ماحولیاتی بحران اور اسلامی تعلیمات

سہیل بشیر کار

                دور حاضرکے جتنے سنگین مسائل ہیں ؛ ان میں ایک اہم مسئلہ ماحولیات سے متعلق ہے۔ بلکہ یوں کہاجائے کہ یہ واحدایسا عالمی مسئلہ ہے جس پر سب لوگوں کا اتفاق ہے، توبے جانہ ہوگا۔ اس مسئلہ کی وجہ سے نہ صرف انسانوں کی بلکہ کرہ ارض میں موجود تمام حیوانات، نباتات و موجودات عالم کی بقا کا بھی انحصارہے۔ یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا اس طرف متوجہ ہے۔ آئے روز اس موضوع پر کانفرنسیں منعقد ہوتی ہیں اور ممکنہ تدابیر پر غور و فکر کیا جاتا ہے لیکن مسئلہ جوں کا توں ویسا ہی ہے۔

                اس میں کوئی شک نہیں کہ کائنات میں کثافت پیدا کرنے والی چیزیں پائی جاتی ہیں، جیسے پاخانہ، پیشاب، مردار جسم، لیکن صنعتی ترقی نے کارخانوں سے نکلنے والے فضلات اور دیگر گیسزکے ذریعے زمین پر’زیست‘کوگوناگوں مسائل کاشکارکیاہواہے۔ موٹرکاروں کی کثرت سے اگرچہ انسان کو راحت ملی ہے لیکن وہیں دوسری طرف ہمیں ماحولیاتی بحران میں بھی مبتلا کیا ہے۔ ہر علاقے کا اپنا ایک’ اکو سسٹم‘ ہوتا ہے، جس کے تحت نظام کائنات بمطابق فطرت  رواں دواں ہے۔ سائنسی ترقی سے جہاں بہت سی سہولیات انسان کے تصرف میں آئیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس کی وجہ سے ہی’ اکو سسٹم‘ میں مہلک تبدیلیاں وقوع پزیرہوئیں۔ رب العزت نے انسان کو حکم دیا تھا کہ دنیا کے نظام میں توازن برقرار رکھا جائے؛ کیونکہ یہی فطرت ہے لیکن ’اشرف المخلوقات‘ نے ترقی کی دوڈ میں اس اصول کو یاد ہی نہیں رکھا اور آج حال یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک سر جوڑ کر بیٹھنے کے باوجود بھی کوئی قابلِ عمل حل تلاش نہیں کر پا رہے ہیں۔ مادیت اور بے لگام سرمایہ کاری کے نظام نے اس توازن کو بگاڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دین اسلام ترقی اور سائنس کے خلاف ہرگز نہیں البتہ وہ چاہتا ہے کہ دنیا کے وسائل کا بھی تحفظ ہو۔

                ماہرین تحفظِ ماحولیات کے جو تدابیر آج پیش کررہے ہیں، وہ اسلام نے چودہ صدیاں قبل واضح طورپربیان کردئے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں جو محدود تصور دین پایا جاتا ہے؛ اس کی وجہ سے مسلمان بھی اس سلسلے میں خاطر خواہ کام نہ کر سکے:

۱۔ پانی کی حفاظت

               پانی کی حفاظت کے بارے میں قرآن پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ بارش کاپانی، سمندر، کنویں، تا لاب، ندیاں ؛ ان کواللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت کے بطور قرآن میں بیان کیا ہے۔ رواں پانی، جس پر آج دنیا کی 99 فیصد آبادی کا انحصار ہے؛ قرآن کریم اس کا تذکرہ جنت کی نعمتوں میں سے ایک نعمت قراردیتاہے۔ جو کہ’ داہنے ہاتھ‘ والوں کو ملے گا۔ پانی زندگی کی بنیاد ہے۔ اس کے بغیر نہ تو انسان کی زندگی کرہ ارض پر باقی رہ سکتی ہے اور نہ ہی جانور اور پیڑ پودے یہاں باقی رہ سکتے ہیں۔ اسی لیے اسلام نے پانی پر کسی ایک شخص کی اجارہ داری کوقبول نہیں کیا ہے۔ اسلام کی نظر میں پانی وہ نعمت ہے جس پر سب کا حق ہے اور اس کے تحفظ کی ذمہ داری بھی پورے انسانی معاشرے کی ہے۔ فرمان نبوی ہے:

  ’’لوگ تین چیزوں میں شریک ہیں : پانی، گھاس اور آگ‘‘(مسند الحارث)

                پانی کو آلودگی سے بچانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات موجود ہیں۔ حضرت عبدا للہ بن عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، جب وہ وضو کررہے تھے۔ آپ ﷺ نے انھیں دیکھا کہ وہ کچھ زیادہ پانی استعمال کررہے ہیں۔ آپ نے فرمایا’ اے سعد، یہ اسراف کیسا ؟‘ اس پر حضرت سعد ؓنے سوال کیاکہ’ اے نبی ﷺ وضومیں بھی اسراف ہے ؟ ‘آپ ﷺ نے فرمایا، ’ ہاں ! اگر تم بہتی ندی پر بھی ہو تو وضو میں اسراف نہ کرو۔ زیادہ پانی نہ بہائو۔ ‘ (یہ حدیث ابن ماجہ کتاب الطھارۃو سننھا، بابص ما جاء فی القصد۔ ۔ ۔ الخ، ج۱، ص254 حدیث: 425 پر موجودہ ہے)۔ وضو جیسے اہم عمل کے بارے میں جب ایسے احکام ہیں، تو دوسری چیزوں کے بارے میں کتنا محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ پانی کی صفائی کے لیے رسول رحمت ﷺکے احادیث میں تلقین کی گئی ہے ارشاد فرمایا:”تم میں کوئی اس پانی میں پیشاب نہ کرے جو ٹھہرا ہوا ہو اور نہ ہی اس میں غسل کرے۔ ‘ (بخاری) المعجم الکبیر میں حضور اکرم کی حدیث ہے کہ بہتے ہوئے پانی میں پیشاب مت کیا کرو۔ رسول رحمتﷺ نے پانی کو آلودہ کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے، آپ نے فرمایا :

  ’’تین لعنت کا سبب بننے والی جگہوں سے بچو: (۱) پانی کے گھاٹ پر پاخانہ کرنے سے (۲) راستہ میں پاخانہ کرنے سے (۳) سایہ دارجگہوں میں پاخانہ کرنے سے۔ ‘‘ (سنن ابی داؤد حدیث نمبر ۲۶)

                گھاٹ، نہر، نالہ اور ندی کے کنارے رفع حاجت کی ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ نجاست کے اثرات پانی میں پہنچ کر اسے آلودہ کرسکتے ہیں۔ غور کا مقام یہ ہے کہ جس اسلام نے پانی کے قریب نجاست سے منع کیاہے، کیا وہ اس بات کی اجازت دے سکتا ہے کہ شہر بھر کی غلاظت ندیوں میں بہادی جائے؟ اسلام حکم دیتا ہے کہ پانی کے برتنوں کو ڈھک کر رکھنا چاہیے۔ اسی طرح بخاری شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ جب تم نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ پانی کے برتن میں نہ ڈبویا کرو، جب تک نہ ہاتھ دھویا جائے۔ بخاری شریف میں ایک حدیث ہے کہ پینے کے پانی میں سانس نہ لی جائے۔ ابوداؤد کی ایک روایت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ برتن میں پھونک نہ مارا کرو۔ (سنن ابو داؤد)

                ان احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دین اسلام میں قدرتی وسائل کا تحفظ کا سامان ہے۔ ظاہر ہے اس سلسلے میں جو بھی آلودگی کے اسباب ہیں ان کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔

  ۲۔ درختوں کی حفاظت:

                رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے شجر کاری کی ترغیب دی ہے اور درختوں کی حفاظت کی بھی ہدایت دی ہے۔ محسن انسانیت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺنے شجر کاری کو فروغ دینے کے لیے ایمان والوں پر شجر کاری کو صدقہ قرار دیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جو مسلمان دَرخت لگائے یا فَصل بوئے۔ پھر اس میں سے جو پرندہ یا اِنسان یا چوپایا کھائے تو وہ اس کی طرف سے صَدَقہ شْمار ہوگا۔ ‘‘ (صحیح البخاری)، صدقہ کی دین اسلام میں کافی اہمیت ہے ظاہر ہے جب شجر کاری کو صدقہ سے جوڑا گیا تو اس سے اس عمل کی غیرمعمولی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شجر کاری کو قیامت تک جاری رکھنے کی تاکید کی ہے، مسند احمد کی ایک حدیث ہے :

’’ اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہے اور وہ اس کو لگا سکتا ہے تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو۔ "

                 اسلام میں افتادہ سرکاری اراضی کے بارے میں یہ اصول مقرر کیا گیا ہے کہ جو شخص بھی اس میں کاشت کرنا چاہے حکومت کی اجازت سے کر سکتا ہے۔ (ابوداؤد) فقہ کی کتابوں میں ہے کہ اگر کوئی ایسے اراضی پر قبضہ کرے لیکن وہ کاشت کاری نہ کرے تو زمین دوسرے کے حوالے کی جائے گی۔ رسول اللہﷺکی انہی ترغیبات کا نتیجہ تھا کہ حضرات صحابہ شجرکاری کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔ حضرت امام احمد ابن حنبلؒنے حضرت ابودرداء سے نقل کیا ہے کہ حضرات صحابہ کرام صدقہ کی نیت سے درخت لگانے کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔ (مجمع الزوائد:4?68)

                آپ ﷺکی تعلیمات میں ناصرف درخت لگانے کے متعلق احکامات ملتے ہیں بلکہ درخت لگا کر اس کی حفاظت کے بھی واضح احکامات موجود ہیں کہ جو کوئی درخت لگائے پھر اس کی حفاظت اور نگرانی کرتا رہے یہاں تک کہ و ہ درخت پھل دینے لگے۔ اب اس درخت کا جو کچھ نقصان ہوگا وہ اس کے  لیے آ گے صدقہ کا سبب ہوگا۔ (مسند احمد)

                آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے ضرورت درختوں کی کٹائی کو سخت ناپسندیدہ قراردیا۔ عرب میں بالعموم ببول یا بیری کے درخت ہوا کرتے تھے، نبی کریم ﷺنے بیری کے درخت کے بارے میں فرمایا: ’’جو بیری کا درخت کاٹے گا، اسے اللہ تعالیٰ اوندھے مْنہ جہنم میں ڈالے گا۔ ‘‘ (سنن ابو داؤد)آپ ﷺ نے جہاں عام حالات میں درخت کاٹنے کی ممانعت فرمائی وہیں دورانِ جنگ بھی اس عمل کوقبیح قراردیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب اسلامی لشکر کو مشرکین کی طرف روانہ فرماتے تو یوں ہدایات دیتے: ’’کسی بچے کو قتل نہ کرنا، کسی عورت کو قتل نہ کرنا، کسی بوڑھے کو قتل نہ کرنا، چشموں کو خشک و ویران نہ کرنا، درختوں کو نہ کاٹنا۔ ‘‘ (بیہیقی)ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین کو خاص طور پر درختوں اور کھیتوں کے برباد کرنے سے منع کیا ہے۔ چنانچہ ایسے منافق جو دنیا میں فساد مچاتے ہیں اور کھیتی اور نسل انسانی کو تباہ کرتے ہیں ان کی مذمت کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا : .(البقر?:205) ’جب وہ لوٹ کر جاتا ہے؛ تو زمین میں فساد پھیلانے کی اور نسل اور کھیتی کی بربادی کی کوشش میں لگا رہتا ہے، اور اللہ تعالیٰ فساد کو ناپسند کرتا ہے۔ ‘(البقرہ ۲۰۵) گویا کھیت اور پودوں کو برباد کرناایمان کے منافی ہے۔ منافقوں کا شیوہ ہے۔

۳۔ جانوروں کی حفاظت :

                ’اکو سسٹم ‘میں جانوروں، پرندوں کا اہم رول ہے۔ دین فطرت میں اس طرف خصوصی رہنمائی کی گئی ہے۔ جانوروں کے ساتھ بدسلوکی پرآں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذکرکردہ وعیدیں موجودہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانورں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید اور بدسلوکی کوعذاب وعتاب  کی وجہ گردانا او رانتہائی درجہ کی معصیت اور گناہ قرار دیا او رانسانی ضمیر جھنجوڑنے والے سخت الفاظ استعمال فرمائے؛ چنانچہ حضرت امام بخاری نے روایت نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

ایک عورت کو اس لیے عذاب دیا گیا کہ وہ بلی کو باندھ کر رکھتی تھی۔ نہ کھلاتی تھی نہ پلاتی تھی اور نہ اس کو چھوڑ دیتی کہ چر چگ کر کھائے۔ (مسلم : باب تحریم قتل الہرۃ : حدیث: ۹۸۹۵)

                حضرت ابن ِعباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک گدھا گذرا، جس کے منہ پر داغا گیا تھا۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھ کر فرمایا :اس شخص پر لعنت ہو جس نے اس کو داغا ہے۔ (مسلم )اور ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر مارنے اور داغنے سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم )اور ایک روایت میں ہے کہ غیلان بن جنادۃکہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اونٹ پر آیا جس کی ناک کو میں نے داغ دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے جنادہ ! کیاتمہیں داغنے کے لیے صرف چہرے کا عضو ہی ملا تھا، تم سے تو قصاص ہی لیا جائے۔ (مجمع الزوائد)، اسی طرح پرندوں کے بارے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے؛ "جو کسی پرندہ کو بطور تفریح قتل کرے گا وہ کل قیامت کے دن اللہ عزوجل کے سامنے فریاد کرتے ہوئے کہے گا کہ اے رب! فلاں نے مجھے تفریح کے طور پر قتل کیا اور کسی فائدے کے لیے قتل نہیں کیا۔ ‘‘ (سنن نسائی) جانور پر زیادہ بوجھ ہرگز نہ ڈالا جائے، اس سلسلے میں بھی اسلام میں رہنمائی ملتی ہے۔ حضرت سہل ابن حنظلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹ کے قریب سے گزرے تو دیکھا کہ بھوک و پیاس کی شدت اور سواری وبار برداری کی زیادتی سے اس کی پیٹھ پیٹ سے لگ گئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان بے زبان چوپایوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ان پر ایسی حالت میں سواری کرو جب کہ وہ قوی اور سواری کے قابل ہوں اور ان کو اس اچھی حالت میں چھوڑ دو کہ وہ تھکے نہ ہوں۔ (ابوداوؓد)

۴۔ روشنی کی آلودگی :

                ضرورت سے زائد روشنی سے جہاں انسان کی آنکھیں چندھیائی جاتی ہے اور پرسکون کی نیند غارت ہوتی ہے، وہیں تاریکی میں پرورش پانے والے چرند پرند اور پیڑ پودے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس پر کنٹرول کرنے کے لیے اسلامی ہدایت یہ ہے کہ ضرورت سے زائد بالکل بھی اجالا نہ کیا جائے، کیوں کہ اس سے فائدہ کے بجائے نقصان ہی ہوگا۔ نبی اکرمﷺ کا ارشاد ہے کہ ’ برتنوں کو ڈھک دو، دروازے کو بند کردو اور چراغ بجھا دو۔ کیوں کہ کبھی کبھار چوہے فتیلہ لے کر بھاگتا ہے، جس سے گھر والے جل جاتے ہیں۔ ‘(صحیح بخاری)

                یہ حدیث سوتے وقت کی ہدایت پر مشتمل ہے۔ سونے کے بعد چوں کہ روشنی کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اس لیے ہدایت دی جارہی ہے کہ چراغ بھجادو۔ بجھانے کا فائدہ تو یہ ہے کہ بلاضرورت کوئی چیز استعمال نہیں ہوگی، لیکن جلائے رکھنے کا نقصان یہ ہوسکتا ہے کہ چوہا کہیں چراغ گرادے تو گھر میں آگ لگ جائے گی۔ آج کل گرچہ فتیلہ والے چراغ کے بجائے بلب جلائے جاتے ہیں، جس میں چوہے کی شرارت کی گنجائش نہیں ہے البتہ شارٹ سرکٹ سے آگ لگنے کی خبریں آتی رہتی ہیں اور شہروں میں بھیپر کی تیز پیلی روشنی سے نیچرل لائف والے پرندے بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ اس لیے روشنی کی آلودگی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ بے وجہ روشنی کااستعمال نہ کیا جائے۔

۵۔ صفائی ستھرائی:

                 اسلام جہاں انسان کے بدن، کپڑے، مکان کی صفائی چاہتا ہے، وہیں آس پاس کی صفائی کی بھی تلقین کرتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر سے باہر سڑکوں کی صفائی کا بھی حکم دیا ہے۔ اور اس بات سے سختی سے منع کیا ہے کہ لوگ راستوں اور دیواروں کے سایہ میں پیشاب یا پاخانہ کریں۔ حدیث نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

                ’’دونوں قابل لعنت چیزوں سے بچو، پیشاب پاخانے سے اور اس شخص سے جو لوگوں کے راستے یا سایے میں پیشاب پاخانہ کرتا ہو۔ ‘‘کھلے عام رفع حاجت کرنا، سڑکوں، پارکوں اور عام گزرگاہوں پر پان اور گٹکے کھاکر تھوکنا، پیشاب کرنا، گھروں کا آلودہ پانی گلیوں میں بہانا، گھروں کی گندگی اور کوڑا کرکٹ عام جگہوں پر ڈالنا، تعمیراتی کاموں کے وقت گرد و غبار روکنے کی تدابیر اختیار نہ کرنا، یہ سب دین اسلام کے مزاج کے حلاف ہے۔ مسلم شریف کی ایک حدیث ہے کہ "مجھ پر میری امت کے اچھے اعمال پیش کیے گئے تو میں نے اس کے اچھے اعمال میں سے یہ دیکھا کہ تکلیف دہ چیز راستہ سے ہٹا دیا گیا ہو اور اس کے برے اعمال میں سے یہ عمل دیکھا کہ مسجد میں بلغم ہو، اور اسے دفن نہ کیا جائے۔ ” یہاں مسجد کو بطور مثال پیش کیا گیا ہے ورنہ مطلوب یہی ہے کہ راہِ عام پر تھوکا جائے نہ ہی کوئی اورغلاظت پھینکی جائے۔ ہمارے مسلم معاشرہ میں دریایا نہروں کے کناروں پر بھی گندگی کے ڈھیر ملتے ہیں، لیٹرین اورغلاظت سے پُر نالیاں پانی میں چلی جاتی ہے؛ جس کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی پیدا ہوتی ہے حالانکہ اسلام ان چیزوں سے روکاتھا۔

۶۔ صوتی آلودگی:

                یہ آلودگی بہت بڑا چیلنج ہے۔ صوتی آلودگی بھی ہمارا بڑا مسئلہ ہے، ایک سروے کے مطابق ہمارے ہاں کا ہر بارہواں شخص بڑھتے ہوئے شور و شغب کے باعث سماعت سے محروم ہوتا جارہا ہے۔ برین ہیمبرج، ہارٹ اٹیک، بلڈپریشر اور شوگر وغیرہ جیسی کئی خطرناک بیماریاں صوتی آلودگی کی وجہ سے پیدا ہورہی ہیں۔ موٹر گاڑیوں اور کارخانوں کے شور کے سبب بہرے پن کی شکایت بھی روزبروز عام ہوتی جارہی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ سب غیرفطری طرز زندگی کی دَین ہے اور جہاں ہم اس آلودگی سے بچ سکتے ہیں وہاں بھی بچنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔ ٹرافک میں پھنسی گاڑیاں غیرضروری طور پر ہارن بجاتی ہیں اور اس سے بھی صوتی آلودگی پھیلتی ہے۔ قرآن کریم میں حضرت لقمان علیہ السلام کی نصیحت نقل کرتے ہوئے ارشاد باری ہے:

                ’’اور اپنی آواز کو پست رکھ، بے شک سب سے زیادہ مکروہ آواز گدھے کی آواز ہے۔ ‘‘(لقمان:۱۹)جب اسلام کرخت لہجہ میں بات چیت کرنے سے منع کرتاہے تو یہ شور شرابہ کیسے ممکن ہے؟ اسلام میں عبادت بھی دھیمی آواز سے کرنے کو کہا گیا ہے توتابہ دیگراں چہ رسد!

                 ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ: ہم رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے، جب مدینہ سے قریب ہوئے تو لوگوں نے بلند آواز میں ’ اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگایا، اس پر رسول اللہ ﷺ نے کہا (اپنی آواز دھیمی رکھو) تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے ہو۔ حضرت ابو سعید خدری. سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں معتکف ہوئے اور لوگوں کو قرات کرتے ہوئے سنا تو پردہ ہٹایا اور ارشاد فرمایا کہ تم سب اپنے رب سے سرگوشی کر رہے ہو تم ایک دوسرے کو تکلیف نہ دو اور قرآن پڑھنے میں ایک دوسرے پر آواز بلند نہ کرو (ابو داؤد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بازار میں شور و ہنگامے کرنے والوں کو ناپسند کرتا ہے۔

                دین اسلام کی تعلیمات ماحولیاتی آلودگی کو درست کرنے میں اہم رول ادا کر سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے امت مسلمہ بھی یہ امورات دین کاحصہ نہیں سمجھتے۔ ہمارے ہاں بس وہی ظاہر پرستی اور محدود تصورنے گھرکرلیاہے۔ ضرورت ہے اہل اسلام آگے آئیں اور اسلام کا نظام رحمت عملََالوگوں کے سامنے پیش کریں۔ علاوہ ازیں سائنس وٹیکنالوجی میں بھی اس حوالے سے اصلاحات کی انتہائی ضرورت ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک ایسا متبادل نظام دیا جائے جوECO FRIENDLYہو۔ بے لگام سائنس وٹیکنالوجی نے فطرت کومسخ کیاہواہے۔ اقدارسے عاری اس نظام نے ہمیں انسانیت سے گراکر حیوان کی صف میں لاکھڑاکیاہے۔ جذبات سے عاری بے حس مشین کی مانند۔ ۔ ۔ ۔ !

٭٭٭

تبصرے بند ہیں۔