قلت تغذیہ کوترقی کی راہ  کا روڑا نہ بنایا جائے

حکیم نازش احتشام اعظمی

غذائی قلت یعنی مل نٹریشن سے نجات حاصل کرنے کیلئے مناسب غذاء کی فراہمی، طبی سہولیات اور حفظان صحت کے اصولوں پرعمل کرنے کویقینی بنا نا جتنا ضروری ہے، اس سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ صحت عامہ کے تئیں عوام الناس میں بیداری لائی جائے اور اس کے لئے جتنی ذمہ داری حکومتوں کی ہے، اتنی ہی ذمہ داری معاشرے کے باشعوراوربیدار لوگوں کی بھی ہے۔مگرہمارے ملک کے با شعور طبقہ کا المیہ یہ ہے کہ ہم لوگ اپنی زندگی کی بقا کیلئے جدو جہد کرنے والے معاشرے میں حاشیہ پر جاچکی قوم کی خوش حالی کی ساری ذمہ حکومت پر ڈال کر یہ باور کرلیتے ہیں کہ ہم نے ایک وفاداراورانسانیت دوست شہری ہونے کا سارا فریضہ ادا کردیا ہے۔افسوس کی بات یہ ہے حکومتوں میں حزب اختلاف کا رول ادا کرنے والی سیاسی جماعتیں بھی اس معاملے میں انسانیت کے ساتھ ہمدردی وخیر خواہی جیسا کچھ کرنے کو تیار نظر نہیں آ تیں ،بلکہ بے بس و بے سہا را عوام کی حالت زار پر حکومت کو کوس کر یہ سمجھ لیتی ہیں کہ انہوں نے اپوزیشن ہونے کی ساری ذمہ داری ادا کردی ہے۔اسے عام لفظوں یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ حزب اختلاف نے غربت و افلاس سے دو چاراور حکومت کی جانب سے نظراندازکئے جارہے ہندوستانیوں کی حالت زار پر ہمیشہ سیاست ہی کی ہے۔

بہرحال یہ بات قطعی طور پر فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ غذائی قلت سے نجات پائے بغیر صحت مند ہندوستان کا ہماراخواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔آج کے نونہال ہی کل نوجوان ہوں گے اور قوم کی ترقی و تحفظ کی ذمہ داری ان کے ہی کندھوں پرآنے والی ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ وہ جسمانی اورذہنی ہرسطح پر صحت مند اورطاقتور ہوں۔ بچوں کو جسمانی اورذہنی سطح پر صحت مند اورطاقتور رکھنے کے لئے بنیادی ضرورت یہ ہے کہ ماؤں کے پیٹ میں پل رہے بچے سے لے کر تقریبا تین چار سال کی عمر تک ان کی پرورش وپرداخت طبی اصول و ضوابط کے مطابق کی جانی چاہئے۔انتہائی نگہداشت اورپرورش کے اس نازک دور میںاگر ان کے خوردو نوش کے تئیں ذرا بھی لاپرواہی ہوئی تو وہ غذائی قلت(malnutrition) کا شکار ہو جاتے ہیں۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ ترقی پسند ملک کی صف میں کھڑاہونے کا دعویٰ کرنے والا ہمارا ہندوستان قلت تغذیہ کے معاملے میں انتہائی بھیانک صورت حال کی جانب گرتا جارہا ہے،جبکہ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ ہر لمحہ ہمارا ملک ترقی اورعروج کی جانب سرپٹ دوڑ رہا ہے۔مگر جب ہم اس سچائی سے روبرو ہوتے ہیں کہ اس وقت ہندوستان کے5برس سے کم عمر کے 40فیصد بچے حیرتناک حد تکطبعی وزن سے کافی نیچے ہیں اورغذائی قلت کے نتیجے میں ہر سال10لاکھ بچے موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔علاوہ ازیں72فیصدشیرخوار بچے اور52فیصد شادی شدہ خواتین انیمیا(قلۃ الدم) کی شکار ہیں۔