثماني لکھتے ہيں: ‘‘عرب کا ہر قبيلہ ايک مستقل جوائنٹ اسٹاک کمپني ہوتا تھا۔ اسي ليے ہر قبيلے ميں تجارت کا طريقہ يہ تھا کہ قبيلے کے تمام افراد روپے دو روپے کي ايک جگہ جمع کرتے اور وہ رقم ملک شام بھيج کر وہاں سے سامانِ تجارت منگواتے۔ چنانچہ سورة قريش ميں سرديوں ميں يمن کي طرف اور گرميوں ميں شام کي طرف سفر تجارت کا جو ذکر ہے، وہ اسي قسم کے قافلے ہوا کرتے تھے۔ (سود اور اس کا متبادل۔امريکہ ميں ايک تقرير، رسالہ فرقان)

اسلامي بنکاري اور بلاسود سرمايہ کاري

آج کي دنيا ميں سنجيدگي کے ساتھ اسلامک بنکنگ اور بلا سودي سرمايہ کاري پر غور کيا جارہا ہے۔ ۲۰۰۸ء ميں امريکا ميں حاشيہ پر زندگي گزارنے والے غريب عوام کے مکانوں کے ليے قرض اور پھر ان کي رہن سہن کي ادائيگي ميں ناکامي کے پيچيدہ عمل نے بڑے بڑے مالي اداروں اور جديد بنکوں کو ديواليہ کے دہانے پر کھڑا کر ديا۔ اس بحران نے ايک طرف جديد معاشي و مالياتي نظام کے منفي اثرات اور مضر نتائج کو دنيا کے سامنے اُبھارکر پيش کيا اور دوسري طرف اس نے اسلام کے نظام معيشت  و ماليات کي طرف پوري دنيا کو سنجيدگي کے ساتھ غور کرنے اور اس پر عمل کرنے کا داعيہ پيدا کيا ہے۔

جديد سرمايہ کاري جو سود اور سٹہ بازي پر مشتمل آزادانہ معيشت کي بنيادوں پر قائم ہے۔ اس کے پيش نظر پيداوار کي ان اقسام کو بڑھانا ہوتا ہے جس سے زيادہ سے زيادہ نفع حاصل کيا جائے۔  اس کے مقابلے ميں اسلامي معيشت و بنکنگ کا بلا سودي نظام نفع کو بھي پيش نظر رکھتا ہے، ليکن اس کے ساتھ حقيقي پيداوار (Real Economy Growth) کو اہميت ديتا ہے اور انساني اور اخلاقي قدروں کا پاس و لحاظ رکھتا ہے جس کے نتيجے ميں مالياتي کساد بازاري (Financial Meltdown)  اور بحراني کيفيت سے بڑي حد تک نہ صرف غير متاثر رہا، بلکہ اس کي شرحِ نمو پندرہ في صد سے بھي زيادہ ہے۔ اب صورتِ حال يہ ہے کہ نہ صرف مسلم ممالک بلکہ ترقي يافتہ، صنعتي اور سيکولر ممالک نے بھي اپنے سرمايہ اور بنکاري قوانين ميں تبديلي يا ترميم کرکے اس کا عملي تجربہ شروع کر ديا ہے اور الحمد للہ بلاسودي اسلامي معيشت و ماليات پوري دنيا ميں ايک متبادل کي حيثيت سے اُبھر رہا ہے۔لندن،پيرس، نيويارک، ہانگ کانگ اور سوئٹزر لينڈ اسلامي ماليات و بنکاري کے مراکز بن رہے ہيں۔

            الحمد للہ انڈين سنٹر  فار اسلامک فائنانس(ICIF)نئي دہلي نے جو ۲۰۰۸ء مںک ہوا ہے، مرکزي وزرات خزانہ اور ريزرک بنکا آف انڈيا سے تبادلہ خا ل کرکے اور مروجہ رواييل بنکو ں مںک بلا سودي دريچوں (Intrest-free Windows) کے قائم کرنے کا تفصيال منصوبہ پشا کر ديا ہے۔ اب سااسي فصلہ  مرکزي حکومت کو کرنا ہے۔ اس کے لےم عوامي بدواري اور اس کے تمام انسانوں کے لے  يکساں نفع بخش ہونا اور ملک کے شان دار معاشي مستقبل کے لےي ضروري ہونے کي طرف مہم چلانے کي ضرورت اور رب کائنات سے اس کے اجرا کے لے  خصوصي استعانت بھي۔

