قرآن میں تحریف کی کوشش ناقابل قبول

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

          بھارت میں پچھلے چند برسوں سے مسلمانوں کو بہت زیادہ بدنام کرنے کے ساتھ ساتھ اُن پر زمین تنگ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ مذہب اسلام اور قرآن پاک کے بارے میں بھی نازیبا الفاظ کہے جارہے ہیں۔ چند ہفتوں پہلے ایک ملعون وسیم رضوی نے سپریم کورٹ سے درخواست کی تھی کہ قرآن پاک سے (نعوذباللہ) چھبیس 26آیات نکال دی جائیں کیوں کہ وہ دہشت گردی کو فروغ دیتی ہیں۔ کورٹ نے اُس کی درخواست کو مسترد کردیا تو اُس بدبخت ملعون نے اپنے لیے جہنم میں جانے کا ایک اور راستہ نکال لیا۔ اُس نے ایسا نسخہ بنایا جس میں چھبیس 26آیات نہیں ہیں اور اُس کا ارادہ ہے کہ ایسے نسخے کو مارکیٹ میں لایا جائے اور اسی کو مدارس میں بچوں کو پڑھایا جائے۔ اِس سلسلے میں لکھنؤ رضا اکیڈمی کے سربراہ مولانا الحاج سعید نوری کی قیادت میں 21جون کو ایک وفد نے لکھنؤ پولیس کمشنر سے ملاقات کرکے ملعون وسیم رضوی کی طرف سے ہورہی زہر افشانی کی حساسیت سے واقف کرایا۔ ملاقات کے دوران رضا اکیڈمی کے سربراہ مولانا الحاج سعید نوری نے کہا کہ وسیم رضوی نے قرآن پاک کے خلاف جو پروپگنڈہ چھیڑ رکھا ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔ اُس نے قرآن پاک کی چھبیس 26آیات کو ہٹا کر جو نسخہ تیار کیا ہے ہم اُس کی مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وسیم رضوی چاہتا ہے اُس کے ذریعے تیار کیا گیا نسخہ مارکیٹ میں لایا جائے۔ اُس کے اِس عمل سے مسلمانوں میں سخت بے چینی اور اضطراب کا ماحول ہے۔ اِس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وسیم رضوی کے ذریعہ تیارکردہ نسخوں کو فوری طور پر ضبط کرکے اُس کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔ مولانا شہاب الدین رضوی جنرل سکریٹری تنظیم علماء اسلام بریلی شریف نے کہا کہ مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام، امہات المومنین اور قرآن پاک کے خلاف ایک لفظ برداشت نہیں کرسکتا۔ مسلمان اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام اور قرآن پاک کے لیے مرمٹے گا۔

          قرآن پاک وہ آسمانی کتاب ہے کہ اگر کوئی شخص کھلے ذہن سے اور حق کی تلاش میں اِس کو سمجھنے کی کوشش کرے گا تو آخر میں بے ساختہ یہی پکار اُٹھے گا کہ یہی حق کتاب ہے اور یہ پوری دنیا کے لیے ہدایت ہے اور یہ اللہ رب العالمین کی کتاب ہے جس نے ہر شئے کی تخلیق کی ہے۔ اِس کا ایک بہت بڑا ثبوت ’’ڈاکٹر گیری ملر‘‘ ہے۔ ڈاکٹر گیری ملر (Gary Miller) کینڈا کے ریاضی دان اور ایک پرجوش عیسائی مشنری تھے۔ ریاضی کے ذریعے کسی بھی چیز کا منطقی یا غیر منطقی ہونا ثابت کیا جاسکتاہے اس کو دیکھتے ہوئے انہوں نے قرآن مجید میں خامی ڈھونڈی شروع کی۔ اُن کا مقصد یہ تھا کہ اس سے عیسائیت کی تبلیغ میں مدد ملے گی لیکن جب انہوں نے قرآن مجید پر تحقیق کی تو نتائج بالکل برعکس نکلے۔ ’’گیری ملر‘‘ قرآن مجید میں کوئی بھی خامی ڈھونڈنے میں ناکام رہے اور بالاخرقرآنی تعلیمات سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا اور عیسائیت کی بجائے اسلام کے مبلغ بن گئے۔ ان کے مختلف لیکچرز مختلف سائیٹس پر موجود ہیں۔ اسلام قبول کرنے کے بعد ’’گیری ملر‘‘ نے اسلام کی تبلیغ شروع کردی اور قرآن پاک کی حقانیت پر لکھنے لگے۔ انکی قرآن پر تحریر مختلف زاویوں سے قرآن کا تحقیقی انداز میں جائزہ لیتی، فکر و نظر کے متعدد نئے دریچے وا کرتی ہے۔ اس میں جابجا قرآن کو پرکھنے، اسکی کی صحت و صداقت کو جانچنے کے مختلف جدیدطریقوں پر بات کی گئی ہے اور انکو استعمال میں لاتے ہوئے قدیم و جدید مخالفین قرآن کے تاریخی و سائنسی اعتراضات کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر گیری نے اسلام قبول کرنے سے پہلے قرآن پاک کا جس انداز میں جائزہ لیا۔ انہیں قرآن میں جو انفرادیت نظر آئی اس پر انہوں نے تفصیل سے بات کی ہے۔ یہ تفصیل قرآن کی ان خصوصیات کو واضح کرتی ہے جو اسے باقی کتابوں سے جدا کرتیں اور اسکے الہامی ہونے کو ثابت کرتی ہیں۔

          ملعون وسیم رضوی قرآن پاک میں تحریف کرنے کی کوشش کررہا ہے جبکہ قرآن پاک تمام عالم، تمام زمانوں اور تمام لوگوں کے لیے کتاب ہدایت ہے اور ہر طرح مکمل اور ناقابل تحریف کتاب ہے۔ اس بات کا اعتراف صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ غیرمسلم حضرات حتیٰ کہ اسلام کے کھلے دشمن بھی کرتے ہیں۔ عموماً اس کتاب کو پہلی با ر باریکی سے مطالعہ کرنے والوں کو اس وقت گہرا تعجب ہوتا ہے جب ان پر منکشف ہوتا ہے کہ یہ کتاب فی الحقیقت ان کے تمام سابقہ مفروضات اور توقعات کے برعکس ہے۔ یہ لوگ فرض کیے ہوتے ہیں کہ چونکہ یہ کتاب چودہ صدی قبل کے عربی صحراء کی ہے اس لیے لازماً اس کا علمی اور ادبی معیار کسی صحراء میں لکھی گئی قدیم، مبہم اور ناقابلِ فہم تحریر کا سا ہوگا۔ لیکن اس کتاب کو اپنی توقعات کے خلاف پاکر ان کو گہرا تعجب ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کے پہلے سے تیار مفروضہ کے مطابق ایسی کتاب کے تمام موضوعات اور مضامین کا بنیادی خیال یا عمود صحراء اور اس کی مختلف تفصیلات مثلاً صحرائی مناظر کی منظر کشی، صحرائی نباتات کا بیان، صحرائی جانوروں کی خصوصیات وغیرہ ہو نا چاہیے۔ لیکن قرآن اس باب میں بھی مستثنیٰ ہے۔ یقیناً قرآن میں بعض مواقع پر صحرا ء اور اس کے مختلف حالات سے تعرض کیا گیا ہے لیکن اس سے زیادہ بار اس میں سمندر کی مختلف حالتوں کا تذکرہ وارد ہوا ہے۔ خاص طور سے اس وقت جب سمندرآندھی، طوفان، بھنور وغیرہ اپنی ساری تباہ کاریوں کے ساتھ جلوہ نما ہوتا ہے۔

          اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب قرآن پاک کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے ملعون وسیم رضوی نے اِس میں کمی کرنے کی مانگ سپریم کورٹ سے کی تھی۔ سپریم کورٹ نے اُس کی درخواست کو اُس منہ پر مارتے ہوئے اُس پر جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔ اُس بدبخت نے قرآن پاک میں نہیں بلکہ  اپنے خالق، مالک اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کی ہے۔ قرآن پاک تو وہ کتاب ہے کہ جس میں کمی بیشی کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔ عام طور پر کسی قدیم تاریخی کتاب کا مطالعہ کرنے والا اس بات کی بجا طور پر توقع رکھتا ہے کہ اس کے مضامین و فرمودات کے ذریعہ وہ اس زمانے کی صحتِ عامہ اور متداول طریقہ ہائے علاج کے متعلق کافی معلومات اکٹھا کر سکے گا۔ دوسری تاریخی کتابوں مثلاً بائبل، وید، اوستھا وغیرہ میں واقعی ایسا ہے بھی لیکن قرآن یہاں بھی یکتا ومنفرد ہے۔ یہ بات ہر انسان کو جان لینا چاہیے کہ قرآن اللہ کی وحی ہے۔ اس لیے اس میں وارد تمام معلومات کا سرچشمہ بھی وہی ذاتِ برحق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کو اپنے پاس سے وحی کیا اور یہ اُس کلامِ الٰہی میں سے ہے جو تخلیقِ کائنات سے پہلے بھی موجود تھا۔ اس لیے اس میں کوئی اضافہ، کمی اور تبدیلی ممکن نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات و نصائح کے وقوع پذیر ہونے سے بہت پہلے وجود میں آ کر مکمل ہو چکاتھا۔

           اہلِ علم کے درمیان زریں اصول یہ ہے:’’اگر تمہارے پاس صرف کوئی تھیوری ہے تو براہِ مہربانی اسے سمجھانے میں ہمارا وقت ضائع نہ کرو۔ البتہ اگر تمہارے پاس اس تھیوری کی صحت و عدمِ صحت کو ثابت کرنے کا کوئی عملی طریقہ موجود ہے تو ہم سننے کے لیے تیار ہیں۔ ‘‘ قرآن پاک اپنی حقانیت کے ثبوت میں انسانوں کے سامنے اِسی نوعیت کا ’’معیارِ تفتیش‘‘ پیش کرتا ہے۔ اس معیار کی روشنی میں قرآن کے بعض حقائق نے ماضی میں اپنی صحت کا لوہا منوایا ہے اور اس میں کچھ حقائق ابھی زمانے سے اپنی تصدیق کے منتظر ہیں۔ قرآن اس بات کی صراحت کرتا ہے کہ ’’اگر یہ کتاب اپنے کلامِ الٰہی ہونے کے دعوے میں جھوٹی ہے تو تم فلاں طریقے سے اسے غلط ثابت کر کے دکھاؤ۔ ‘‘ حیرتناک بات یہ ہے کہ چودہ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی آج تک کسی نے اس کے دعوے کے مطابق اس کے تجویز کردہ طریقے سے اسے باطل ثابت نہیں کیا۔ یہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ مخالفین کی ہزار جز بز کے باوجود یہ کتاب اپنے دعوے میں صد فیصد سچی اور قابلِ اعتماد ہے۔ قرآن اپنے مخاطبوں کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ آؤ اور مجھ کو غلط ثابت کر کے دکھاؤ۔

           قرآن جہاں کہیں بھی اپنی معلومات پیش کرتا ہے وہ بیشتر اوقات اپنے قاری سے تاکید کرتا جاتا ہے کہ ان باتوں کو اس سے پہلے تم نہیں جانتے تھے۔ واقعہ یہ ہے کہ دنیا میں آج کوئی ایسی مقدس کتاب موجود نہیں ہے جواس طرح کی صراحت کرتی ہو۔ مثال کے طور پر عہد نامہ قدیم (Old Testament)میں بہت سی ایسی تاریخی معلومات ملتی ہیں کہ فلاں بادشاہ کا زمانہ یہ تھا اور اس نے فلاں بادشاہ سے جنگ کی تھی یا فلاں فلاں بادشاہ کے اتنے اور اتنے بیٹے تھے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیشہ یہ شرط بھی ملتی ہے کہ اگر تمہیں مزید معلومات درکار ہیں تو فلاں فلاں کتاب سے رجوع کرو۔ یعنی سابق الذکر معلومات کا مصدر کچھ کتابیں ہیں جن کی طرف بہ وقتِ ضرورت رجوع کیا جا سکتا ہے لیکن قرآن کا معاملہ اس کے بالکل بر عکس ہے۔ وہ اپنے پڑھنے والے کو معلومات فراہم کرتے ہوئے صراحت کر دیتا ہے کہ یہ باتیں اپنے آپ میں تمہارے لیے نئی ہیں اور کسی خارجی مصدر سے نہیں لی گئی ہیں۔ اور قرآن کی یہ نصیحت تو برقرار رہتی ہی ہے کہ اس دعوی پر شک کرنے والے اگر چاہیں تو بحث و تحقیق کر کے اس کو غلط ثابت کر نے کی کوشش کر لیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ چودہ صدیوں کے طویل عرصہ میں کوئی ایک شخص بھی اس دعوے کو چیلنج نہیں کر سکا۔ حتیّٰ کہ کفار مکہ جو اسلام دشمنی میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں رکھتے تھے وہ بھی قرآن کے اس دعوے کی تردید نہ کر سکے۔ کوئی ایک شخص بھی یہ دعویٰ نہ کر سکا کہ قرآن کی مبینہ معلومات ’’سیکنڈ ہینڈ‘‘ ہیں۔

          قرآن حکیم کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ غیر متوقع طور پر رونما ہونے والے حادثات کو بھی الگ اور انوکھے انداز میں پیش کرتا ہے۔ یہ حوادث صرف زمانہ ماضی پر موقوف نہیں ہوتے بلکہ ان میں سے اکثر دراز ہوتے ہوتے ہمارے عہد سے بھی متعلق ہو جاتے ہیں۔ بالفاظ دیگر قرآن حکیم اپنے منکرین کے لیے جس طرح کل ایک محیرالعقول مسئلہ بنا ہوا تھا اْسی طرح آج بھی ہے۔ قرآن حکیم ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اپنی تائید میں دلائل کا اضافہ کرتا جاتا ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ قرآن حکیم آج بھی وہ حیرت انگیز طاقت ہے جس کے ساتھ آسانی سے لوہا نہیں لیا جا سکتا۔ مرتد و ملعون وسیم رضوی پچھلے کئی برسوں سے لگاتار امہات المومنین اور صحابہ کرام کے خلاف زہر افشانی کرتا آرہا ہے اور اب یہ حالت ہوگئی ہے کہ وہ قرآن پاک میں تحریف کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اگر اسے نہیں روکا گیا تو مسلمانوں بے چینی کی لہر دوڑ جائے گی اور مسلمان سڑکوں پر اُتر کر آئین ہند کے دائرہ میں رہ کر احتجاج کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ اس ملعون پر سپریم کورٹ نے سخت پھٹکار لگاتے ہوئے جرمانہ بھی عائد کیا تھا اِس کے باوجود وہ اِسی مسئلہ کو لیکر یہ زہر اگل رہا ہے۔ ملعون وسیم رضوی ایک طرف جہاں اسلام کے خلاف زہر اُگل رہا ہے وہیں وہ سپریم کورٹ کی بھی توہین کررہا ہے۔ اِس لیے اس ملعون کو فوراً گرفتار کیا جائے اور ایسی سزا دی جائے کہ آئندہ وہ ایسی کوئی قبیح حرکت نہ کرے۔

٭…٭…٭

تبصرے بند ہیں۔