2015میں شائع ہونے والی گلوبل ہنگرانڈیکس کی جنوب ایشیا میں ہندوستان کے اندرانیمیا(anemia)اور نقص تغذیہ کی رپورٹ دیکھ کر یقین نہیں آ تا کہ ہمارے وطن میںغربت وافلاس کے خاتمہ کیلئے کاغذوں سے اوپرحقیقی معنی عملی طور پرایمانداری کے ساتھ کچھ کیا جارہا ہے۔عالمی منظر نامہ پرغذائی قلت کا مسئلہ آج ایسی بھیانک شکل اختیار کر چکا ہے کہ عالمی بینک نے اس کا موازنہ ’بلیک ڈیتھ‘ نامی اس وبا سے کی ہے جس نے اٹھارہویں صدی میں یورپ کی ایک بڑی آبادی کو تباہ و بربادکر دیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ اسی سال ماہ جون کے اواخر میںدورۂ ہند پر آئے عالمی بینک کے صدر جم یونگ کم نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد تمام معاملات کے درمیان یہ اہم بات بھی کہی کہ وہ وزیر اعظم مودی کی جانب سے غذائی قلت کے مسئلہ کو حل کرنے میں ہاتھ بٹانے کی درخواست قبول کرلی ہے اور عالمی بینک ہندوستان کونقص تغذیہ سے نمٹنے میں مکمل تعاون دینے کے لیے تیارہے۔ ظاہر ہے کہ جنوب ایشیا کے اہم ملک ہندوستان میں غذائی قلت کی صورت حال کو لے کر عالمی بینک کی اپنی تشویش ہے ،جسے حل کرنے کو وہ اپنا اخلاقی فریضہ سمجھتا ہے۔عالمی بنک نے ہندوستان میں بھیانک رخ اختیار کرچکے غذائی قلت (malnutrition)پرپہلے بھی کئی بارتشویش ظاہرکی ہے اوراس کی جانب سے وقفہ وقفہ سیہندوستان کو اس مسئلہ سے نمٹنے کیلئے تعاون بھی ملتا رہا ہے۔اس کے باوجود آج تک ہندوستان غذائی قلت کے تباہ کن حالات سے باہر نہیں نکل سکا ہے۔عالمی بینک کے تعاون کو جاننے والے لوگ یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیںکہ جب ہماری حکومتیں بھی سنجیدہ ہیں اورنقص تغذیہ کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے عالمی بینک سے فنڈبھی ملتا رہا ہے ،اس کے بعد بھی حالات بہتر کیوں نہیں ہوسکے؟جب مسئلہ جوں کاتوں سوال بن کر ہمارے سامنے منہ پھاڑے کھڑا ہی رہا اورحالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے تو وہ رقم کہاں گئی جو اس مصرف کیلئے مختص کی گئی تھی؟
اتناسب کچھ ہونے کے باوجودحالات میں کوئی بہتری نہیں آئی،بلکہ غور کریں تو بچوں کی صحت و غذائیت کے معاملے میں صورت حال اور بھی زیادہ سنگین ہوتی چلی گئی۔2016 کے اوائل میں آنے والی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں ہر سال پانچ سال سے کم عمر کے تقریبا اکیس لاکھ بچے مناسب غذائیت اور صحت کی سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے موت کے بے رحم پنجہ میں چلے جاتے ہیں۔ اس سال کے آغاز میں آئی قومی خاندانی بہبودو صحت سروے کی ایک رپورٹ (جس میں ملک کی پندرہ ریاستوں کو شامل کیا گیا تھا) کے مطابق پندرہ میں سے سات ریاستوں میں پانچ سال سے کم عمر کے نصف سے زائد بچے کسی نہ کسی قسم کی غذائی قلت کے شکار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جن پندرہ ریاستوں میں سروے کیا گیا تھا، ان میں سے سات ریاستوں میں پانچ سال سے کم عمر کے نصف بچے قد میں چھوٹے ہیں، یعنی ان کی فطری افزائش میں نہایت کم اضافہ ہوا ہے۔ ان ریاستوںمیں بہار سب سے آگے ہے (48.3 فیصد)، اس کے بعد مدھیہ پردیش اور میگھالیہ ہیں (چالیس فیصد سے زیادہ)، جبکہ کم اضافہ والے بچے جن ریاستوں میں تیس فیصد سے زیادہ ہیں ان میں ہریانہ (34 فیصد)، اتراکھنڈ (33.5 فیصد) اور مغربی بنگال (32.5 فیصد) شامل ہیں۔سروے میں بچوں میں غذائی قلت پر تین قسم کے اعداد و شمارجمع کئے گئے ہیں۔ چھوٹا قد، کمزوری اور وزن کی کمی (عمر کے مطابق کم وزن)۔ سروے کے مطابق ہریانہ میں کمزور بچوں کی تعداد 2005 میں 19.1 فیصد تھی جو بڑھ کر 2015-16 میں 19.5 فیصد ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایک دوسری رپورٹ کے مطابق دنیا کی تیسری سب سے تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت ہونے کے باوجود صحت اور غذائیت کے معاملے میں ہندوستان کی حالت نیپال، سری لنکا جیسے ممالک سے بھی بدتر ہے۔ واضح رہے کہ یہ ممالک ہندوستان سے کئی طرح کی مدد حاصل کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہیں ۔ ایسے میں اگر ہندوستان میں بچوں کی صحت سے متعلق حالات ان ممالک سے بھی بدتر ہے تو اسے ہمارے ملک کیلئے انتہائی شرمناک صورتحال کہا جائے گا۔اسی سال ماہ جنوری میںپاتھ پروگرام لیڈر ڈاکٹر سائرل اینگ مان نے اس بات کی اطلاع دی تھی کہ گزشتہ 25 برسوں میں پانچ سال کی عمر کے اندر گروپ کے بچوں کی شرح اموات میں نصف درجہ تک کمی درج کی گئی ہے۔ یعنی ایک ہزار میں سے 112 اموات کے مقابلے فی ایک ہزار 47 اموات تک کی کمی آئی ہے۔ یعنی اس اموات کی شرح میں نصف فیصد کمی آئی ہے۔اسے ہم اپنے لئے قابل اطمینان کہہ سکتے ہیں۔مگرنقص تغذیہ کا بڑھتاہوا گرا ف ہمیںمایوس کررہا ہے۔ڈاکٹر سائرل اینگ مان دی گلوبل پروگرام لیڈر برائے پاتھس میٹرنل نیو بورن چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیٹریشن پروگرام یو ایس کے ایشیا ، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں اسٹاف کی ڈائرکٹنگ کا کام انجام دے ر ہے ہیں ، انھوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ یو این میں ایسے 139 دستخط کنندہ ممالک شامل ہیں۔ وہ ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔ 993 ممالک میں جہاں نومولود بچوں کے کیئر پر توجہ دی جاتی ہے۔ اس بات پر بھی توجہ دی جاتی ہے کہ اس سلسلے میں کس حد تک پیشرفت ہوئی ہے، اور اس کے ہدف کو پانے کی خاطر کس حد تک کارگر اقدامات کئے گئے ہیں۔ یہ تمام ممالک پاتھ کے اقدامات کو نمایاں خطوط تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ پاتھ عالمی پیمانے پر اسٹرٹیجک طور پر آئندہ متعدد برسوں تک عالمی پیمانے پر کوشاں رہے گا۔مذکورہ بالا رپورٹ اگرچہ ہماری حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔مگرآج ضرورت اس بات کی ہے کہ صحت وخوراک ورسد کے نظام تقسیم میں شفافیت لائی جائے اوراس اہم شعبہ کو لوٹ کھسوٹ اوربندر بانٹ سے محفوظ کیا جائے۔تاکہ آنے والے وقت میں ہم دنیاکے سامنے فخر سے یہ کہہ سکیں کہ ہم نے ایک صحتمند و توانا اورخوشحال ہندوستان کی تعمیر کرنے میں مکمل کامیابی حاصل کرلی ہے۔

تبصرے بند ہیں۔