تقسيم دولت اور تصريف دولت

اسلامي نظام معيشت کا ايک اہم اصول يہ ہے کہ وہ دولت کي مادي (Equal) تقسيم کے بجائے منصفانہ (Equitable) تقسيم چاہتا ہے اور معاشرے کے محروم طبقہ کا خاص خيال رکھتا ہے۔ اہلِ ايمان کي صفات کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعاليٰ کا ارشاد ہے:

ان کے مالوں ميں حق ہے مانگنے والوں اور معاشي زندگي سے پيچھے رہ جانے والوں کا۔(الذاريات۵۱)

جن کے مال ميں حصہ مقرر ہے سائل اور محروم کا۔( المعارج: ۲۴-۲۵)

جو خرچ کرتے ہيں تو نہ فضول خرچ کرتے ہيں نہ بخل بلکہ ان کا خرچ ان دونوں انتہاؤں کے درميان ہوتا ہے۔(الفرقان۲۵:۶۷)

اس سلسلے ميں مسلم سوسائٹي ميں شاديوں ميں جس طرح اسراف اور فضول خرچي ہوتي ہے اس پر سنجيدگي کے ساتھ غور کر کے اسے سادہ اور سنت کے مطابق ادا کرنے کي ضرورت ہے۔ معاشرے ميں ہم نے اپنے آپ پر دوسرے معاشروں کي پيروي ميں بندشيں باندھ لي ہيں اور بوجھ لاد ليا ہے، جو قابلِ مذمت بھي ہے اور اس کي اصلاح کي شديد ضرورت ہے۔

اس دنيا ميں تمام ممالک کے سماجي، معاشي اور ماحولياتي تحفظ و ترقي کے اجزا مشترک ہيں، جن کے ذريعے غربت کا مکمل خاتمہ، صحت مند انساني زندگي، غربت و افلاس سے آزادي، صاف پاني کي فراہمي اور توانائي کي دستيابي ہو سکے گي۔

دنيا کے مسلم ممالک، انڈونيشيا، ملايشيا، ترکي اور سعودي عرب نے اقوام متحدہ کي ذيلي تنظيم UNDP کے ساتھ مل کر ايک دستاويز تيار کي ہے کہ وہ کس طرح زکوٰة اور اسلامي بنکاري کے ذريعے اس تاريخي SDG کے اہداف کي تکميل کے ليے مل جل کر کام کريں گے۔

لمحۂ  فکريہ

معروف اسلامي اسکالر اور بين الاقوامي انعام يافتہ ماہر معاشيات ڈاکٹر نجات اللہ صديقي کي يہ بات خصوصي توجہ کي طالب ہے جو دولت کي پيدايش (Creation of Wealth) کے بارے ميں کہي ہے:‘‘تعجب کي بات يہ ہے کہ کوئي ايسي تحريک نہيں چلي جس نے عام مسلمانوں کو للکارا ہو کہ محنت کرو، دولت پيدا کرو، کماؤ اور اپني کمائي کا ايک حصہ بچا کر نفع آور اور سرمايہ کاري کے ذريعے اپني آمدني اور دولت ميں اضافے کي کوشش کرو۔

ايسي تحريک نہيں ملتي جس نے افراد کے مجموعوں يا پوري ملت کو معاشي قوت کي اہميت جيسا کہ معاشي طور پر طاقت ور بننے کي خاطر بيش از بيش وسائل حاصل کرنے کي دعوت دي ہو۔ عرصۂ دراز سے مسلمانوں کے ديني ادب ميں معاشي جد وجہد اور معاشي قوت کے حصول کا چرچا کم ہي ملتا ہے۔ شايد اس کا اثر ہے کہ بيسوي صدي ميں جب مغرب کے سرمايہ دارانہ معاشي نظام اور اشتراکي نظام کو رَد کرتے ہوئے ان کے بالمقابل اسلامي دانش وروں اور اسلامي تحريکوں نے اسلام کا عادلانہ معاشي نظام کو پيش کرنا شروع کيا تو اس کي تشريح و تعبير ميں زيادہ زور تقسيمِ دولت پر رہا ہے۔’’(معاش، اسلام اور مسلمان:ص ۳۶)

وقت آگيا ہے کہ منصفانہ تقسيم دولت کے ساتھ ساتھ بلکہ اس سے بھي پہلے سرمايہ کاري اور پيدايش دولت کے ليے ايک طاقت ور ملک گير تحريک چلائي جائے تاکہ امت مسلمہ معاشي طور پر مضبوط ہو اور دُنيا کو کچھ دينے والي بن سکے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا